Al-Mulk 67:26

Al-Mulk · from ayah 26

67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ۪— وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِۖ وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏

کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "The knowledge is only with Allah, and I am only a clear warner."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:26

کہو، "اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو بس صاف صاف طریقے پر خبردار کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے، اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے کہ (اُس کے وقت کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور میں تو صرف واضح ڈر سنانے والا ہوں (اگر وقت بتا دیا جائے تو ڈر ختم ہو جائے گا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہیے کہ اس بات کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک صریح ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، یہ علم اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو محض ایک خبردار کرنے والا ہوں (حقیقت امر کو) کھول کر

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ (متعین) علم تو بس اللہ ہی کو ہے اور میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنادینے والا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “Allah alone knows about that; and I am no more than a plain warner.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :The knowledge (of that Day) is only with Allah, and I am only a plain warner.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :The knowledge (of that Day) is only with Allah, and I am only a plain warner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "The knowledge is with Allah only, and I am only a plain warner."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: The knowledge is with Allah only, and I am but a plain warner;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "The knowledge is only with Allah, and I am only a clear warner."

— Saheeh International

Say, "God knows best. I am only one who gives warning".

— Muhammad Sarwar

Say: The knowledge (thereof is only with Allah and I am only a plain warner.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: the knowledge is only with Allah, and but a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "As to the knowledge of the time, it is with Allah alone: I am (sent) only to warn plainly in public."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–27

رزاق صرف رب قدیر ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 36 یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبردار کردینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ کس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–29

(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 یعنی میرا کام تو صرف انجام سے ڈرانا ہے جو میری تکذیب کی وجہ تمہارا ہوگا، دوسرے لفظوں میرا کام انزاز ہے، غیب کی خبریں بتانا نہیں۔ الا یہ کہ جس کی بابت خود اللہ مجھے بتلا دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–28

7: بہت سے کافر یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا دین ختم ہوجائے گا، چنانچہ وہ آپ کی وفات کا انتظار کر رہے تھے، جیسا کہ سورة طور : 30 میں گذرا ہے۔ یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ چاہے اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہلاک فرمائے، یا ان پر رحم فرما کر انہیں فتح عطا فرمائے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے) لیکن اس سے تمہارے انجام پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتوں میں کافروں کو عذاب سے ضرور سابقہ پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل انما ................ مبین ” یہاں خالق اور مخلوق کے درمیان پورا فرق ہوجاتا ہے۔ اللہ کی ذات علیحدہ اور ممتاز ہوجاتی ہے ، نہ اس کا کوئی شبیہ رہتا ہے اور نہ شریک۔ اور علم خالص اسی کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے اور تمام مخلوق رسول ، ملائکہ اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہ جاتے ہیں۔” کہو اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں آتا ہے۔ مالمسﺅل عنھا باعلم من السائل ” کہ مسﺅل عنہ سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا “۔ یہ علم نہ رسولوں کے پاس ہے اور نہ فرشتوں کے پاس ہے ، رسول کا کام فقط ڈرانا ہے۔ یہ لوگ شک کے انداز میں قیامت کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی وقت کی تعیین میں نہیں کرسکتا۔ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ البتہ جو چیز یقینا آنے والی ہے اس سے آگاہ کردینا اور خوفناک مستقبل سے ڈرا دینا میرا فرض تھا وہ میں ادا کرچکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 { قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ } ”کہہ دیجیے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے“ قیامت کے وقوع کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کچھ نہیں جانتا : { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج } لقمان : 34 ”یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم۔“ { وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْـرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”اور میں تو بس ایک واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 یعنی یہ مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کب آئے گی اور تمہیں اس کی کوئی معین تاریخ معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاؤ جو تمہیں قیامت کو پیش آنے والا ہے۔ اور تمہارے اطمینان کے لیے صرف اتنی ہی بات کافی ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے موت کا آنا یقینی ہے۔ لیکن اس کا معین وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم ہر شخص کو یہ فکر ضرور لاحق ہوتی ہے کہ میں مرنے سے پیشتر فلاں فلاں کام کر جاؤں۔ قیامت کی بھی یہی صورت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (اور عبد محض، مجھے غیب کی کیا خبر۔ قیامت کا واقع کردینا نہ میرے اختیار میں نہ اس کا وقت میرے علم میں) مشرکوں کے سوال پیغمبر سے اپنے عقیدہ میں بس وہی حلول ومظہریت کا اعتقاد رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل . کلام سابق سے ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب کافر قیامت کا وقت پوچھتے ہیں تو ان کے جواب میں ہم کیا کہیں ؟ اس سوال کا جواب بتانے کے لیے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو ۔ انما العلم عند اللہ . کہ قیامت کے وقت کا (معین ٹھیک ٹھیک) علم اللہ ہی کو ہے ‘ اسکے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ وانما انا نذیر مبین . میں تو اس کے واقع ہونے کی خوفناک اطلاع دینے والا ہوں اور خوفناک اطلاع کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ خطرناک چیز مستقبل میں واقع ہوگی ‘ کب ہوگی ؟ اس کا صحیح وقت جاننے کی ضرورت خبر دینے والے کے لیے نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ فرما دیجیے کہ قیامت اور نزول عذاب کے تعین کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا رسول ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللہ ِ۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ، میں نہ قیامت لانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ مجھے اس کے وقت کا علم ہے ، میرا کام صرف یہ ہے کہ وقت سے پہلے تمہیں قیامت کے متعلق آگاہ کر دوں اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرا دوں، سو یہ کام میں نے کردیا ہے۔ قیامت کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کا آنا یقینی ہے مگر وقت معلوم نہیں۔ موت ہی کو دیکھ لو ، تو کیا اس لیے قیامت یا موت کی تیاری نہ کی جائے کہ بیشک اس نے آنا ہے مگر اس کا وقت معلوم نہیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 25–26

اے محمد ! ﷺ انہیں بتا دیجیے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : قل انما علمھا عند ربی (الاعراف : 187) نذیر مبین۔ تمہیں ڈرانے والا اور تمہیں تعلیم دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

داڑھ میں درد کا علاج 5۔ الخطیب فی تاریخہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی داڑھ میں درد ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی انگلی کو اس پر رکھ کر یہ آیت پڑھے۔ آیت قل ہوا لذی انشائکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون فرمادیجیے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔ 6۔ دارقطنی نے الافراد میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی داڑھ میں درد ہو اس کو چاہیے اپنی انگلی اس پر رکھ کر سات مرتبہ یہ دونوں آیتیں پڑھے۔ آیت وہوا لذی انشاء کم من نفس واحدۃ فمستقر (الانعام : آیت 98) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ : آپ کہیے یہ علم تو بس ][ عِنْدَ اللّٰهِ ۠: اللہ کے پاس ہے ][ وَاِنَّمَآ اَنَا : اور میں تو صرف ][ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

منکرین کا سوال کہ قیامت کب آئے گی اور ان کا جواب منکرین کے سامنے جب قیامت آنے اور وہاں پیشی ہونے کی باتیں آتی تھیں اور انہیں وعید سنائی جاتی تھی تو مذاق کے طور پر انکار کے پیرایہ میں سوال کرتے تھے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا ﴿قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ 1۪﴾ (آپ فرما دیجئے کہ علم صرف اللہ کے پاس ہے) ﴿وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ0026﴾ (اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میر اکام بتانا سمجھانا واضح طور پر بیان کرنا ہے (اگر مجھے قیامت کے واقع ہونے کا وقت معلوم ہوتا تو تمہیں بتادینا) لیکن یہ بھی نہ سمجھو کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

17:۔ ” ویقولون “ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ازراہ تعنت وعناد سوال کرتے ہیں کہ وہ (قیامت کا یا عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی متعین تاریخ بتاؤ۔ ” قل انما العلم عند اللہ “ جواب شکوی ہے۔ آپ جواب میں فرما دیں اس کے معین وقت کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ میں تو اس کی خبر دینے والا ہوں۔ میں نے جو خبر دی ہے۔ اور اس کے مطابق اللہ کا عذاب ضرور آئیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–30

گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔ یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللہِ۝ 0 ۠ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 26 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ ص وَاِنَّمَآ اَنَا نذَیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الملک : 25، 26) (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہہ دیجیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ ) قریش کا لغو معارضہ اور اس کا جواب گزشتہ آیت کریمہ میں وقوع قیامت پر عقلی اور واقعاتی دلیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر مختلف حوالوں سے قیامت کے آنے پر دلائل قائم کیے ہیں لیکن منکرینِ قیامت نے ان دلیلوں کے جواب میں یا تو ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا یا وقوع قیامت کو مستبعد از عقل قرار دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت 16 سے لے کر 22 تک چھ مرتبہ سوالیہ انداز میں اپنی قدرتیں سمجھائی ہیں اور اب نبی ﷺ کو چھ مرتبہ ” قُلْ “ کے لفظ سے حکم دیا ہے کہ آپ اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں کہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک بڑی نشانیاں ہیں کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا، تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تھوڑے لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ بھی انہیں بتلائیں کہ اس نے تمہیں پیدا کرنے کے بعد زمین پر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گئے۔ ان آیات میں بڑے اختصار کے ساتھ انسان کی تخلیق، اس کی صلاحیتوں اور لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ (آپ کہہ دیجیے کہ یہ علم) یعنی عذاب کے وقت کا علم عِنْدَ اللّٰہِ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو محض صاف صاف ڈرانے والوں میں سے ہوں) نذیرؔ ڈرانے والا۔ مبینؔ شرائع کی تمہارے سامنے وضاحت پیش کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–27

20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–26

اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔ (قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 ۔ پیغمبر کا کام صرف انذار وتبشیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں تو محض ایک خبردار کرنے والا ہوں حقیقت امر کو کھول کر۔ تاکہ حق تمہارے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے اور تمہارے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور کل تم پر یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا۔ " ان تقولوا ماجاء نامن بشیر ولا نذیر (المائدہ :19) اس سے بڑھ کر نہ میری کوئی ذمہ داری ہے اور نہ کوئی علم و اختیار، رہ گئی یہ بات کہ قیامت کب آئے گی اور تم پر وہ عذاب کء آئے گا ؟ جس کے مستحق تم لوگ اپنے کفر و انکار کی بناء پر بن چکے ہو تو اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، میرے نہ بس میں ہے اور نہ ہی میرے علم میں، انما کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی وقت کی تعیین میں نہیں کرسکتا۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میرا کام تو صرف یہ تھا کہ اس کے آنے سے پہلے تمہیں متنبہ کرتا سو میں نے تمہیں متنبہ کردیا۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ تم کفر و شرک کی روش سے باز آجائو اور توحید کی سیدھی راہ اختیار کرو تاکہ یقینی طور پر آنے والے درد ناک اور رسوا کن عذاب سے محفوظ رہ سکو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:26) قل : (توکہہ دے) یعنی جب کفار یہ سوال کریں تو آپ یہ جواب دیں ۔ انما العلم عند اللہ : انما : ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ سے مرکب ہے ۔ ما کافہ حصر کے لئے آتا ہے۔ اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ العلم ای علم وقت الساعۃ قیامت کے وقوع کے وقت کا علم۔ یعنی قیامت کب اور کس وقت وقوع پذیر ہوگی اس کا ٹھیک ٹھیک علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ نذیر مبین : مرکب توصیفی ہے، واضح طور پر ڈرانے والا۔ خبردار کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–30

لغات القرآن۔ زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔ تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–27

(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–26

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) آپ کہہ دیجئے کہ یہ وعدے کی تعیین اور اس کے وقت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو سوائے اس کے نہیں کہ لوگوں کو ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف اور وضاح طور پر - یعنی جب قیامت کا ذکر اور خدا کی جناب میں جمع ہونے کا ذکر سنتے ہیں تو بجائے ایمان لانے کے مسلمانوں سے اور پیغمبر ﷺ سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کب پورا ہوگا اس کی تاریخ بتائو اس کا وقت مقرر کرو اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کی تعیین کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے میرا کام تو صرف اس قدر ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام واضح طور پر بیان کردوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے تم کو ڈرادوں۔ قیامت کی تعیین کا علم میرے پاس نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–26

ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہیے کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے 26 ؎ اوپر دیئے گئے حوالہ جات میں بھی منافقین و معاندین کو جواب دیا گیا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کو جواب دیا گیا ہے اور سب کو جمع کرنے کا ماحصل بھی یہی نکلے گا کہ اگر تم تاریخ ، سال اور مہینہ چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم کرو ، اگر کرسکتے ہو۔ ہم تو تم سے اس طرح کا مطالبہ کر ہی نہیں سکتے ، ہمیں تو ایمان لانا ہے ، وہ لائے ہیں اور جہاں تک ہو سکتا ہے ایمان لانے کے بعد احکام الٰہی کے مطابق عمل کرنا ہے۔ وہ جہاں تک ہم کرسکتے ہیں ، کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کوشش کریں گے بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر اس کا علم دیا جانا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–29

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ‌ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُ‌ونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23). Specifying ears, eyes and Heart Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36 That is, "This I know that it will certainly come, and knowing this much only is enough for warning the people before its actual occurrence. As for the question when it will actually come, the knowledge of it is with Allah, not with me, and there is no need of this knowledge for administering the warning. This can be better understood by an example. As to the exact time when a person will die, it is only known to Allah; however, all know that everyone has to die one day. Our this knowledge is enough that we may warn a heedless friend of ours that he should look after himself and his…

Read the full tafseer →