Explained with ayahs 28–30
زمین سے پانی ابلنا بند ہوجائے تو ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچایا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا ؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہوسکتا ؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں، نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورت تلاش کرو۔ پھر فرمایا ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 40
یعنی کیا خدا کے سوا کسی میں یہ طاقت ہے کہ ان سوتوں کو پھر سے جاری کر دے ؟ اگر نہیں ہے، اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے، تو پھر عبادت کا مستحق خدا ہے، یا تمہارے وہ معبود جو انہیں کاری کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتے ؟ اس کے بعد تم خود اپنے ضمیر سے پوچھو کہ گمراہ خدائے واحد کو ماننے والے ہیں یا وہ جو شرک کر رہے ہیں ؟
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ۔ یعنی آپ ان لوگوں کو بتلادیجئے کہ اس بات پر غور کریں کہ جو پانی کنوؤں کے ذریعہ با آسانی نکال کر پی رہے ہو اگر وہ پانی زمین کی گہرائی میں اتر جائے تو تمہاری کونسی طاقت ہے جو اس جاری پانی کو حاصل کر کسے۔ حدیث میں ہے کہ جب آدمی یہ آیت تلاوت کرے تو اس کو کہنا چاہے اللہ رب العاملین یعنی اللہ رب العالمین ہی پھر اس کو لا سکتا ہے ہماری کسی کی طاقت نہیں۔
تمت سورة الملک بحمد اللہ فی ثالث رجب 1391 ھ یوم الخمیس
Read the full tafseer →’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ صاف شفاف، خالص اور بے آمیز پانی۔
ایک قریب الفہم استدلال: پانی کے نیچے اتر جانے کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ پانی کی سطح ہی اتنی نیچی ہو جائے کہ زمین سے پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے ہم معنی بن جائے۔ کتنے علاقے ہیں جہاں پانی کی سطح اتنی نیچی ہے کہ وہاں کنوئیں تو درکنار ٹیوب ویل سے بھی پانی حاصل کرنا ایک کار عظیم ہے۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بارش نہ ہونے یا کم ہونے کے سبب سے نہروں، چشموں اور ندیوں کا پانی کم ہو کر گدلا ہو جائے۔ یہاں یہ دونوں مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ ’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ کے لفظ کی وجہ سے میرا ذہن اس دوسرے مفہوم کی طرف جاتا ہے۔
عذاب الٰہی کا مذاق اڑانے…
Read the full tafseer →30۔ 1 غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہوجانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہوجائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہوجائیں تو بتلاؤ ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے ؟ یعنی کوئی نہیں ہے کہ تمہیں پانی سے محروم نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
8: جب یہ بات طے ہے کہ پانی سمیت ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے تو آخر اس کے سوا کون ہے جو عبادت کا مستحق ہو، اور کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر اس کی اس قدرت کا انکار کیا جائے کہ وہ انسانوں کو زندہ کر کے انہیں جزاء یا سزا دے گا۔
Read the full tafseer →قل ارءیتم .................... معین
” ماﺅکم غورا (76 : 03) ” کے معنی اس پانی کے ہیں جو زمین کی رگوں میں دور تک چلاجائے اور اسے واپس لانے کی کوئی سبیل نہ ہو۔
معین (76 : 03) وہ چشمہ جو زمین سے ابل کر پانی لارہا ہو۔ یہ مناظر وہ دیکھتے رہتے تھے۔ اگرچہ وہ اس دن اس میں شک کرتے تھے۔ لیکن زمین و آسمان کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس وقت چاہے ان چشموں کو خشک کردے۔ اگر اللہ ان کی زندگی کے اس سبب کو ہی کشید کرلے تو نتائج کیا ہوں۔ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ذرا اس پر بھی غور کرلو۔
یوں اس سورت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ دلائل ، تاثرات ، ملکوت سماوات اور ارض کی سیر ، ہر آیت…
Read the full tafseer →3 یعنی زندگی اور ہلاکت کے سب اسباب اسی اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ ایک پانی ہی کو لے لو، جس سے ہر چیز کی زندگی ہے، اگر فرض کرو ! چشموں اور کنوؤں کا پانی خشک ہو کر زمین کے اندر اتر جائے جیسا کہ اکثر موسم گرما میں پیش آجاتا ہے تو اس کی قدرت ہے کہ موتی کی طرح صاف شفاف پانی اس قدر کثیر مقدار میں مہیا کر دے جو تمہاری زندگی اور بقاء کے لیے کافی ہو۔ لہذا ایک مومن متوکل کو اسی خالق الکل مالک علی الاطلاق پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہیں سے یہ بھی سمجھ لو کہ جب ہدایت کے سبب چشمے خشک ہوچکے، اس وقت ہدایت و معرفت کا خشک نہ ہونے والا چشمہ محمد ﷺ کی صورت میں جاری کردینا بھی اسی رحمان مطلق کا کام ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنے…
Read the full tafseer →آیت 30{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ بِمَآئٍ مَّعِیْنٍ۔ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف ‘ نتھرا ہواپانی ؟“
آج کے دور میں اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ آج متعلقہ ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بارشوں کی کمی کے باعث مستقبل قریب میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جاسکتی ہے۔ بیشتر علاقوں میں انسانی ‘ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا زیادہ تر دار و مدار زیرزمین پانی پر ہی ہے جو عموماً آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ صاف شفاف…
Read the full tafseer →33 زیر زمین پانی کے ذخیرے :۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے اس کا کا ایک حصہ تو ندی، نالوں اور دریاؤں سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔ اور ایک حصہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے پھر کئی مقامات ایسے ہیں جہاں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور کئی مقامات پر بہت کم۔ علاوہ ازیں اگر زمین نرم ہو تو بہت زیادہ پانی چوس لیتی ہے اور اگر سخت یا پتھریلی ہو تو بہت کم پانی جذب کرتی ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین کے نیچے پانی کے ذخیرے بھی موجود ہیں اور نیچے ہی نیچے اس پانی کے دریا بھی بہہ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر علاقہ زیادہ بارشوں والا ہو اور زمین نرم ہو تو زمین کھودنے سے بیس پچاس فٹ کی گہرائی پر پانی مل…
Read the full tafseer →25۔ (پس جب حق تعالیٰ کے مقابلہ میں معمولی طبعی واقعات میں کسی کو تصرف کی قدرت نہیں تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →قل ارایتم . اس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے۔
ان اصبح ماء و کم غورا . اگر تمہارا پانی (تمہارے کاموں میں استعمال ہونے والا پانی) زمین کے اندر اتنے
گہراؤ پر چلا جائے کہ ڈول وہاں تک نہ پہنچ سکیں (یعنی تمہاری رسائی وہاں تک نہ ہو سکے) غور مصدر ہے (گہراؤ میں چلا جانا) یہاں وصفی معنی مراد ہیں (بہت گہرا) ۔
فمن یاتیکم بماء معین . لفظ معین (بمعنی اسم فاعل) العین الجاریۃ (جاری چشمہ) سے مشتق ہے۔ یعنی بہتا
ہوا پانی یا (بمعنی اسم مفعول) العین الباصرۃ سے مشتق ہے۔ یعنی ظاہر ‘ نمایاں ‘ آسانی سے حاصل ہوجانے والا (مطلب یہ ہے کہ اگر پانی ناقابل رسائی گہرائی تک پہنچ جائے تو پھر کون (سوائے خدا کے) یہ بہتا ہوا یا…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ اگر تمہارے زمزم کے کنوئیں کا پانی زمین کی تہ میں اتر جائے کہ ڈول وہاں تک نہ پہنچ سکیں سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کر پانی لے کر آئے کہ ڈولوں کی وہاں تک رسائی ہوجائے یا یہ کہ نون و قلم کے خالص کے علاوہ کون سوت کر پانی لاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا۔۔۔۔:”غورا“”غار یغور غورا“ (ن) گہرا چلا جانا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔”معین“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (45)۔
2۔ اس آیت سے تعلق رکھنے والا ایک عجیب واقعہ صاحب کشاف نے ذکر کیا ہے کہ ایک ملحد کے پاس یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے کہا کہ (اگر وہ پانی گہرا چلا جائے تو) کسیاں اور بیلچے اسے نکال لائیں گے ، تو اس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی آیات کی گستاخی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین) پچھلی آیات میں فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے اور بارش نہ برسائے تو کون ہے جو تمہیں بارش عطاء فرمائے ؟ قحط کے وقت اپنے خداؤں…
Read the full tafseer →قل ارئیتم اے قریش کی جماعت ! ان صبح مآء کم غوراً زمین میں دور چلا جائے ڈول اس تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کا پانی دو چشموں سے حاصل ہوتا تھا۔ بر زمزم اور بئر میمون۔ فمن یاتیکم بمآء معین۔ معین کا معنی جاری ہے، یہ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے۔ ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لانے والا نہیں، تو فرمایئیے : تم اس کے ساتھ ایسی کیوں شریک ٹھہراتے ہو جو تمہارے لئے پانی لانے والا بھی نہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : غار الماء یغور غورا پانی کا دور چلا جانا، غور، غائر کے معنی میں ہے۔ مبالغہ کے لئے مصدر کے ساتھ صفت ذکر کی گئی ہے جس طرح تو کہتا ہے : رجل عدل و رضا سورة کہف میں…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر والفاکہی نے ابن کلبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت قل ارأیتم ان اصبح ماء کم غورا فرمادیجیے بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے۔ زمزم کے کنوئیں اور میمون بن الحضر کے کنوئیں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ دور جاہلیت کے کنویں تھے فاکہی نے کہا کہ مکہ کے کنوئیں جلدی سے نیچے اترجاتے تھے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ان اصبح ماء کم غورا کے بارے میں روایت کیا کہ اگر پانی زمین میں داخل ہوجائے آیت فمن یاتکیم بماء معین کون تمہارے پاس لائے گا یعنی جاری پانی۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اصبح مارکم غورا یعنی اگر پانی زمین میں لوٹ جائے۔
4۔…
Read the full tafseer →[قُلْ اَرَءَيْتم : آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ][ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ : اگر ہوجائے تمہارا پانی ][ غَوْرًا : زمین میں جذب ][ فَمَنْ يَاْتِيْكُمْ : تو کون لائے گا تمہارے پاس ][ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ : کچھ رواں پانی۔]
نوٹ۔ 3: آخر سورة میں (آیت۔ 30) پھر ایک جملہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر بسنے والو اور اس کو کھود کر کنویں بنانے والو اور اس کے پانی سے اپنے پینے پلانے اور نباتات اگانے کا کام لینے والو، اس بات کو مت بھولو کہ یہ سب چیزیں کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں ہیں، بلکہ صرف حق تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ پانی اس نے برسایا، پانی کو برف کی شکل میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس نے لاد دیا، پھر برف کو…
Read the full tafseer →اگر پانی زمین میں واپس ہوجائے تو اسے واپس لانے والا کون ہے ؟
تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ ان سے یوں فرما دیں کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر تمہارا یہ پانی جو بارش کے ذریعہ تمہیں ملتا ہے اور جسے کنوؤں سے نکالتے ہو اور جسے میٹھی نہروں سے حاصل کرتے ہو یہ تمہارے پینے کھانے پکانے نہانے دھونے میں اور باغوں اور کھیتیوں کی آبپاشی میں کام آتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو ایسا کر دے کہ بالکل ہی زمین میں دور تک اترتا چلا جائے اور جہاں تک تمہاری رسائی نہ ہو وہاں تک پہنچ جائے تو بتاؤ وہ کون ہے جو پانی کو لے آئے۔ صاحب جلالین لکھتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر تلاوت کرنے والا لفظ معین کے بعد یوں کہے کہ ﴿اللّٰهُ رَبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…
Read the full tafseer →20:۔ ” قل ارایتم “ آٹھویں دلیل عقلی خاص۔ ” معین “ بروزن فعیل، معن سے ماخوذ ہے یعنی جاری اور بہتا ہوا یا یہ عین سے اسم مفعول ہے یعنی جو آنکھوں سے نظر آئے۔ عن ابن عباس (بماء معین) ای ظاھر تراہ العیون فھو مفعول وقیل ھو من معن الماء ای کثر، فھو علی ھذا فعیل (قرطبی ج 18 ص 222) ۔ یہ بتاؤ اگر یہ پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے، تو تازہ اور جاری پانی تمہیں کون لا کر دے گا ؟ وہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں تازہ اور میٹھا پانی عطا فرماتا ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ یہ سب اللہ کی مہربانی ہے، تمہارے خود ساختہ معبود یہ کام نہیں کرسکتے۔
سورة ملک میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات۔” تبرک الذی بیدہ الملک “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔
یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ 30 ۧ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ترکیب : ارء یتم بمعنی اخبرونی کماقال اکثر المفسرین والجملۃ الشرطیۃ ان اھلکنی اللہ الخ سدت مسدالمفعولین فمن یجیرالکافرین الخ جواب الشرط امنابہ وعلیہ توکلنا صفۃ الرحمن وقیل ھو ضمیر الشان امنابہ خبرالرحمن من استفہامیہ فی محل النصب علیٰ انہ مفعول تعلمون ان اصبح شرط غورا خبر اصبح والغور مصدر فی معنی الغایرویقال غار الماء غورا ای نضب فمن یاتیکم الجملۃ جواب الشرط معین ظاہر تراہ العیون وقیل ھومن مَعَنَ الماء اذاکثر وقال قتادۃ والضحاک ای جارٍ ۔
تفسیر : ان امور آخرت کو سن کر کفار آنحضرت ﷺ سے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا ہم پر قحط ‘ وبا وغیرہ کا عذاب آئے گا تو تم بچ جاؤ گے ؟ یہ بھی ایک نامعقول گفتگو تھی اس…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْ تِیْکُمْ بِمَآئٍ مَّعِیْنٍ ۔ (الملک : 30)
(اے پیغمبر ان سے پوچھئے ! کہ بتائو اگر تمہارا پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے پاس کون ہے جو صاف اور شفاف پانی لائے۔ )
کفار کو تنبیہ
سورة کی آخری آیت میں کفار کو پھر تنبیہ فرمائی ہے اور ایک طرح سے عذاب کی دھمکی دی ہے کہ انسان کی سب سے بنیادی ضرورت ہوا کے بعد پانی ہے جس کے بغیر زندگی بسر نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ ایسی نعمت ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے بظاہر انسان کنوئیں کھودتا ہے یا اور مختلف طریقوں سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ اس کی ذاتی جاگیر نہیں، صرف اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے عذاب کو ٹالنا تو درکنار انسان ” اللہ تعالیٰ “ کے سامنے اس قدر عاجز اور بےبس ہے کہ وہ اپنی زندگی کی اہم ترین ضرورت پانی پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔
انسان کی بنیادی ضروریات میں پانی اس کی زندگی کا اہم ترین جز ہے، پانی کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ قدیم زمانے میں عرب میں پانی کی بہت زیادہ قلت ہوا کرتی تھی۔ پانی کی قلت کی وجہ سے عرب کے اکثر لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے بیشتر علاقوں میں پانی کا دارومدار صرف بارش پر تھا اگر ایک مدت تک بارش نہ ہوتی تو چشمے خشک ہوجاتے اور کنوؤں کا پانی اتنا گہرا ہوجاتا کہ اسے حاصل کرنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔…
Read the full tafseer →30 : قُلْ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآ ؤُکُمْ غَوْرًا (کہہ دیجئے اچھلا بتلائو۔ اگر تمہارا پانی نیچے کو غائب ہی ہوجائے) گہرائی میں زمین کے اندر چلا جائے۔ ڈول اس کو نہ پہنچ سکیں یہ صفت مصدر کی صورت میں لائی گئی جیسا عدل بمعنی عادل آتا ہے۔ فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ
بِمَآ ئٍ مَّعِیْنٍ (تو کون ہے جو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی لے آئے) معینؔ (جاری) جو اس کو پہنچ جائے جو اس کا ارادہ کرلے۔
لطفیہ : ایک ملحد کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو وہ کہنے لگا ہم کسی کدال سے نکال لیں گے رات کو اس کی آنکھ کا پانی چلا گیا اور وہ اندھا ہوگیا اور اسے کہا گیا اب کسی کدال سے لے آئو۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ محمد بن زکریا متطبب…
Read the full tafseer →29 ۔” قل ھوالرحمن “ جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ ” آمنا بہ وعلیہ توکلنا فستعلمون “ کسائی (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” من ھو فی ضلال مبین “ یعنی عنقریب تم عذاب کے معائنہ کے وقت جان لو گے کون گمراہ ہے ہم یا تم ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
28۔ 30۔ سورة والطور میں گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اس آرزو کا جواب دے دیا تھا یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر بر آئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائے گا جن بتوں پر تمہارا بھروسہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل ومقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں جب جزاوسزا کا دن ہوگا اور وہ عذاب کو (زلفۃ) اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انہیں بہت برا لگے گا اور انہیں خوف زدہ کردے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انہیں زجر وتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا، یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا ہے، تمہارے تمام اسباب منقطع ہوگئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔
چونکہ رسول مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے…
Read the full tafseer →39 ۔ منرین کے دلوں پر ایک دستک : سو اس سے منکرین کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر اور ان کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ایک اور سوال کیا گیا۔ سو اس ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر تمہارا پانی نیچے چلا جائے ؟ اور اتنا نیچے چلا جائے کہ نہ تمہاری رسیاں اور تمہارے ڈھول وہاں تک پہنچ سکیں اور نہ تمہایر پائپوں اور نلکوں کی وہاں تک رسائی ہو سکے اور نہ تمہاری مشینیں اور تہارے ٹیوب ویل اس کو کھینچ کر اوپر لاسکیں، جیسا کہ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ وہ پانی جو کہ عام طور پر چند فٹ کی گہرائی پر نکل آتا ہے، وہ سینکڑوں فٹوں کی کھودائی پر بھی نہیں مل سکتا، جس سے باغات وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری
تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 9 یعنی کوئی نہیں۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ اس آیت کو پڑھنے اور سننے والے کو ” اللہ رب العلمین “ کہنا مستحب ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(67:30) ارائیتم : ملاحظہ ہو 67:28 متذکرۃ الصدر۔
ان اصبح ماء کم غورا : ان شرطیہ جملہ شرطیہ ہے۔
اصبح : ماضی واحد مذکر غائب افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح (افعال) مصدر۔ اس نے صبح کی۔ اس کو صبح ہوئی۔ ہوگیا۔
ماء کم : مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا پانی، یعنی وہ پانی جو تمہارے استعمال کے لئے تمہیں جیا کہا جاتا ہے۔ جیسے پینے کا پانی ، فصلوں کی آبپاشی کے لئے مطلوبہ پانی۔
غورا : غور مصدر ہے بمعنی فاعل۔ غور کے معنی ہیں پانی کا زمین کے اندر گھس جانا۔ کسی چیز کا اندر کی طرف چلے جانا (باب نصر) ۔ یہاں آیت ہذا میں غور (مصدر) بمعنی غایر زمین میں گھس کر خشک ہوجانے والا پانی، جو ہاتھ یا ڈول وغیرہ کی دسترس سے باہر ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن۔
زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔
تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(ف 1) سورة والطور میں گذرچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ نبی ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی اس آرزو کا جواب دیدیا، یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے محبوب ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر برآئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرورہ میں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائیگا۔ جن بتوں پر تمہارا بھروسہ ہے ان کا حال قحط کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[10] پس جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →ف 1: یہ پانی اسکا کتنا بڑا انعام ہے ۔ کہ زندگی کے انعام میں سے اولین اس کا شمار ہے ۔ اگر تم کو نہ ملے ۔ سوتے خشک ہوجائیں کنوئیں اتنے عمیق ہوجائیں ۔ کہ پانی کی بوند بھی حاصل کرنا دشوار ہو ۔ تو بتاؤ۔ پھر کیا تمہارے معبودان باطل تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں ۔ اگر جواب نفی میں ہے ۔ اور یقینا نفی میں ہے ۔ تو اٹھو اور اظہار تشکر میں اس کے سامنے جھک جاؤ۔
Read the full tafseer →(30) آپ فرمائییاچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارا پانی زمین میں اتنا نیچے اتر جائے کہ حاصل نہ ہوسکے یعنی اتر کر غائب ہوجائے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے بہتا پانی لے آئے۔
یعنی ہماری بات تو صاف اور سیدھی ہے کہ ہم خدائے رحمان پر ایمان رکھتے ہیں ہم سب کا اسی پر بھروسہ ہے تمہارا نہ اس پر ایمان نہ اس پر بھروسہ لہٰذا عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون کھلی اور صریح گمراہی میں مبتلا ہے یعنی تم یا ہم ۔ ہماری بات صحیح ہے یا تمہاری بات درست ہے مرتے کے ساتھ ہی سب حال معلوم ہوجائے گا۔
آخر میں حضرت حق جل مجدہ کی بادشاہی اس کی علی الاطلاق قدرت اور اس کے مختار کل ہونے کی طرف ایک اور بات فرمائی کہ اے پیغمبران سے…
Read the full tafseer →ف 4۔ پس جب خدا کے مقابلہ میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی تو کیا قدرت ہوگی۔
Read the full tafseer →اس بات پر بھی غور کرو کہ اگر تمہارا یہ پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو اس کو لائے گا ؟
30 ؎ پانی جس پر حیوانی زندگی کا دارومدار ہے خواہ وہ کون ہے ؟ اس پر انسانوں کی زندگی کا بھی انحصار ہے کیونکہ ہوا کے بعد دوسری چیز جو زندگی کیلئے ضروری سمجھی گئی ہے یہی پانی ہے۔ اس کی قدر ہم کو نہیں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے ہاں اس کی بہتات ہے اور ہم کو اس کی تلاش کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ پانی جس پر تمہاری زندگی کا انحصار ہے اللہ تعالیٰ اس کو خشک کر دے اور اس کو اتنا گہرا کر دے کہ تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو صرف اتنی بات بتا دو کہ وہ کون ہے جو…
Read the full tafseer →قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ (Say, "Tell me, Should your water vanish into the earth, who will bring you a flowing [ stream ] water?"...(67:30).
In other words, if all the water, which people draw from the wells easily, were to disappear into the depths of the earth, do they have any power through which they will be able to obtain pure running water? Obviously, the answer in negative.
It is recorded in a Tradition that when a person recites this verse, he should say اللہُ رَبُّ العَالَمِینَ "Allah, the Lord of the worlds" That is, it…
Read the full tafseer →40 That is "Has another besides Allah the power to restore these springs of water to you? If none else has this power, and you know fully well that none has it, then who is worthy of worship: God or your false deities, who do not have the power to restore them? Then ask your own selves as to who is misled and misguided: those who believe in One God, or those who believe in many gods."
Read the full tafseer →