67. Surah Al-Mulk
الملكThe Sovereignty · 30 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الملک سورة نمبر 67 کل رکوع 2 آیات 30 الفاظ و کلمات 335 حروف 1359 مقام نزول مکہ مکرمہ اللہ نے فرمایا کہ اس دنیا میں رہ کر ہر شخص کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ آخرت میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس دنیا مین اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر اللہ کے پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کر کے اپنے لئے آخرت کا سامان کرلیں گے لیکن وہ لوگ بڑے بدنصیب ہیں جو قیامت میں خالی ہاتھ پہنچیں گے اور گناہوں کے بوجھ انکی پیٹھ پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جہنم ایک ہولناک مقام ہے۔ جب دوزخیوں کو اس دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان پر اللہ کے ایسے فرشتے مقرر ہوں گے جو کسی کے رونے چلانے سے متاثر نہ ہوں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم دیا جائے گا۔ جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ جہنم میں ایک ڈرئونی آواز میں دھاڑنا شروع کردے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ اس کے برخلاف اہل جنت جنت کی تمام راحتوں میں پرسکون اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہوں گے۔ سورۃ الملک مکہ مکرمہ کے ابتدائی دو ر میں نازل کی جانے والی ان سورتوں میں سے ہے جس میں غفلت اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے انسان کو خواب غفلت سے جگا کر زمین و آسمان اور اپنے اچھے یا برے اعمال پر غوروفرک کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ایک مرتبہ اور منظم نظام کو بنا کر اس کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ وہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ جو لوگ ان کی باتوں پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں ان کو قیامت کے دن جنت کی ابدتی راحتیں عطا کردی جائیں اور جن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور انکی اطاعت سے انکار کیا ان کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیاجائے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ جس نے تہہ در تہہ یعنی اوپر تلے سات آسمان بنائے وہ بہت ہی برکت اور عطمت والی ذات ہے۔ اگر ان آسمانوں کی تخلیق اور پیدائش پر کوئی انسان غور کرے بار بار غور کرے تو اس کی نظریں تھک جائیں گی لیکن اس کو کہیں کسی جگہ بےترتیبی یا بدنظمی نظر نہ آئے گی۔ اللہ نے دنیا کے آسمان کو چراغوں (چاند، سورج اور ستاروں) سے روشن کر رکھا ہے۔ اگر کوئی شیطان ان آسمانوں کی طرف آکر کچھ چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب یعنی آگ کے گولوں کی بارش کردی جاتی ہے۔ زمین کے متعلق بتایا کہ تم اس زمین میں چل پھر کر اور مھنت کرکے اپنا رزق تلاش کرتے رہو۔ اللہ نے اس میں پہاڑوں کو بوجھ رکھ کر ایک خاص تو ازن قائم کردیا ہے ورنہ زلزلے اور تیز و تند ہوائیں ہر چیز کو برباد کرکے رکھ دیتیں۔ اس نے اس میں پانی کے ذریعہ سرسبزی و شادابی پیدا کی۔ فرمایا کہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو اس نے انسان کے تابع کردیا یعنی اس کے کام میں لگا دیا تاکہ وہ ایک مقرر وقت تک اس دنیا میں رہ کر اپنی زندگی کا ہر سامان حاصل کرسکے اور اس میں اپنے بہترین اعمال کے ذریعہ وہ جنت کی ابدی راحتوں کا حق دار بن سکے۔ اللہ نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے جن انہوں نے ان کی بات مان کر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا ہے اسی ایک اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کیا ہے۔ ان کے لئے معافی، درجات کی بلندی اور اجر عظیم تیار کیا گیا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے نافرمانی کا راستہ منتخب کرکے رسولوں کو جھٹلایا ہے قیامت میں ان کو سوائے شرمندگی اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اور کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ جہنم ایک ہیبت ناک مقام ہے چناچہ جب ان جہنمیوں کو اس آگ میں ڈالا جائے گا تو جہنم اس قدر ڈرائونی آواز میں دھاڑنا شروع کرے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس پر ایسے سخت مزاج اور حکم کی تعمیل کرنے والے فرشتے مقرر ہوں گے جن کا کام صرف یہی ہے کہ ان کو جو کچھ حکم دیا جائے وہ اس کی تعمیل کریں یعنی کسی کے رونے، چلانے اور فریاد کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ وہ فرشتے ان جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کہا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ڈرانے ولاے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ پیغمبر تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی کتاب یا حکم ناز ل نہیں کیا یہ سب تمہاری گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور اس طرح ہم بھٹک گئے۔ وہ نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی باتوں کو مان لیتے تو آج یہ بدترین دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے خود ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے۔ تمہاری اس سوچ پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد جب ان کو جہنم کے قریب لایا جائے گا تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کا تم مطالبہ اور تقاضا کرنے میں جلدی کیا کرتے تھے۔ دنیا میں اللہ کے پیغمبر ان کو اس دن کے برے انجام سے ڈرایا کرتے تا وہ مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اور اس کا عذاب کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ قیامت کے دن اس کا جواب دیا جائے گا اور وہ اس جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر سخت شرمندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ تمہارے مقابلے میں جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ اس درجہ پر سننے، دیکھنے اور سوچنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالو کہ جب کسی قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اس کا انجام دنیا ہی میں کتنا بھیانک اور خراب ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے پوچھا ہے کہ ٭وہ اللہ جو اس نظام کائنات کو اپنی قدرت سے چلا رہا ہے اگر وہ تمہیں زمین کے اندر دھنسا دے تو کیا تم کسی طرح بھی اپنے آپ کو اس سے بچا سکتے ہو۔ تم اتنے بےفکر اور بےخوف کیوں ہوگئے ہو ؟ ٭جس اللہ نے زمین مین تو ازن بنایا ہے اگر وہ بےوزن کردے تو کیا یہ زمین زلزلوں اور جھٹکوں کا شکار نہ ہوجائے گی ؟ ٭کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہارے اوپر طوفانی اور پتھر برسانے والی ہوائیں بھیج کر تمہیں تباہ و برباد کردے ؟ ٭اگر وہ رحمن تمہارا رزق روک لے تو کیا کوئی اور ذات یا طاقت ہے جو تمہارے لئے رزق کے دروازے کھول دے گی ؟ ٭پانی جس سے تمہاری زندگی وابستہ ہے اگر وہ اس کو زمین کے نیچے لے جا کر غائب کردے تو کیا کوئی اس کے سوتوں کو جاری کرسکتا ہے ؟ ٭رحمن کے لشکر کے سوا دوسرا کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ ٭تمہیں سوچنے کے لئے دل و دماغ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھیں کس نے عطا کی ہیں ؟ ٭فضاؤں میں پرندے کبھی پر کھولتے اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان کو کس ذات نے فضاؤں میں سنبھال رکھا ہے ؟ ٭فرمایا کہ اگر کسی کو اللہ ہی کسی مصیبت میں پھنسا دے تو اس سے چھٹکارا دلانے والا سوائے اللہ کے اور کون ہے ؟ مسلمانوں کے بد خواہوں سے فرمایا ہے کہ اللہ مومنوں پر رحم و کرم کرے یا سزا دے اس سے تمہیں کیا عرض ہے ؟ تمہیں تو اپنی فکر ہونی چاہیے جب وہ ان کافروں کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کو بچانے والا کون ہوگا ؟ یقینا ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ اللہ جو اس نظام کائنات کا چلا رہا ہے ہر طرف اسی کی قدرت اور طاقت ہے وہی بناتا ہے اور وہی اپنے نافرمانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا کہ تم اللہ کو زور سے پکارو یا آہستہ، وہ ہر وقت ہر شخص کی فریاد کو سنتا ہے۔ وہ ہر بات کو نہایت باریکی سے دیکھ کر باخبر رہتا ہے۔ فرمایا کہ تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلی جائے کیونکہ وہاں عمل کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔ عمل کرنے کے لئے دنیا کا میدان ہے جو یہاں بےعملی کا شکار ہوگا اسے قیامت کی ہمیشہ کی زندگی میں کبھی سکون نہ ملے گا۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader
وہ بڑی برکتوں والا ہے جس کے ہاتھ میں (پوری کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ ت میں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون زیادہ بہتر ہے۔ وہ زبردست ہے اور بخشنے والا ہے۔
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader
اسی نے اوپر تلے اسات آسمان بنا دئیے۔ (غور سے دیکو تو) اس کی تخلیق میں تم کوئی فرق نہ پائو گے۔ پھر ذرا نگاہ اتھا کر دیکھو کیا کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader
پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو تو تمہاری نگاہ تمہاری طرف تھک کر اور پلٹ کر واپس آجائے گی۔
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader
اور یقینا ہم نے ہی دنیا کے آسمان کو چراغوں سے زینت و خوبصورتی دی ہے اور ہم نے (ان ہی میں) شیطانوں کو مار بھگانے کے لئے (شہاب ثاقب) کو بھی بنایا ہے اور ہم نے ہی ان (شیاطین) کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے عذاب جہنم تیار ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader
جب یہ (کفار و مشرکین) اس جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ لوگ خوفناک اور ناپسندیدہ آوازیں سنیں گے اور وہ جہنم جوش مار رہی ہوگی
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader
کہ جیسے وہ غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ جب ان میں سے ایک گروہ کو ڈالا جائے گا تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس (اس دن کے عذاب سے) ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader
تو وہ کہیں گے کہ یقینا ہمارے پاس (اس دن کے عذاب سے) ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا تھا اور ہم نے کہا تھا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اور تم (خود ہی ) بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader
وہ کہیں گے کاش ہم سن لیتے یا سمجھ لیتے تو جہنم والوں سے میں سے نہ ہوتے۔
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader
(اس طرح) وہ کافر اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے۔ اور پھر یہ جہنم والے اللہ کی رحمت سے دور ہوجائیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader
بیشک جو لوگ اپنے رب کو بن دیکھے اس سے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader
اور تم اپنی بات چھپا کر کہو یا پکار کر کہو۔ بیشک وہ دلوں کے حال کا جاننے والا ہے۔
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader
سنو ! کہ جس نے پیدا کیا ہے وہی (اپنی مخلوق کو) جانتا ہے اور بہت باریکی سے خبر رکھنے والا ہے۔
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کردیا۔ (تمہارے کام میں لگا دیا) تاکہ تم اس کے چاروں طرف چلو پھرو اور اس کے دئیے ہوئے رزق سے کھائو۔ (وہی تو ہے ) جس کی طرف تمہیں زندہ ہر کو اٹھنا ہے۔
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader
کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ جو (آسمان و زمین کا مالک) ہے وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین اچانک لرزنے لگے۔
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader
کیا تم اس سے نڈر ہوگئے کہ جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے پھر تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader
ان سے پہلے جو لوگ گذر گئے ہیں وہ بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔ پھر (دیکھو) ان کا انجام کیا ہوا۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader
کیا وہ اپنے اوپر اڑتے پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ جو پر پھیلا کر دوبارہ اپنے پر سمیٹ لیتے ہیں ان کو سوائے اللہ کے اور کون روک کر رکھتا ہے۔ بیشک وہی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader
اللہ کے سوا اور کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے۔ یہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader
وہ اگر تمہارے رزق کو روک لے تو بھلا وہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کافر اپنی ضد اور سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں۔
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader
بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہو زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ شخصی جو سیدھی راہ پر سیدھ باندھ کر چل رہا ہو ؟
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader
آپ ﷺ فرما دیجئے کہ وہی اللہ تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کئے۔ مگر تم میں سے بہت تھوڑے سے ہیں جو (اللہ کی نعمتوں پر) اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا رکھا ہے۔ اور تماسی کی طرف جمع کئے جائو گے۔
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو (قیامت آنے کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے اور ت میں تو صرف (برے اعمال کے برے نتائج سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader
پھر جب وہ قیامت کو قریب آتا ہوا دیکھیں گے تو اس وقت ان کافروں کی شکلیں بگڑ جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم تقاضہ کیا کرتے تھے۔
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان سے کہیے کہ یہ بتائو کہ اگر اللہ مجھے اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ان سب کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کردے تو بھی کافروں کو اس دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ ہم اسی پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون مبتلا ہے ؟
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارے (کنوئوں کا) پانی زمین کے اندر اتر جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے صاف بہتا ہوا پانی لے کر آئے گا ؟