Al-Mulk 67:25

Al-Mulk · from ayah 25

67:25

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پورا) ہوگا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:25

یہ کہتے ہیں "اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پورا) ہوگا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں: یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ آخر کب پورا ہوگا تمہارا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ وعدہ ؟ اگر تم سچے ہو (تو بتائو) !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب پوری ہوگی ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “If you are truthful, tell us when will this promise (of the Hereafter) be fulfilled?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they say, :When will this promise (of the Day of Judgment) be fulfilled, if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani

And they say, :When will this promise (of the Day of Judgment) be fulfilled, if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "When will this promise come to pass, if you are telling the truth"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: When (will) this promise (be fulfilled), if ye are truthful?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

They say, "When will this torment take place if what you say is true?"

— Muhammad Sarwar

And they say: When shall this threat be (executed) if you are truthful?

— Muhammad Habib Shakir

And they say: when will this promise be fulfilled, if ye say sooth?

— Abdul Majid Daryabadi

They ask: When will this promise be (fulfilled)? - If ye are telling the truth.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–27

رزاق صرف رب قدیر ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 35 یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں اس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتادیا جائے تو وہ اسے مان لیں گے۔ بلکہ دراصل وہ اس کے آنے کو غیر ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اسے جھٹلانے کا ایک بہانہ ان کے ہاتھ آئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر و نشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں سنا رہے ہو آخر کب ظہور میں آئے گا ؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے ؟ ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں نہیں دیتے کہ ہمیں اس کا یقین آجائے ؟ اس سلسلے میں یہ بات اچھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–29

(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–25

6: کافر لوگ بار بار آخرت کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر آخرت کا عذاب برحق ہے تو اس میں دیر کیوں ہورہی ہے، ابھی کیوں نہیں آجاتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس بڑے معاملے میں تم شک میں پڑے ہو ؟ اور سوالات کرتے ہو ؟ ویقولون .................... صدقین ” یہ ایک خلجان آلود سوال ہے اور اس کے اندر ہٹ دھرمی اور تکبر کی بو بھی۔ اس وعدے اور قیام قیامت کے وقت کا علم ہمیں اس قدر ہے کہ وہ اپنے وقت سے مقدم وموخر نہیں ہوسکتا۔ اس کا وقت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ یوم الجزاء ہے۔ ہمارے لئے اس میں کیا فرق ہے کہ وہ کل آجائے یا کئی ملین سال بعد آجائے ، ہماری زندگی تو مختصر زندگی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ آنے والی ہے اور اس کے لئے تیاری کرنا ضروری ہے۔ تمہیں اس میں بہرحال اٹھایا جائے گا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت 23{ قُلْ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ } ”کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے۔“ لغوی اعتبار سے لفظ ’ اَنْشَاَ ‘ اٹھانے اور پرورش کرنے کا مفہوم بھی دیتا ہے۔ لفظ ”فواد“ کے مفہوم کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کے تحت گزر چکی ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ”دل“ کیا جاتا ہے لیکن اصل میں اس سے مراد انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ چناچہ اس لفظ میں عقل یا سمجھ بوجھ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 کافر جب بھی یہ بات پوچھتے ہیں از راہ تمسخر اور مذاق ہی پوچھتے تھے۔ اور اس سوال سے ان کا اصل مقصد اللہ کی کتاب، اللہ کے رسول اور قیامت سب کی تکذیب ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (اے مسلمانو ! ) منکرین حشراہل ایمان سے یہ سوال طنز و استہزاء کی راہ سے کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یقولون . یعنی وعید قیامت کا انکار کرنے اور بہت ہی بعید الوقوع قرار دینے کے لیے کافر کہتے ہیں۔ متی ھذا الوعد . یہ وعدۂ حشر کب پورا ہوگا۔ ان کنتم . اے نبی اور مسلمانو ! یعنی رسول اللہ ﷺ اور مسلمان کفار کے مخاطب ہیں) اگر تم صدقین . حشر کے متعلق صحیح بات کہتے ہو تو بتاؤ اس کا وقت کب آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کفار مکہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں کب ہوگا اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ۔۔۔۔۔: ان کا یہ پوچھنا معلوم کرنے کے لیے نہیں تھا، وہ تو ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ایساہو سکتا ہے۔ مسلمانوں سے ان کا یہ پوچھنا صرف طنز و استہزاء کے لیے تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 25–26

اے محمد ! ﷺ انہیں بتا دیجیے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : قل انما علمھا عند ربی (الاعراف : 187) نذیر مبین۔ تمہیں ڈرانے والا اور تمہیں تعلیم دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

داڑھ میں درد کا علاج 5۔ الخطیب فی تاریخہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی داڑھ میں درد ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی انگلی کو اس پر رکھ کر یہ آیت پڑھے۔ آیت قل ہوا لذی انشائکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون فرمادیجیے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔ 6۔ دارقطنی نے الافراد میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی داڑھ میں درد ہو اس کو چاہیے اپنی انگلی اس پر رکھ کر سات مرتبہ یہ دونوں آیتیں پڑھے۔ آیت وہوا لذی انشاء کم من نفس واحدۃ فمستقر (الانعام : آیت 98) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَقُوْلُوْنَ : اور یہ لوگ کہتے ہیں ][ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ : کب ہے یہ وعدہ ][ ان كُنْتم صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ سچے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

منکرین کا سوال کہ قیامت کب آئے گی اور ان کا جواب منکرین کے سامنے جب قیامت آنے اور وہاں پیشی ہونے کی باتیں آتی تھیں اور انہیں وعید سنائی جاتی تھی تو مذاق کے طور پر انکار کے پیرایہ میں سوال کرتے تھے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا ﴿قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ 1۪﴾ (آپ فرما دیجئے کہ علم صرف اللہ کے پاس ہے) ﴿وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ0026﴾ (اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میر اکام بتانا سمجھانا واضح طور پر بیان کرنا ہے (اگر مجھے قیامت کے واقع ہونے کا وقت معلوم ہوتا تو تمہیں بتادینا) لیکن یہ بھی نہ سمجھو کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

17:۔ ” ویقولون “ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ازراہ تعنت وعناد سوال کرتے ہیں کہ وہ (قیامت کا یا عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی متعین تاریخ بتاؤ۔ ” قل انما العلم عند اللہ “ جواب شکوی ہے۔ آپ جواب میں فرما دیں اس کے معین وقت کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ میں تو اس کی خبر دینے والا ہوں۔ میں نے جو خبر دی ہے۔ اور اس کے مطابق اللہ کا عذاب ضرور آئیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–30

گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔ یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 25 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ ص وَاِنَّمَآ اَنَا نذَیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الملک : 25، 26) (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہہ دیجیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ ) قریش کا لغو معارضہ اور اس کا جواب گزشتہ آیت کریمہ میں وقوع قیامت پر عقلی اور واقعاتی دلیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر مختلف حوالوں سے قیامت کے آنے پر دلائل قائم کیے ہیں لیکن منکرینِ قیامت نے ان دلیلوں کے جواب میں یا تو ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا یا وقوع قیامت کو مستبعد از عقل قرار دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت 16 سے لے کر 22 تک چھ مرتبہ سوالیہ انداز میں اپنی قدرتیں سمجھائی ہیں اور اب نبی ﷺ کو چھ مرتبہ ” قُلْ “ کے لفظ سے حکم دیا ہے کہ آپ اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں کہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک بڑی نشانیاں ہیں کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا، تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تھوڑے لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ بھی انہیں بتلائیں کہ اس نے تمہیں پیدا کرنے کے بعد زمین پر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گئے۔ ان آیات میں بڑے اختصار کے ساتھ انسان کی تخلیق، اس کی صلاحیتوں اور لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25 : وَیَقُوْلُوْنَ (اور یہ لوگ کہتے ہیں) کافر مؤمنوں کو بطور استہزاء کہتے تھے۔ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (کہ یہ وعدہ کب ہوگا) وہ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے رہتے ہو۔ وعدؔ سے عذاب والا وعدہ مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اس کے واقع ہونے میں تو ہمیں اس کا زمانہ بتلا دو ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–27

20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–26

اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔ (قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

30 یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پھیلایا تم سب کو اے لوگو، زمین میں اور آخر کار تم سب کو اسی کی طرف جانا ہے اکٹھے ہو کر اور وہاں تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، پس تم خود ہی دیکھ اور سوچ لو کہ اس یوم عظیم کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور وہاں کے لئے کیا کمایا اور جمع کیا ہے۔ اللھم وقفنا لماتحب وترضی و ماینفعنا فی ذالک الیوم العظیم الرھیب۔ سو جس طرح اس نے تم سب کو اپنی زمین میں پھیلایا، بکھیرا، اسی طرح وہ تم سب کو اکٹھا کر کے اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–25

ف 3 یعنی از راہ مذاق کہتے ہیں کہ جس قیامت کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہے ہو وہ کب آئے گی ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:25) ویقولون : واؤ عاطفہ، یقولون، مضارع جمع مذکر غائب، وہ کہتے ہیں یعنی کافر عتو اور نفور کی بنا پر مسلمانوں سے سوال کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں حجت کے طور پر۔ متی ھذا الوعد : الوعد سے مراد وعدہ حشر ہے۔ یعنی کافر پوچھتے ہیں کہ وعدہ حشر کب پورا ہوگا ؟ ان کنتم صدقین : ان شرطیہ ہے یہ جملہ شرطیہ ہے ۔ جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم صدقین فیما تحبرونہ من مجی الساعۃ والحشر فبینوا وقتہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–30

لغات القرآن۔ زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔ تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–27

(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–26

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–26

ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو 25 ؎ کفار کا یہ سوال بیسیوں دفعہ پیچھے گزر گیا اور ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سیان کو جواب بھی دیا گیا ہے اور ہم نے یہ بار بار عرض کیا ہے کہ کفار کا یہ سوال اس مقصد کے لئے نہیں تھا کہ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ قیامت فلاں سال ، فلاں مہینے اور فلاں تاریخ کو ہوگی تو وہ ایمان لے آئیں گے اور اب تک جو وہ ایمان نہیں لائے تو محض اس لئے نہیں لائے کہ ان کو سال ، ماہ اور دن کا کسی نے نہیں بتایا۔ ان کی یہ مراد بالکل نہ تھی بلکہ ہر بار ان کا یہ استفسار محض مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا اور پھر یہ بھی کہ یہ سوال فقط پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ ہی سے نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–29

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ‌ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُ‌ونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23). Specifying ears, eyes and Heart Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 They did not ask this question in order to know the time and date of Resurrection so that if they were told the Year, the month, the day and time of its occurrence, they would accept it. But, in fact, they thought that Resurrection was impossible, and its occurrence remote from reason, and they asked this question in order to have an excuse for denying it. They meant to say, "When will this strange story of Resurrection and gathering together, that you are telling us, materialize? What for has it been put off? Why don't you make it appear forthwith so that we are assured of it?" In this…

Read the full tafseer →