Ayahs 67:1–4ترکیب : تبارک تفاعل من البرکۃ وھی النماء والزیاوۃ حسیۃ کانت او عقلیۃ وکثرۃ الخیر ودوامہ ایضا وصیغۃ التفاعل للمبالغۃ فی ذلک الملک مبتداء بیدہ خبرو الجملۃ صلۃ الذی وھو فاعل تبارک وھو علی کل شیئٍ قدیر الجملۃ معطوفۃ علی الصلۃ مقررۃ لمضمونھا لیبلوکم واللام متعلقہ بخلق (ایکم مبتدائ) احسن عملا خبرہ والجملۃ واقعۃ موقع المفعول ثانیا لفعل البلویٰ المتضمن معنی العلم الذی خلق سبع سمٰوات قیل ھو لغت للعزیز الغفور اوبیان اوبدل والاوجہ انہ نصب اور فع علی المدح متعلق بالموصومین السابقین وان کان منقطعا عنھما اعرابا۔ طباقا صفۃ سبع سمٰوات ای مطابقۃ علی انہ مصدر وصف بہ المفعول اومصدر موکد لمحذوف ھو صف تھا ای طوبقت طباقا۔ اوذات طباق جمع طبق کجبل وجبال اوطبقۃ کر حبۃ ورحاب ماتریٰ صفۃ اخری السبع سمٰوات و قریٔ تفوت ومضاھما واحد کر تین مصدر ای رجعتین والمراد بالتثنیۃ التکریر والتکثیر کمافی لبیک وسعدیک ینقلب مجزوم لکونہ جواب الامر خاساء بعید اعن اصابۃ الطلوب کانہ طردعنہ طردا بالصفاء حال من البصر وھو حسیر حال فعیل بمعنی فاعل من الحسرو ھوالاعیاء یقال حسر بصرہ یحسر حسور ای کل وانقطع وبلغ الغایۃ فی الاعیائ۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة تبارک اور واقیہ اور منجیہ ہے۔ تبارک اس لیے کہ یہ لفظ اس کے اول میں ہے اور اس کے پڑھنے اور عمل کرنے والے کو برکت حاصل ہوتی ہے۔ واقیہ اور منجیہ اس لیے اپنے پڑھنے والے کو ضلالت سے دنیا میں عذاب سے آخرت میں بچاتی اور نجات دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں تیس آیت ہیں جنہوں نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ بخشا گیا۔ وہ تبارک الذی بیدہ الملک ہے (رواہ احمد والترمذی و ابودائود و النسائی و ابن ماجہ) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بعض صحابہ ؓ نے ایک قبر پر خیمہ قائم کیا اور اسے معلوم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے وہاں ایک آدمی کو سنا کہ تبارک الذی پڑھتا ہے یہاں تک کہ اس کو تمام کیا۔ تب اس صحابی ؓ نے آ کر نبی ﷺ کو خبر دی۔ آپ نے فرمایا یہ سورة مالغہ ہے یہ منجیہ اپنے پڑھنے والوں کو عذاب قبر سے نجات دیتی ہے۔ (رواہ الترمذی) ۔ جابر ؓ کہتے ہیں نبی ﷺ سوتے نہ تھے جب تک کہ الم تنزیل وتبارک الذی بیدہ الملک تمام نہ کرلیتے تھے۔ (رواہ الترمذی والدارمی) ۔
رحمانیات ربانیات : یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ قرطبی کہتے ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد سورة حاقہ و سورة معارج نازل ہوئی۔ مگر حسن بصریٰ (رح) وغیرہ فرماتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی لیکن کلام کا طرز کہے دیتا ہے کہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اور یہ سورة رحمانیات سے ہے کہ بجائے اسم ذات کے اسم رحمن اس میں مستعمل ہے اور دیگر سورتیں کہ ان میں اسم رب کا استعمال ہے ان کو ربانیات کہتے ہیں۔
ربط اس سورة کا اس سے پہلے سورة تحریم سے متعدد وجوہ سے ہے جو تامل کرنے سے واضح ہوسکتی ہیں۔ ازانجملہ یہ کہ پہلی سورة میں آداب و شرائط مرد و عورت کے مذکور تھے کہ عورت کو مرد کی مخالفت نہ چاہیے اور مرد کو لازم ہے کہ اہل و عیال کو معاصی سے روکے اور ان سے لڑ کر یا ان کی رضامندی کے لیے حکم الٰہی میں کوتاہی نہ کرے۔ لم تحرم ما احل اللہ۔ اس سورة میں لوازم و آداب خدائی مذکور ہیں۔ وہاں ایک گھر کی ریاست مذکور تھی یہاں تمام عالم کی جہانداری مسطور ہے۔ ازانجملہ یہ کہ اس سورة میں مرد و عورت کی خانہ داری مذکور تھی اور یہ بھی کہ باوجودیکہ مرد گھر بناتا عورت کے لیے رزق و آسائش کا سامان کرتا ہے مگر پھر بھی وہ ذرا سی خلاف طبع بات پر بگڑ بیٹھتی ہے اور مرد کو اس کے فرائضِ منصبی سے ترک کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سورة میں یہ بتلایا گیا کہ خدا تعالیٰ بادشاہ حقیقی ہے، موت وحیات کا مالک ہے، دنیا کا گھر آسمان و زمین اسی نے بنائے۔ اس گھر کو قندیلوں سے آراستہ کیا، رزق و روزی کے سامان پیدا کئے، دارِآخرت کا رستہ بتانے والے ہادی بھیجے اور پھر ہر طرح سے اس کا قبضہ وقدرت ہے مگر اس کے بندے اس کی کیا کیا نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کی خدائی میں اوروں کو حصہ دار ٹھہراتے ہیں مگر وہ دنیا میں اس پر بھی کسی کے رزق کا دروازہ بند نہیں کرتا، درگزر کرتا ہے۔ اس میں بالادستوں کو تعلیم ہے کہ زیردستوں پر رحم کیا کریں اور اپنے بالادست کی نافرمانی سے باز آئیں ورنہ ایک دوسرے جہان میں جہنم کے قیدخانہ میں سزا بھگتنی پڑے گی اور اس مخالفت و نافرمانی سے اس کی بادشاہت میں کوئی بھی قصور نہیں آتا۔ ازانجملہ یہ کہ قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابوں کی زیادہ توجہ ان چند مسائل کی طرف ہے۔
اول خدا تعالیٰ کی توحید وصفات کا مسئلہ۔
دوم دارآخرت کا مسئلہ کہ وہ ایک جہان ہے جہاں جا کر برے بھلے کاموں کی جزاء و سزا پانی ضرور ہے۔
سوم نبوت کا مسئلہ کہ اس نے دنیا میں بندوں کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً حضرات انبیا (علیہم السلام) بھیجے ہیں۔
چہارم اصلاح معاش کا مسئلہ کہ دنیا میں ایسا کرنا چاہیے منجملہ ان کے حقوق زوجیت و خانہ داری کے طریقے بھی ہیں۔ اور قرآن مجید میں کمال یہ ہے کہ ان مسائل کو مختلف عنوان اور نئے نئے اسلوب سے موٹی موٹی نظیروں اور عام محاوروں اور مشہور قصوں اور لوگوں کے مسلمہ واقعات اور ذہن میں بیٹھے ہوئے علوم و خیالات میں بیان کرجاتا ہے جس سے عالم و جاہل اپنے اپنے مذاق کے موافق لطف حاصل کرتے ہیں۔ سورة تحریم میں ابتداء مسئلہ معاش کی تھی اور بعد میں اور مسائل بھی ضمناً بیان ہوئے تھے۔ اس سورة میں ابتداء مسئلہ مبدئِ حق سبحانہ کی ذات وصفات سے کی گئی اور اس کے بعد اور مسائل بھی بیان کئے گئے اور معاد کے مسئلہ کا بھی ثبوت کیا گیا تاکہ اس بادشاہ حقیقی سے ڈر کر ہر کوئی مسئلہ معاش کے قوانین و دستورات کی پابندی کرے اور بھی وجوہ ہیں۔ فقال تبارک الذی بیدہ الملک۔ بڑا بابرکت ہے وہ جس کے قبضہ میں ملک ہے ‘ برکت ‘ خیرِکثیر و افزائش و دوام مبارک جس میں یہ برکت ہو۔ دنیا میں جس کے پاس مال و اولاد زیادہ ہو اس کو کہتے ہیں اس کے مال و اولاد میں برکت ہے اور جو یہ چیزیں جلد جاتی رہیں کہتے ہیں اس کے مال و اولاد میں برکت نہ ہوئی۔ اور ہر چیز اپنے موقع پر کام آئے اس میں بھی برکت کا لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ فضول خرچی سے جو مال اڑ جائے کہتے ہیں برکت نہ ہوئی یا بےموقع صرف ہو تب بھی کہتے ہیں برکت نہ ہوئی۔ انہیں لحاظ سے علم کی برکت عمر کی برکت ہے خیرکثیر اور موقع پر استعمال اور مثمر بنتائج ہونا اور دوام یہ چار باتیں برکت کے معنی میں ملحوظ ہیں جو شخص اس جہان زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہو اور جس نے دنیا میں طرح طرح کی مخلوق پیدا کی ہو اور پھر ہر ایک کی روزی رزق اور ان کے سامان عطا کرتا ہو اس سے زیادہ بابرکت کون ہے کہ اس قدر صرف پھر بھی اس کے ہاں کمی نہیں۔ اس لیے لفظ تبارک فرمایا گیا جس کے معنی زیادہ برکت والا۔ الذی بیدہ الملک۔ گویا تبارک کے دعویٰ پر ایک واضح دلیل ہے۔ ملک۔ عالم محسوسات آسمان و زمین ‘ حجروشجر ‘ انسان و اشجار و احجار یعنی عالم اجسام۔ ملک جب اس کے ہاتھ یعنی قبضہ میں ہے تو اس کے بابرکت ہونے میں کلام ہے اور اس لیے تبارک الذی یا تبارک الرحمن نہ فرمایا ورنہ دعویٰ دلیل کا محتاج ہوتا عالم ملک کو جب تصور کیا جائے اور ذرہ سے لے کر آفتاب تک جو کچھ اس کے فیضان و انعامات کے دریا رواں ہیں اور پھر ہر روز ترکیبات نادرہ و اوضاع عجیبہ امکان سے فعلیت کے مرتبہ میں ظاہر ہو رہے ہیں ان کو بھی خیال کیا جائے تو بےاختیار دل کو اس کی طرف کشش پیدا ہو اور روح پکار اٹھے کہ تو ہی تو ہی توئی ہے توئی ؟ عالم ملک کے لیے بلحاظ فیض رسانی لفظ تبارک مناسب ہے جیسا کہ عالم ملکوت کے لیے (جو نفس ناطقہ سے لے کر قلم اعلیٰ تک ہے یعنی عالم ارواح) باعتبار تنزیہ و تقدیس کے جو روحانی عالم کے لیے مناسب ہے لفظ تسبیح زیبا ہے۔ چناچہ سورة یٰسٓ کے اخیر میں فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء فرمایا۔ وہاں تبارک الذی بیدہ ملکوت کل شیء نہ کہا بیدہ الملک میں اس طرف وہم جاسکتا تھا کہ موجودہ عالم اجسام پر اس کی بادشاہی ہے اس سے بڑھ کر اور قدرت اس میں نہیں اس لیے ترقی دی گئی۔ وھوعلی کل شیء قدیر کہ وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ایسے ایسے اور سینکڑوں عالم پیدا کرسکتا ہے، اس عالم کو فنا کرسکتا ہے، اس میں جو چاہے تصرف کرسکتا ہے، جہاں تک تمہارے فہم کو بھی رسائی نہیں وہاں تک بلکہ اس سے بھی پرے تک اس کی قدرت کا جھنڈا قائم ہے۔
شے : شے کے لفظ میں علماء نے بہت کلام کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں لفظ کے لحاظ سے شے ممکن کو کہتے ہیں جس سے واجب اور ممتنع خارج ہیں اس لیے اس کو اپنی ذات پر قادر مان کر یہ خیال کرنا کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنی صفات کو نیست کرسکتا ہے غلط خیال ہے۔ کس لیے کہ وہ اور اس کے صفات واجب ہیں ممکن نہیں اور ممکن نہیں تو شے کا اطلاق بھی ان پر جائز نہیں۔ اسی طرح محالات عقلیہ بھی کہ اپنے جیسا دوسرا بھی پیدا کرسکتا ہے وغیرہ قدرت کے تحت میں نہیں اس لیے کہ ان میں مقدور ہونے کی صلاحیت ہی نہیں اس کی قدرت میں کوئی قصور نہیں۔ بعض کہتے ہیں شے موجودہ کو کہتے ہیں جس میں ممکن اور واجب دونوں شریک ہیں نہ ممتنع۔ پھر ان اصول پر علمائِ کلام نے بہت سی تفریعات قائم کی ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کسی کی کیا قدرت ہوگی کہ عالم وجود (جس میں فلک و ملکوت ہیں) اور عالم عدم دونوں اسی کے ہاتھ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے فرماتا ہے۔ الذی خلق الموت والحیٰوۃ۔ کہ اس نے موت یعنی عالم عدم اور حیات یعنی عالم وجود بنایا۔ یا یوں کہو اس نے اپنی برکت کا اظہار دو جملوں میں کیا۔ اول الذی بیدہ الملک وھو علٰی کل شیئٍ قدیر۔ جس سے تمام نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا جملہ الذی خلق الموت والحیوٰۃ ہے۔ اس میں عالم آخرت کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ موت سے مراد دنیا کی موت اور حیات سے مراد حشر کے دن کی حیات گویا ایک جملہ میں اس جہان کی بادشاہت کا ثبوت تھا تو دوسرے میں اس جہان باقی کی بادشاہت کی طرف ایماء ہے۔ پھر جو دونوں جہان کا بادشاہ ہو اس سے زیادہ کون مبارک ہے ؟ اس لیے ہر حال میں اس کی طرف ملتجی ہونا چاہیے۔ اس تقدیر پر موت کا مقدم کرنا اور حیات کا مؤخر کرنا بھی ہر ایک کی تقدیم و تاخیر ذاتی پر مبنی ہے کس لیے کہ دنیا کی موت اول ہوتی ہے۔ پھر آخرت کی زندگی ہوگی۔ یا یوں کہو کہ منجملہ ظہور برکات الٰہیہ کے ایک برکت انسان کو اپنا مظہر بنا کر علم و ادراک سے مزین کرنا اور خلافت کی کرسی پر بٹھانا ہے مگر پوری برکت یہ ہے کہ عالم باقی کے لیے نیک کاموں پر بھی اس کو آمادہ کردینا چاہیے اس لیے برے کاموں سے روکنے والی اور نیک کاموں پر آمادہ کرنے والی چیز کو ذکر کیا کہ اس نے موت اور زندگی بنائی۔ دنیا کی زندگی مراد لی جائے تو موت کو اس لیے مقدم کیا کہ موت کو خیال کرتا ہے اور اس چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے۔ دوم یہ کہ اس جہان میں ذاتی اور حیات عارضی ہے اور ذاتی عارضی پر مقدم ہوتا ہے اور اگر موت سے مراد وہ حالت لی جائے جو نطفہ میں تھی یعنی انسان جس وقت نطفہ تھا تو بھی موت مقدم ہے۔ حیات تو نعمت ہی ہے مگر دنیا میں موت بھی اس کے برکات کا مظہر ہے۔ کس لیے کہ اگر موت نہ ہو۔ اول تو یہ قوائے جسمانیہ سو دو سو برس کے بعد بلکہ اس سے پہلے بیکار ہوجائیں اور زندگی وبال ہوجائے۔ دوم دنیا میں بہت لوگوں کی موت اور دوسروں کے لیے راحت ہوتی ہے۔ سوم دار آخرت کی زندگی اس کڑوے پھل کھانے پر موقوف ہے ہر ایک کو اس پل سے گزرنا ہے اور عالم جاودانی میں جانا اور نیک و بد اعمال کی سزاء و جزا پانا ہے اس لیے فرماتا ہے۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ کس کے اچھے عمل ہیں ؟ یہ دنیا ایک کھیت ہے جس نے نیک کاموں کا تخم بویا ہے وہ اس جہان میں اس کے عمدہ پھل پائے گا، برکت حاصل کرے گا۔ حسن عمل کی تفسیر بعض روایات میں یوں آئی ہے کہ احسن عقلا اور عن محارم اللہ واسرع فی طاعۃ اللہ۔ کہ عقل عمدہ پیدا کرے کس لیے کہ تمام دینیات کا اعتبارو مدار عقل پر ہے۔ عاقل بہت جلد عبرت حاصل کرتا ہے اور اس کے بعد خدا کی ممنوع چیزوں سے اور ممنوع کاموں سے بچے اور اس کی اطاعت میں جلدی کرے، غفلت اور آج کل میں اس عمر گرانمایہ کو نہ گزارے۔
ایک بات قابل بحث یہ بھی ہے کہ موت زوال حیات کا نام ہے پھر اس کے پیدا کرنے کے کیا معنی ؟
جواب۔ (1) موت وحیات میں مقابلہ ہے تقابل عدم و ملکہ کس لیے کہ موت اس کے حس و حرکات کا زوال ہے کہ جس میں اس حس و ادراک کی صلاحیت ہو اس لیے لکڑی پتھر کو مردہ یا زندہ نہیں کہتے اور عدم ملکہ عدم محض نہیں بلکہ اس میں وجود کا شائبہ ہے اس لیے اس کا مخلوق ہونا بعیدازقیاس نہیں۔ (2) بعض روایات سے ثابت ہے کہ عالم مثالی میں موت وحیات وجودی چیزیں ہیں، موت کو اس عالم میں ابلق مینڈھے سے مشابہت ہے اور حیات کو ابلق گھوڑے سے اس لیے ان پر خلق کا لفظ استعمال کرنا درست ہے لیکن بعض علماء نے خلق کو بمعنی جعل قرار دیا کہ موت اور زندگی بنائی۔
علم اجمالی و تفصیلی : سوال :۔ لیبلو حق سبحانہ کی نسبت کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کس لیے کہ اس کو ہر چیز کا علم ازلی ہے اس کو آزمائش کی ضرورت کیا ہے ؟
جواب : علم کی دو قسم ہیں۔ ایک اجمالی یعنی اشیاء کے پیدا ہونے سے پہلے، دوم تفصیلی اشیاء کے پیدا ہونے کے بعد۔ علم تفصیلی میں حق سبحانہ کو علم اجمالی سے کوئی زیادہ بات معلوم نہیں ہوتی۔ دونوں کا یکساں انکشاف ہوتا ہے اس جگہ مراد علم تفصیلی ہے اور وہی بندوں پر الزام و اکرام کے لیے حجت و سند ہے۔
بندوں کے اعمال دو قسم کے ہیں، بد یا نیک۔ ان کے وقوع ہونے کے بعد خدا کی طرف سے دو ہی باتیں پیش آتی ہیں یا پوری سزاء و جزا نیک اعمال کا عمدہ بدلہ۔ برے اعمال کی سزا جہنم یا درگزر اور بخشش۔ اس لیے کہ اس کے بعد یہ بھی فرما دیا وھوالعزیز کہ وہ زبردست ہے۔ ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے، نیک کاموں کا بدلہ بھی دے سکتا ہے، برے کاموں کی سزا بھی دے سکتا ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ اس میں پہلی بات کی طرف اشارہ ہے۔ الغفور وہ معاف کرنے والا بھی ہے اس میں دوسری بات کی طرف اشارہ ہے۔ اور نیز شایان شاہی بھی یہ دونوں وصف ہیں بادشاہ میں اگر قدت و شوکت نہیں تو یہی اس کی بادشاہت میں نقص ہے اور اگر بخشش و عطا نہیں تو یہی اس کی سلطنت اور اس کی برکت میں کمی ہے۔
تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شیئٍ قدیر تک مسئلہ توحید و اثبات صفات باری کا ثبوت ہے اور الذی خلق الموت والحیٰوۃ پہلے مسئلہ کا تتمہ اور دوسرے مسئلہ معاد کی تمہید ہے۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ وھوالعزیز الغفور میں مسئلہ معاد کا بیان ہے۔ اور دونوں مسئلوں میں تقدیم و تاخیر ایک عجب لطف دے رہی ہے۔ کس لیے کہ انسان جب تک خدائے قادر اور اس کے صفات شہنشاہی وغیرہ کا قائل نہ ہوگا مرنے کے بعد یا دنیا میں نیک و بدکاموں کی سزاء و جزا کا بھی قائل نہیں ہوسکتا اور یہی اعتقاد انسان کو راستی ‘ نیکوکاری، برواحسان کی طرف محرک اور بری باتوں سے مانع ہے۔ چونکہ مسئلہ توحید ایک ایسے بیان سے ثابت کیا کہ جس کو عقول عالیہ بخوبی سمجھ سکتی ہیں مگر عقول سائلہ و متوسطہ بغیر کسی نظیر و شاہد کے جو اس کی شہنشاہی اور قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہو اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکتی تھیں اور سمجھانا ہر فریق کا مقصود تھا اس لیے اس کے بعد شواہد و دلائل پیش کرتا ہے۔
پہلا شاہد : فقال الذی خلق سبع سموٰات طباقا وہ کہ جس نے اوپر تلے سات آسمان بنائے۔ عالم ملک میں آسمانوں اور ان کے ستاروں سے بڑھ کر کوئی بڑی چیز نہیں۔ آفتاب، ماہتاب، زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد اس قدر بڑے اجسام ہیں کہ زمین سے لاکھوں اور ہزاروں حصے زیادہ ہیں۔ پھر ان میں نور اور عجائبات رکھے ہوئے ہیں جن کے آگے زمین کے عجائب و مخلوقات کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔ ان ساتوں کے سوا جو ایک کے اوپر دوسرا ہے اور سینکڑوں ثوابت اور بعض ستارے ہیں جو زمین سے کروڑوں حصے بڑھ کر ہیں یہ کس نے بنائے ؟ یہ ازخود نہیں بن گئے کس لیے کہ اجرام علویہ کا مادہ یکساں ہے اور ہر ایک کا مقتضائے طبی برابر ہے پھر ان کو اوپر تلے اور بڑا چھوٹا کس نے کردیا ازخود ہوتے تو یکساں ہوتے۔ طباقا کے لفظ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ جب ان ستاروں کی یہ کیفت ہے تو ان آسمانوں کی وسعت کا کیا ٹھکانا ہے جن میں یہ ہیں اور حرکت کرتے پھرتے ہیں۔
حال کا فلسفہ سات آسمانوں کا قائل نہیں۔ وہ ان بلند سات ستاروں کو سبع سماوات کا مصداق سمجھتے ہیں مگر توریت سفرالخلیقہ کے اول باب اور دیگر مقامات پر بھی آسمانوں کا بنانا مذکور ہے۔ پاک کتابیں اور اگلے حکیم سب اس کی شہادت دے رہے ہیں۔
ان ستاروں کی ایسی تیز حرکت کہ منٹوں میں سینکڑوں کوسوں کا فاصلہ طے کر جاتے ہیں پھر باہم ٹکرانے نہیں پاتے۔ ہر ایک اپنے مدار پر دورہ کر رہا ہے۔ یہ اسی بادشاہ ذوالجلال قادر کا کام ہے۔ نہ طبائع اجرام علویہ کا نہ کسی اور کا۔ پھر ان کی شعاعوں سے جو کچھ تاثیرات زمین پر ہوتے ہیں وہ بھی قابل غور ہیں۔
دوسرا شاہد : اس کے بعد دوسرا شاہد اس محکم عمارت کی استواری ہے فقال ماتریٰ فی خلق الرحمن من تفاوت۔ اے نظر کرنے والے ! تو رحمن کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں (جو بڑا بابرکت اور بادشاہ اور قادر ہے) کوئی فرق نہیں دیکھے گا۔ قدرت نے اپنی کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا۔ ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر اجرام علویہ ‘ سبع سماوات اور نیرات تک یکساں کاریگری کی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے بنایا اور بعض کو یوں ہی کیف ما اتفق بےسوچے سمجھے یا بیکار فضول بنا دیا ہے۔ صرف انسان کے اعضاء کا تناسب اور حسن ترتیب عقل کو حیرت میں ڈالنے والی چیز ہے۔ کسی درخت کے پتے یا پھول کو ہاتھ میں لے کر دیکھیے گا تو آپ بول اٹھے گا کہ سبحان اللہ ! تیری صنعت یہ ہیں ماتریٰ فی خلق الرحمن من تفاوت کے معنٰی۔ یہ مراد نہیں کہ مخلوقات میں باعتبار ان کی جسامت اور رنگت اور تاثیر کے کوئی فرق نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو شبہ ہوجائے کہ یہ طبیعت اجسام کا یکساں فعل ہے اور نیز کارخانہ دنیا میں انتظام نہ رہے۔ فارجع البصر ھل تریٰ من فطور۔ اگر ایک بار دیکھنے میں شبہ باقی رہ جائے تو پھر دیکھ تجھ کو اس کی صنعت میں فطور بھی دکھائی دیتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ فطورفطر کی جمع ہے اور فطر کے معنی درز یا دراڑ کے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں اس کے معنی خلل کے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے بھی ایسا ہی کچھ منقول ہے۔ سدی کہتے ہیں فطور کے معنی خروق ہیں شگاف کے لحاظ سے یہ دیکھنا آسمانوں اور ستاروں کے لیے زیادہ چسپاں ہیں۔
سوال :۔ احادیث صحیحہ و آیات قرآنیہ سے آسمانوں میں دروازے ثابت ہیں۔ ابواب السماء کا لفظ آیا ہے پھر فطور تو پایا گیا۔
جواب :۔ کسی چھت یا مکان مرتفع میں کھڑکی یا دروازہ جو ہوتا ہے تو کاریگر کے ارادہ اور صنعت سے ہوتا ہے اس کو فطور نہیں کہتے۔ فطور دراڑ یا درز جو کاریگر کی صنعت میں قصور ہونے سے اس کے ارادے بغیر ہوجائے یہی اس عمارت کا نقص ہے۔ اس کے بعد بھی اگر شبہ رہ جائے تو ثم ارجع البصر کر تین پھر دوبارہ نگاہ کر۔
سوال :۔ یہ نگاہ دوبارہ نہ ہوگی بلکہ تیسری بار کس لیے کہ دو بار اس سے پہلے نظر کرچکا۔ پھر کر تین کا لفظ کیونکر صحیح ہوگا جو کرہ بمعنی بار کا تثنیہ ہے۔
جواب :۔ تثنیہ سے مراد کثرت ہے جس کے معنی ہوں گے باربار دیکھ یعنی کئی بار نظر کر کہ شبہ نہ رہے اور عرب کی زبان میں تثنیہ کثرت کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ لبیک وسعد یک حنینک وھذا دیک ینقلب الیک البصر خاسئا وھوحسیر۔ کوئی عیب و خلل دکھائی نہ دے گا بلکہ نگاہ دیکھتے دیکھتے تھک جائے گی۔ پھر کر آئے گی تیری طرف تیری نگاہ خیرہ اور ماندہ ہو کر۔ خاسئا مبعد امن قولک خسئات القلب اذاباعدۃ۔ مبرد کہتے ہیں خاسی کے معنی ہیں ڈوکارا ہوا ذلیل۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں خاسی وہ ہے جو اپنے مقصود کو نہ دیکھے (حسیر) یہ حسیرالعین بعد المریٰ سے مفعول بھی ہوسکتا ہے اور حسور تکان کے معنی سے فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ بہت دیر تک جب کسی چیز کو دیکھا جاتا ہے تو آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور اندھیرا سا ہوجاتا ہے۔ نگاہ جو اس شے پر بھی ایسی حالت میں وہاں سے لوٹ آتی اور چندھیا جاتی ہے۔
ا ؎ بعض مفسرین نے وجعلناھا رجوما للشیاطین کے یہ بھی معنی بیان کئے ہیں کہ ان ستاروں سے شیاطین یعنی منجمین مارے جاتے ہیں کہ ان کی تاثیرات سے احکام لگاتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اوروں کو بھی گمراہی میں ڈالتے ہیں ان کے لیے ہم نے عذاب آتش تیار کر رکھا ہے۔ 12 منہ
Ayah 67:5ترکیب : الدنیا من الدنوبمعنی القرب فھی صفۃ للسماء ای القربیٰ الی الارض من بقیۃ السماوات وھی التی یراھا الناس مصابیح جمع مصباح ارادبھا الکواکب لانھا تضے کا ضاءۃ السرج ففی الکلام استعارۃ تصریحیۃ لأن حقیقۃ المصابیح السرج۔ والباء یتعلق بزینا وجعلنا عطف علی زینا رجوما مفعول ثان لجعلنا والرجوم جمع رجم بالفتح وھو مصدر یرادبہ المرجوم والضمیر المنصوب فی جعلناھا الی المصابیح واللام فی للشیاطین تتعلق یجعلنا وقیل برجوما واعتدنا عطف علی زینا ‘ السعیر قال مبردسعرت النارفھی مسعورۃ وسعیر کقولک مقبولۃ وقبیل۔
تفسیر…تیسرا شاہد : تیسرا شاہد ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح کہ ہم نے نیچے کے آسمان کو (یعنی ساتویں آسمانوں میں جو سب سے نیچے ہے اور جو تم کو دکھائی دیتا ہے) ستاروں کے چراغوں سے رونق دی۔ جب رات کو دیکھتے ہیں تو ہزاروں قندیلیں نظر آتی ہیں، آسمان پر جگمگاہٹ دکھائی دیتی ہے۔ اہل بیت نے ثابت کیا ہے کہ وہ تارے جو ازخو حرکت نہیں کرتے ان کو ثوابت کہتے ہیں، آٹھویں آسمان پر ہیں اور سات ستارے چاند، سورج، عطارد، مریخ، زہرہ، مشتری، زحل جو حرکت خود بھی کرتے ہیں ان میں سے صرف چاند تو اول آسمان پر ہی ہے جس کو سب سے نیچے کا آسمان اور السماء الدنیا کہتے ہیں، باقی اوپر کے آسمانوں میں ہیں۔ مگر آسمان صاف اور شفاف ہیں اس لیے اوپر کے آسمانوں کے ستارے اور ثوابت بھی اسی آسمان پر دکھائی دیتے ہیں جس طرح پانچ چھ آئینے اوپر تلے دھرے ہوں اور اوپر کے آئینوں میں نقش و نگار ہوں وہ سب نیچے کے آئینے میں معلوم ہوتے ہیں۔
اب غور کریں کہ ان ثوابت و سیارات کا ایسا طلوع و غروب اور ایسے مواقع پر ہونا یہ بھی اس حکیم و قادر کا فعل ہے جس نے ان میں روشنی عطا کی۔ نئی ہیئت والوں کے نزدیک یہ ثوابت و سیارات ابعاد مختلفہ پر دورہ کرتے ہیں اور جو بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں وہ بہت دور ہیں گو فی نفسہ وہ زمین سے سینکڑوں حصے بڑے ہیں اور بعض ایسے دور ہیں کہ دکھائی ہی نہیں دیتے اور یہ فضا جس میں دورہ کر رہے ہیں آسمان ہے اور ہر ستارے کے لحاظ سے فضا کی وسعت ہے۔ ستارے مشہور ہمیشہ سے سات ہیں اس لیے ان ساتوں فضا کو سبع سماوات کہتے ہیں گو حال میں اور بھی ستارے ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی اس فضا کا شب میں مختلف قندیلوں سے مزین نظر آنا بہت قوی دلیل آثار قدرت و حکمت پر ہے۔
چوتھا شاہد : وجعلنا ھارجومًا للشیاطین۔ کہ ہم نے تاروں کو شیاطین کے پھینک مارنے کے لیے بھی تیار کر رکھا ہے۔ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ شیاطین اسرارِ آسمانی سننے کے لیے اوپر چڑھا کرتے ہیں، فرشتے ان کو ان انگاروں سے مارتے ہیں۔ رات کو جو تارہ ٹوٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے وہ یہی رجوم ہیں۔ سورة صافات میں بھی آیا ہے۔ انازینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب وحفظًا من کل شیطان مارد لایسمعون الی الملاء الاعلٰی یقذفون من کل جانب دحورًا ولہم عذاب واصب الامن خطف الخطفۃ فاتبعہ شہاب ثاقب۔ جعلناھا کی ضمیر جنس مصابیح کی طرف راجع ہے نہ عین مصابیح کی طرف کس لیے کہ شیاطین پر وہ ستارے نہیں پھینکے جاتے جو آسمان پر ہیں۔ (ابن کثیر) لفظ مصابیح یا کواکب یا نجوم ان ستاروں پر بھی مستعمل ہوتا ہے جو آسمانوں پر ہیں اور ان اوخنہ پر بھی جو رات کو ٹوٹتے ہیں۔ یہ جنس ہے اس کے بعض افراد زینت کا کام دیتے ہیں اور بعض سے شیاطین مارے جاتے ہیں۔ نہ یہ کہ وہ خاص ستارے جو آسمانوں پر ہیں، شیاطین پر پھینکے جاتے ہیں۔ زمین سے جو اوخنہ اٹھ کر اوپر جاتے ہیں اور کرہ نار کے قریب پہنچتے ہیں تو ان میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ جلتے ہوئے انار سے چھوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں گو علّت یہ ہو مگر اس سے کام یہ لیا جاتا ہے کہ وہ شیاطین پر پھینکے جاتے ہیں۔ حال کی تحقیقات سے دم دار ستارے اور دیگر چھوٹنے والے ستارے اوخنہ ثابت نہیں ہوئے بلکہ وہ بھی ایک خاص ستارے اور خاص مادے ہیں اور لوگوں نے بھی بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ جب کبھی یہ تارے ٹوٹتے ہیں تو سیدھے زمین کی طرف نہیں آتے جو ان کا حیزطبعی تھا بلکہ ادھر ادھر ایسے جاتے ہیں جیسا کہ کسی نے پھینک کر مارا ہو۔ شیاطین کا وجود اور اسرار سماوات کے لیے اوپر جانا کئی بار ہم ثابت کرچکے ہیں۔ مقدمہ دیکھو۔ یہ شیاطین کی دنیا میں سزا ہے۔ آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے یہ شاہد بھی اس کی شہنشاہی پر دال ہے کہ مفسدوں کے لیے کیسے توپ گولے تیار کر رکھے ہیں۔
Ayahs 67:6–7ترکیب : عذاب جہنم مبتداء وللذین کفروا خبرمقدم وقریٔ عذاب بالنصب انہ عطف علی عذاب السعیر وللذین علی لھم۔ شہیقا منصوب علی انہ مفعول سمعوا الھا فی محل النصب علی الحال ای کائنا لھا وھی تفور الجملۃ حال من الضمیر فی فیھا۔ تکاد الخ الجملۃ ما حال من فاعل تفوراوخبرآخر کلھا استیناف مسوق لبیان حال اھلھا بعد بیان حال نفسھا وقیل حال من ضمیرھا بلی کان یکفی فی الجواب ولکن حبائوا بالجملۃ المجاب بھا مبالغۃ فی الاعتراف قدجاء نا الخ فسحقا قریٔ الجمہور باسکان الحاء وقریٔ بضبمھا وھما نعتان مثل الرعب منصوب قال الزجاج وابوعلی الفارسی منصوب علی المصدر ای سحقھم اللہ سحقا وکان القیاس اسحاقا فجاء المصدر علی الحذف والسحق العبد۔
تفسیر : ان شواہد کے بعد پھر مسئلہ معاد کو شروع کرتا ہے اور اس کے لیے مناسبت یہ تھی کہ شیاطین کے لیے عذاب السعیر تیار کرنا فرمایا تھا اس مناسبت سے شیاطین کے سوا اور جس قدر کفارومشرکین ہیں ان کا بھی انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال وللذین کفروابربہم عذاب جہنم، کہ ان کے لیے جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا جہنم کا عذاب ہے جو بری جگہ ہے۔ رب کا لفظ مربی اور محسن کے ہم معنی ہے پھر دیکھئے جو اپنے مربی و محسن کا انکار کرے اس کے لیے عذاب جہنم نہ ہو تو اور کیا ہو۔ اس لفظ نے عجب لطف پیدا کردیا۔ انکار کرنا ایک تو یہی معمولی انکار ہے کہ اس کے رسول ﷺ کو نہیں مانا یا اس کے احکام کو نہ مانا، صفات توحید و تنزیہ کے خلاف اعتقاد کیا۔ انہیں باتوں کے مرتکب کو کافر کہا جاتا تھا شرک بھی اسی میں آگیا۔ دوسرا سرے سے اس کی ذات کا انکار کرنا کہ خدا تعالیٰ ہی نہیں جیسا کہ دہریہ کہتے ہیں یہ سب لوگ کافر سمجھے جاتے ہیں اور اس کی نعمتوں کی ناشکری اور گلہ گزاری بھی ایک قسم کا کفر یا کفران ہے ایسے لوگوں کے لیے یہی عذاب جہنم ہے گو ابدی نہ ہو۔
اس کے بعد اذا القوا سے لے کر فسحقاً لاصحاب السعیر تک جہنم اور جہنمیوں کے کچھ حالات خوفناک بیان فرماتا ہے۔ (1) کہ جب یہ کفار اس میں ڈالے جائیں گے تو بجائے خیرمقدم و مرحباً و اہلاً و سہلاً کے جہنم کی آوازیں سنیں گے جو اس کے جوش سے نکلتی ہوں گی۔ جب آگ زیادہ گرم اور تیز ہوتی ہے تو اس کے شعلوں میں سے ایک مہیب صدا آیا کرتی ہے اسی طرح جہنم کی آواز ہوگی۔ وہ تنور جب زیادہ گرم ہوگا جس کو جوش اور غصہ کرنے اور غصے سے پھٹے پڑنے کو استعارۃً تعبیر کیا ہے تو اس کی دور دراز سے ہیبت ناک آوازیں آئیں گی العیاذ باللہ۔
(2) کلما 1 ؎… جب جہنم میں ایک گروہ داخل ہوگا تو ان سے جہنم کے داروغہ یعنی فرشتے پوچھیں گے کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی نذیر (ڈرانے والا) نہیں آیا اور تم کو اس گمراہی سے نہیں روکا جس کے سبب آج اس بلا میں گرفتار ہوئے ؟ (نذیر خدا کا رسول اور اس کی کتاب یا اس کے نائب ‘ علمائ ‘ واعظین۔ اور جہاں کہیں یہ نہ آئیں تو وہاں احکام شریعہ پر مؤاخذہ نہیں وہاں نذیر عقل و فکر اور آیات قدرت میں غوروفکر ہی نذیر ہے جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا حکم دیتا ہے وہاں صرف توحید ہی کافی ہے۔ اور عمر کا تبدل حوادث دہر ‘ موت اقران و امثال بھی خدا کا نذیر ہے جو بندہ کو خواب غفلت سے بیدار کر کے عالم جاودانی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مگر یہ غفلات شہوات کے ایسے گراں تودوں میں دبا ہوا ہے کہ سر بھی نہیں اٹھا سکتا۔ ) کفار فرشتوں کے جواب میں کہیں گے بلیٰ کیوں نہیں قدجاء نا نذیر۔ بیشک ہمارے پاس نذیر آیا۔ فکذبنا لیکن ہم نے جھٹلا دیا۔
فائدہ : ہر نذیر کی تکذیب اسی کے موافق ہے۔ رسول اور کتابوں کی تکذیب ان کو نہ ماننا یا ان کے احکام و ہدایات کو قبول نہ کرنا جیسا کہ کفار کرتے تھے۔ ہائے دنیا میں جو ہادی اصلاح کرنے آیا لوگوں نے پھولوں کی جگہ ان کی راہ میں کانٹے بھی ڈالے یا حسرۃً علی العباد مایاتیہم من رسول الاکانوابہ یستہزئون۔ یا ان کے نائبوں حضرات علماء کرام کی تکذیب ان کو نہ ماننا، ان سے تمسخر کرنا، ان کی عیب جوئی کرنا، ان پر بہتان لگا کر ان کے اعتبار میں فرق ڈالنا وغیرہ۔ نذیر عقل کی تکذیب ‘ آیات الہٰیہ و حوادث دہر میں غوروتدبر نہ کرنا اور توحید و خدا پرستی پر نہ چلنا، رسوم و شہوات میں پڑا رہنا، بت پرستی و بدکاری سے باز نہ آنا۔ عمر کے تبدل ‘ موت ‘ اقران و انقلابات دہر کے نذیر کی تکذیب عبرت نہ کرنا، عالم جاوداجانی سے غافل رہنا اس حسی اور فانی جہان کی چیزوں پر مفتون ہونا ہے۔ ہائے افسوس اس نذیر کو ہم کس طرح جھٹلا رہے ہیں۔ بیماری یا مصیبت خدا تعالیٰ کا ایک نذیرآیا تھا اس کے بعد پھر ہم انہیں ظلمات میں مبتلا ہوگئے۔ اقارب و احباب سامنے مرتے ہیں، یہ بھی ایک نذیر ہے جو ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے ؎
تمہیں ہے چلنی عدم کی منزل کہ جس میں کھٹکا قدم قدم ہے
نسیم جاگو کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کہ رات کم ہے
مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہی مرگئے اور دنیا میں ان کا نام و نشان مٹ گیا، بھلا ہم کب مرنے والے ہیں۔
وقلنا…کفار کہیں گے ہم نے صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا۔ مانزل اللہ من شیئٍ کہ خدا نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی نہ کتاب بھیجی نہ احکام نہ حوادث و مصائب یہ تو فلاں سبب سے ہوا اور موت یوں آئی، افلاس یوں آگیا تھا۔ اقبال اس لیے جاتا رہا تھا، بیماری اس وجہ سے گئی تھی۔ یہ امور اسباب پر مبنی تھے، خدا نے کیا کیا ؟ ان انتم الافی ضلال کبیر۔ اے جو تم نذیر کہلاتے ہو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ خدا نے کتاب بھیجی، رسول بھیجا، احکام بھیجے، اس کو کیا پڑی تھی جو وہ ایسا کرتا ؟ گناہوں سے مصیبت آئی وبازنا سے بھیجی قحط بھیجا، بیماری بھیجی، اس نے کچھ نہیں بھیجا، یہ پرانے خیالات اور جہالت کی باتیں ہیں۔ اول تو خدا ہی کہاں ہے اور ہے بھی تو وہ اس عالم میں کیا کرسکتا ہے ؟ یہاں تک کفار کی گفتگو تھی 1 ؎۔ جو دوزخ میں فرشتوں سے بطور اقرار جرم کریں گے۔
فائدہ : اگرچہ نذیر واحد ہے مگر ایک نذیر کا بھی وہی مقصد ہے جو دوسرے کا تھا اس لیے انتم جمع کے لفظ سے سب کا انکار تھا۔
فائدہ : بعض مفسرین کہتے ہیں یہ جملہ ان انتم الافی ضلال کبیر۔ دوزخ کے فرشتوں کا ہوگا، کفار کی تقریر سن کر کہ اے بدنصیبو ! تم بڑے گمراہی میں تھے۔ یا اب بڑی مصیبت میں پڑے ہو۔ مصیبت و عذاب جو ضلالت کے سبب آتا ہے اس پر بھی ضلال کا لفظ مجازاً محاورہ عرب میں مستعمل ہوتا ہے لیکن اول قول قوی ہے۔
اس کے بعد فرشتے کہیں گے، کیا تم نے کسی ناصح کی بات نہ سنی، یا تم کو ازخود عقل نہ تھی جو خدا کے نذیروں کو جھٹلایا جس کے سبب اس بلا میں پڑے تب کفار کہیں گے۔ وقالوالوکنا نسمع اونعقل ماکنا فی اصحاب السعیر۔ کہ اگر ہم کسی ناصح کی بات سنتے یا خود عقل کرتے تو آج کا ہے کو دوزخیوں میں ہوتے۔
ا ؎ آج کل نئی روشنی والوں اور ان کے مرید فرقہ آریہ لوگوں کی یہی گفتگو ہے جس کی غلطی کا اقرار ہمارے سامنے کب کرسکتے ہیں، وہیں دوزخ کے فرشتوں کے سامنے کریں گے۔ 12 منہ
تقلید و اجتہاد : انسان کی صلاح کے دو ہی طریق ہیں۔ اول اور آسان یہ کہ کسی ناصح اور ہادی کی بات سن کر مان لے۔ یہ تقلید کا مرتبہ ہے اس لیے اس کو مقدم کیا۔ دوم یہ کہ خود عقل سلیم سے غوروتدبیر کرے۔ یہ اجتہاد کا مرتبہ ہے۔ پھر جس کو دونوں باتیں نصیب نہ ہوں تو اس کے برباد ہونے میں کیا شک ہے۔
فائدہ : کفار دنیا میں سنتے تھے، عقل بھی رکھتے تھے، ہزاروں ایجاد و اختراع کرتے تھے مگر آخرت کے بارے میں یہ دونوں باتیں نہ تھیں گویا بہرے اور بےعقل تھے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فاعترفوا بذنبہم فسحقًا لاصحاب السعیر۔ کہ قیامت میں یا جہنم میں اپنے جرم کا اقرار کیا۔ سو پھٹکار اور لعنت ہے دوزخیوں پر۔ دوزخ میں جا کر اقرار کیا۔ پھر اس کا کیا فائدہ ؟ دنیا میں کرتے تو لعنت کے بدلے رحمت ہوتی۔
فوائد : اول : ان آیات میں مسئلہ معاد کی نہایت پراثرواقعات کے بیان میں تصویر کھینچی بالخصوص معاد کے متعلق ایک گروہ اشقیا کا حال اور اس کے ٹھکانے کی ہیبت خیز کیفیت بیان فرمائی اور بئس المصیر کی پوری توضیح کردی کہ وہ جگہ ایسی ہے کہ آگ کے شعلوں میں سے ہیبت ناک آوازیں سنائی دیں گی اور جہنم غصہ کی ماری پھٹی پڑتی ہوگی اور وہاں دوزخ کے فرشتے جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی رسول نہیں آیا جو تم کو اس مصیبت سے بچنے کی راہ بتاتا۔ اس ضمن میں مسئلہ نبوت کی بھی تصریح کردی کہ دنیا میں اس کام کے لیے آتے ہیں اور جو ان کو نہیں مانتے اس کو یہ عذاب الیم ہمیشہ کے لیے بھگتنا پڑتا ہے اور یوں حسرت و افسوس سے اپنے ہاتھ کاٹنے اور دانت پیسنے پڑتے ہیں۔ نبی کی تصدیق و اطاعت کے لیے اس سے بڑھ کر مخاطبین کے واسطے اور کوئی بیان پراثر ہو نہیں سکتا۔ کلام میں ان مقاصد کو ملحوظ رکھنا اور دلکش عبارت میں بیان کرنا اعجاز ہے۔
دوم : شروع سورة میں بیان کیا گیا تھا کہ اس کے قبضے میں ملک ہے یعنی وہی بادشاہ حقیقی ہے۔ پھر جس طرح لوازم سلطنت میں سے قدرت کاملہ اور حیات و ممات پر قبضہ سات آسمانوں کا گھر بنانا اور کس خوبی سے بنانا اور پھر اس کو تاروں کی قندیلوں سے روشن کرنا اور اس کا خ کے چوروں کو تاروں سے مار کر ہانکنا بیان فرمایا تھا جس میں سراسر رحمت اور برکت کا اظہار تھا۔ اسی طرح شیاطین اور ان کے بعد بنی آدم کے کفار و منکرین کا جہنم کے قیدخانے میں ڈالنا بیان فرما کر جو سراسر جبروت و اقتدار شاہانہ کی دلیل ہے۔ اس کے بعد فرمانبرداروں کے اعزازو اکرام بیان فرماوے گا۔ بقولہ وللذین یخشون ربہم بالغیب لہم مغفرۃ الخ۔ اس تمامی بیان سے بہت سے مذاہب اور عقائدِ فاسدہ کی اصلاح ورد ہے۔ کس لیے کہ جو لوگ دنیا میں خدا کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں یا اس کی خدائی میں حصے دار ٹھہراتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اس کا بیٹا اور خدائی کمیٹی کا تیسرا رکن قرار دیتے ہیں اور جس طرح کہ ہنود اپنے اوتاروں کو خدا اور قادر مطلق سمجھتے ہیں یا بعض لوگ ملائکہ و دیگر ارواح طیبات کو اس درجے پر مانتے ہیں ان کا ملک میں کون سا حصہ ہے ؟ کس نے آسمان و زمین بنانے میں مدد کی ہے اور کس کا موت وحیات پر قبضہ ہے اور کون قادر مطلق ہے ؟ ان کے یہ الٰہ دنیا میں بہت باتوں میں عاجز 1 ؎ تھے اور اسی طرح آخرت میں کسی کا کیا حصہ ہے۔ کون اس کے قیدخانے سے زبردستی چھڑا سکتا ہے، کون وہاں انعام و اکرام دے سکتا ہے ؟ یہ سب دلائل وبراہین توحید خالص کے لیے ایسے ہیں کہ جن میں کسی کو بھی مجالِ دم زدن نہیں اور اسی طرح جو لوگ کواکب و نیرات کی پرستش کرتے ہیں اور ان کی تاثیر سے سعادت و نحوست ‘ موت وحیات سمجھتے ہیں جیسا کہ مجوس اور فرقہ صابیہ ان کی بھی کمال تسلی ہے کہ تمہارے معبود ہمارے بنائے ہوئے مسخر ہیں۔ وہ کیا کرسکتے ہیں ؟ الغرض مسئلہ معاد نبوت میں بھی الٹ پھیر کر پھر مسئلہ توحید کو ثابت کردیا۔ اور نیز دنیا کے مغروروں ‘ متکبروں کو بھی سمجھا دیا کہ تم اپنی شاہی اور حکومت پر ناز کر کے ہم سے سرکشی نہ کرو، تمہاری بادشاہی ہمارے مقابلہ میں کیا چیز ہے، تم کو قدرت کیا ہے۔ تم موت وحیات کے کیا مالک ہو، تم نے آسمان و ستارے کہاں بنائے ہیں، علویات پر تمہاری کیا حکومت ہے ؟ لہٰذا ہماری طرف رجوع کرو، سرِنیاز جھکاؤ ورنہ جہنم کا قیدخانہ تیار ہے۔
سوم : مسلمانوں کا فرقہ مرجیہ کہتا ہے کہ وللذین کفروا کی تخصیص سے ثابت ہوتا ہے کہ جہنم میں کفار ہی جائیں گے، مومن نہ جائیں گے، خواہ وہ کیسے ہی گنہگار کیوں نہ ہوں۔ ایمان کے بعد کوئی عمل بد جہنم میں نہیں لے جاسکتا۔ یہ عیسائیوں کے عقیدے کے قریب قریب ہے لیکن یہ خیال غلط ہے کس لیے کہ کفروا کا لفظ بڑا وسیع ہے، کفار شرعی کو بھی شامل ہے اور جو ایماندار ہو کر اس کی ناشکری کرتے ہیں ان کو بھی گو ان کو ابدی جہنم نہ ہوگا ایمان کی بدولت۔ اور نیز دیگر آیات و احادیث میں تصریح ہے کہ ایماندار گنہگاروں کو بھی بقدر گناہ عذاب ہے لیکن عذاب دائمی نہیں اور یہ مسئلہ علم کلام میں نہایت صراحت سے مذکور ہے جو چاہے وہاں دیکھے۔
ا ؎ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بقول نصاریٰ یہود کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے، سولی پر لٹکانے گئے، وہاں بہت روئے پیٹے کہ اے خدا ! مجھے چھڑا مگر نہ چھٹ سکے پھر ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے، کھانا کھاتے، سوتے جاگتے تھے۔ الغرض تمام خصائصِ بشریہ میں جکڑے ہوئے تھے جو عجزوحدوث کے آثار ہیں اسی طرح ہنود کے اوتار اور جمیع مذاہب کے معبودوں کا حال ہے خواہ علویات میں سے ہوں خواہ سفلیات میں سے پتھر و مٹی ‘ تانبے، سونے چاندی کے بت ہوں یا ارواح طیبات وملائ کہ ہوں سب مخلوق ہیں، صفت الوہیت میں کسی کو بھی حصہ نہیں۔ 12 منہ
Ayahs 67:8–11ا ؎ کلماء القی فیہا فوج اس سے معلوم ہوا کہ تمام دوزخی ایک بار دوزخ میں نہیں ڈالیں جائیں گے بلکہ ہر ایک گروہ اور فرقہ ایک ملک کے یا ایک خاندان کے یا ایک مذہب کے یکے بعد دیگرے داخل ہوں گے اور ہر ایک گروہ علیٰ حسب مراتب ہر طبقہ میں بند ہوگا اور ان کے شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ یہ سوال کریں گے اور وہ یہ جواب دیں گے۔ 12 منہ
Ayah 67:12ترکیب : الذین موصول یخشون الجملۃ صلۃ بالغیب متعلق بیخشون ویمکن ان یکون حالامن ضمیر یخشون ای غائبین مغفرۃ مبتداء واجر کبیر معطوف علیہ لہم خبر مقدم والجملۃ خبران والموصول والصلۃ اسمھا۔ واسروا الخ جملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان تساوی الاسرار والجھر بالنسبۃ الی علم اللہ تعالیٰ انہ الجملۃ تعلیل وتقریر لماقبلھا۔ من خلق من فی موضع رفع فاعل یعلم والمفعول محذوف ای الایعلم الخالق خلقہ وقیل الفاعل مضمر ومن مفعولہ ای الایعلم اللہ المخلوق الذی خلقہ وھو اللطیف الخبیر حال من فاعل یعلم۔
تفسیر : مسئلہ معاد کی بابت گروہ اشقیاء کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان الذین یخشون ربہم بالغیب۔ کہ وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں یعنی دنیا میں یہاں آخرت کا عذاب وثواب ان کی آنکھوں سے غائب ہے۔ محض مخبر صادق (علیہ السلام) کے کہنے پر ایمان لا کر آیندہ آنے والی مصیبتوں سے ڈرتے اور خدا کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ لوگوں کے سامنے تو ہر ایک پرہیزگاری جتلایا کرتا ہے مگر ان کے عیب میں یعنی خلوت میں اللہ سے ڈرنے والے ہی دراصل پرہیز گار ہیں۔ ؎
واعظاں کیں جلوہ برمحراب و منبر می کنند
چوں بخلوت می روند آن کاردیگر میکنند
خدا سے ڈرنا دراصل پوشیدگی ہی میں ڈرنا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ پوشیدگی میں تو خدا سے ڈرے اور ظاہر میں نہ ڈرے، رند و فاسق بنا رہے۔ لہم مغفرۃ واجرکبیر ان کے لیے معافی اور بڑا اجر ہے۔ اگر بشریت سے ان سے کوئی گناہ سرزد بھی ہوا جس پر بعد میں اظہار ندامت کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت ہے۔ اور اجر ہے یعنی بدلہ جو روحانی اور جسمانی اور وہاں کے نعیم کو شامل ہے اور وہ بھی کیسا ؟ اجر کبیر یعنی بڑا بےتعداد ہمیشہ کے لئے۔
ف۔ مقابلہ پہلے گروہ کا یہ چاہتا تھا کہ ان الذین یشکرون ربہم کہتے ہیں جیسا کہ اشقیا کے بارے میں فرمایا تھا۔ ان الذین یکفرون ربہم کیونکہ کفر کا مقابلہ شکر ہے نہ ڈرنا۔ اس کی کیا وجہ کہ یخشون کہا یشکرون نہ کہا ؟ جواب شکر منعم کی نعمت کا اظہار و تعریف یا اس کا بدلہ دینا زبان سے خواہ ہاتھ پائوں سے خواہ دل سے۔ اور سورة کا سیاق اظہار شان شہنشاہی ہے کہ وہ ایسا اور ایسا شہنشاہ حقیقی ہے اس کے لیے ڈرنا اور عجز و نیاز سے پیش آنا ہی مناسب ہے اور جو خدا سے ڈرے گا وہ شکرگزاری تو بدرجہ اولیٰ کرے گا۔ شکرگزاری عبودیت و محکومیت نہیں ثابت کرتی جیسا کہ ڈرنا اور کانپنا ثابت کرتا ہے شکرگزاری برابر والا بھی اپنے مساوی درجہ کے محسن کی کرسکتا ہے اور اس جگہ عجزو نیاز زیادہ مرغوب ہے جو حیثیت میں رکھا ہوا ہے۔ شکرگزاری بھی عمدہ چیز ہے مگر ہر ایک بات کا ایک محل ہے یہاں ڈرنا ہی مناسب مقام ہے۔
فرمایا تھا کہ غائبانہ اس سے ڈرنا چاہیے کس لیے کہ ظاہر ڈر اور اطاعت ایسے شخص کی جو امور اور دلی اسرار پر واقف ہو کچھ مفید نہیں اور خدا تعالیٰ کو ہر بات کی خبر ہے۔ واسرواقولکم او اجہروا بہ۔ خواہ تم اس بات کو ظاہر کرو یا پوشیدہ کس لیے کہ انہ علیہم بذات الصدور کہ وہ سینوں کی باتیں جانتا ہے اور کیوں نہ جانے۔ الایعلم من خلق وہ خالق ہے اور خالق کو اپنی مخلوق کا علم ضرور ہے اگر علم نہ ہو تو ارادہ و اختیار سے پیدا نہ کرسکے اور قطع نظر خالق ہونے کے وھو اللطیف الخبیر وہ لطیف ہے مجردات و روحانیات علم اسی لیے وسیع ہے کہ جسمانیت کے حجاب عاجز نہیں لیکن وہ ان سے بھی زیادہ لطیف ہے تو اس کے علم کی کیا حد ہے۔ مجردات وروحانیات کی صرف توجہ و التفات معلوم کرنے کے لیے شرط ہے اور وہ توجہ اس قادر مطلق کے اختیار میں ہے۔ برخلاف اس کے کہ وہ الخبیر ہے ہر ذرہ کی طرف التفات و توجہ رکھتا ہے کس لیے کہ جو مخلوق کے ساتھ اس کے خالق کا رابطہ ہے وہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا ہے اس لیے ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔
اشقیا کی سزا واتقیا کی جزا کی بابت کچھ عجیب نہیں کہ ان لوگوں کا یہ خیال ہو کہ سزاء وجزا ہر ایک کے اعمال اور احوال جاننے اور یاد رکھنے پر موقوف ہے حالانکہ صدہا کام لوگ مخفی کرتے ہیں، ان کی کسی کو بھی خبر نہیں ہوتی پھر وہ کیونکر سزا وجزا دے سکتا ہے ؟ اس خیال کے ابطال میں یہ آیات و اسرواقولکم اواجہروابہ انہ علیم بذات الصدور الایعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔ 1 ؎ نہایت اثر رکھتی ہے۔
اور مکہ کے کفار اکثر ایسا خیال رکھتے تھے، ان کے ناتربیت یافتہ دماغوں میں خدا تعالیٰ اور اس کے اوصاف علم وقدرت محدود تھے۔
فائدہ (1): من خلق سے بعض علماء نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے یہاں تک کہ بندہ اور اس کے اعمال سب کا وہی خالق ہے اگر بندہ خالق ہوتا تو اس کو علم بھی ہوتا حالانکہ جس کام کو کرتا ہے اس میں اپنے عضلات کی حرکت و سکون کا بھی اس کو علم نہیں چہ جائے کہ اس کی تمام باریکیوں کی خبر ہو۔ جب خبر نہیں تو بالارادہ خالق بھی نہیں رہا۔ نیک و بد کام کا بدلہ تو محض اختیارو ارادے کو نیک و بد کام میں متوجہ کرنے پر ہے اور ارادہ متوجہ کرنے کے بعد وہ کام خدا پیدا کردیتا ہے۔
فائدہ (2): غیب کے معنی پوشیدہ کے ہیں پھر یہ جو غیب پر ایمان لانا غیب میں ڈرنا کس کی نسبت ہے ؟ خدا تعالیٰ سے تو کوئی چیز غائب ہی نہیں۔ ہاں بندہ کے لحاظ سے بہت چیزیں غائب ہیں۔ پھر بندوں میں بھی بعض چیزیں بعض کے نزدیک غیب ہیں تو بعض کے نزدیک حاضر اس لیے ہر ایک کا غیب جداگانہ ہے اور غیب الغیب کا خزانہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ وعندہ مفاتح الغیب۔ لطیفہ : بعض کہتے ہیں۔ غیب انسان کا قلب ہے جس کو دوسرا نہیں دیکھ سکتا تب غیب سے ڈرنے کے یہ معنی کہ دل سے یا دل میں خدا سے ڈرے تاکہ دل میں نور پیدا ہو۔
فائدہ (3): حکماء نے بدلائل ثابت کیا ہے اور سمجھ میں بھی آتا ہے کہ جسمانیت کے حجاب علم و ادراک سے مانع ہیں اس لیے ملائکہ جسمانی کثافت سے بری ہونے کے سبب اور ان کے بعد روحانیات ان کے بعد جن اور دیگر لطیف اجسام سے مرکب چیزیں ان چیزوں کو خوب جان لیتے ہیں جو ہماری آنکھوں یا حواس سے باہر ہوتی ہیں۔ خواب میں جب روح کا تعلق جسم سے کسی قدر کم ہو کر دوسری طرف توجہ ہوتی ہے تو ہزاروں باتیں معلوم ہوجاتی ہیں اسی طرح مکاشفہ و مشاہدہ میں جب ریاضات و افکار سے روح منور ہوجاتی اور جسمانی حجاب کمزور ہوجاتے ہیں تو سینکڑوں چیزیں دور دراز کی دکھائی دے جاتی ہیں۔ اسی طرح بعد مردن تو پردہ ہی کھل جاتا ہے مگر وہ حق سبحانہ لطیف ہے اس کے علم کی تو کچھ انتہا ہی نہیں اس لیے علوم کے خزانے اس کے پاس ہیں وہ جس قدر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
Ayahs 67:13–14ا ؎ واسرواقولکم اواجہروابہ دلیل ہے بالغیب ڈرنے کے لئے۔ بالغیب کیوں ڈرو کس لیے کہ وہ مخفی اور ظاہر باتیں جانتا ہے پھر اور ترقی کرتا ہے۔ انہ علیم بذات الصدور کہ جواہر اور موجود فی الخارج چیزوں کے جاننے پر انحصار نہیں۔ وہ دلی خیالات سے بھی واقف ہے پھر اس پر دلیل لاتا ہے۔ الایعلم من خلق کہ وہ خالق ہے اور خالق کو مخلوق کا علم ہے معلوم ہوا کہ دلی خیالات بھی اس کے مخلوق ہیں۔ اس کے بعد اور ترقی کرتا ہے۔ وہ لطیف ہے مجردات کو غیب کی سینکڑوں باتیں معلوم ہوتی ہیں چہ جائے کہ لطیف ہو تمام مجردات اس کے آگے کثیف ہیں اور اس پر خبیر بھی ہو۔ 12 منہ
Ayahs 67:15–18ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر وانما اسقط الیاء من نذیری ومن نکیری لتکون مشابھتہً لرئوس الائی المتقدمۃ والمتاخرۃ الکسرۃ دلیل علی حذف الیائ۔ وفی کلام العرب کثیراً مایحذف الیاء والواء والالف من آخر الکلمۃ فی حالۃ الوقف۔
تفسیر : اب تک اس بادشاہ بابرکت کے وہ انعام و افضال بیان ہوئے تھے جو عالم بالا سے متعلق تھے جیسا کہ آسمانوں اور ستاروں کا پیدا کرنا جو اس کی قدرت تامہ کے لیے شواہد تھے اور ان کے ضمن میں مسئلہ توحید و نبوت کا بھی سلسلہ وار ثبوت تھا۔ اب یہاں سے زمین کے متعلق اپنی بادشاہی اور عالم سفلی کے انعام بیان کرتا ہے اور یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم وہ ہیں جو تمہاری مخفی اور ظاہر باتیں جانتے ہیں اس پر بھی تمہارے لیے ہم نے زمین میں آسائش کے سامان پیدا کر رکھے ہیں اور تمہارے لیے امن کا گھر بنا رکھا ہے۔ پس ہماری مخالفت سے ڈرو اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ورنہ ہم چاہیں تو اسی زمین کو تمہاری ہلاکت کا باعث کردیں۔ تم کو اس میں غرق کردیں یا چاہیں تو اس گھر کی چھت یعنی آسمان سے تم پر پتھراؤ کردیں جیسا کہ پہلوں کے ساتھ ہوا۔
فقال ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا۔ کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے نرم بنا دیا۔ (1) یعنی اس کو ایسا سخت اور حشن کیا کہ اس پر چل پھر سکتے ہیں۔ (2) یا یہ کہ اس کو نرم بنایا کہ جس کو کھود سکتے ہیں، مکانات بنا سکتے ہیں، اگر سخت سنگ خارا ہوتی تو مشکل پڑجاتی۔ (3) یا یہ کہ لوہے، پتھر، تانبے، چاندی جیسی ہوتی تو گرمی میں نہایت گرم اور سردی میں نہایت سرد ہوجاتی۔ نہ کھیتی ہوسکتی، نہ باغ لگتے، رزق و روزی کا سامان مہیا نہ ہوتا۔ (4) یا یہ کہ اس نے ہمارے لیے مسخر کیا اگر ہلے جلے جاتی تو مسخر نہ ہوتی اس پر چلنا پھرنا محال ہوتا۔ (5) یا یہ کہ پانی اور ہوا کی طرح خفیف ہوتی تو کوئی اس پر بس نہیں سکتا جب زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا تو فامشوافی مناکبہا تو اس کے رستوں میں چلو۔ مناکب میں چلنے کے کئی معنی ہیں۔ (1) صاحب کشاف کہتے ہیں یہ نہایت مسخر ہونے کے معنی میں ایک تمثیل اور محاورہ ہے۔ (2) قتادہ و ضحاک و ابن عباس ؓ کہتے ہیں، زمین کے مناکب پہاڑ اور ٹیلے ہیں اس لیے کہ انسان کے مناکب (مونڈھے) اونچے ہوتے ہیں اور پہاڑ اور ٹیلے بھی بلند ہیں اس لیے ان کو مناکب الارض کہتے ہیں۔ یہ معنی کہ جب میں نے اس کے پہاڑ اور ٹیلے تمہارے چلنے کے لیے مسخر کردیے تو اس کے اور اجزا میں تو اور بھی اچھی طرح سے چل سکتے ہو۔
(3) مناکب الارض سے مراد زمین کے رستے اور گھاٹیاں اور کنارے اور اطراف ہیں کس لیے کہ انسان کے مناکب بھی اس کے بدن کے کنارے اور جوانب ہیں۔ اس مناسبت سے زمین کے کناروں اور جوانب اور رستوں کو بھی مناکب کہنے لگے۔ یہ حسن و مجاہد و مقاتل و کلبی و بروایت عطاء ابن عباس ؓ کا اور فراء اور ابن قتیبہ کا قول ہے۔ وکلوامن رزقہ اور اللہ کی پیدا کی ہوئی روزی کھاؤ جو اس نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔ رزق کا اپنی طرف مضاف کر کے یہ بتلا دیا کہ خدا کا پیدا کیا ہوا ہے تمہارا نہیں۔ اور من کے لفظ سے یہ بھی بتا دیا کہ خدا کا پیدا کیا ہوا کل رزق تمہارے کھانے کے لیے نہیں جیسا کہ بعض بلانوشوں کا خیال ہے کہ سور، کتا، شراب، گوہ، گوبر سب چٹ کر جائو۔ فامشوا اور کلوا دونوں امر ہیں مگر یہ امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لئے۔ ان دونوں باتوں کے بعد یہ بھی بتا دیا۔ والیہ النشور کہ دنیا میں چلنا پھرنا، کھانا پینا مقصود بالذات نہیں بلکہ یہ چند روزہ منزل ہے اور جمع ہونا اسی کے پاس ہے۔ پس دنیا اور اس کی نعمتوں پر ایسا فریفتہ نہ ہونا چاہیے کہ منزل مقصود ہی کو بھول جائو، کفر و بدکاری اور شہوت پرستی میں بیہوش پڑے رہو۔
اس کے بعد دنیا اور اس کے لذائذ کے متوالوں اور کفروبدکاریوں کے مستوں کو جو خدا کی زمین میں رہ کر باغی ہوگئے ہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ فقالء امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور۔ کہ اے بیخبر و ! زمین پر تسلط پا کر کیا تم آسمان والوں سے نڈر ہوگئے اور اس بات سے امن میں ہوگئے کہ تم کو وہ زمین میں دھنسا دے اور یکایک زمین تمہارے دھنسانے کے لیے ہلنے اور لرزنے لگے جیسا کہ زلزلے کے وقت ہوتا ہے، زمین ہل کر پھٹ جاتی ہے اور آدمی اور بڑے بڑے مکانات اندر سما جاتے ہیں۔ من فی السماء سے بعض نے یہ سمجھا ہے کہ خدا تعالیٰ آسمان پر رہا کرتا ہے۔ یہ خیال فاسد ہے کس لیے کہ آسمان حادث ہیں اور وہ قدیم ہے۔ جب آسمان نہ تھے تو بھی تھا۔ دوم وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے۔ ہاں احادیث صحیحہ میں جو خدا تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر بیان کیا گیا ہے تو اس سے مراد جہت علو ہے اور آسمان مظہر تجلیات بارگاہ قدس ہیں اس لیے ناواقفوں کو اس کا پتا بتانا مکانیت ثابت نہیں کرتا اور آیت میں من فی السماء سے بالخصوص خدا پاک نہیں بلکہ اس کے کارکن ملائکہ کس لیے کہ ہر بلا اور نعمت عالم بالا سے آتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ عرب کے جاہل اس بات کے قائل تھے کہ خدا پاک آسمان پر ہے۔ ان کے خیال کے موافق ان کو ڈرایا گیا ہے کہ اس آسمان والے سے نڈر نہ ہوجائو۔ اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ جس کی آسمان پر حکومت ہے اس سے نڈر نہ ہوجائو۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور کتب الہامیہ کے محاورہ میں خدا پاک کو آسمانوں سے جہت فوقانی اور مظہر تجلیات کے لحاظ سے منسوب کرتے آئے ہیں۔
دوسری تنبیہ : اور بیان فرماتا ہے۔ امنتم من فی السماء ان یرسل علیہم حاصبًا۔ کہ کیا تم آسمان والے سے نڈر ہوگئے کہ تم پر پتھراؤ نہ کرسکے گا ؟ یعنی زمین میں بھی وہ بالادست دھنسا سکتا ہے اور اوپر سے پتھر بھی برسا سکتا ہے، ہر طرح سے ہلاک کرسکتا ہے۔ اب بھی یہ دونوں بلائیں وفتاً فوقتاً قوموں پر نازل ہوتی ہیں۔ زلزلہ آیا، شہر کے شہر زمین میں سما گئے اور اوپر سے سیر سیر بھر کے اولے اور کہیں ویسے پتھر برسے ہیں۔ فستعلمون کیف نذیر اس کے بعد تمہیں اے اہل مکہ ! جلد معلوم ہوجائے گا کہ نذیر یعنی رسول کیسا تھا، سچا تھا یا جھوٹا ؟ اس کے بعد اسی قسم کے گزشتہ واقعات سے عبرت دلاتا ہے۔ ولقد کذب الذین من قبلہم فکیف کان نکیر کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ قوم عاد وثمود وغیرہ نے پھر سن لیا کہ کیسا بڑا عذاب نازل ہوا۔
ان آیات میں مسئلہ توحید و نبوت و معاد تینوں کا بیان اور ہی اسلوب سے ہوا جیسا کہ عالم بالا کے بیان میں ان تینوں مسئلوں کا ثبوت اور پیرایہ میں تھا۔