Ayahs 67:19–21ترکیب : او الھمزۃ للاستفہام والواو للعطف علی مقدر ای اغفلواولم ینظروا الی الطیر جمع طائر و یقع علی الواحد والجمع قال ابن الابناری الطیر جمع طائر و تانیثھا اکثر من تذکیرھا ولایقال للواحد طیربل طائر قلما یقال للانثی طائرۃ۔ فوقہم ظرف لصافات اوعال وصافات حال من الطیر اومن الضمیر فی فوقہم۔ ویقبضن معطوف علی صافات حملاً علی المعنٰی ای ویقبضن اوصافاتٍ وقابضاتٍ ۔ مایمسکھن یجوزان یکون مستانفا ان یکون حالامن الضمیر فی یقبضن امن قریٔ الجمہور بتشدید المیم علی ادغام میم ام فی میم من وام بمعنی بل من الاستفہامیۃ مبتداء ھذا خبرہ الذی موصول یرزتکم صل تھا لمجموع صفۃ ھذا ینصرکم صفت لجندٍ ومن دون الرحمن فی محل النصب علی الحال من فاعل ینصرکم ان امسک رزقہ جواب الشرط محذوف لدلالۃ ماقبلہ علیہ ای ان امسک رزقہ فمن یرزقکم غیرہ لجو من اللجاج ھوتقحم الامرمع کثرۃ الصوارن عنہ والعتوا لعناد والطغیان الشرودواقل ابن عباس فی عتو و نفورای فی ضلال۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ کیا تم اس کے ارضی و سمادی عذاب سے نڈر ہوگئے ؟ اس کے بعد ولقد کذب الذین من قبلہم سے اس امر پر ایک شہادت کی تھی۔ اب اس پر ایک برہان پیش کرتا تھا اور اپنی قدرت کاملہ کا تصرف آسمان و زمین کے سوا فضا یعنی ہوا میں بھی دکھاتا ہے۔ فقال اولم یروا الی الطیر فوقہم۔ کہ کیا وہ اپنے اوپر پرندوں کی ٹکڑیاں اڑتے نہیں دیکھتے۔ صافات پر کھولے ہوئے ویقبضن اور سمیٹے ہوئے اڑنے میں پرند پروں کو کھول دیتا ہے اور جب اس کو اڑنے میں زور دینا ہوتا ہے تو پروں کو سمیٹ بھی لیتا ہے یعنی دونوں حالتوں میں اڑتا اور ہوا میں معلق رہتا ہے، نیچے نہیں گرتا۔ مایمسکھن الا الرحمن ان کو رحمن کے سوا اور کوئی تھامے ہوئے نہیں۔ اسی کا یدقدرت ان کے ادھر بھی تھامے رہتا ہے یعنی ان کے اجسام میں (ہر چند چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں) اسی نے ایک ایسا ہلکاپن رکھا ہے جو باوجود پر سمیٹنے کے بھی ہوا میں اڑے چلے جاتے ہیں اور دوسرے اجسام گو ان سے چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں اس طرح ادھر میں نہیں ٹھہر سکتے۔ دیکھو اس کی ہوا اور فضا پر بھی بادشاہت ہے۔
فائدہ (1) : نحاس کہتے ہیں کہ جب پرند اپنے بازو کھول کر اڑتے ہیں تو ان کو صاف کہتے ہیں اور جب سمیٹ لیتے ہیں تو قابض کہتے ہیں۔
فائدہ (2): صافات کا مقابلہ قابضات اسم فاعل کا صیغہ نہیں لایا گیا بلکہ یقبضن مضارع کا استعمال ہوا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ پرندوں میں اڑتے وقت پر پھیلائے رہنا اکثر یہ بات ہے اور پر سمیٹ لینا اور پر مارتے اڑنا گاہے گاہے جو مضارع کے تجدد و حدوث سے مفہوم ہوتا ہے برخلاف اس کے اسم فاعل دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔
فائدہ (3): پھر جو ایسی بوجھل چیزوں کو ہوا میں معلق دوڑانے پر قادر ہے کیا وہ اوپر سے پتھراؤ نہیں کرسکتا ؟ یا زمین کے رہنے والوں کو زمین میں نہیں دھنسا سکتا ؟ لیکن انہ بکل شیئٍ بصیر وہ ہر شے کو دیکھ رہا ہے اور اس کی نگہبانی کر رہا ہے۔ ہوا میں اڑتے ہوئے پرندوں کا بھی وہی نگہبان ہے اور زمین اور اس کے رہنے والوں کا بھی وہی نگہبان ہے۔ اگر ذرا بھی اپنی نگہبانی چھوڑ دے تو ہر چیز ہلاک ہوجائے۔ بڑے بڑے کر ات کس تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں ان کا بھی نگہبان یا گاڈ ہے۔ آپس میں لڑنے نہیں دیتا۔ دریا میں بڑے بڑے جہاز اور کشتیاں دوڑتی پھرتی ہیں ان کا بھی وہی نگہبان ہے، انسان کا وجود اور اس کی حیات میں خلل انداز چیزوں کی روک تھام اسی کا کام ہے۔ ایک کو رباطن ان سب باتوں کو اسباب سے جانتا ہے، روشن ضمیر مسبب الاسباب سے سمجھتا ہے، توحید و شرک ‘ کفرو اسلام میں یہی فرق ہے۔ کافر اپنے اسباب پر مغرور رہتا ہے وہ انہیں کو اپنے فتح و نصرت کا لشکر سمجھتا ہے اس لیے ان کے مقابلہ میں فرماتا ہے، امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن۔ بھلا بتاؤ تو سہی کہ وہ تمہارا کون سا لشکر ہے جو تم کو رحمن کے مقابلہ میں مدد دے سکے گا ؟ وہ جب چاہتا ہے ان اسباب میں کھنڈک ڈال دیتا ہے۔ ریل گاڑی کو الٹا دیتا ہے، تار کو روک دیتا ہے، دریا میں آگبوٹوں کو ڈبو دیتا ہے باوجود صفائی کے وبا کا لشکر بھیج کر ستیاناس کرا دیتا ہے، لشکروں کے دلوں میں ضعف و خوف ڈال دیتا ہے، عقلیں مار دیتا ہے پھر جو سوجھتی ہے الٹی ہی سوجھتی ہے۔ پھر وہاں کوئی تدبیر نہیں چلتی، کوئی سبب کام نہیں آتا۔ اس کے بادلوں کے لشکر اور ہوا کے توپخانے اور آسمانی پتھروں کے گولے اور زلزلے کا ڈائنامیٹ تھوڑی سی دیر میں کچھ سے کچھ کردیتا ہے۔ بارہا مشاہدہ کیا ہوگا۔ الغرض سب تدبیریں بگاڑ دیتا ہے پھر وہاں کوئی کام نہیں آسکتا۔
اسباب ظاہریہ کے سوا عرب کے جاہل بلکہ عموماً اور ملکوں کے جاہل بھی اپنے خیالی معبودوں اور ان کی عجائب تاثیروں کو ہر مصیبت کے وقت اپنا یارومددگار سمجھتے تھے بلکہ اب تک سمجھتے ہیں۔ اپنی جان اور اولاد اور مال کی حفاظت اور ترقی کہیں ستاروں پر محول کرتے ہیں، کہیں غیرمرئی ارواح کے سپرد کرتے ہیں ‘ کہیں ٹوٹکوں اور منتروں کے تاثیرات سے مرض و بلا کا دفعیہ سمجھتے ہیں اور خدائے قادر کو چھوڑ کر ان چیزوں کی طرف دوڑے جاتے ہیں اس لیے فرماتا ہے ان الکافرون الافی غرور کہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، اس کے سوا کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اسلام انسان کو ان بکھیڑوں سے نجات بخش دیتا ہے۔
کسی کی التجا کرنی اور اس کو پوجنے کے دو ہی سبب ہوتے ہیں، اول دفع مضرت کہ ہماری مصیبت کو روک دے گا، سو کفار و مشرکین کا اپنے خیالی معبودوں کی نسبت یہ بھی خیال تھا جس کو امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن میں رد کردیا اور پورا رد کردیا۔ دوسرا سبب نفع کی امید کہ اس سے یہ فائدہ پہنچے گا، یہ دے گا، وہ دے گا۔ سو کفارومشرکین کو اپنے الٰہ باطلہ کی نسبت یہ بھی خیال تھا کہ کسی سے رزق روزی مانگتے تھے، کسی سے اولاد، تندرستی طلب کرتے تھے۔ اس خیال کا ابطال اس جملہ میں کرتا ہے۔ امن ھذا الذی یرزقکم 1 ؎ ان امسک رزقہ کہ بتاؤ وہ کون ہے جو تم کو رزق روزی یا کچھ بھی دے سکے اگر وہ اپنا رزق یا بخشش روک لے ؟ کوئی نہیں کس لیے کہ سب اس کے سوا ممکن ہیں جو اپنی ذات وصفات ہی میں اس کے محتاج ہیں۔ صرف بارش بند کرلے تو معلوم ہوجائے۔ سب کچھ جانتے ہیں۔ بل لجوفی عتو و نفور۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی پر اڑے ہوئے ہیں۔ لجاج اڑنا، انسان میں دو قوت عمدہ ہیں۔ پہلی عملیہ، دوسری علمیہ۔ پس عتو حرص دنیا کے سبب سے ہے جو قوت عملیہ کے بطلان پر دلالت کرتا ہے اور نفور حق کے جہل کے سبب جو بطلان قوت علمیہ پر دلیل ہے یعنی ان بدنصیبوں نے اپنی دونوں قوتوں کو خراب کردیا اس لیے ہٹ کرتے ہیں۔
ا ؎ یرزق روزی دیتا ہے کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے اور کبھی مطلق دینے کے معنی میں بھی خواہ رزق دینا یا اولاد و تندرستی دینا کہتے ہیں۔ رزقنی اللہ اولاد اور اموالا رزقہ اللہ صلاحا۔ یہاں یرزقکم عام معنی میں مراد لیا جائے تو نہایت مناسب ہے۔ 12 منہ
Ayahs 67:22–27ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد کقولک ازید قائم ام عمرو والخبر واحد لان ام لاحد الشیئین۔ قلیلاً مالغت لمحذوف ومامزیدۃ لتاکید التقلیل اے شکراً قلیلاً اوزماناً قلیلاً ۔ ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف اخبرونی فلما الفاء فصیحۃ معربۃ عن تقدیر جملتین و ترتیب الشرطیۃ علیھما کانہ قیل وقد اتاھم الموعودبہ فرئوہ فلما رئوہ الخ زلفۃ مصدر بمعنی الفاعل ای قریبا او حال من المفعول سیئت الخ جواب لما یقال ساء الشیء یسور فھوسیٔ اذاقبح واسود قیل عطف علی سیئت عطف المجہول علی المجہول۔ تدّعون قرأ المجہور بالتشدید فھوا ما من الدعاء اومن الدعویٰ کما قال الزجاج والمعنی تطلبون وتستعجلون وتمنون وتسألون وقریٔ مخففا معناہ ظاہر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ عتو اور نفور میں اڑے ہوئے ہیں۔ اب ان دونوں وصفوں کی قباحت بیان فرماتا ہے۔ فقال افمن یمشی مکبا علی وجہہ اھدٰی امن یمشی سویا علی صراط مستقیم۔ کہ کیا وہ شخص جو اونچے اونچے رستے میں ٹھوکریں کھاتا منہ کے بل گرتا ہوا چلتا ہے اس سے زیادہ راستے پر ہے جو صاف اور برابر راستے میں سیدھا چلا جاتا ہے گرتا پڑتا نہیں ؟ حالانکہ دونوں کو برابر کوئی نہیں کہے گا چہ جائیکہ اس ٹھوکریں کھانے والے اندھے کو جو برے رستے پر چلتا ہے اس سے زیادہ رستے پر اور مقصود کو پہنچنے والا کہے۔ پس وہ جو آسمانی قانون اور انبیاء (علیہم السلام) کے رستے پر صاف چلا جاتا ہے وہ مومن نیک ہے، ضرور منزل مقصود پر پہنچے گا اور یہ ٹھوکریں کھانے والا جاہل سرکش نفس اور شہوت اور جہالت اور رسم آبائی کے رستے پر چلتا ہے جو بڑا خاردار اور خطرناک رستہ ہے۔ اس میں بڑے بڑے عمیق گڑھے میں ٹھوکریں کھاتا منہ کے بل گرتا پڑتا جاتا ہے۔ یہی منزل مقصود تک نہیں پہنچے گا، گڑھوں میں گر کر ہلاک ہوگا۔ یہ کافر ‘ سرکش اسلام سے نفرت کرنے والے کی مثال ہے۔
پھر بعض مفسرین کہتے ہیں اس میں کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموم مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں شخص خاص کی طرف۔ دونوں مثالوں میں اشارہ ہے۔ پھر بعض کہتے ہیں حضرت نبی (علیہ السلام) اور ابوجہل مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ابوجہل مراد ہے۔ کجی اور راستی کا بیان۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت میں کافر و مومن کی روش کجی اور راستی کا بیان ہے۔ بعض کہتے ہیں آخرت کے حال کا ذکر ہے کہ کفار آخرت میں اوندھے گرتے ہوئے چلیں گے۔ کماقال ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم اور مومن جنت کی طرف سیدھے دوڑتے ہوئے جائیں گے۔ شریعت مصطفویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور کفر کی تمثیل ہے کہ آخرت میں بھی وہ یوں متمثل ہو کر سامنے آئے گی۔ یہ بھی مسئلہ نبوت کے متعلق ایک پراثر بیان ہے۔ اس کے بعد اثبات قدرت کاملہ پھر ایسے دلائل شروع کرتا ہے جن سے یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرنے کے بعد باردگر زندہ کرنے پر بھی وہ قادر ہے کس لیے کہ کفار عرب حشر کے منکر تھے اور یہ انکار حصول حسنات سے روکنے والا اور شہوت پرستی پر جرأت دلانے والا تھا۔
دوسرا شاہد : اول شاہد تو پہلے گزر چکا تھا۔ اب دوسرا شاہد ذکر کرتا ہے۔ فقال ھوالذی انشاء کم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ماتشکرون کہ وہی تو ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا، نیست سے ہست میں لایا اور اس کے بعد تمہارے لیے شنوائی اور دیکھنے کو آنکھیں اور سمجھنے کے لیے دل بنائے، پر تم کم شکر کرتے ہو۔ پہلی دلیل میں پرندوں کا ہوا میں تھامنا مذکور تھا جو اس کی قدرت کا ایک عجیب کرشمہ ہے۔ یہاں انسان کی پیدائش اور اس کی صفات پیدا کرنا بیان فرماتا ہے جو ایک عجیب حیرت بخش مسئلہ ہے جس میں جس قدر غور کرتے جاؤ ہزاروں اسرار قدرت سمجھ میں آتے جائیں گے۔ آخر عقل و ادراک خیرہ ہو کر یہی کہہ دیتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ اس برہان میں کئی باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ (1) یہ کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے تم کو عقل و ادراک ‘ ہوش و حواس عطا کیا اس کو چھوڑ کر اور کی طرف جھکنا کس قدر ناانصافی ہے۔ (2) یہ کہ بن مانگے جس نے تم کو یہ جواہر عطا کئے جن میں سے ایک کی بھی قیمت کوئی نہیں دے سکتا نہ وہ کسی طرح مول لیے جاسکتے ہیں۔ پھر وہ تمہاری رفع حاجات و دفع بلیات میں تمہارے مانگنے پر کیوں کوتاہی کرنے لگا، پھر اور کی طرف جاتے ہو کیا یہی شکرگزاری ہے ؟ (3) تم نے دنیا میں آنے کا راز نہیں سمجھا حالانکہ ہم نے تم کو کان دیے تھے کہ بزرگوں سے سن کر سمجھتے اور آنکھیں بھی دی تھیں کہ اس کی مخلوقات میں نظر کر کے عبرت حاصل کرتے اور جانتے کہ یہ لوگ اس جہان میں آتے اور چند دن رہ کر چلے جاتے ہیں، کیا بات ہے ؟ آنکھوں سے بھی تم نے کام نہ لیا، دل بھی دیے تھے کہ خود غور کرتے، مراقبہ کر کے سمجھتے مگر ان سے بھی کام نہ لیا۔ ان کو تو حبِّ دنیا و حبِّ شہوات سے بھر رکھا ہے ہمارے آنے کے لیے جگہ ہی باقی نہ رکھی، پھر ان چیزوں کی یہی شکرگزاری ہے ہیچ ہے قلیلا ماتشکرون۔ (4) جس نے تم کو اول بار بغیر نمونے کے بنا دیا تمہارے جسم کے اجزاء کن کن غذائوں سے کیسے جمع کئے پھر کیا وہ باردگر تم کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا ؟
تیسرا شاہد : اس کے بعد تیسرا شاہد بیان فرماتا ہے جس میں یہاں آنے کے راز کو کسی قدر ظاہر کیا ہے کہ اسی کے پاس جا رہے ہو پھر کچھ کر کے جائو۔ فقال ھوالذی ذرا کم فی الارض والیہ تحشرون۔ کہ اسی نے تم کو زمین پر پھیلا دیا۔ کوئی ملک نہیں کہ جہاں اولاد حضرت آدم ( علیہ السلام) نہ ہو تھوڑے دنوں میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل دنیا بھر میں پھیل گئی۔ یہ برکت اسی نے عطا کی ہے پھر جس نے پھیلایا وہی تم کو سمیٹ کر اپنے پاس ایک روز جمع کرلے گا۔
واضح ہو کہ یہ دلائل صحت و ثبوت حشر و نشر کے لیے تھے تاکہ وہ آزمائش صحیح سمجھی جائے جس کا اول سورة میں ذکر تھا۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا وھو العزیز الغفور۔ پھر اس مقصود کے ثابت کرنے کے لیے اپنے کمال قدرت پر چند دلائل بیان فرمائے اور ان کو ھو الذی ذرا کم فی الارض تک تمام کیا اور یہ ثابت کردیا کہ جس کو ابتدائً پیدا کرنے کی قدرت ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ کرسکتا ہے اس لیے اس کے بعد یہ جملہ والیہ تحشرون۔ گویا تمام دلائل کا نتیجہ ہے جس کے ثبوت میں کسی عقلمند کو ذرا بھی کلام نہ ہونا چاہیے۔ اس جملے کو سن کر منکرین حشر کو کوئی حجت باقی نہ رہی مگر صرف تمسخر کے طور پر یہ کہنے لگے۔ ویقولون متی ھذا الوعدان کنتم صادقین کو وہ وعدہ یعنی قیامت کب ہے، اگر تم سچے ہو تو اس کی تعیین کرو۔ یہ ایک مہمل سوال ہے کس لیے کہ خواہ وہ کبھی ہو اس کے لیے عاقل کو تیار کرنا چاہیے۔ اس لیے اس کا جواب بھی دوسری طرح سے دیا گیا۔ قل انما العلم عنداللہ انما انانذیر مبین کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دے کہ اس کے وقت کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں جو ہوں تو تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں، صاف صاف اس کے لیے تعین وقت کا علم کوئی ضروری نہیں ہاں اس کا علم ضروری ہے جو نذیر کے لیے کافی ہے سو وہ مجھے حاصل ہے اور اس کا مجھے کامل یقین ہے پھر جب وہ وقت آئے گا کہ جس کا کوئی تعین نہیں جانے کب آجائے تو کیا حال ہوگا۔
فقال فلمارا وہ زلفۃً جبکہ اس وعدے کو دیکھیں گے کہ قریب آگیا تو سیئت وجوہ الذین کفروا۔ منکروں کے منہ بگڑ جائیں گے۔ دہشت اور ہیبت کے مارے چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ وقیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور اس وقت شرمندہ اور ذلیل کرنے کے لیے کہا جائے گا (فرشتے کہیں گے یا ایک دوسرے سے کہے گا) لو یہ ہے وہ وقت کہ جس کی بابت تمہیں دعویٰ تھا کہ ہرگز نہ ہوگا۔ یا یہ ہے وہ کہ جس کو تم دنیا میں پکارتے اور مانگتے تھے کہ وہ کب اور کیوں نہیں جلد آچکتا۔
معاذاللہ مصیبت کا وقت بھی برا وقت ہوتا ہے خصوصاً جس کا کوئی تدارک نہ ہو سکے جب وہ سامنے آتا معلوم ہوجاتا ہے تو ہوش و حواس باقی نہیں رہتے اور رنج و تکلیف، ہیبت و دہشت کے آثار چہرے پر ایسے نمایاں ہوتے ہیں کہ چہرہ بگڑ جاتا ہے۔ جب ایسی مصیبت آنے والی ہو اور اس کے آنے میں کچھ بھی کلام نہ ہو تو اس سے بیخبر رہ کر حجت بازی کرنا کیسی حماقت اور کیسی بدنصیبی ہے۔
ان آیات میں مسئلہ حشر کی ہولناک کیفیت بیان کی گئی جو رسالت کا ایک مقصد اعظم ہے کس لیے کہ یہی انسان کے شہواتی خیالات کو پست کرنے والی چیز ہے۔
فائدہ : حشرِحقیقی کا تو ایک وقت معین ہے کہ آسمان و زمین یعنی یہ عالم ناسوتی فنا ہو کر عالم ملکوتی ظہور کرے گا اور وہاں اس عالم کی ہر چیز اپنی مناسب صورتوں میں ظاہر ہوگی اور تمام بنی آدم خدا تعالیٰ کے پاس حاضر کئے جائیں گے، جزاء و سزا کے لیے اور یہی راز ہے اس جہان میں آنے کا جس کو پہلے لیبلوکم ایکم احسن عملا میں بیان فرمایا تھا مگر مرنے کے بعد بھی خدا کے پاس ارواح جزاء و سزا کے لیے حاضر کی جاتی ہیں اور اس کو قیامت صغریٰ کہتے ہیں اور کیا سچا قول ہے۔ من مات فقد قامت قیامتہ کہ جو مرگیا اس کی قیامت برپا ہوگئی۔ یہ قیامت کبریٰ کا دروازہ ہے اور یہ بھی مبہم رکھی گئی ہے تاکہ انتظام عالم میں خلل نہ آئے اور زیرک ہر وقت ہوشیار رہے، پھر یہ کبھی فرادٰی فرادٰی ہوتی ہے اور کبھی کوئی آسمانی حادثہ یکایک آپڑتا ہے کہ جس سے ہزاروں لاکھوں یکبارگی ملک عدم میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان باتوں کی طرف بھی والیہ تحشرون میں اشارہ تھا کہ کفار و مشرکین کی قوت نظریہ اور عملیہ دونوں خراب ہوچکی تھیں وہ اس کی بابت بھی وقت کی تعیین پوچھتے تھے کہ وہ حادثہ جس کو ہم محض خدا کی طرف سے اپنے کفروبت پرستی کی سزا میں سمجھیں ‘ کب آئے گا۔ یہ بڑا گستاخانہ سوال ہے۔ اس عالم میں سینکڑوں حوادث پہلے گزر چکے جن کے آثار تمہارے سامنے ہیں اور بہت سے گزر رہے ہیں۔ پھر ان کی بابت سوال کرنا کہ وہ کب ہوں گے، بڑی بیہودہ بات ہے جس کا جواب یہی ہے کہ جب اس کو سامنے آتے دیکھیں گے تو منہ بگڑ جائیں گے۔
Ayahs 67:28–30ترکیب : ارء یتم بمعنی اخبرونی کماقال اکثر المفسرین والجملۃ الشرطیۃ ان اھلکنی اللہ الخ سدت مسدالمفعولین فمن یجیرالکافرین الخ جواب الشرط امنابہ وعلیہ توکلنا صفۃ الرحمن وقیل ھو ضمیر الشان امنابہ خبرالرحمن من استفہامیہ فی محل النصب علیٰ انہ مفعول تعلمون ان اصبح شرط غورا خبر اصبح والغور مصدر فی معنی الغایرویقال غار الماء غورا ای نضب فمن یاتیکم الجملۃ جواب الشرط معین ظاہر تراہ العیون وقیل ھومن مَعَنَ الماء اذاکثر وقال قتادۃ والضحاک ای جارٍ ۔
تفسیر : ان امور آخرت کو سن کر کفار آنحضرت ﷺ سے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا ہم پر قحط ‘ وبا وغیرہ کا عذاب آئے گا تو تم بچ جاؤ گے ؟ یہ بھی ایک نامعقول گفتگو تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے : قل ارء یتم ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم کہ اے نبی ! ان سے کہہ دے کہ بتاؤ اگر مجھے اور میرے ساتھ والوں ایمانداروں کو اللہ ہلاک کر دے یا اپنی مہربانی سے بچا لے جو کچھ ہو مگر تم عذاب الیم سے جو تمہارے کفر کا بدلہ ہے کس طرح بچ سکتے ہو، اپنی فکر کرو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کفار آنحضرت ﷺ و صحابہ کرام ؓ کو برا بھلا کہتے تھے اور کو ستے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہمارے معبودوں کو نہیں مانتے، یہ جلد ہلاک و برباد ہوں گے۔ اس کے درجواب یہ کہا گیا کہ ہمارا کام اللہ کے ہاتھ میں ہے چاہے ہلاک کرے، چاہے بچا لے مگر تم کو تمہارے معبود عذاب الیم سے کسی طرح بچا نہیں سکتے۔ ہم کو ہلاک کرے یا مہربانی کرے شک کے طور سے نہیں کہا بلکہ آنحضرت ﷺ کو اپنے اوپر اور اپنے گروہ کا مہربانی پر بھروسہ کامل تھا اور آپ کو وعدہ دیا گیا تھا لیکن ایسے محل پر مخالف ہٹ دھرم سے اسی طرح کی گفتگو کی جایا کرتی ہے۔ اسی لیے اس کے بعد فرماتا ہے قل ھوالرحمن آمنابہ وعلیہ توکلنا کہ ان سے کہہ دے وہ رحمان یعنی نہایت مہر کرنے والا ہے ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر ہمارا ہر کام میں بھروسہ ہے۔ بیشک وہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں، ایمان لانے والوں کو نوازتا ہے۔ تمہارے بت ہمارا کچھ بھی نہ کرسکیں گے، تم ایسے بیہودہ خیالات کی صریح گمراہی میں ہو ابھی تم کو معلوم ہوجائے گا۔ فستعلمون من ھو فی ضلال مبین۔ کہ کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے ؟ ابھی سے کیا مراد ؟ موت کے بعد جو قریب ہے یا وہ بلائیں عنقریب تم پر آنے والیاں ہیں چناچہ قحط آیا مقہور ہوئے۔ یا یہ مراد کہ خدا پاک نورہدایت کو پھیلاتا جاتا ہے، ابھی تم کو بعد میں معلوم ہوجائے گا کہ ہم صریح گمراہی میں تھے چناچہ تھوڑے دنوں کے بعد ہزاروں لاکھوں اسلام کے نور سے منور ہوئے اور بعد میں مقر ہوگئے کہ ہم گمراہی میں تھے، قیامت کے دن گو قیامت بظاہر دور ہے مگر آنے والی ہے اور آنے والی دور بھی نزدیک ہوتی ہے۔
اس کے بعد ان کے بتوں کی کمزوری اور خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایک دلیل بیان فرماتا ہے۔ قل ارء یتم اصبح مائوکم غورا فمن یاتیکم بمائٍ معین۔ کہ ان سے کہہ بھلا بتاؤ تو سہی خدا اگر تمہارے پانی کو (یعنی کنوئوں کے یا نہروں کے پانی کو) سکھا دے تو پھر وہ کون ہے جو کثرت سے پانی تمہارے پاس لے آئے۔ اس بات کو وہ بھی مانتے تھے کہ اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ بس میرا بادشاہ بابرکت جس نے برکت کے یہ سامان کئے اس پر بھی قادر ہے کہ وہ پانی کہ جس پر تمہاری زندگی کا مدار ہے خشک کر دے، پھر وہ قادر نافع و ضار ہے یا تمہارے معبود ؟ میرے معبود کے ہاتھ تمہاری جان ہے تمہارے معبو وں کے ہاتھ میرا کچھ بھی نہیں۔ سبحان اللہ ! کس موقع پر کلام تمام کیا ہے کہ جس کو اول و اوسط سے کمال ارتباط ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس جملے کے بعد مستحب ہے کہ اللہ رب العالمین کہے جس کا یہ مطلب کہ اللہ پانی لائے گا۔ بعض متکبرین نے یہ آیت سن کر کہا کہ ہم کھود کر نکال لائیں گے خدا نے اس کی آنکھوں کا پانی کھو دیا، اللہ سے ڈرتا رہے گستاخی نہ کرے۔