Explained with ayahs 20–27
رزاق صرف رب قدیر ہے
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 34
یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے ہر گوشہ زمین سے گھیر لائے جاؤ گے اور اس کے سامنے حاضر کردیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔
سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…
Read the full tafseer →اصل حقیقت کی یاددہانی نئے اسلوب میں:
اب یہ اس اصل حقیقت کی پھر یاددہانی کر دی کہ اگر تم عقل سے کام لو تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ ایک کسان جب اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے تو ہر شخص بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا، اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے…
Read the full tafseer →یعنی انسانوں کو پیدا کرکے زمین میں پھیلانے والا بھی وہی ہے اور قیامت والے دن سب جمع بھی اس کے پاس ہوں گے کسی اور کے پاس نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
6: کافر لوگ بار بار آخرت کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر آخرت کا عذاب برحق ہے تو اس میں دیر کیوں ہورہی ہے، ابھی کیوں نہیں آجاتا۔
Read the full tafseer →قل ھو ................ تحشرون
” الذرء کا عربی میں مفہوم ہے کہ کسی چیز کا بڑھنا۔ اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ پھیلانا بھی اس کے مفہوم میں ہے اور الحشر کے معنی جمع کرنا ، یعنی پھیلانے کے بعد جمع کرنا۔ ” تصوراتی اعتبار سے یہ دونوں مخالف یا مختلف حرکتیں ہیں اور معنوی اعتبار سے باہم مقابل ہے۔ ایک کے مفہوم میں بڑھانا ، زمین میں پھیلانا اور بکھیرنا اور دوسرے مفہوم کا منظر ہے جمع کرنا اور اٹھانا ، ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ دونوں مناظر کو جمع فرما دیتا ہے تاکہ انسانی احساس میں دونوں مناظر آجائیں۔ یہ قرآن کا تصور ہے۔ انسان جو زمین کے اندر منتشر ہوتے اور پھیلتے جاتے ہیں ان کو یادرکھنا چاہئے کہ ایک دن تمہارے…
Read the full tafseer →7 یعنی ابتداء بھی اس سے ہوئی انتہاء بھی اسی پر ہوگی، جہاں سے آئے تھے وہیں جانا ہے۔ چاہیے تھا کہ اس سے ایک دم غافل نہ ہوتے اور ہمہ وقت اس کی فکر رکھتے کہ مالک کے سامنے خالی ہاتھ نہ جائیں مگر ایسے بندے بہت تھوڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23{ قُلْ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ } ”کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے۔“
لغوی اعتبار سے لفظ ’ اَنْشَاَ ‘ اٹھانے اور پرورش کرنے کا مفہوم بھی دیتا ہے۔ لفظ ”فواد“ کے مفہوم کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کے تحت گزر چکی ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ”دل“ کیا جاتا ہے لیکن اصل میں اس سے مراد انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ چناچہ اس لفظ میں عقل یا سمجھ بوجھ کا مفہوم بھی شامل ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →27 یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کرکے ایک جگہ سے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا ہے۔ اگر اس میں یہ قدرت ہے تو وہ تمہیں ایک جگہ پر پھر سے اکٹھا بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کام وہ عالم آخرت میں کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
19۔ تمہیں چلنا اس کے قانون پر ہے جو انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کی نعمتوں کا جامع اور مالک ہے۔ (آیت) ” قل ھوالذی انشاکم “۔ الخ۔ اس آیت میں خطاب افراد انسانی سے ہے (آیت) ” قل ھو الذی ذراکم “۔ الخ اس آیت میں خطاب اجتماع انسانی سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →قل . یہ (لفظاً ) زائد اور (معنیً ) مفید تاکید ہے۔
ھو الذی ذراکم فی الارض . یہ جملہ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ سے بدل ہے۔
والیہ تحشرون . اسی کے پاس تم کو جزا و سزا کیلئے لے جایا جائیگا۔ یہ جملہ ذراکم کے فاعل (یعنی اللہ) کا حال ہے۔
Read the full tafseer →وہی ہے جس نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے پیدا کیا اور آخرت میں تم اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے دے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: جو تمہیں روئے زمین پر پھیلا سکتا ہے وہ تمہیں دوبارہ اکٹھا بھی کرسکتا اور کرے گا۔
Read the full tafseer →ذرا کم فی الارض تمہیں زمین میں پیدا کیا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں اس میں پھیلا دیا اور اس پر تمہیں بکھیر دیا (2) یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔ تمہیں اس کی بارگاہ میں جمع کیا جائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے عمل کا ب دلہ دے دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں : یہ قیامت کب آئے گی ؟ یہ عذاب کب آئے گا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہوڈ یہ بات بطور استہزاء کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
داڑھ میں درد کا علاج
5۔ الخطیب فی تاریخہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی داڑھ میں درد ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی انگلی کو اس پر رکھ کر یہ آیت پڑھے۔ آیت قل ہوا لذی انشائکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون فرمادیجیے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔
6۔ دارقطنی نے الافراد میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی داڑھ میں درد ہو اس کو چاہیے اپنی انگلی اس پر رکھ کر سات مرتبہ یہ دونوں آیتیں پڑھے۔ آیت وہوا لذی انشاء کم من نفس واحدۃ فمستقر (الانعام : آیت 98) اور…
Read the full tafseer →[قُلْ هُوَ الَّذِي : آپ کہیے وہ، وہ ہے جس نے ][ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ : بکھیرا تم لوگوں کو زمین میں ][ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اس کی طرف ہی تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 24 ۔ میں اس حقیقت کی یاد دہانی کردی ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرندے اس کی حفاظت کرتے ہیں تو ہر دیکھنے والا بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آکر یہ واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ اگر تم عقل سے کام لو (آیت۔ 23 کے حوالے سے) تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی…
Read the full tafseer →اللہ نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے :
پھر فرمایا کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا (زمین میں چلتے پھرتے کھاتے کماتے ہو اور زمین کی پیداوار سے منتفع اور متمتع ہوتے ہو اس پر گھر بناتے ہو آرام سے رہتے سہتے ہو) ان نعمتوں کی قدردانی کرو اور یہ بھی سمجھ لو کہ اس زمین پر ہمیشہ رہنا نہیں ہے۔ تمہیں موت آئے گی پھر قیامت کے دن اسی خالق اور رازق کی طرف جمع کیے جاو گے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور نعمتوں سے نواز وہاں جمع کیا جانا اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ہوگا لہٰذا حساب کے دن کی پیشی کے لیے فکر مند رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
16:۔ ” قل ھو الذی انشاکم “ چھٹی دلی عقلی خاص۔ زمین و آسمان کے احوال کے بعد اب اپنی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں عطا کیں، مگر تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ہو۔ ” جعل لکم السمع الخ “ مدار کلام ہے۔ جب یہ قوتیں عطا کرنے والا کوئی اور نہیں، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ ” قل ھو الذی ذرا کم “ ساتویں دلیل عقلی خاص۔ تمہیں پیدا بھی میں نے کیا اور پھر زمین میں تم کو پھیلایا اور آباد کیا اور پھر آخر سب اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے کیا یہ سب کچھ کسی دوسرے نے کیا ہے ؟ نہیں، نہیں ! میں ہی نے کیا ہے تو برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
انسانی وجود کی نعمت :
اللہ کی قدر ت کی چند نشایاں بیان کی گئی ہیں اور ان کو توحید اور قیامت پر دلیل بنانا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طو ر پر اور بھی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ساتھ ساتھ انسان سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کرے۔ فرمایا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے۔ انشاء کا معنی ہے ایجاد کرنا بناکر کھڑا کردینا۔ یعنی وجود کی نعمت عطا فرمائی تمہارا وجود ذاتی نہیں ہے تم کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ تمہارا وجود اور جسم اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اسی نے بنایا ہے۔
کان آنکھ اور دل :
وجود کی…
Read the full tafseer →قُلْ ہُوَالَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ وَاِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 24
ذرأ
الذَّرْءُ : إظهار اللہ تعالیٰ ما أبداه، يقال : ذَرَأَ اللہ الخلق، أي : أوجد أشخاصهم . قال تعالی:
وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] ، وقال : وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] ، وقال : وَمِنَ الْأَنْعامِ أَزْواجاً يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ [ الشوری/ 11] ، وقرئ : ( تذرؤه الرّياح) «3» ، والذُّرْأَة : بياض الشّيب والملح .
فيقال : ملح ذُرْآنيّ ، ورجل أَذْرَأُ ، وامرأة ذَرْآءُ ، وقد ذَرِئَ شعره .
( ذ ر ء ) الذرء
کے معنی ہیں اللہ نے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…
Read the full tafseer →قُلْ ھُوَالَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (الملک : 24)
(کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ )
آخرت میں جواب دہی پر ایک عقلی دلیل
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اعجاز کے ساتھ بعض حقائق کی طرف اشارے فرمائے اور ایک وسیع مضمون کو چند لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔ الفاظ پر غور کرنے سے ایک تمثیل ذہن میں آتی ہے کہ جس طرح ایک کاشتکار زمین میں کاشت کرتا ہے، وقت پر اس کی آبیاری کرتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے، کھاد کی ضرورت ہو تو کھاد مہیا کرتا ہے۔ تو ہر شخص دیکھنے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ جب یہ فصل تیار ہوجائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت 16 سے لے کر 22 تک چھ مرتبہ سوالیہ انداز میں اپنی قدرتیں سمجھائی ہیں اور اب نبی ﷺ کو چھ مرتبہ ” قُلْ “ کے لفظ سے حکم دیا ہے کہ آپ اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں کہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک بڑی نشانیاں ہیں کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا، تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تھوڑے لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ بھی انہیں بتلائیں کہ اس نے تمہیں پیدا کرنے کے بعد زمین پر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گئے۔
ان آیات میں بڑے اختصار کے ساتھ انسان کی تخلیق، اس کی صلاحیتوں اور لوگوں کے…
Read the full tafseer →24 : قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (آپ کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلا یا اور تم اسی کے پاس اکٹھے کیے جائو گے) ذرأکم اس نے پیدا کیا۔ تحشرونؔ حساب و جزاء کیلئے جمع کیے جائوگے۔
Read the full tafseer →23 ۔” قل ھوالذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصار والابصار والا فئدۃ قلیلا ما تشکرون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ان نعمتوں کے رب کا شکر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
(قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
30 یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پھیلایا تم سب کو اے لوگو، زمین میں اور آخر کار تم سب کو اسی کی طرف جانا ہے اکٹھے ہو کر اور وہاں تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، پس تم خود ہی دیکھ اور سوچ لو کہ اس یوم عظیم کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور وہاں کے لئے کیا کمایا اور جمع کیا ہے۔ اللھم وقفنا لماتحب وترضی و ماینفعنا فی ذالک الیوم العظیم الرھیب۔ سو جس طرح اس نے تم سب کو اپنی زمین میں پھیلایا، بکھیرا، اسی طرح وہ تم سب کو اکٹھا کر کے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری
تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 3 یعنی از راہ مذاق کہتے ہیں کہ جس قیامت کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہے ہو وہ کب آئے گی ؟
Read the full tafseer →(67:24) قل : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر۔ تو کہہ۔ یہ لفظا یہاں زائد ہے اور معنی تاکید کے لئے مفید ہے۔
ھو الذی ذراکم فی الارض : یہ جملہ ھو الذی انشاکم سے بدل ہے والیہ تحشرون : یہ جملہ ذراکم کے فاعل (یعنی اللہ) سے حال ہے۔
ذرا ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ذرء (باب فتح) مصدر۔ اس نے پیدا کیا ۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تم کو پھیلایا۔
تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر حشر (باب نصر) مصدر۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔ تم اکھٹے کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے
2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…
Read the full tafseer →(24) آپ فرمائیے وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم کو زمین میں بکھیر رکھا ہے اور تم سب اسی کے پاس جمع کئے جائو گے۔ یعنی یہ بہت بڑا اس کا احسان ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو طاقت شنوائی اور بینائی بخشی سوچنے سمجھنے اور تمام قوائے جسمانی پر نظم قائم رکھنے کو دل دیا لیککن باہمی ہمہ انعامات و احسانات کے تمہارا حال یہ ہے کہ تم لوگ بہت کم احسان مانتے اور بہت کم شکر بجا لاتے ہو اور ان سے اے پیغمبر یہ بھی فرمادیجئے کہ اسی نے تم کو روئے زمین پر پھیلا رکھا ہے۔ اور تم سب کو اسی کی حضوری اور اسی کی جناب میں حاضر ہونا ہے جو کام کرو یہ سمجھ کر کرو کہ ایک دن اس کے حضور میں حاضر ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔
Read the full tafseer →اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے
24 ؎ (ذرا) اس نے پیدا کیا ، اس نے پھیلایا ، اس نے بکھیرا ذرئٌ سے جس کے معنی پیدا کرنے ، ظاہر کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر یعنی اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تم کو پھیلایا اور اسی نے تم کو بکھیرا۔ یعنی وہ اللہ ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور تم کو پھیلایا اور تم کو ادھر ادھر سب جگہ پھیلا دیا اور پھر انجام کار تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی جہاں اور جس جگہ بھی تم ہو تم کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے پاس میدان حشر میں لا کر کھڑا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23).
Specifying ears, eyes and Heart
Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…
Read the full tafseer →34 That is, "After being resurrected from death, you will be gathered together from every corner of the earth and presented before Allah."
Read the full tafseer →