Ayahs 66:1–4ترکیب : تبتغی استیناف اوتفسیر لقولہ تحرم اوحال من الضمیر فی تحرم والمرضاۃ اسم مصدرو اصلہ مرضوۃ۔ وھو مضاف الی المفعول الی ان ترضی ازواجک والی الفاعل ای ان یرضین ھن۔ ومعناہ الرضائ۔ ویمکن ان تکون الجملۃ للاستفہام الانکاری تحلۃ اصلہ تحللۃ فسکن وادغم۔ واذ فی موضع نصب باذکر فلما شرط عرف جو ابہ فلما شرط قالت جو ابہ ان تتوبا شرط والجواب محذوف ای فذاک واجب دل علیہ فقد صغت لان اصغاء القلب الی ذلک قریب۔ قلوبکما انما جمع وھما اثنان لان لکل انسان قلبا ومالیس فی الانسان الاواحد جازان یجعل الاثنان فیہ بلفظ الجمع وجازان یجعل بلفظ التثنیۃ وقیل وجہہ ان التثنیۃ جمع ھو مبتداء وخبرہ ان ویجوزان یکون ھو فصلا فاماجبرئیل و صالح المؤمنین ففیہ وجہان احدھما ھو مبتداء والخبر محذوف والثانی ان یکون مبتداء والملائکۃ معطوفا علیہ وظہیر خبر الجمیع وھو واحد فی معنی الجمع ای ظہرائ۔
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں۔ ربط اس کا اول سورة سے یہ ہے کہ اول سورة میں طلاق کے احکام بیان ہوئے تھے جو عورتوں کے متعلق تھے اور نیز طلاق کے بعد جو عورت حلال تھی حرام ہوجاتی ہے اس لیے اس سورة میں بھی عورت کی ضد و خواہش اور ہٹ اور اصرار سے مباح چیز کو اپنے اوپر ممنوع کر کے معاشرت کے دائرہ کو تنگ کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے اس لیے فرماتا ہے :
یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ! کیوں حرام کرتے ہو اس چیز کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردی ہے۔ تبتغی مرضاۃ ازواجک اس حرام کرنے میں اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہوا ؎۔ (ا ؎ آنحضرت ﷺ نے بیویوں کے کہنے سے حرام کی تھی۔ ) یعنی ایسا نہ کرو۔ یہ ایک قسم کی ناپسند بات ہے اللہ غفوررحیم خدا معاف کرنے والا ہے۔ اور تم جو بیویوں کے کہنے سے قسم کھا بیٹھے ہو تو قدفرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم تو اللہ نے تمہارے لیے ایسی قسموں کا توڑ دینا فرض کردیا۔ ضرور توڑ دو کس لیے کہ اللہ مولکم وھو العلیم الحکیم۔ اللہ تمہارا رفیق و کارساز ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس میں تمہیں دقت اور تنگی پیش آئے گی اور ہمیشہ کے لیے ایک مباح چیز امت میں حرام سمجھی جائے گی اور یہ اصول شریعت محمدیہ کے برخلاف ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ کسی چیز کو حرام و ممنوع قرار دینا اس کے عواقب امور پر نظر کر کے اسی کا کام ہے۔ پھر جس کو وہ حرام نہ بنا دے تم نہ بنائو۔ رہبانیت جس کو اسلام نے رد کردیا اس میں بھی یہی بات تھی کہ نفس کو تکلیف دینے کے لیے حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا جاتا تھا اسی طرح ہنود وغیرہ قوموں کے درویش کیا کرتے تھے۔ کوئی دودھ نہیں پیتا، کوئی میٹھا نہیں کھاتا، کوئی نکاح نہیں کرتا۔ کوئی ایک قسم کی چیز جو بےمزہ ہو اور ایک قسم کا کپڑا جو بےقدر ہو پہننا شروع کردیتا ہے اور اس کو تقرب الی اللہ اور سعادتِ آخرت کا عمدہ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ شریعت مصطفویہ نے ان باتوں کو بےاصل قرار دے کر سچے اصول سعادت بیان کردیے۔ وہ اخلاق و عقائد کی درستی کے بعد اللہ کی عبادت و مراقبہ و فکر و ذکر اور مخلوق کے ساتھ بھلائی اور احسان کرنا۔ فقرائِ اہل اسلام میں جو ریاضت ہے وہ اور معنوں پر مبنی ہے۔ وہ ان چیزوں کو حرام اور ممنوع نہیں قرار دیتا بلکہ مباح امور میں نفس بد کی خواہش روکنے کی مشاقی کرتا ہے اور ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔
یہ بات کہ نبی ﷺ نے بیویوں کے کہنے یا ان کے خوشنود کرنے کو کون سی چیز اپنے اوپر ممنوع کردی تھی اور اس کے لیے قسم کھا بیٹھے تھے اور پھر قسم توڑی کیا تھی ؟ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آنحضرت ﷺ کی ایک حرم محترم کی بابت اشارہ ہے۔ پھر کسی نے کہا وہ ماریہ قبطیہ ؓ ابراہیم کی والدہ ہیں کہ حفصہ ؓ کے گھر میں ان سے (جبکہ وہ اپنے والد ماجد کے ہاں گئی ہوئی تھیں) اختلاط کیا اور دونوں کو آ کر حفصہ ؓ نے اپنے حجرہ میں دیکھا اور دیکھ کر رنج کے آثار ان کے چہر سے ہویدا ہوئے تب آنحضرت ﷺ نے ان کی خوشی کے لیے یہ فرما دیا کہ میں اب سے ماریہ کے پاس ہی نہیں جائوں گا۔ اس بات کو حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہہ دیا جو آنحضرت ﷺ کی مرضی مبارک کے خلاف تھا۔ الہام سے آنحضرت ﷺ کو یہ خبر دی گئی کہ اس نے عائشہ ؓ سے کہہ دیا اور آپ نے عائشہ ؓ سے کچھ بات حفصہ ؓ کی بتلائی ہوئی کہہ دی اور کچھ اور جو اس نے اپنی طرف سے کہی تھی اس سے سکوت کیا۔ عائشہ ؓ نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا (کس لیے کہ اس مخفی بات کو یا عائشہ ؓ جانتی تھیں یا حفصہ) آپ نے فرمایا اللہ نے جو علیم وخبیر ہے۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں جن میں آنحضرت ﷺ کو تنبیہ ہے کہ ماریہ آپ کی حرم ہیں کس لیے ان کی خوشی سے آپ اس کو اپنے اوپر ممنوع کرتے ہیں قسم توڑ دیجئے۔ آپ نے قسم توڑ دی اور کفارہ ادا کردیا۔ اس بات کو نسائی و حاکم و ابن مردویہ و بزار و طبرانی و ابن سعد و ابن المنذر و ہیثم بن کلب نے اپنی مسند میں وضیاء مقدسی نے مختار میں نقل کیا ہے مگر کسی نے کوئی جملہ زیادہ کیا ہے کسی نے کم اور پھر کسی کی سند ضعیف ہے کسی کی صحیح۔ لیکن امور خارجیہ پر جو نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ روایت ٹھیک نہیں معلوم ہوتی کس لیے کہ ماریہ ؓ آنحضرت ﷺ کی حرم تھیں جن کے پیٹ سے ابراہیم پیدا ہوئے تھے۔ صرف حفصہ ؓ کے گھر میں جو دراصل نبی ﷺ کا گھر تھا ان سے اختلاط کرنا نہ حفصہ ؓ کے نزدیک کوئی بڑی بات تھی نہ آنحضرت ﷺ اس بےقصور کو اپنے اوپر حرام کرنے والے شخص تھے۔
دوسری روایت جس کو بخاری و مسلم وغیرہ جلیل القدر محدثوں نے نقل کیا ہے اس آیت کی شان نزول میں یہ ہے کہ حضرت زینب بنت حجش کے ہاں شہد آیا ہوا تھا۔ آپ کو شہد سے رغبت تھی یا آپ صحت جسمانی کے لیے مفید سمجھے ہوئے تھے۔ ہر صبح آپ زینب کے گھر جاتے اور
شہد نوش فرماتے تھے اور یہ طبعی بات ہے کہ آخر وہ بھی بیوی تھی۔ تھوڑی دیر وہاں بیٹھتے بھی ہوں گے، یہ بات حضرت حفصہ اور عائشہ ؓ کو جو باہم محبت رکھتی تھیں اور زینب ؓ کے مقابلے پر تلی ہوئی تھیں بری معلوم ہوئی اور یہ طبعی بات ہے۔ دونوں نے شہد چھڑانے کے لیے باہم کوئی تدبیر نکالی۔ کہیں ایک نے کہہ دیا کہ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔ آپ کو بو سے نفرت تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے کوئی بدبودار چیز نہیں کھائی صرف زینب کے ہاں شہد ضرور کھایا۔ آیندہ نہیں کھائوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ بات قرین قیاس ہے کس لیے کہ عورتوں کی باہم رقابت معمولی بات ہے۔ زینب ؓ کے ساتھ یہ خصوصیت ہر روز شاق گزری۔ شہد میں کی کر وغیرہ پتوں کی اکثر خوشبو یا بدبو بھی ہوا کرتی تھی اس میں بھی ہوگی۔ پھر ایک نے نفرت دلانے کے لیے اس بات کو بڑھا کر اور زور دے کر کہا اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی ہوگا اور رنجیدگی بھی ظاہر کی ہوگی اور آپ نے اس کی تسلی بھی کی ہوگی۔ بیویوں کی دلجوئی معمولی بات ہے۔ آپ نے زینب ؓ کے گھر جا کر شہد کھانے کو اپنے اوپر ممنوع کیا اور قسم بھی کھائی ہوگی۔ پھر ایک نے دوسری سے خوب اظہار مسرت کیا ہوگا کہ لو داؤ چل گیا۔ یہ بات خدائے پاک کے نزدیک اچھی نہ معلوم ہوئی اور شان اولوالعزمی کے مخالف بھی ہے اس لیے آپ کو تنبیہ ہوئی اور قسم کے توڑ ڈالنے کا حکم دیا گیا۔ اب مطلب آیات کا صاف ظاہر ہوگیا اور کوئی قبح بھی پیدا نہیں ہوا۔
پھر آگے اس معاملہ کا تذکر کرتا ہے۔ واذاسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا۔ اور جب نبی نے اپنی کسی ایک بیوی سے مخفی بات کہی۔ اکثر مفسرین کہتے ہیں وہ حفصہ ؓ ہے اور مخفی بات شہد یا ماریہ ؓ کے حرام کرنے کی تھی اور اپنے بعد ابوبکر و عمر ؓ کی خلافت کی بشارت بھی دی تھی۔ مگر یہ تحقیق کرنا کہ وہ مخفی بات کیا تھی مشکل امر ہے۔ کس لیے کہ نہ اس کو اللہ نے ظاہر کیا نہ رسول اللہ ﷺ نے۔ تو پھر کس طرح یقین ہوا کہ یہی بات تھی لیکن قرینہ کہتا ہے کہ اسی قسم کی بات ہوگی کہ جو شوہر اپنی بیوی سے اس کی محبت اور دوسری پر فوقیت کے بارے میں کہا کرتا ہے۔ فلمانبات بہ۔ پھر جب اس بیوی نے اس بات کو کہہ دیا۔ کس سے کہا ؟ اکثر مفسرین کہتے ہیں، عائشہ ؓ سے واظہرہ اللہ علیہ۔ اور خدا نے یہ معاملہ نبی ﷺ پر ظاہر کردیا۔ عرف بعضہ وا عرض عن بعض۔ تو نبی ﷺ نے کسی قدر کا عائشہ ؓ سے اظہار کیا کہ تجھ سے حفصہ ؓ نے یہ کہا ہے اور کسی قدر سے اعراض و سکوت کیا۔ وہ کہنی مناسب نہ جانی ہوگی۔ بہت سی باتیں خاوند ایک بیوی سے کہہ دیتا ہے جو دوسری سے کہنی مناسب نہیں سمجھتا۔ بعض کہتے ہیں وہ خلافت ابوبکر و عمر ؓ کی بات تھی جس سے مصلحت جان کرسکوت کیا۔ فلمانباھا بہ۔ پھر جب نبی ﷺ نے عائشہ ؓ کو یہ بات بتا دی کہ تجھ سے حفصہ ؓ نے یہ کہا تو تعجب سے عائشہ ؓ نے کہا من انباک ھذا آپ سے کس نے کہا کہ حفصہ ؓ نے مجھ سے یہ کہا۔ قال نبانی العلیم الخبیر۔ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے علیم خبیر نے بتا دیا۔ قصہ تمام ہوا۔ اب حفصہ ؓ 1 ؎ و عائشہ ؓ دونوں کو اس کمینی کرنے پر متنبہ کرتا ہے۔ ان تتوباالی اللہ۔ اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو تو بہتر کس لیے کہ فقد صغت قلوبکما 2 ؎ تمہارے دل تو ضرور مائل تھے کہ آپ زینب ؓ سے یہ خصوصیت ترک کردیں، شہد نہ کھائیں یا ماریہ ؓ کو ترک کردیں۔ خبردار ایسے رشک و رقابت سے باز آؤ اور نبی ﷺ پر چڑھائی نہ کرو۔ وان تظاھرا اور اگر چڑھائی کرو گی فان اللہ ھو مولہٰ تو اللہ اس کا رفیق و چارہ گر ہے۔ وجبریل اور عالم ملکوت میں جبرئیل بھی چارہ گر ہے الہامات میں مؤید ہے اور ناسوت میں صالح المؤمنین نیک بندے ایماندار مددگار ہیں۔ خلفاء اربعہ ؓ وغیرہ اور اس کے سوا ہر وقت ہر جگہ فرشتوں کا باڈی گاڈ یا حفاظتی لشکر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ والملائکۃ بعد ذٰلک ظہیر کے یہی معنی ہیں۔
فائدہ : حلال چیز کا اپنے اوپر حرام کرلینا جیسا کہ آیت میں لم تحرم ما احل اللہ لک ہے امام ابوحنیفہ وغیر فقہا کبار (رح) کے نزدیک یمین ہے کس لیے کہ بعد میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قدفرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ کہ اللہ نے یمین کا کھولنا فرض کیا ہے اور یمین کا کھولنا کفارہ دینا ہے۔ اگر گناہ کی بات پر قسم کھالے یا خواہ مخواہ کسی مباح اور حلال چیز پر قسم کھا بیٹھے کہ ایسا نہ کروں گا تو کفارہ دے کر اس قسم سے الگ ہوجانا چاہیے۔ فرض اللہ لفظ بتا رہا ہے کہ ضرور اس قسم سے دور ہونا چاہیے۔ کفارہ یمین غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو اس قدر کپڑا دینا کہ نماز پڑھ سکیں اور زیادہ دے تو توفیق ہے یا دس مسکینوں کو کھانا پیٹ بھر کر کھلانا۔ اور مقدور نہ ہو تو تین روزے رکھنا۔ یہ منحل یمین ہے۔ بعض کہتے ہیں یمین میں انشاء اللہ کہہ دینا بھی منحل ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مباح کا حرام کرلینا یمین نہیں لیکن کفارہ دینا خاص اس صورت میں ہوگا کہ جب اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام قرار دے لے گا۔ آیت میں یہی بات تھی۔ اور اگر شہد کا معاملہ تھا تو آپ نے بعد میں اس پر حلف بھی کیا تھا اس لیے اس کو یمین قرار دیا گیا نہ محض اس لیے کہ مباح کو حرام کرلیا تھا۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے کفارہ دیا ایک غلام آزاد کیا۔ (ابن کثیر) حسن (رح) کہتے ہیں کہ کفارہ نہیں دیا کس لیے کہ آپ مغفور تھے۔ کفارہ اور یمین میں جو آئمہ (رح) کے اقوال ہیں ان کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
ا ؎ بعض شیعہ یہاں سے حفصہ و عائشہ ؓ پر الزام لگاتے ہیں مگر یہ غلط خیال ہے کہ کس لیے کہ میاں بیوی میں ایسی باتیں طبعی ہیں۔ کیا حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ ؓ و علی مرتضیٰ ؓ میں کبھی رنجش نہیں ہوئی۔ بات یہ ہے کہ ان حضرات نے علی و فاطمہ و حسن و حسین ؓ کو ملائکہ میں ملا دیا بلکہ انبیاء (علیہم السلام) پر بھی فوقیت دے دی۔ دیکھو اس سورة میں خاتم المرسلین ﷺ کو خدا تحریم ما احل اللہ پر کیسی تنبیہ کر رہا ہے پھر کیا اس سے ان کی شان میں کوئی فرق آسکتا ہے۔ 12 منہ
2 ؎ فقد صغت قلوبکما کے معنی مفسرین نے یہ لکھے ہیں صحیح بخاری میں ہے صغوت واصغیت ملت لتصغی التمیل صراح میں ہے صغو میل کردن اس کے معنی مائل ہونے کے ہیں یعنی تمہارے دل مائل ہوگئے ہیں۔ عام مفسرین کا قول ہے کہ حق سے مائل ہوگئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں باہمی سازش کی طرف مائل ہوگئے ہیں اور یہی ٹھیک ہے مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے ان کے ایمان یا دین میں خلل ہو۔ 12 منہ
Ayahs 66:5–6ترکیب : عسیٰ من افعال المقاربۃ ربہ فاعلھا ان یبدلہ الخ الجملۃ خبرھا ان طلقکن شرط وقع بین فاعل عسیٰ وخبرھا وعسٰی مع اسمھا وخبرھا جواب الشرط۔ یبدل بالتخفیف التشدید ازواجاً منصوب لکونہ مفعول یبدل خیراوکذا مسلمات ومابعد ھا صفات لازواجاً و اھلیکم عطف علی انفسکم وکلاھما مفعول اول لقوا نارا مفعول ثان وقودھا الناس الجملۃ صفۃ لنار وکذا علیہا ملائکۃ۔ لایعصون اللہ الجملۃ صفۃ الملائکۃ تا ما امرھم ماموصولۃ والعائد محذوف ای لایعصون اللہ الذی امرھم بہ اومصدریۃ ای لایعصون اللہ امرہ علی ان یکون ما امرھم بدل اشتمال من اللہ ویفعلون مایؤمرون بہ الجملۃ صفۃ ثانیۃ لملائکۃ۔
تفسیر : اس کے بعد ازواج مطہرات کو ڈراتا جاتا ہے فقال عسیٰ ربہ الخ کہ تم کسی اور خیال میں نہ رہنا۔ اگر نبی (علیہ السلام) نے تم کو طلاق دے دی تو اللہ تم سے بہتر اور عورتیں اس کو دے دے گا جو مسلمات حضرت کی دل سے مطیع ہوں گی یا ان کا ظاہر بھی اسلام ہوگا۔ مؤمنات دل میں بھی ایمان ہوگا یعنی ظاہر و باطن ایماندار دیندار ہوں گی۔ قانتات عبادت کرنے والیاں قنوت کے معنی طاعت ہیں۔ اس سے مراد تہجد گزاریں، پنجگانہ نماز پڑھنے والیاں، دعائیں مانگنے والیاں، یعنی صرف ایمان و اسلام پر ہی بس نہیں بلکہ اس کے بعد عملی حصہ میں بھی بڑا حصہ پانے والیاں ہوں گی۔ ایمان و اسلام کے بعد اگر طاعت و عبادت نہیں تو ایمان میں رونق نہیں اور اپنی طاقت پر فخر کرنے والیاں اور بشریت سے جو قصد ہو اس پر ہٹ اور ضد کرنے والیاں نہ ہوں گی بلکہ تائبات توبہ کرنے والیاں ہوں گی۔ توبہ کے معنی رجوع کے ہیں گنہگار گناہ سے توبہ یعنی رجوع کرتے ہیں اور ابرار ذرا دیر کی حق سبحانہ سے غفلت سے توبہ کرتے ہیں اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان میں سے اعلیٰ ترین مقامات قرب کو طے کر کے ان سے توبہ کر کے اس سے بلند زینہ پر پائوں دھرتے ہیں۔ ہر انسان بالخصوص عورت میں یہ نہایت عمدہ وصف ہے کہ وہ اپنے قصور پر نادم ہو ہٹ دھرم اور اڑیل سے امید نہیں کہ وہ اس بدبات سے باز آتے۔ عابدات یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے کہ نماز و دعا کی عبادت پر بس نہیں بلکہ ہر قسم کی عبادت کرنے والیاں ہوں گی۔ صدقہ و خیرات، حج و زکوٰۃ، خدمت شوہر وپرورش اولاد ‘ عزت و مال کی حفاظت ‘ صلہ رحمی ‘ خاوند سے ادب و خوش خلقی اور اس کی فرمانبرداری اور اس کے ساتھ ہمدردی سب عورت کی عبادت ہے۔ عبادت کے معنی ہیں تذلل یعنی پستی اور جھکنا خداوند تعالیٰ کے آگے اور اس کے بعد اپنے دنیاوی آقا کے آگے جھکنا عبادت ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ نرم اور خوش خلق بھی ہوں گی۔ بعض عورتیں نیک بخت، نمازی، پرہیزگاریں تو ہوتی ہیں مگر سخت بدمزاج سرکش شوخ بھی ہوتی ہیں۔ یہ وصف خاوند کے حق میں زہر اور معاشرت کے لیے قہر ہے اور وہ اس سے بھی مبرا ہوں گی۔ سائحات یہ سیاحت سے مشتق ہے جس کے معنی بنظر سیاحت مفسروں نے مختلف طور پر بیان کئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں روزہ رکھنے والیاں۔ روزہ میں صبح سے شام تک بھوک پیاس کے میدان کو طے کرنا پڑتا ہے اس لیے اس کو بھی سائح اور عورت کو سائحہ کہتے ہیں۔ زید بن اسلم اور حسن بصری ; فرماتے ہیں اس کے معنی ہیں ہجرت کرنے والیاں کس لیے کہ ہجرت یعنی وطن چھوڑ کر خاص اللہ کے لیے مدینے میں عورتیں آئی تھیں یہ ان کی سیر تھی۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ مدینے میں ہم سے زیادہ بہتر اور ہے کون جو ہماری جگہ حضرت ﷺ کے دائرہ زوجیت میں داخل ہوگی بلکہ ممکن ہے کہ باہر سے ہجرت کر کے آجائیں۔ خدا کے ملک میں کیا کمی ہے۔ ہم کہتے ہیں معنی کو عام رکھنا بہتر ہے تخصیص کی حاجت کیا ہے۔ اب اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ صرف زمین اور پہاڑوں کے میدان کی ہی سیر کرنے والیاں نہ ہوں گی بلکہ دنیا اور اس کے تجملات فانیہ کے میدانوں کی بھی سیر کرنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نگاہوں میں یہ دنیا اور اس کی آسائش ہیچ ہوگی۔ ہر حوادث دہر اور انقلاب جسمانی سے وہ سبق اور عبرت لینے والیاں ہوں گی اور اس کے بعد صحبت نبی کریم ﷺ سے ان کو سیر آفاق وانفس بھی نصیب ہوگی۔ وہ امکان و وجود کے منازل طے کر کے بارگاہ قدس میں پہنچنے والیاں ہوں گی۔ ثیبات وابکارا۔ ان میں سے کچھ خاوند برتے ہوئیں اور کچھ کنواریاں ہوں گی۔ ثیب وہ مرد جو رنڈوا ہو اور وہ عورت جو خاوند کرچکی ہو عام ہے کہ پھر خاوند نے طلاق دے دی ہو یا وہ مرگیا ہو۔ ابکاربکر کی جمع جس سے مراد کنواری۔ یہ بیان امر واقعہ کے لحاظ سے ہے کس لیے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں بیوہ اور کنواری بھی تھیں ان کے جواب میں یہ کلام صادر ہوا۔ اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ یہ نکاح حظ نفسانی سے نہیں کرتے تھے بلکہ اشاعت دین کے لیے یہ جماعت زمرہ ازواج مطہرات میں داخل کی گئی اور شرف زوجیت عطا کیا گیا۔ ان صفات میں عجب لحاظ رکھ کر تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ اول اجمالی طور پر خیرًا منکن فرمایا گیا۔ اس پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر تھیں۔ پھر ان سے بہتر اور کون عورتیں ہوں گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول میں ان طلقکن فرما دیا ہے۔ طلاق کے بعد جب شرف زوجیت جاتا رہا تو پھر ان سے وہی عورتیں بہتر ہوسکتی ہیں جو آپ کے نکاح میں آئیں گی۔
فائدہ : ان طلقکن شرطیہ کلام ہے اس کے لیے تحقق شرط نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر کسی بیوی کو طلاق نہیں دی۔ اجمالی کے بعد ازواج کے اوصاف حمیدہ بیان فرماتا ہے۔ اوصاف تین قسم پر ہیں۔ اول۔ ایمان و اسلام جو تمام حسنات کی اصل ہے ایمان کے ساتھ اسلام کا لفظ ظاہری و باطنی دینداری کے لیے آیا۔ قسم دوم۔ اعمال حسنہ ان کو چار صفتوں میں محصور کیا۔ قانتات تائبات عابدات سائحات۔ ان میں خدا تعالیٰ کی بندگی بھی آگئی اور خاوند کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف بھی اشارہ ہے۔ قسم سوم۔ ان کی جسمانی خوبی اور حسن ظاہری اس کے لیے یہ دو لفظ کافی تھے۔ ثیبات و ابکارا کنواری کی خوبی اور اس پر رغبت تو عام طبائع کا بھی فعل ہے مگر بہت سی بیوائیں مطلقہ اپنے ذاتی کمالات اور حسن و خوبی کی وجہ سے کنواریوں سے بدرجہا فائق ہوتی ہیں ان کا امور خانہ داری میں تجربہ اپنے نازوادا سے درگزر کر کے مرد کی نازبرداری و اطاعت اور پھر ہم عمری عجیب لطف دیتی ہے۔
ازواج مطہرات پر تنبیہ تھی اس کے ضمن میں مردوں کو بھی نصیحت دینا لازمی تھا کس لیے کہ عورتوں کی محبت ورغبت میں اور شہوت کی آگ میں مرد دیوانہ ہو کر اصول حسنات سے غافل ہوجاتا ہے اور جو نہ کرنا ہو وہ کرتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ کہ اے ایماندارو ! (صرف ایمان پر تکیہ کر کے نہ بیٹھو) بلکہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر پیاری بیوی اور مرغوب اولاد کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ ایسے کام نہ خود کرو نہ ان کو کرنے دو جس سے جہنم کی آگ میں جانا پڑے اور فرائض و واجبات کی تاکید کرو۔ صرف آپ دیندار ‘ پرہیزگار ہونا کافی نہیں زن و فرزند کی تعلیم و تدبیر کرنی چاہیے۔ حق محبت بھی یہی ہے کیونکہ آپ جنت میں گیا یہ دوزخ میں گئے تو جدائی میں کیا لطف ؟ احادیث صحیحہ میں بڑی تاکید ہے کہ اپنے گھروالوں کو بری باتوں سے روکو، فرائض و واجبات پر مامور کرو۔ پھر وہ آگ بھی کیسی آگ ہے ؟ (1) وقودھا الناس والحجارۃ۔ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں یعنی معمولی آگ نہیں بلکہ سخت اور تیز جس میں پتھر اور آدمی جلتے ہیں یا یوں کہو بت پرست اور گنہگار اور ان کے جھوٹے معبود جو پتھر تھے سب جہنم میں جائیں گے کسی کے کام نہ آئیں گے۔ (2) علیہا ملائکۃ غلاظ شداد۔ اس کے داروغہ یا محافظ فرشتے ہیں سخت بدمزاج ‘ سخت دل یا بڑے قدآور طاقت والے ‘ جن پر کوئی مجرم زور سے غالب نہیں آسکتا نہ وہ کسی پر رحم و مہر کرتے ہیں۔ (3) لایعصون اللہ ما امرھم۔ خدا کے حکم میں وہ ذرا بھی قصور کرنے والے نہیں نہ رشوت لیں نہ سفارش مانیں نہ کسی کی سنیں۔ (4) ویفعلون مایومرون۔ وہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ہوتا ہے۔ عصیاں عیب تھا اس لیے اس کی اول نفی کی پھر طاعت کی خوبی ثابت کی۔ اس میں مشرکین عرب کے خیالات باطلہ کا ابطال ہے۔ وہ کہتے تھے فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ہم ان کو پوجتے ہیں ہم پر ضرور رحم کریں گے اور ہمارے بت ہم کو آگ سے بچا لیں گے۔
Ayahs 66:7–9ترکیب : الیوم منصوب بہ لاتعتذروا النصوحا بفتح النون ویقرء بضمھا علی الاول مصدر یقال نصح نصاحۃ ونصوحاً وقیل ھواسم فاعل اے ناصحۃ والاسناد مجازی و علی الثانی ھو مصدر لاغیرمثل القعود ثم اعرابہ علی الوجھین النصب علی الوصف للتوبۃ ای توبۃ بالغۃ فی النصح ویدخلکم منصوب علیٰ انہ معطوف علیٰ یکفر منصوب بناصبہ وقریٔ بالجزم عطفا علیٰ محل عسٰی کانہ قال توبوایوجب تکفیر سیئاتکم ویدخلکم یوم منصوب بیدخلکم اوباذکر والذین آمنوا معہ معطوف علی النبی وقیل مبتداء وخبرہ قولہ نورھم علی الاول الجملۃ (نورھم الخ) حالیۃ اومستانفۃ لبیان حالھم۔ یقولون خبرثان اوحال۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ ملائکہ اس روز عذاب کریں گے اور سخت وتند ہوں گے ان کے عذاب پر کفار معذرت کریں گے۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا (ملائکہ کہیں گے) یا ایہا الذین کفروا الخ کہ اے منکرو ! آج عذر نہ کرو، باتیں نہ بناؤ کس لیے کہ آج معذرت کا دن نہیں (معذرت توبہ ہے) اس کا موقع دنیا میں تھا سو گزر گیا۔ اور یہ نہ سمجھو کہ تم کو ناحق عذاب دیا جاتا ہے کس لیے کہ انما تجزون ماکنتم تعملون تم کو وہی بدلہ دیا جاتا ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے یعنی تمہارے اعمالِ بد کی سزا ہے جو بویا تھا اس کو کاٹ رہے ہو۔ دنیا میں اعمالِ بد کی برائی چنداں ظاہر نہ تھی اب حجاب کھل گیا۔ وہ برائی آنکھوں کے سامنے آگئی۔
توبہ نصوح : اس لیے ایمانداروں سے شفقت کی راہ سے فرماتا ہے۔ یا ایہا الذین آمنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا۔ کہ اے ایمان والو ! دنیا میں توبہ کا وقت ہے بشریت سے جو کوئی گناہ ہوجائے تو اس سے توبہ کرو توبہ بھی کیسی توبہ نصوح یعنی خالص سچے دل سے۔ حسن (رح) کہتے ہیں توبہ نصوح یہ ہے کہ اس گناہ کو برا اور مکروہ جاننے لگے جس کو مرغوب جان کر کیا تھا اور جب یاد کرے تو استغفار کرے۔ کلبی کہتے ہیں توبہ نصوح دل میں ندامت ‘ زبان سے استغفار اور اس کام سے باز رہنا۔ سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں توبہ مقبولہ کا نام توبہ نصوح ہے۔ حضرت عمر ؓ سے کسی نے پوچھا کہ توبہ نصوح کیا ہے ؟ فرمایا برے کام سے باز آنا اور پھر اس کو نہ کرنا۔ امام احمد و ابن مردویہ ; نے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا توبہ گناہ سے یہ ہے کہ پھر نہ کرے۔
اس کے بعد توبہ کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ عسٰی ربکم ان یکفر عنکم سیئاتکم کہ امید ہے اللہ تمہارے گناہ تم سے مٹا ڈالے ان کو محو کر دے، توبہ سے گناہوں کا معاف ہوجانا یا ان کا مٹایا جانا قرآن و احادیث سے ثابت ہے اور قرین قیاس بھی ہے۔ اور پہلی کتابیں بھی اس کی شہادت دے رہی ہیں۔ ابطال کفارہ مسیح کتاب یسعیاہ کے اول باب 18 جملے میں صاف تصریح ہے کہ ” اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں پر برف کی مانند سفید ہوجائیں گے “۔ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) نے لوگوں کو توبہ کا حکم دیا اور تاکید فرمائی۔ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔ انجیل متی باب چہارم جملہ 17 ” اگر توبہ سے گناہوں کے معاف ہونے کی امید نہ تھی تو پھر اس کا فائدہ کیا تھا “ ؟ مگر بعد میں پولوس اور اس کی امت نے ایک عجب مسئلہ گھڑا کہ توبہ سے گناہ نہیں معاف ہوتے معافی کا صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے سب کے گناہ اپنے اوپر اٹھائے اور پھانسی پائی اور ملعون ہوئے اور تین روز جہنم میں رہے۔ اب سب کے گناہ جو مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لائے معاف ہیں اس کو کسی عمل خیر کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اعمال حسنہ لعنت کا باعث ہیں۔ اس کو یہ کفارہ کہتے ہیں۔ معاذاللہ کیا برا اعتقاد ہے ؟ کیا ایسا شخص سفاکی بد ‘ ذاتی ‘ حرام کاری میں کوئی دقیقہ اٹھا رکھے گا۔ پھر دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کے آنے کا فائدہ کیا ہوا ؟
توبہ کے بعد حقوق العباد ذمہ سے ساقط نہیں ہوتے۔ توبہ فرض ہے دیر نہ کرے موت کا ٹھیک نہیں کہ کب آجائے۔ پھر دوسرا نتیجہ توبہ کا ظاہر کرتا ہے ویدخلکم جنات تجری من تحتہا الانہار۔ اور تم کو ایسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، بہشت عالم قدس ہے اس میں جانے سے انسان کی کثافت ہی مانع ہے جو توبہ کے بعد دور ہوجاتی ہے۔ یہ کس روز یوم لایخزی اللہ النبی والذین امنوامعہ۔ جس دن کہ اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہ کرے گا۔ اس میں تعریض ہے کہ نبی اور اس پر ایمان والوں کے سوا اور لوگ رسوا ہوں گے۔ یہ جو آج تمہارے خیالی معبود اور گمراہ کنندہ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں کہ قیامت میں ہمارا جھنڈا ہوگا اور خیمہ ہوگا ہم اپنے ماننے والوں کو اس کے تلے لے کر عذاب سے بچا لیں گے۔ یہ غلط بات ہے وہ خود رسوا ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے مرید بھی۔ قیامت کو ظلمت ہوگی اور کسی کے پاس کوئی روشنی نہ ہوگی مگر نبی اور اس کے متبعین کے پاس۔ اس میں نبی کریم ﷺ اور دیگر حضرات انبیاء (علیہم السلام) بھی شامل ہیں۔ نورھم یسعی بین ایدیہم وبایمانہم۔ ان کی روشنی (جو ایمان اور توبہ اور عمل خیر کی روشنی ہوگی) ان کے آگے آگے اور دائیں طرف سے دوڑتی ہوئی چلے گی اور اس ظلمانی راہ کو طے کر کے جنت میں چلے جائیں گے۔ آگے اور دائیں کی قید سے یہ مراد نہیں کہ اور طرف روشنی نہ ہوگی بلکہ ہر طرف مگر یہ دو جہت عمدہ ہیں اس لیے ان کا ذکر کیا۔ اس کی کیفیت سورة حدید میں بھی بیان ہوئی ہے۔ جب یہ دیکھیں گے کہ دنیا میں ریاکاروں، منافقوں کی روشنی اس روز چمک کر گل ہوگئی تو دعا کریں گے۔ ربنا اتمم لنانورنا واغفرلنا انک علی کل شیئٍ قدیر۔ کہ اے ہمارے رب ! ہماری روشنی پوری کیجئے۔ رستہ میں گل نہ ہونے پائے اور ہم کو بخش دے تو ہر بات پر قادر ہے۔
یہ ہیں توبہ کے نتائج جس کی طرف ایمانداروں کو منکروں کی اندوہناک حالت بیان فرما کر ترغیب دلائی گئی ہے۔ قیامت کو اندھیرا ہونا اور ایمان کی روشنی میں اس سے رستہ طے کرنا اور جنت میں جانا اور وہاں حیات ابدی اور ہمیشہ کی شادمانی حاصل کرنا ایک مسلمہ مسئلہ ہے جس کو تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے پیرو اور برگزیدہ بیان کرتے آتے ہیں جس میں کسی کو بھی شبہ نہیں کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ انسان کو عدم سے ہستی میں لایا ہے اور عدم ایک ظلمانی عالم ہے۔ اس کے صفات کاملہ جو اس کو پروردگار کی طرف سے نصیب ہوتے ہیں وہ اس کا جمیع معاملات میں نور ہیں جو اس کو تمام ظلمانی اور پر تاریک وادیوں میں سے نکال کر راہ مقصود پر چلانے اور منزل مقصود تک پہنچانے کا عمدہ ذریعے ہیں۔ دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد عالم قبر میں بھی اور حشر میں بھی اور ایماندار کو لازم ہے کہ ہر دم یہی دعا کرے۔ ربنا اتمم لنانورنا واغفرلنا انک علی شیئٍ قدیر۔ خدا نہ کرے کہ یہ نور کسی کا بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں ہاتھ پائوں مارتا پھرے اور فسق و فجور کے خطرناک گڑھوں میں جاگرے اور شاہد مقصود رب العزت تک نہ پہنچے۔ الٰہی میں بھی یہی دعا کرتا ہوں قبول کر آمین۔
Ayahs 66:10–12ترکیب : امرات نوح معطوف علیہ وامرات لوط معطوف وکلاھما مفعول اول لضرب ومثلا مفعول ثان وانما اخرالمفعول الاول لیتصل بہ ماھو تفسیر لہ وایضاح لمعناہ۔ ویمکن ان یکون امرات نوح ومابعد ھابدلا عن مثلا اوبیان لہ کانتا ھذہ جملۃ مستانفہ مفسرۃ لضرب المثل امرات فرعون مراغرابھا اذظرف لمثلا اولضرب عندک حال من ضمیر المتکلم اومن بیتا لتقدمہ علیہ فی الجنۃ بدل اوعطف بیان لقولہ عندک اومتعلق بقولہ ابن۔ ومریم ای اذکر مریم اومثل مریم من القانتین من للتبعیض ویجوزان یکون لابتداء الغایۃ۔
تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا کہ اے ایماندارو توبہ خالص کرو تاکہ تمہارا عاقبت میں بھلا ہو اور منافقوں کی بھی اصلاح مقصود تھی جس کا ذریعہ کفرو بدکاریوں سے توبہ و استغفار ہے مگر یہ بھی انسانی خاصہ ہے کہ وہ بدی سے کبھی محض وعظ و نصیحت سے باز نہیں آتا۔ وہاں مشفق اور دردمند ناصح کو بشرط قدرت یہ بھی کرنا ضرور ہے کہ اس کو دھمکا کر ڈرا کر اس بدی سے روکے۔ جب نادان شخص ہمارے سامنے سنکھیا ہاتھ میں لے کر کھانے کو تیار ہے اور ہماری نصیحت سے باز نہیں آتا پھر ہماری دردمندی کا یہ مقتضٰی نہیں کہ چپ ہو کر بیٹھ رہیں اور اسے مرتے دیکھیں بلکہ دھمکا کر مار کر ہاتھ سے چھین لیں اس لیے خدا تعالیٰ اپنے نبی رحیم و کریم کو ان نادانوں کی بابت حکم دیتا ہے۔ یا ایہا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم کہ اے نبی ان کافروں اور منافقوں سے جہاد کر۔ (2) اور ان پر سختی کر۔ جہاد۔ عام لفظ ہے اس میں زبانی نصیحت اور دلیل و حجت سے الزام قائم کرنا بھی شامل ہے اور جو مخالف شمشیر بکف ہو کر مقابلہ میں کھڑا ہو تو وہاں اس کے لیے تلوار سے بھی کام لینے کو شامل ہے۔ اور سختی کرنے سے گالیاں دینا سخت کلامی یا بدمزاجی کرنا مراد نہیں کیونکہ یہ باتیں شان مصطفویہ و اخلاق محمدیہ سے بہت دور ہیں اور اس سے کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلتا بلکہ الطاف و عنایت کے حصے سے محروم کرنا اور بےتوجہی اور عدم التفاتی کے چابک لگانا ‘ اس کا بڑا اثر پہنچنا ہے۔ جہاد کفار کے لئے۔ واغلظ منافقوں کے لئے۔ منافقوں سے جہاد نہیں کیا گیا کس لیے کہ وہ بظاہر مسلمان تھے اور جو اس پر بھی وہ باز نہ آئیں تو ماوھم جہنم و بئس المصیر۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
کفار و منافقین میں سے ایسے بھی لوگ تھے جو نبی کریم ﷺ اور مقبول صحابہ ؓ کی قرابت پر نازاں تھے اور اس قرابت اور ظاہری اختلاط کو نجات کے لیے کافی جانتے ہوں یا یوں کہو ایمانداروں کو توبہ خالص کا حکم دیا تھا مگر ممکن تھا کہ بعض ایماندار آنحضرت ﷺ کی قرابت ہی کو بس سمجھ کر عمل صالح سے سست و ارتکاب منہیات میں دلیر ہو بیٹھیں اس لیے ان کے لیے خدا تعالیٰ حضرت نوح و حضرت لوط (علیہما السلام) کی بیویوں کی مثال بیان کرتا ہے۔ فقال ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرات نوح و امرات لوط۔ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین۔ کہ وہ باوجودیکہ ہمارے دو نیک بندوں کے نیچے تھیں۔ یعنی حکم اور زوجیت میں تھیں اور یہ ایک بڑی قرابت ہے جس میں اندرونی و بیرونی کوئی پردہ بھی نہیں رہ جاتا۔ خاوند بیوی میں جو کچھ اتحاد ہوتا ہے اور جہاں تک اس کی رسائی ہوتی ہے کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ یہ ایک فطری بات ہے مگر جبکہ فخانتا ھما۔ ان کی خیانت کی۔ یہ مراد نہیں کہ زناکاری کی (کس لیے کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کسی نبی کی بیوی نے کبھی ایسا کام نہیں کیا) بلکہ اطاعت وانقیاد ایمانی و دینی کا حق ادا نہیں کیا جس کو خیانت سے تعبیر کرنا ایک عمدہ استعارہ ہے۔ فلم یغنیا عنہما من اللہ شیئا۔ پھر وہ نیک بندے نوح اور لوط (علیہما السلام) اپنی بیویوں کے کچھ کام خدا کے مقابلے میں نہ آئے۔ عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے۔ دنیا میں نوح ( علیہ السلام) کی بیوی طوفان میں غرق ہوئی، لوط ( علیہ السلام) کی بیوی نمک کا کھثا ہوگئی یعنی اس پر بھی وہی آفت آئی جو اس قوم پر آئی سب ہلاک ہوئے۔ یہ تو دنیا میں ہوا، آخرت میں حکم ہوا۔ ادخلا النار مع الداخلین کہ اور جہنمیوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں جائو۔ آگ میں ڈال دی گئیں۔
فائدہ : یہاں سے ثابت ہوا کہ قیامت سے پہلے بھی مرنے کے بعد جہنم اور جنت ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
فائدہ : اس میں ایک لطیف سا اشارہ حضرت عائشہ و حفصہ ؓ کی طرف بھی ہے کہ تم دونوں نے جو رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں مشورہ کیا تھا ڈرو اور نوح اور لوط کی بیویوں کا حال سن کر عبرت کرو۔ اس کے بعد ان دونوں نیک بیویوں نے کبھی رشک و رقابت میں آ کر آنحضرت ﷺ سے انحراف نہیں کیا۔ یہاں تک کہ دم آخر تک حضرت ﷺ ان سے خوش رہے اور حضرت عائشہ ؓ کی گود میں سر تھا کہ روح اطہر نے پرواز کیا۔ صلوات اللہ علیہ وسلامہ ابداً ۔
فائدہ : اولاد اولیائِ کرام و بزرگان دین و حضرات سادات عظام کو بھی تنبیہ ہے کہ قرابت کے غرور میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے سرتابی نہ کریں ورنہ یہ قرابت کچھ بھی مفید نہ ہوگی۔ حدیث میں ہے اے فاطمہ اس بات پر تکیہ نہ کرنا کہ میں محمد ﷺ کی بیٹی ہوں خدا کے معاملہ میں میں کام نہ آئوں گا نیک کام کر۔
اس کے مقابلہ میں مسلمانوں ایمانداروں کے لیے دو نیک بیویوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو دنیاداروں کے پنجہ اور ظلم میں مبتلا تھیں مگر اپنی ایمانداری اور نیکی سے باز نہ آئیں بعض مسلمان مرد یا عورتیں کفار کے پنجہ میں تھے اور اس کو ایک عذر سمجھتے ہوں گے ان کے لیے یہ مثال ازحد نافع ہے اس لیے بتخصیص فرماتا ہے وضرب اللہ مثلا للذین آمنوا۔ کہ ایمانداروں کے لیے مثل بیان کرتا ہے کس کی مثال ؟ امرات فرعون۔ فرعون کی بیوی کی۔
توریت موجودہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دریا سے نکال کر پرورش کرنا فرعون کی بیٹی کی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فرعون موجود کی بیوی اگلے فرعون کی بیٹی ہو۔ دونوں باتوں میں کچھ تعارض نہیں۔ بیگمات جو خاندانی اور بادشاہی نسل کی ہوتی ہیں ان کو شہزادی کہا کرتے ہیں اگرچہ وہ ایک شاہ کی بیوی بھی ہوتی ہیں۔ توریت میں فرعون کی بیوی کا ایمان لانا اور یہ دعا کرنا مذکور نہیں۔ مگر مذکور نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ واقعہ گزرا نہیں۔ توریت مذکور میں سینکڑوں واقعات نہیں اور سینکڑوں واقعات میں مبالغہ اور غلطی بھی ہے جس کو اہل کتاب کی دیانت یا غفلت سمجھنا چاہیے۔
مورخین اسلام نے نقل کیا ہے کہ اس وقت کے یہود نے تسلیم کرلیا ہے کہ فرعون کی بیوی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتی تھی پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے کھلم کھلا مقابلہ شروع ہوا تو فرعون کو اس بیوی پر کمال غصہ آیا کہ اس نے اس کی پرورش کی تھی۔ وہ کمبخت اس نیک بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا مگر وہ سب تکلیفوں کو برداشت کر کے اپنے ایمان اور خدا پرستی پر قائم تھی مگر جب ازحد مجبور ہوگئی تو یہ دعا کی۔ رب ابن لی عندک بیتافی الجنۃ۔ کہ اے رب ! مجھے دنیا سے اٹھا لے اور اپنے پاس بلا لے اور میرے لیے اس شاہی گھر کے بدلے اپنے پاس جنت میں گھر بنا کہ میں سدا وہاں رہا کروں۔ ونجنی من فرعون و عملہ اور مجھے فرعون سے اور اس کے کام سے نجات اور خلاصی دے یعنی موت دے۔ فرعون کا کام کفر اور تکلیف دینا تھا۔ ونجنی من القوم الظالمین۔ اور فرعون کیا تمام خاندان ہی ناپاک اور موذی ہے وہ بھی طرح طرح سے ایذائیں دیتے ہیں ان سے بھی مجھے نجات دے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کی دعا قبول ہوئی یا نہیں ؟ مگر روایات سے معلوم ہوا کہ قبول ہوئی اور خدا پاک نے اس کو خواب یا بیداری میں جنت کا گھر دکھا دیا اور اس کی روح پرواز کر کے وہاں چلی گئی۔
ومریم بنت عمران۔ اور مریم عمران کی بیٹی کا بھی حال بیان کرتا ہے اور اس کی بھی تمثیل دیتا ہے۔ مریم کون تھی ؟ التی احصنت فرجہا۔ جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ یہ اس لیے فرمایا کہ یہود ان پر زنا کی تہمت لگاتے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (توبہ توبہ) حرامی کہتے تھے۔ اس کی پاکدامنی کے سبب فنفحنافیہ من روحنا۔ ہم نے اس میں اپنے ہاں کی روح پھونک دی جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔ فیہ کی ضمیر فرج کی طرف راجع ہے اور فرج کا اطلاق اس جگہ عضو مخصوص پر نہیں کس لیے کہ محاورہ عرب میں کرتے اور اس کے دامن یا گریبان کو بھی فرج سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کے گریبان میں پھونک دیا تھا۔ بعض کہتے ہیں فیہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور بعض قرأت میں فیہامونث کی ضمیر ہے۔ اس کا مرجع نفس عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں کس لیے کہ نفس مونث ہے اور حضرت مریم [ کی طرف بھی رجوع ہوسکتی ہے کس لیے کہ حضرت مریم [ کے اندر روح پھونکی گئی تھی جس سے حمل ہوا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
مراد یہ کہ روح ڈال دی گئی چونکہ روح حیات کا باعث ہے وہ تمام جسم میں منتشر ہوجاتی ہے جس طرح کہ ہوا پھونکنے سے تمام ظرف میں منتشر ہوجاتی ہے اس لیے اس کو نفخ سے تعبیر کیا جو ایک عمدہ تشبیہ ہے۔ من روحنا کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ کی روح کا کوئی جزو مریم [ کے پیٹ میں ڈال دیا گیا جس سبب سے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں بلکہ روح کی نا ضمیر متکلم کی طرف اضافت تشریف و تعظیم کے لیے ہے جیسا کہ بیت اللہ خدا کا گھر ناقۃ اللہ اللہ کی اونٹنی۔ پھر کیا اللہ تعالیٰ کسی گھر میں رہتا اور کسی اونٹنی پر سوار ہوتا ہے عزت دینے کے لیے کسی چیز کو اپنی طرف منسوب کرلینا عام محاورہ ہے۔ بادشاہ عمدہ غلام یا عمدہ گھوڑے کو کہہ دیا کرتا ہے ہمارا غلام ہمارا گھوڑا۔
حضرت مریم [ کو بغیر باپ کے بیٹا جننے کی فرشتہ نے خبر بھی دی تھی اس نیک عورت نے اس کی تصدیق کی و صدقت بکلمات ربہا اپنے رب کی باتوں کو سچا جانا اور کتبہ اس کی فرستادہ کتابوں پر بھی ایمان لائی پہلی کتابوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مذکور تھا۔ یہ اس کے ایمان کی کمال قوت ہے۔ وکانت من القانتین اور وہ عبادت کرنے والیوں میں سے تھی۔ بیت المقدس میں جو جماعت مردوں کی شب و روز عبادت میں رہتی تھی۔ مریم [ بھی ان میں سے تھی یا یہ کہ گو عورت تھی مگر مردانہ تھی اس لیے قانتین فرمایا نہ قانتات۔ نبی ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں افضل مریم آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بیویو خدیجہ بنت خویلد و فاطمہ بنت محمد ﷺ ہیں۔ (اخرجہ احمدوالطبرانی والحاکم) صحیحین میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مردوں میں سے بہت کامل ہوئے مگر عورتوں میں سے آسیہ فرعون کی بیویو مریم عمران کی بیٹی و خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ 1 ؎ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسا کہ ثرید 2 ؎ کی سب کھانوں پر۔
ا ؎ ان چار عورتوں کی مثال میں بہت فوائد ہیں۔ ازانجملہ یہ کہ کسی کی نیکی بد کو فائدہ نہیں دیتی اور بد کی بدی نیک کو مضرت نہیں پہنچاتی۔ ازانجملہ یہ کہ نیکوں کی صحبت کبھی بدوں پر کچھ بھی اثر نہیں کرتی۔ ازانجملہ یہ کہ عورت کی عصمت و عفت نیک نتائج پیدا کرتی ہے جیسا کہ حضرت مریم [ کے لیے ہوا ازانجملہ یہ کہ حق سبحانہ کی طرف تضرع اور رجوع کرنا سینکڑوں مصائب سے نجات دینا ہے اور ہر حال میں حضرت ازلیہ کی ضرت رجوع کرنا لازم ہے۔ (ازکبیر) 12 منہ
2 ؎ ثرید روٹیاں توڑ کر شوربے میں بھگو کر عرب کھاتے ہیں اس کھانے کو ثرید کہتے ہیں۔ یہ آنحضرت ﷺ کو سب کھانوں سے مرغوب تھا اس لیے حضرت عائشہ ؓ کو اس سے تشبیہ دی۔ 12 منہ