Explained with ayahs 28–30
زمین سے پانی ابلنا بند ہوجائے تو ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچایا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا ؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہوسکتا ؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں، نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورت تلاش کرو۔ پھر فرمایا ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 39
یعنی ہم خدا پر ایمان لائے ہیں اور تم اس سے انکار کر رہے ہو، ہمارا بھروسا خدا پر ہے اور تمہارا اپنے جتھوں اور اپنے وسائل اور اپنے معبودان غیر اللہ پر۔ اس لیے خدا کی رحمت کے مستحق ہم ہو سکتے ہیں نہ کہ تم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔
سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…
Read the full tafseer →یعنی ان لوگوں کو بتا دو کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس پر بھروسہ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیں امید یہی ہے کہ ہمارے حال پر وہ رحم فرمائے گا۔ اس معاملے میں اگر تم جھگڑتے ہو تو انتظار کرو جلد تم جان لو گے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے؟ ہم کہ تم؟
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔
29۔ 2 کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔ یعنی تم ہو یا ہم اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
8: جب یہ بات طے ہے کہ پانی سمیت ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے تو آخر اس کے سوا کون ہے جو عبادت کا مستحق ہو، اور کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر اس کی اس قدرت کا انکار کیا جائے کہ وہ انسانوں کو زندہ کر کے انہیں جزاء یا سزا دے گا۔
Read the full tafseer →قل ھو ................ مبین
” یہاں اللہ کی جگہ رحمن کی صفت اس لئے لائی گئی ہے کہ اللہ نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ وہ ان پر رحیم وکریم ہے ، جس طرح کہ تمہاری تمنائیں ہیں۔
نبی ﷺ اور ساتھیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کو مضبوط کرو ، اعلان کردو۔
امنا بہ (76 : 92) ” ہم اس پر ایمان لائے ہیں “۔ صرف اللہ پر۔ انداز کلام اس کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کے بہت ہی قریب ہے۔ ان کے درمیان اعتماد کا تعلق ہے۔
وعلیہ توکگنا (76 : 92) ” اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے “ صرف اس پر۔ اللہ تعالیٰ نبی کو حکم دیتا ہے کہ اس فضل وکرم کا اعلان کردیں۔ آپ کو گویا کہا جاتا…
Read the full tafseer →1 یعنی جب ہمارا ایمان اس پر ہے تو ایمان کی بدولت نجات یقین ہے اور جب ہم صحیح معنی میں اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تو مقاصد میں کامیابی یقینی ہے۔ (وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ) 65 ۔ الطلاق :3) تم میں دونوں چیزیں نہیں، نہ ایمان، نہ توکل، پھر تو کیسے بےفکر ہو ؟
2 یعنی ہم جیسا کہ تمہارا گمان ہے یا تم جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 29{ قُلْ ہُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ وہ تو رحمن ہے ‘ ہم اس پر ایمان لاچکے ہیں اور اسی پر ہمارا توکل ّہے۔“
یاد رہے کہ زیر مطالعہ مکی سورتیں بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھیں ‘ اسی لیے ان میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ کفار و مشرکین کی بالکل ابتدائی ردّوقدح کا عکس نظرآتا ہے۔ اس کشمکش کا نقطہ عروج سورة الانعام ‘ سورة الاعراف اور سورة ہود میں دیکھا جاسکتا ہے۔
{ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”تو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون تھا !“
آنے والا وقت واضح کر دے گا کہ ہم گمراہ تھے یا تم۔
Read the full tafseer →32 ہماری عاقبت بخیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم رحمن پر صرف ایمان ہی نہیں لائے بلکہ اپنے تمام تر امور کا انجام اسی کے سپرد کر رکھا ہے اور اسی پر ہی ہمارا بھروسہ ہے پھر وہ آخر کیوں ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز نہ کرے گا۔ اور تمہیں جلد ہی اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ گمراہی کے راستہ پر ہم پڑے ہوئے ہیں یا تم ہو۔ یہاں جلد سے مراد کافروں پر کوئی دنیوی عذاب بھی ہوسکتا ہے۔ ان کی موت کا وقت بھی اور قیامت کا دن بھی۔
Read the full tafseer →24۔ یعنی جب اپنے کو مبتلائے عذاب اور ہمیں اس سے محفوظ دیکھ لوگے جب تو عیانا جان لوگے کہ ضلالت کی راہ تمہاری ہی تھی۔ (آیت) ” امنا بہ “۔ اور ایمان کی برکت انشاء اللہ ہم کو عذاب آخرت سے محفوظ کردے گی۔ (آیت) ” وعلیہ توکلنا “۔ اور توکل کی برکت انشاء اللہ حوادث دنیوی کو دفع یا سہل کردے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →قل ھو الرحمن . یعنی گزشتہ کلام میں جس ہستی کے وجود ‘ قدرت اور تسلط کے دلائل بیان کیے گئے ہیں ‘ وہی بڑے
رحم والا ہے جس کی عبادت میں خود بھی کرتا ہوں اور تم کو بھی اسی کی عبادت کی دعوت دیتا ہوں۔ تمام نعمتیں عطا کرنے والا (الرحمن) وہی ہے (عطاء نعمت کا تقاضا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے) ۔
امنا بہ . ہم اس کے رحمن ہونے سے واقف ہیں ‘ اس لیے ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اس جملہ کا مضمون ھو الرحمٰن
کے مضمون کی تائید کر رہا ہے۔
و علیہ توکلنا . چونکہ اس پر ہمارا ایمان ہے اس لیے اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ اس جملہ میں علیہ کو توکلنا سے مقدم ذکر
کرنا حصر پر دلالت کر رہا ہے (اسی پر ہمارا بھروسہ ہے) حصر کا مفہوم ھو…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ بڑا مہربان ہے ہمیں بچاتا اور ہم پر رحم فرماتا ہے ہم اسی کی تصدیق کرتے ہیں اور اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔
نزول عذاب کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلے کفر میں کون گرفتار ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ۔۔۔: یعنی وہ ہمیں ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے ، دونوں صورتوں میں ہماری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں ، وہی رحمان ہے ، کوئی اور نہیں جو ہم پر رحم کرسکے۔ ہمارا اس پر ایمان اور اسی پر بھروسہ ہے ، تم جو اس کے علاوہ بھی کسی سے رحم کے امیدوار اور طلب گار ہو ، بہت جلد آنکھیں بند ہوتے ہی جان لو گے کہ ہم میں سے صریح گمراہ کون تھا۔
Read the full tafseer →کسائی نے تعلمون کو یائ کے ساتھ پڑھا ہے (1) اور اسے علی سے روایت کیا ہے باقی قراء نے خطاب کے صیغہ کے طور پر پر تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ان کو دھمکانا ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے : امنا کے مفعول بہ کو موخر کیا گیا اور توکلنا کے مفعول کو مقدم کیا گیا ؟ تو اس کا جواب دیا جائے گا : کافروں کے ذکر کے بعد جب اس کو ذکر کیا تو کفار سے اشارۃ بات کی گی گویا کہا گیا ہم ایمان لائے اور ہم نے کفر نہیں کیا جس طرح تم نے کفر کیا۔ پھر فرمایا، وعلیہ توکلنا خصوصاً ہم ان چیزوں پر بھروسہ نہیں رکھتے جن پر تم بھروسہ رکھتے ہو جیسے اپنے مردوں اور اپنے اموال پر، یہ زمحرشی کا قول ہے (2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وقیل ہذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے تم خواست گار تھے۔ یعنی تدعون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
18۔ عبد بن حمید نے ابوبکر بن عیاش سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اسی طرح پڑھا آیت تدعون تشدید کے ساتھ ابوبکر (رح) فرمایا کہ تدعون سے مراد ہے کہ تم جلدی کرتے تھے۔ عذاب کے آنے میں۔
Read the full tafseer →[قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ : آپ کہیے وہی رحمن ہے ][ اٰمَنَا بِهٖ : ہم ایمان لائے جس پر ][ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۚ : اور اس پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ][ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ : پس تم لوگ جان لو گے کون وہ ہے جو ][ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک فرما دیں تو کون ہے جو کافروں کو عذاب سے بچائے گا
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے یہ باتیں فرما دیں، پہلی بات یہ ہے کہ تم میرے لیے اور میرے ساتھ والوں کے لیے دکھ تکلیف میں مبتلا ہونے کی آرزو رکھتے ہو تم اپنے بارے میں غور کرو، دیکھو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے (جیسا کہ تم چاہتے ہو) یا ہم پر رحم فرما دے جیسا کہ ہم اس سے یہی امید رکھتے ہیں تو اس سے تمہارا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہمارے لیے تو ہر حالت بہتر ہے موت بھی بہتر ہے۔ زندگی بھی رحمت ہے۔ تم پر جب کفر کا عذاب آئے گا تو تم کو کون بچائے گا اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…
Read the full tafseer →19:۔ ” قل ھو الرحمن “ طریق تبلیغ دوم۔ فرما دیجئے عذاب سے پناہ دینے والا رحمن ہی ہے، اس لیے ہم اس کی توحید پر ایمان لائے ہیں اور مصائب و مشکلات میں اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ اے مشرکین تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون ہے، کیونکہ جب اللہ کا عذاب تم پر نازل ہوگا تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔
یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں…
Read the full tafseer →قُلْ ہُوَالرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَيْہِ تَوَكَّلْنَا 0 ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 29
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ترکیب : ارء یتم بمعنی اخبرونی کماقال اکثر المفسرین والجملۃ الشرطیۃ ان اھلکنی اللہ الخ سدت مسدالمفعولین فمن یجیرالکافرین الخ جواب الشرط امنابہ وعلیہ توکلنا صفۃ الرحمن وقیل ھو ضمیر الشان امنابہ خبرالرحمن من استفہامیہ فی محل النصب علیٰ انہ مفعول تعلمون ان اصبح شرط غورا خبر اصبح والغور مصدر فی معنی الغایرویقال غار الماء غورا ای نضب فمن یاتیکم الجملۃ جواب الشرط معین ظاہر تراہ العیون وقیل ھومن مَعَنَ الماء اذاکثر وقال قتادۃ والضحاک ای جارٍ ۔
تفسیر : ان امور آخرت کو سن کر کفار آنحضرت ﷺ سے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا ہم پر قحط ‘ وبا وغیرہ کا عذاب آئے گا تو تم بچ جاؤ گے ؟ یہ بھی ایک نامعقول گفتگو تھی اس…
Read the full tafseer →قُلْ ھُوَالرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا ج فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الملک : 29)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہ رحمن ہے ہم نے اس کو مانا اور اس پر بھروسہ کیا، عنقریب تم جان لو گے کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
کفارِ قریش چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں خطرناک عزائم بھی رکھتے تھے اور تباہ کن امیدیں بھی۔ اور اسی سے لوگوں کو تسلیاں بھی دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے کہہ دیجیے کہ جس ذات پر ہم ایمان لائے ہیں وہ رحمن اور رحیم و کریم ہے۔ اور ہر معاملے میں ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ ہم اپنے تئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : ان آیات میں کفار کو بتلائی جانے والی چوتھی اور پانچویں حقیقت۔
اس سے پہلے ” قُلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر نبی کو حکم ہوا کہ کفار کو یہ بتلا یا جائے کہ تمہیں ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے ہیں، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور وہی تمہیں اپنے حضور دوبارہ اکٹھا کرے گا اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی۔ اب حکم ہوا کہ اے نبی ﷺ ! انہیں بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کرے یا ہم پر مہربانی فرمائے تو کافرو ! تم بتلاؤ کہ تمہیں عذاب الیم سے کون بچائے گا ؟ انہیں یہ بھی بتلائیں کہ جو ہلاک کرنے اور بچانے والا ہے اسی…
Read the full tafseer →29 : قُلْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ (آپ کہہ دیجئے کہ وہ بڑا مہربان ہے۔ یعنی جس ذات کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں وہ رحمان ہے۔ اٰمَنَّا بِہٖ (ہم اس پر ایمان لائے) اور اس کی تصدیق کی اور ہم نے تمہاری طرح کفر نہیں کیا۔ وََعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا (اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں) پس ہم نے اپنے تمام امور اسی ہی کے سپرد کر رکھے ہیں۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ (پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا) جبکہ تم پر عذاب نازل ہوگا۔
قراءت : ـ علی نے یعلمون یاء سے پڑھا ہے۔
مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (کہ کون کھلی گمراہی میں ہے تم یا ہم )
Read the full tafseer →28 ۔” قل “ اے محمد ! ﷺ مشرکین مکہ کو جو آپ (علیہ السلام) کی ہلاکت کی تمنا کرتے ہیں ” ارایتم ان اھلکنی اللہ ومن معی “ مومنین میں سے۔ ” اور حمنا “ پس ہم کو باقی رکھا ہماری مدتوں کے ختم ہونے تک۔ ” فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم “ کیونکہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے لامحالہ اور کہا گیا ہے اس کا معنی کیا تم دیکھتے ہو اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہلاک کردے۔ پھر مجھے عذاب دے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں یا ہم پر رحم کرے۔ پس ہماری مغفرت کردے۔ پس ہم اپنے ایمان کے باوجود خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کردے ۔ اس لئے کہ اس کا حکم ہم میں نافذ ہونے والا ہے۔ پس کافروں کو کون پناہ دے گا۔ پس کون تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
28۔ 30۔ سورة والطور میں گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اس آرزو کا جواب دے دیا تھا یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر بر آئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائے گا جن بتوں پر تمہارا بھروسہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل ومقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں جب جزاوسزا کا دن ہوگا اور وہ عذاب کو (زلفۃ) اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انہیں بہت برا لگے گا اور انہیں خوف زدہ کردے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انہیں زجر وتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا، یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا ہے، تمہارے تمام اسباب منقطع ہوگئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔
چونکہ رسول مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے…
Read the full tafseer →36 خدائے رحمان کی حمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو اس سے خدائے مہربان اور اس کی رحمت بےنہایت کی تذکیرو یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا ہے ان سے کہو وہی ہے جو سب سے بڑا مہربان ہے۔ جس کی رحمتوں اور مہربانیوں کا بہرحال کوئی کنارہ نہیں اور وہ اپنی رحمت بےپایاں اور کرم بےنہایت سے یہی چاہتا ہے کہ اس کے بندے دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچ جائیں اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز ہوجائیں، سو اسی بناء پر اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے طرح طرح کے انتظام فرمائی اور اپنے انبیاء بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ بےقدرا، اور ناشکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری
تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 9 یعنی کوئی نہیں۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ اس آیت کو پڑھنے اور سننے والے کو ” اللہ رب العلمین “ کہنا مستحب ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(67:29) قل ھو الرحمن امنا بہ : ای قل یا محمد ﷺ ھو (یعنی اللہ) ۔ الرحمن : یعنی اے رسول اللہ ﷺ ان کفار سے فرما دیجئے کہ وہ اللہ جس کے اختیار میں ہماری ہلاکت یا پناہ ہے وہ بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔
(ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع آیت مندرجہ بالا ان اہلکنی اللہ ۔۔ الخ میں اللہ ہے امنا بہ (ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں)
وعلیہ توکلنا (اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں) یہ دونوں جمع الرحمن کی صفت ہیں۔ یا ھو ضمیر شان ہے۔ اور امنا بہوعلیہ توکلنا خبر ہے الرحمن کی۔
ضمیر شان کا فائدہ یہ ہے کہ مخبر عنہ (الرحمن) کی تعظیم اور بڑائی پر دلالت کرتی ہے اس طرح کہ پہلے اس کا مبہم طریقہ سے ذکر کرکے پھر اس کی تشریح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن۔
زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔
تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(ف 1) سورة والطور میں گذرچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ نبی ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی اس آرزو کا جواب دیدیا، یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے محبوب ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر برآئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرورہ میں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائیگا۔ جن بتوں پر تمہارا بھروسہ ہے ان کا حال قحط کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[10] پس جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 1: قریش مکہ حضور ﷺ کے لئے ہمیشہ ہلاکت کے طالب رہتے ۔ اور دعا کرتے کہ کہیں ان پر ہمارے دیوتاؤں کا غضب بھی نازل ہو ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے ۔ کہ آپ ان سے کہہ دیجئے ۔ کہ میں تو موت سے خائف نہیں ہوں میں اور میری جماعت خندہ پیشانی موت کا خیر مقدم کریگی ۔ ہم کو اللہ پر پورا پورا اعتماد ہے ۔ ہمیں وہ ہلاکت وفناکا ہدف بنائے ۔ خواہ رحمت وکرم سے نوازے اور ایک عرصہ تک مزید زندہ رکھے ۔ تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ سوال یہ ہے کہ تم لوگوں کو اس عذاب سے جو مقدمات میں سے ہے ۔ کون بچا سکے گا جب موت تمہارے سامنے آغوش کھولے آکھڑی ہوگی ۔ اور جہنم کے شعلے تمہاری جانب ایک رہے ہوں گے ۔ اس وقت تم کو…
Read the full tafseer →(29) آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ رحمان ہے یعنی بڑا رحم کرنے والا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس پر توکل اور بھروسہ اور اعتماد کررکھا ہے سو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون صریح گمراہی میں مبتلا ہے یعنی تم مبتلا ہو یا ہم مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →ف 3۔ پس ایمان کی برکت سے تو وہ ہم کو آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھے گا، اور توکل کی برکت سے حوادث دنیویہ کو دفع یا سہل کردے گا۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ ابھی فیصلہ ہوا چاہتا ہے بس تم دنیا کی زندگی کے دن پورے کرو
29 ؎ ان کی مذاق اڑائی جانے والی باتوں کو سن کر اور استہزاء کو برداشت کر کے نہایت تسلی کے ساتھ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ جو تم کہہ رہے ہو ہم نے سن لیا ہے اور تمہاری ان باتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارا اللہ رحمن ہے اور ہم اس پر سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ اسی پر ہے اسی پر رہے گا تم جو کہتے ہو ہم سن رہے ہیں اور جو کہو گے سنیں گے اور آپ جو کچھ کہیں گے یا کہنا چاہتے ہیں اس کو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ عنقریب یہ بات واضح ہوجائے گی اور اس کو سب جان لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23).
Specifying ears, eyes and Heart
Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…
Read the full tafseer →39 That is, "We have believed in God, and you are denying Him; we have put our trust in Him, and you have put your trust in yourself, your own resources and false deities besides Allah; therefore, only we deserve to be shown mercy by Allah, not you".
Read the full tafseer →