Explained with ayahs 6–11
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی اور جوش مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے اور جوش اور غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لئے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ بدنصیبو ! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا ؟ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کو ستے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 15
یعنی تم بھی بہکے ہوئے ہو اور تم پر ایمان لانے والے لوگ بھی سخت گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…
Read the full tafseer →جہنم کے جوش غضب کی تصویر:
یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی ہم نے پیغمبروں کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں جھٹلایا، آسمانی کتابوں کا ہی سرے سے انکار کردیا حتٰی کہ اللہ کے پیغمبروں کو ہم نے کہا کہ تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔
جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر…
Read the full tafseer →2 یعنی کھسیانے ہو کر حسرت و ندامت سے جواب دیں گے کہ بیشک ڈرانے والے آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات نہ مانی برابر جھٹلایا کیے کہ تم سب غلط کہتے ہو۔ نہ اللہ نے تم کو بھیجا نہ تم پر وحی اتاری بلکہ تم عقل و فہم کے راستہ سے بہک کر بڑی سخت گمراہی میں جا پڑے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 9{ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْـــرٌ 5} ”وہ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا“
{ فَکَذَّبْنَا } ”لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا“
{ وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ } ”اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی شے نہیں اتاری۔“
ہم نے اپنے رسولوں علیہ السلام سے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف کوئی کتاب وغیرہ نہیں بھیجی ‘ بلکہ ہم نے تو انہیں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ :
{ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ۔ } ”تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
13 یہ بڑی گمراہی کیا تھی ؟ یہی بعث بعد الموت کا عقیدہ۔ کافر اسے ہی سب سے بڑی گمراہی سمجھتے تھے۔ کہ آج تک تو کوئی شخص مر کر واپس آیا نہیں۔ پھر ہم اس بات کو کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →7۔ (کہ وحی اور ثبوت اور آخرت وغیرہ کے ڈھکوسلوں میں پڑے ہوئے ہو) (آیت) ” قالوا ...... نذیر “۔ منکرین حشر اب دوزخ میں پہنچ چکی تھی، یہ شامت تو ہماری خود ہی تھی کہ ہم ڈھٹائی کیساتھ پیغمبروں کی تکذیب کرتے اور الٹا انہیں کو خبطی قرار دیتے رہے، (آیت) ” ان .... کبیر “۔ آج ہمارے روشن خیالوں “۔ اور عقلییں کا جو فتوی اہل مذہب کے متعلق ہے، وہ کیا اس سے کچھ بہت مختلف ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…
Read the full tafseer →قالوا بلی قد جاء نا نذیر . انہوں نے کہا : یہ مستقبل کی حکایت ہے۔ نذیر صیغۂ صفت ہے یا بمعنی جمع ہے یا مصدر ہے اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا یعنی اہل اتدار (ڈرانے والے) یا بغیر حذف مضاف کے خود مصدر کو صفت قرار دیا جائے اور مقصود مبالغہ انذار ہو یا صیغۂ صفت بمعنی مفرد ہے (ڈرانے والا) مطلب یہ ہے کہ کافروں نے کہا : ہم میں سے ہر ایک کے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔ قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ میں بلٰی کے مفہوم کی تاکید ہے۔
فکذبنا . لیکن ہم نے نذیر کو جھوٹا قرار دیا اور اتنی زیادہ تکذیب کی کہ کہہ دیا
وقلنا ما نزل اللہ من شیء . اللہ نے کچھ نہیں اتارا۔
اس فقرہ میں کتاب اتارنے کا بھی انکار ہے اور پیغمبر بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) جب یہود و نصاری مجوسی اور مشرکین عرب میں سے لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی گدھے کی طرح ایک بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی کہ ابھی کفار پر غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی۔
جب دوزخ میں ان مذکورہ کافروں کا کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا تو وہ کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا پیغمبر آیا تھا۔
تو ہم لوگوں نے اسے جھٹلایا اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم نے رسولوں سے یوں کہہ دیا کہ تم بڑی غلطی میں پڑے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ۔۔۔۔:”تمیز“ اصل میں ”تمیز“ (تفعل) ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی۔”قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے“ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جاسکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکنے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے ، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں ، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
تکاد تمیز من الغیظ وہ ٹکڑے ہوجائے گی اور اس کا بعض، بعض سے جدا ہوگا، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ضحاک اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر شدت غیظ کی وجہ سے پھٹ جائے گی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الغیظ کا معین جوش مارنا ہے۔ تمیز کی اصل تتمیز ہے کلمآ القی فیھا فوج فوج سے مراد کفار کی جماعت ہے۔ سالھم خزنتھآ جہنم کے داور غے تو بیخ اور قریع کے انداز میں ان سے سوال کریں گے۔ الم یاتکم نذیر۔ کیا تمہارے پاس دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جو تمہیں اس دن سے ڈراتا یہاں تک کہ تم احتیاط برتتے ؟ قالوا بلی قدجآء نا نذیر یعنی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا، اس نے ہمیں ڈرایا اور خبردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) سے بیان فرمایا کہ آیت تکاد تمیز (قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی) یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔
5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت تکاد تمیز کے بارے میں روایت کیا کہ شاید اس کا بعض حصہ بعض سے جدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →[قَالُوْا بَلٰي : وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں ][ قَدْ جَاۗءَنَا : آچکا تھا ہمارے پاس ][ نَذِيْرٌ: ایک خبردار کرنے والا ][ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا : تو ہم نے جھٹلایا اور ہم نے کہا ][ مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں اتارا اللہ نے ][ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ][ ښ ان انتم اِلَّا : نہیں ہو تم (خبردار کرنے والے) لوگ مگر ][ فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : ایک بڑی گمراہی میں ]
(آیت۔ 9) قَالُوْا سے پہلے کوئی حرف شرط نہیں ہے لیکن پھر بھی فعل ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہوگا کیونکہ یہ قیامت کا بیان ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:28، نوٹ۔ 13) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ میں اِنْ کے بعد اِلَّا آ رہا ہے۔ اس سے معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
کافروں کا دوزخ میں داخلہ، دوزخ کا غیظ و غضب، اہل دوزخ سے سوال و جواب اور ان کا اقرار کہ ہم گمراہ تھے
گزشتہ آیت میں بتایا کہ شیاطین کے لیے جلتی ہوئی آگ کا عذاب تیار فرمایا ہے۔ ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو کفر میں شیاطین کے ہمنوا ہیں اور شیاطین کے ترغیب دینے اور کفر پر جمانے سے کفر کو اختیار کیے ہوئے ہیں، فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے اور برا ٹھکانہ ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی سخت دہشت ناک اور وحشت ناک آواز سنیں گے وہ جوش مارتی ہوگی اس کے جوش کا یہ عالم ہوگا کہ گویا ابھی غصے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
7:۔ ” وللذین کفروا “ تخویف اخروی۔ جو لوگ اپنے رب سے کفر کرتے ہیں یعنی اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو نہایت ہی برا انجام ہے۔ جب ان کفار و مشرکین کو جہنم میں ڈالا جائیگا تو وہ سخت جوش میں آجائے گی اور اس کی ہیبتناک غراہٹ ہوگی۔ وہ دشمنان خدا پر اس قدر غضبناک ہوگی کہ قریب ہوگا کہ غیظ و غضب سے پھٹ جائے۔ ” کلام القی فیہا فوج “ جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائیگی تو خازنان جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے تمہیں آج کے عذاب سے خبردار کیا ہو۔ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ ہمارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ 0ۥۙ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہُ مِنْ شَيْءٍ 0 ۚ ۖ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ 9
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ا ؎ کلماء القی فیہا فوج اس سے معلوم ہوا کہ تمام دوزخی ایک بار دوزخ میں نہیں ڈالیں جائیں گے بلکہ ہر ایک گروہ اور فرقہ ایک ملک کے یا ایک خاندان کے یا ایک مذہب کے یکے بعد دیگرے داخل ہوں گے اور ہر ایک گروہ علیٰ حسب مراتب ہر طبقہ میں بند ہوگا اور ان کے شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ یہ سوال کریں گے اور وہ یہ جواب دیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ط کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَـتُـھَا اَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ 5 لا فَکَذَّبْنَا وُقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ صلے ج اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ۔ (الملک : 8، 9)
(قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے، جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ وہ جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے پاس ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم بڑی گمراہی میں پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
فہم القرآن
ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے…
Read the full tafseer →کفار کا اعتراف :
9 : قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ (وہ کافر کہیں گے واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔ ) یہ کفار کی طرف سے عدل الٰہی کا اعتراف ہے۔ اور اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو روانہ کر کے اور انذار کے ذریعہ عذاب میں مبتلا ہونے کے اسباب بالکل واضح کردیے تھے۔ فَکَذَّبْنَا (پس ہم نے جھٹلادیا) یعنی ہم نے ان کو جھٹلا دیا۔ وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ (اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نہیں اتاری۔ ) جو یہ انبیاء وعد، وعید وغیرہ کہہ رہے ہیں۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ (تم بڑی غلطی میں پڑے ہو) یعنی کفار منذرین کو کہنے لگے تم شدید غلطی…
Read the full tafseer →8 ۔” تکاد تمیز “ پھٹ جائے۔ ” من الغیظ “ ان پر غصہ کی وجہ سے ۔ ابن قنیبہ (رح) فرماتے ہیں قریب ہے کہ کفار پر غصہ کی وجہ سے پھٹ جائے۔ ” کلما القی فیھا فوج “ ان میں سے ایک جماعت ” سالھم خزنتھا “ ڈانٹ کا سوال ” الم یاتکم نذیر “ رسول جو تمہیں ڈراتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ…
Read the full tafseer →14 منکرین کے اقرار و اعتراف جرم کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے اقرار و اعتراف جرم کو بیان فرما دیا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہیں گے کہ ہاں نذیر تو یقینا ہمارے پاس آتے تھے ‘ مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا ‘ تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہو ‘ اور یہ کہ تم محض اپنی بڑائی کیلئے اس طرح کے دعوے کرتے اور ہم پر اپنی دھونس جمانا چاہتے ہو ‘ کما قال تعالیٰ حکایۃ عن الملاء الذین کفرو۔ " یرید ان یتفضل علیکم " (المومنون :24) ۔ سو اس طرح وہ لوگ اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ سو جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ
تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →“12 یعنی تم اور تمہارے پیرو سب گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ اللہ نے تم پر کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ تمہیں بندوں تک پہنچانے کے لئے کوئی پیغام دیا۔
Read the full tafseer →(67:9) قالوا۔ ماضی بمعنی مستقبل۔ یعنی وہ لوگ جن سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے رسول نہیں آئے تھے۔ وہ جواب میں کہیں گے۔
بلی : ہاں ۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تانیث کے لئے ہے کیونکہ اس میں امالہ ہوتا ہے۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔
(1) ایک تو نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔
(2) دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
[4] یعنی جو چاہو اس میں تصرف کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
پردہ زنگاری میں
1: سابقہ آیات میں یہ بتایا تھا کہ یہ نظام کائنات بہرنوع کامل ہے اس میں کوئی نقص وعیب نہیں ہے ۔ اور اس کو دیکھ کر بادنی تامل ہر شخص کہہ سکتا ہے ۔ کہ اس کو بنانے والا اور کتم عدم سے وجود میں لانے والا کوئی صاحب علم وقدرت خدا ہے ۔ اس پردہ زنگاری کو دیکھ کر شبہ نہیں ۔ بلکہ یقین ہوتا ہے ۔ کہ اس میں کوئی معشوق ضرور پنہاں ہے ۔ اس زندگی وموت کے تسلسل کو مشاہدہ کرنے کے بعد کون ہے ۔ جو تلی اور ممیت ذات کا انکار کرسکے ۔ اور اس سقف زنگار کی آرائش و خوبی کو دیکھ کر کہیں میں جرات ہے ۔ کہ اس نوزانی جہان کو تسلیم نہ کرے ۔ پھر وہ لوگ جو ان سب چیزوں کو صبح ومساء دیکھتے ہیں ۔ اور ذات خداوندی اور…
Read the full tafseer →(9) پروردگار کی توحید کے منکر دوزخ کے محافظ فرشتوں کو جواب دیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم ہم نے اس ڈرانے والے کی تکذیب کی اور اس پیغمبر کو جھوٹا بتایا اور یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی سوائے اس کے نہیں کہ تم لوگ بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ یعنی جب دوزخ کے نگہبان فرشتے کافروں کے ہر ہر گروہ سے دریافت کریں گے اور بطور مذمت اور توبیخ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا تو ہر گروہ کے افراد یہی کہیں گے کہ پیغمبر تو آیا تھا کیونکہ دین حق کے تمام منکر اور کفار آگے پیچھے جہنم میں ضرور داخل ہوں گے اور فرشتے ہر انبوہ سے دریافت کریں گے کہ کیا…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی ہماری مجمعہ جماعات نے مجموعہ نذر ورسل کو یوں کہہ دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنے اپنے رسول کو ہر ایک نے یوں کہہ دیا۔
Read the full tafseer →وہ دوزخ کے دربانوں کو جواب دیں گے کہ نذیر تو آیا تھا لیکن ہم نے اس کی بات نہیں مانی تھی
9 ؎ جھوٹ بولنے کے عادی لوگوں کو بھی کبھی سچ بولنا پڑتا ہے اور وہ بولتے ہیں لیکن ایسے موقع پر سچ بولنے والوں کے متعلق کبھی کسی نے ان کے سچ کو نہیں سراہا کہ واہ بھائی انہوں نے تو کتنی سچی بات کہہ دی ہے یا کردی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انسان ساری زندگی سچ بولتا ہے تو بعض اوقات اس کا ایک ہی جھوٹ اس کے سارے سچوں پر پانی پھیر دیتا ہے اور لوگ جھوٹ جھوٹ کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ ان لوگوں کی ساری زندگی جھوٹ میں گزری ہوگی لیکن اس وقت وہ جو بات کہیں گے وہ سو فیصد سچ ہوگا اور وہ کہیں گے کہ کیوں نہیں بلاشبہ ہمارے پاس ڈرانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…
Read the full tafseer →15 That is, "Not only you but the people who have believed in and followed you also are misguided and lost in grave error."
Read the full tafseer →