67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الملک سورة نمبر 67 کل رکوع 2 آیات 30 الفاظ و کلمات 335 حروف 1359 مقام نزول مکہ مکرمہ اللہ نے فرمایا کہ اس دنیا میں رہ کر ہر شخص کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ آخرت میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس دنیا مین اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر اللہ کے پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کر کے اپنے لئے آخرت کا سامان کرلیں گے لیکن وہ لوگ بڑے بدنصیب ہیں جو قیامت میں خالی ہاتھ پہنچیں گے اور گناہوں کے بوجھ انکی پیٹھ پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جہنم ایک ہولناک مقام ہے۔ جب دوزخیوں کو اس دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان پر اللہ کے ایسے فرشتے مقرر ہوں گے جو کسی کے رونے چلانے سے متاثر نہ ہوں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم دیا جائے گا۔ جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ جہنم میں ایک ڈرئونی آواز میں دھاڑنا شروع کردے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ اس کے برخلاف اہل جنت جنت کی تمام راحتوں میں پرسکون اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہوں گے۔ سورۃ الملک مکہ مکرمہ کے ابتدائی دو ر میں نازل کی جانے والی ان سورتوں میں سے ہے جس میں غفلت اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے انسان کو خواب غفلت سے جگا کر زمین و آسمان اور اپنے اچھے یا برے اعمال پر غوروفرک کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ایک مرتبہ اور منظم نظام کو بنا کر اس کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ وہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ جو لوگ ان کی باتوں پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں ان کو قیامت کے دن جنت کی ابدتی راحتیں عطا کردی جائیں اور جن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور انکی اطاعت سے انکار کیا ان کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیاجائے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ جس نے تہہ در تہہ یعنی اوپر تلے سات آسمان بنائے وہ بہت ہی برکت اور عطمت والی ذات ہے۔ اگر ان آسمانوں کی تخلیق اور پیدائش پر کوئی انسان غور کرے بار بار غور کرے تو اس کی نظریں تھک جائیں گی لیکن اس کو کہیں کسی جگہ بےترتیبی یا بدنظمی نظر نہ آئے گی۔ اللہ نے دنیا کے آسمان کو چراغوں (چاند، سورج اور ستاروں) سے روشن کر رکھا ہے۔ اگر کوئی شیطان ان آسمانوں کی طرف آکر کچھ چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب یعنی آگ کے گولوں کی بارش کردی جاتی ہے۔ زمین کے متعلق بتایا کہ تم اس زمین میں چل پھر کر اور مھنت کرکے اپنا رزق تلاش کرتے رہو۔ اللہ نے اس میں پہاڑوں کو بوجھ رکھ کر ایک خاص تو ازن قائم کردیا ہے ورنہ زلزلے اور تیز و تند ہوائیں ہر چیز کو برباد کرکے رکھ دیتیں۔ اس نے اس میں پانی کے ذریعہ سرسبزی و شادابی پیدا کی۔ فرمایا کہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو اس نے انسان کے تابع کردیا یعنی اس کے کام میں لگا دیا تاکہ وہ ایک مقرر وقت تک اس دنیا میں رہ کر اپنی زندگی کا ہر سامان حاصل کرسکے اور اس میں اپنے بہترین اعمال کے ذریعہ وہ جنت کی ابدی راحتوں کا حق دار بن سکے۔ اللہ نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے جن انہوں نے ان کی بات مان کر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا ہے اسی ایک اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کیا ہے۔ ان کے لئے معافی، درجات کی بلندی اور اجر عظیم تیار کیا گیا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے نافرمانی کا راستہ منتخب کرکے رسولوں کو جھٹلایا ہے قیامت میں ان کو سوائے شرمندگی اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اور کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ جہنم ایک ہیبت ناک مقام ہے چناچہ جب ان جہنمیوں کو اس آگ میں ڈالا جائے گا تو جہنم اس قدر ڈرائونی آواز میں دھاڑنا شروع کرے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس پر ایسے سخت مزاج اور حکم کی تعمیل کرنے والے فرشتے مقرر ہوں گے جن کا کام صرف یہی ہے کہ ان کو جو کچھ حکم دیا جائے وہ اس کی تعمیل کریں یعنی کسی کے رونے، چلانے اور فریاد کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ وہ فرشتے ان جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کہا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ڈرانے ولاے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ پیغمبر تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی کتاب یا حکم ناز ل نہیں کیا یہ سب تمہاری گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور اس طرح ہم بھٹک گئے۔ وہ نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی باتوں کو مان لیتے تو آج یہ بدترین دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے خود ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے۔ تمہاری اس سوچ پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد جب ان کو جہنم کے قریب لایا جائے گا تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کا تم مطالبہ اور تقاضا کرنے میں جلدی کیا کرتے تھے۔ دنیا میں اللہ کے پیغمبر ان کو اس دن کے برے انجام سے ڈرایا کرتے تا وہ مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اور اس کا عذاب کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ قیامت کے دن اس کا جواب دیا جائے گا اور وہ اس جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر سخت شرمندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ تمہارے مقابلے میں جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ اس درجہ پر سننے، دیکھنے اور سوچنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالو کہ جب کسی قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اس کا انجام دنیا ہی میں کتنا بھیانک اور خراب ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے پوچھا ہے کہ ٭وہ اللہ جو اس نظام کائنات کو اپنی قدرت سے چلا رہا ہے اگر وہ تمہیں زمین کے اندر دھنسا دے تو کیا تم کسی طرح بھی اپنے آپ کو اس سے بچا سکتے ہو۔ تم اتنے بےفکر اور بےخوف کیوں ہوگئے ہو ؟ ٭جس اللہ نے زمین مین تو ازن بنایا ہے اگر وہ بےوزن کردے تو کیا یہ زمین زلزلوں اور جھٹکوں کا شکار نہ ہوجائے گی ؟ ٭کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہارے اوپر طوفانی اور پتھر برسانے والی ہوائیں بھیج کر تمہیں تباہ و برباد کردے ؟ ٭اگر وہ رحمن تمہارا رزق روک لے تو کیا کوئی اور ذات یا طاقت ہے جو تمہارے لئے رزق کے دروازے کھول دے گی ؟ ٭پانی جس سے تمہاری زندگی وابستہ ہے اگر وہ اس کو زمین کے نیچے لے جا کر غائب کردے تو کیا کوئی اس کے سوتوں کو جاری کرسکتا ہے ؟ ٭رحمن کے لشکر کے سوا دوسرا کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ ٭تمہیں سوچنے کے لئے دل و دماغ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھیں کس نے عطا کی ہیں ؟ ٭فضاؤں میں پرندے کبھی پر کھولتے اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان کو کس ذات نے فضاؤں میں سنبھال رکھا ہے ؟ ٭فرمایا کہ اگر کسی کو اللہ ہی کسی مصیبت میں پھنسا دے تو اس سے چھٹکارا دلانے والا سوائے اللہ کے اور کون ہے ؟ مسلمانوں کے بد خواہوں سے فرمایا ہے کہ اللہ مومنوں پر رحم و کرم کرے یا سزا دے اس سے تمہیں کیا عرض ہے ؟ تمہیں تو اپنی فکر ہونی چاہیے جب وہ ان کافروں کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کو بچانے والا کون ہوگا ؟ یقینا ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ اللہ جو اس نظام کائنات کا چلا رہا ہے ہر طرف اسی کی قدرت اور طاقت ہے وہی بناتا ہے اور وہی اپنے نافرمانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا کہ تم اللہ کو زور سے پکارو یا آہستہ، وہ ہر وقت ہر شخص کی فریاد کو سنتا ہے۔ وہ ہر بات کو نہایت باریکی سے دیکھ کر باخبر رہتا ہے۔ فرمایا کہ تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلی جائے کیونکہ وہاں عمل کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔ عمل کرنے کے لئے دنیا کا میدان ہے جو یہاں بےعملی کا شکار ہوگا اسے قیامت کی ہمیشہ کی زندگی میں کبھی سکون نہ ملے گا۔

Ayahs 67:1–14

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ بڑی برکتوں والا ہے جس کے ہاتھ میں (پوری کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ ت میں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون زیادہ بہتر ہے۔ وہ زبردست ہے اور بخشنے والا ہے۔

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اسی نے اوپر تلے اسات آسمان بنا دئیے۔ (غور سے دیکو تو) اس کی تخلیق میں تم کوئی فرق نہ پائو گے۔ پھر ذرا نگاہ اتھا کر دیکھو کیا کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو تو تمہاری نگاہ تمہاری طرف تھک کر اور پلٹ کر واپس آجائے گی۔

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے ہی دنیا کے آسمان کو چراغوں سے زینت و خوبصورتی دی ہے اور ہم نے (ان ہی میں) شیطانوں کو مار بھگانے کے لئے (شہاب ثاقب) کو بھی بنایا ہے اور ہم نے ہی ان (شیاطین) کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے عذاب جہنم تیار ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب یہ (کفار و مشرکین) اس جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ لوگ خوفناک اور ناپسندیدہ آوازیں سنیں گے اور وہ جہنم جوش مار رہی ہوگی

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

کہ جیسے وہ غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ جب ان میں سے ایک گروہ کو ڈالا جائے گا تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس (اس دن کے عذاب سے) ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

تو وہ کہیں گے کہ یقینا ہمارے پاس (اس دن کے عذاب سے) ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا تھا اور ہم نے کہا تھا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اور تم (خود ہی ) بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

وہ کہیں گے کاش ہم سن لیتے یا سمجھ لیتے تو جہنم والوں سے میں سے نہ ہوتے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

(اس طرح) وہ کافر اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے۔ اور پھر یہ جہنم والے اللہ کی رحمت سے دور ہوجائیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے رب کو بن دیکھے اس سے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم اپنی بات چھپا کر کہو یا پکار کر کہو۔ بیشک وہ دلوں کے حال کا جاننے والا ہے۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

سنو ! کہ جس نے پیدا کیا ہے وہی (اپنی مخلوق کو) جانتا ہے اور بہت باریکی سے خبر رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم چھپائو۔ تشریح : اس سورت میں اللہ کی ذات، صفات اور قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہر طرح کی برکتوں، عظمتوں اور تمام بھلائیوں اور کائنات میں ہر طرح کے اختیارات کا مالک ومختار ہے۔ اسی نے زندگی اور موت کو پیدا کیا ہے اور زندگی اور موت کے درمیانی وقفہ کو انسان کی آزمائش بنادیا ہے تاکہ اس آزمائش اور امتحان کے ذریعہ یہ دیکھا جاسکے کہ کون زیادہ حسن عمل پیش کرتا ہے اور کون اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر میدان حشر میں پہنچتا ہے۔ اسی کی ساری طاقت و قوت ہے وہ دینے پر آئے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ دے تو کوئی اس کو مجبور نہیں کرسکتا۔ وہی ہر ایک کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہ کائنات اسی نے بنائی ہے وہی اس کا اتنظام سنبھالے ہوئے ہے۔ اسی نے اوپر تلے سات آسمان اس طرح بنائے ہیں کہ انسان جب بھی ان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھے گا اس میں بار بار غوروفرک کرے گا تو وہ کہہ اٹھے گا کہ واقعی اللہ کا ایک مضبوط نظام ہے جس میں کہیں بدنظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہیں ہے۔ اس میں کہیں کوئی فرق اور شگاف محسوس نہ کرسکے گا۔ وہ ان آسمانوں اور زمین کی خود حفاظت کرتا ہے۔ اسی نے چاند، سورج اور ستاروں کی روشنی سے آسمان کی اس طرح سجا کر ہر طرف حسن و خوبصورتی کو بکھیردیا ہے کہ کہیں ویرانی نظر نہیں آتی۔ غیب کی خبریں حاصل کرنے کے لئے اگر جنات اور شیاطن آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر جلتے انگاروں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی ہے جس سے ان کو آسمانوں سے دور بھگا دیا جاتا ہے۔ کفار و مشرکین کے سادہ زہن رکھنے والوں کو کاہن اپنے اندازوں سے جھوٹی سچی باتیں ملا کر بیان کرتے اور عام لوگ ان پر یقین کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جنات اور شیاطین اول تو آسمانون تک پہنچ ہی نہیں سکتے لیکن اگر وہ کسی طرح آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو شہاب ثاقب ان کی خبر لینے کے لئے تیار رہتے ہیں جن کے ذریعہ ان کو آسمانوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج یہ کاہن دنیا کی ادنیٰ دولت کمانے کے چکر میں لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ان کاہنوں اور شیاطین اور جنات کو جہنم کے قریب پہنچایا جائے گا۔ وہ جہنم ان شیاطین اور کاہنوں کو دیکھ کر ایسی دہشت ناک اور ناپسندیدہ آواز نکالے گی کہ جیسے وہ غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ اس وقت ان پر ایک ہیبت سوار ہوگی کیونکہ جہنم کا غصہ سے چلانا اور بھڑکتی آگ ان کے ہوش ٹھکانے لگا دے گی۔ اس وقت فرشتے ان سے پوچھیں گے کیا آج کے دن کے عذاب سے ڈرانے والے اور خبردار کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر ہمارے پاس آئے تھے انہوں نے ہمیں اس دن کے عذاب سے ڈرایا بھی تھا مگر ہم نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی۔ ہم نے ان کو جھٹلایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ یہ سب کچھ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو اللہ نے تو ایسا کوئی حکم نازل نہیں کیا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تم خود ہی بھٹکے ہوئے لوگ ہو۔ وہ کفار و مشرکین بڑی حسرت، ندامت اور ناامیدی کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی بات سن کر اس کو قبول کرلیتے تو آج یہ جہنم کی آگ اور رسوائی نصیب نہ ہوتی۔ جب یہ کفار و مشرکین اپنے کئے ہوئے جرم کا اعتراف کرلیں گے تو اللہ کے حکم سے فرشتے ان کو گھسٹیتے ہوئے اس جہنم کی طرف لے جائیں گے جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ دوسری طرف اللہ کے وہ نیک بندے ہوں گے جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کی بات مان کر خوف الٰہی کے ساتھ محتاظ زندگی اختیار کر ہوگی ان سب کو جنت کو راحتیں، اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم عطا کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ ہر شخص کو حسن عمل پیش کرنا چاہیے اور اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی قندیلوں کو روشن رکھنا چاہیے وہ ہر چیز کا خالق ہے اسے ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے کوئی کسی بات کو کھلم کھلا کہے یا چھپا کر کہے اس سے کوئی بات اور کوئی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک پہنچ کر دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔
Ayahs 67:15–24

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کردیا۔ (تمہارے کام میں لگا دیا) تاکہ تم اس کے چاروں طرف چلو پھرو اور اس کے دئیے ہوئے رزق سے کھائو۔ (وہی تو ہے ) جس کی طرف تمہیں زندہ ہر کو اٹھنا ہے۔

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ جو (آسمان و زمین کا مالک) ہے وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین اچانک لرزنے لگے۔

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے کہ جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے پھر تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

ان سے پہلے جو لوگ گذر گئے ہیں وہ بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔ پھر (دیکھو) ان کا انجام کیا ہوا۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا وہ اپنے اوپر اڑتے پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ جو پر پھیلا کر دوبارہ اپنے پر سمیٹ لیتے ہیں ان کو سوائے اللہ کے اور کون روک کر رکھتا ہے۔ بیشک وہی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

اللہ کے سوا اور کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے۔ یہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

وہ اگر تمہارے رزق کو روک لے تو بھلا وہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کافر اپنی ضد اور سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہو زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ شخصی جو سیدھی راہ پر سیدھ باندھ کر چل رہا ہو ؟

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے کہ وہی اللہ تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کئے۔ مگر تم میں سے بہت تھوڑے سے ہیں جو (اللہ کی نعمتوں پر) اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا رکھا ہے۔ اور تماسی کی طرف جمع کئے جائو گے۔

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان ہیں۔ جو بھی اس آزمائش کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اس کے لئے آخرت کی کامیابیاں ہیں اور جو شخس اسباب اور عیش و آرام کو زندگی سمجھ کر ان میں الجھ گیا اور کفر وشرک کے راستے پر چل پڑا وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنا بھی کامیاب کیوں نہ سمجھا جاتا آخرت کی حقیقی زندگی میں ایک بدقسمت انسان ہے۔ فرمایا کہ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا سارا نظام اس کی قدرت سے چل رہا ہے۔ اللہ نے زمین و آسمان ، ہواؤں اور فضاؤں کو انسان کے لئے اس طرح کام میں لگا دیا ہے اور مسخر کردیا ہے کہ وہ دن رات اپنی صلاحیتوں کے مطابق ان سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ اللہ نے زمین کو اپنے بیشمار خزانوں اور اسباب سے بھردیا ہے جس میں وہ چلتا پھرتا، کھاتا پیتا، رہتا اور بعتا ہے لیکن آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو خالق ومالک کون ہے ؟ وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے اسباب ہمیشہ کے لئے نہیں ہیں بلکہ وقتی اور عارضی ہیں ایک وقت آئے گا جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اور زمین و آسمان کے نظام کو توڑ کر ایک نیا جہان تعمیر کیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ بس یہی ایک آزمائش اور امتحان ہے۔ اگر ایک آدمی دنیا کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور اپنے اللہ سے سچا قلبی تعلق قائم کرکے اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکا دیتا ہے۔ اسکے رسول حضرت محمد ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری اور ان سے محبت کا حق ادا کرتا ہے تو وہ آخرت کی ختم نہ ہونے والی ہمیشہ کی زندگی میں جنت کی راحتوں کا مستحق بن جائے گا جو اس کی سب سے بڑی کامیابی اور خوش قسمتی ہوگی۔ لیکن اگر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے کفر اور شرک کو اختیار کیا اور دنیاوی اسباب، عیش و آرام، مال و دولت اور بلڈنگوں کی سجاوٹ میں الجھ کر رہ گیا تو وہ آخرت کی ابدی زندگی کی ہر راحت و آرام سے محروم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پوری کائنات کو وہ تنہا سنبھالے ہوئے ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا اس کا رخ موڑ سکتا ہے اور انسان اپنی ترقیات کے باوجود اپنی بےبسی پر ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ اگر وہ چاہیے تو دنیا میں ایسے زلزلے پیدا کردے جس سے ساری دنیا ہل کر رہ جائے اور بڑی بری بلڈنگیں ریت کا ڈھیر بن جائیں، شہرویران ہوجائیں اور انسانی بستیاں قبرستان بن جائیں۔ وہ چاہے تو زمین پر بسنے والوں کو زمین ہی میں دھنسا زبردست طوفانی ہواؤں سے شہروں کو الٹ کر پھینک دے۔ آسمان سے پتھروں کی بارش کرکے ہر طرف تباہی مچادے۔ اس وقت انسان سوائے پچھتانے کے اور شرمندگی کے اور کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں جب بھی ظلم و جبر، کفر وشرک اور اللہ کی نافرمانیاں بڑھ کر انتہا تک پہنچ گئیں تو اللہ نے ایسے قوموں کو سخت سزائیں دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی اس کا نظام ہے کہ وہ قوموں کی نافرمانی اور کفر و شرک سے منع کرنے اور لوگوں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے جنہوں نے ان کی باتوں کو مانا اور اپنی اسلاح کرلی تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں لیکن جنہوں نے ان پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کو ستایا اور ان کی اطاعت کا انکار کیا تو ان قوموں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں آپ نے بھی اسی طرح لوگوں کو کفر و شرک، ظلم و ستم اور غلط راستوں سے روکا۔ آپ کی بات ماننے والے اطاعت گزار صحابہ کرام ؓ کامیاب ہوئے اور آپ کی اطاعت نہ کرنے والے آج صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ چونکہ جب نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس لئے اب اگر دنیا میں اسی طرح کی نافرمانیاں جنم لیں گے تو امت کے علماء نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کو آگاہ اور خبردار کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ الحمد اللہ نبی کریم ﷺ کے بعد علمائے امت نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے پر پورا کیا اور انشاء اللہ قیامت تک پورا کرتے رہیں گے۔ فرمایا کہ تم دن رات اللہ کی قدرت کے ہزاروں نمونے دکھتے ہو وہی اپنی قدرت سے اس پورے نظام کو چلا رہا ہے۔ چھوٹے بڑے پرندے کبھی پروں کو کھول کر کبھی بازؤں کو سمیٹ کر کس طرح فضاؤں میں اڑتے پھرتے ہیں۔ وہ ایک حد کے اندر رہ کر اڑتے ہیں، اپنا رزق تلاش کرکے اپنا اور اپنے بچوں کو پیٹ بھرتے ہیں، نہ زمین کی کوشش ان کو اپنی طرف کھینچتی ہے نہ وہ آسمان کی بلندیوں میں گم ہوتے ہیں۔ اس تیز و تند ہواؤں اور فضاؤں میں ان کو کس نے سنبھال رکھا ہے یہ صرف اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے ان پرندوں کو وہ صلاحیت عطا فرما دی کہ وہ جہاں اور جیسے چاہتے ہیں فضاؤں میں تیرتے پھرتے ہیں۔ فرمایا کہ اس دنیا میں نفع، نقصان اور رزق سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہے جو اس کو نفع اور نقصان پہنچا سکے لیکن یہ انسان کی بھول ہے کہ وہ ایسی طاقت و قوت اور قدرت رکھنے والی ذات کو بھلا کر کائنات کی بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے اور ان سے نفع کی امید اور نقصان کا خوف رکھتا ہے حالانکہ نفع نقصان تو ہی ذات پہنچا سکتی ہے جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان کی باگ ڈور ہے۔ وہ بےجان پتھر جو اپنے وجود میں بھی انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں وہ خود اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ کسی کو نفع اور نقصان کیا پہنچا سکتے ہیں۔ واقعی جو شخص ٹیڑھے راستے پر اوندھا ہو کر چکتا ہے وہ کبھی حقیقی منزل تک نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ شخص جو سیدھا اور صراط مستقیم پر چلتا ہے وہ یقینا اپنی حقیقی منزل کو پالے گا۔ یہ دونوں اپنے انجام کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے ایک ناکام و نامراد ہے اور دوسرا کامیاب و بامراد ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جس نے کفروشرک ، دنیا کی وقتی لذتوں اور عیش و آرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہو وہ کسی وقت بھی ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ جب اس کے لئے اللہ کا فیصلہ آجائے گا تو اس کے بنائے ہوئے گھروندے دھرے رہ جائیں گے۔ لیکن جو لوگ آنکھیں رکھنے کے باوجود کسی حقیقت کو نہ دیکھتے ہوں کان رکھنے کے باوجود وہ کسی حق بات کو نہ سنتے ہوں ان سے زیادہ ناکام اور کون ہوگا کیونکہ اللہ نے اس کو آنکھیں دیکھنے اور کان سننے کے لئے دئیے تھے۔ فرمایا کہ اچھے اور برے ایمان والے اور کافر و مشرک سب اس دنیا میں رہتے بستے ہیں اگرچہ وہ دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں لیکن جب اللہ چاہے گا ان سب کو ایک میدان میں جمع کرے گا اور میدان حشر کو قائم فرمائے گا۔
Ayahs 67:25–30

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو (قیامت آنے کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے اور ت میں تو صرف (برے اعمال کے برے نتائج سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب وہ قیامت کو قریب آتا ہوا دیکھیں گے تو اس وقت ان کافروں کی شکلیں بگڑ جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم تقاضہ کیا کرتے تھے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے کہیے کہ یہ بتائو کہ اگر اللہ مجھے اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ان سب کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کردے تو بھی کافروں کو اس دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ ہم اسی پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون مبتلا ہے ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارے (کنوئوں کا) پانی زمین کے اندر اتر جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے صاف بہتا ہوا پانی لے کر آئے گا ؟

لغات القرآن۔ زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔ تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں اور لوگوں کو اللہ کی نافرمانی سے ڈراؤں۔ قیامت کا مجھے علم نہیں ہے لیکن جب وہ آئے گی اور ہر شخص کھلی آنکھوں سے اس کو دیکھے گا تو اس وقت حق و صداقت اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے چہرے اور شکلیں بگڑ جائیں گی اور عذاب الٰہی کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم بڑی شدت سے مطالبہ کرتے تھے اور قیامت کی جلدی مچایا کرتے تھے۔ کفار و مشرکین جب ان سچائیوں کے سامنے اپنے آپ کو بےبس اور مجبور محسوس کرتے تو بددعاؤں پر اتر آتے اور کہتے کہ یہ لوگ مر کیوں نہیں جاتے تاکہ ہماری جان چھوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ ان سے پوچھئے کہ اگر اللہ ہم سب کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم و کرم فرما دے تو ان دونوں حالتوں میں تم ہمارے انجام سے کیوں پریشان ہوتے ہو۔ ہماری فکر چھوڑو تم یہ بتائو کہ تمہیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا کیونکہ ہم تو اللہ رحمن و رحیم پر ایمان رکھتے ہوئے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون پڑا ہوا تھا اور ہدایت کی روشنی کس کو نصیب تھی۔ ہمارا تو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ اسی نے ہر نعمت عطا فرمائی ہے وہی چاہے تو اس کو چھین سکتا ہے مثلاً پانی کا وجود، اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے کنوؤں، دریاؤں، نہروں اور زمین کے سوتوں سے ہمیں پانی عطا کیا ہے۔ اگر وہ پانی زمین کے اندر اتر جائے اور اس قدر گہرائی تک پہنچ جائے جہاں سے انسانی پانی حاصل نہ کرسکے تو اللہ کے سوا اور کون ہے جو اس پانی کو دوبارہ زمین کی سطح پر لے آئے گا ؟ لہٰذا وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر اور دوسروں کو اس کے برابر مانکر ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں کیا وہ بےبس اور مجبور معبود وہ پانی دوبارہ رواں دواں کرسکتے ہیں۔ فطرت انسانی کا جواب یہی ہوگا کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے وہی ہر نعمت کو دیتا ہے اور چھین بھی سکتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سورة الملک کی اس آخری آیت کی تلاوت کرتے تو فرماتے۔ اللہ یا تینا بہ وھو رب العالمین۔