Al-Mulk 67:23

Al-Mulk · from ayah 23

67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـِٕدَةَ ؕ— قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ۟قُلۡ هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ وَجَعَلَ لَـكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡــئِدَةَ ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ

کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "It is He who has produced you and made for you hearing and vision and hearts; little are you grateful."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:23

اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (مگر) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے کتنا کم حق مانتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے: وُہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دِل بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہیے کہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ وہ (معبود برحق) وہی ہے جس نے پیدا فرمایا تم سب کو (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے) اور اسی نے تمہیں کان بخشے آنکھیں عطا فرمائیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہوا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے۔ بہت ہی کم شکر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم احسان مانتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “He it is Who has brought you into being, and has given you hearing and sight, and has given you hearts to think and understand. How seldom do you give thanks!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :He is the One who has originated you, and made for you ears and eyes and hearts. How little you pay gratitude!

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :He is the One who has originated you, and made for you ears and eyes and hearts. How little you pay gratitude!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "It is He Who has created you, and endowed you with hearing and seeing, and hearts. Little thanks you give."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): He it is who gave you being, and hath assigned unto you ears and eyes and hearts. Small thanks give ye!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "It is He who has produced you and made for you hearing and vision and hearts; little are you grateful."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "It is God who has brought you into being and made ears, eyes, and hearts for you, but you give very little thanks".

— Muhammad Sarwar

Say: He it is Who brought you into being and made for you the ears and the eyes and the hearts: little is it that you give thanks.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: He it is who hath brought you forth and hath endowed you with hearing and sights and hearts. Little thanks it is ye give!

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "It is He Who has created you (and made you grow), and made for you the faculties of hearing, seeing, feeling and understanding: little thanks it is ye give.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–27

رزاق صرف رب قدیر ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 33 یعنی اللہ نے تو تمہیں انسان بنایا تھا، جانور نہیں بنایا تھا۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ یہ کان تمہیں اس لیے تو نہیں دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں پہلے سے تمہارے دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں انہیں پر اڑے رہو۔ یہ آنکھیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ اندھے بن کر دوسروں کی پیروی کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–29

(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان لوگوں کی محرومی اور ناقدرشناسی پر اظہار افسوس ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تو تمہیں نہایت بلند مقصد کے لیے سمع و بصر اور دل و دماغ کی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں سے آراستہ کر کے پیدا کیا لیکن تم نہایت ناقدرے اور ناشکرے نکلے کہ ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے تم نے کتوں اور چوپایوں کی تقلید کی اور عقل و دل کی جگہ اپنی خواہشوں کو اپنا امام بنایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 23۔ 2 یعنی کان آنکھیں اور دل بنائیں جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کرسکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔ 23۔ 2 یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنً قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–25

6: کافر لوگ بار بار آخرت کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر آخرت کا عذاب برحق ہے تو اس میں دیر کیوں ہورہی ہے، ابھی کیوں نہیں آجاتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ھوا .................... تشکرون ” یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا ، اور اسے دیکھنے سننے اور سوچنے کی قوتیں بھی اللہ ہی نے دیں اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے انسان اعلیٰ ارفع مخلوق ہے۔ اور وہ اس جہاں میں موجود ہے۔ اس نے خود اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا ، لہٰذا اس سے اعلیٰ وارفع اور زیادہ علم والا موجود ہوگا۔ اور وہی خالق ہے ، کوئی شخص خالق کے اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا ، کیونکہ خود انسان کا محض وجود ہی تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ارفع قوت موجود ہے اور اس میں بحث وجدال کرنا اور شک کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو یہاں اس لئے لاتا ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اللہ نے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور سمجھنے کے لیے دل دیئے تھے کہ اس کا حق مان کر ان قوتوں کو ٹھیک مصرف میں لگاتے، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرتے مگر ایسے شکر گزار بندے بہت کم ہیں۔ کافروں کو دیکھ لو کہ ان نعمتوں کا کیسا حق ادا کیا ؟ اس کی دی ہوئی قوتیں اسی کے مقابلہ میں استعمال کیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت 23{ قُلْ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ } ”کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے۔“ لغوی اعتبار سے لفظ ’ اَنْشَاَ ‘ اٹھانے اور پرورش کرنے کا مفہوم بھی دیتا ہے۔ لفظ ”فواد“ کے مفہوم کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کے تحت گزر چکی ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ”دل“ کیا جاتا ہے لیکن اصل میں اس سے مراد انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ چناچہ اس لفظ میں عقل یا سمجھ بوجھ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 آنکھیں، کان اور دل ان میں سے ایک ایک نعمت ایسی ہے جو ہزار نعمتوں کے برابر ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چھن جائے تو تمہیں ان کی قدروقیمت کا احساس ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل محض اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ بلکہ اس لیے دیئے تھے کہ آنکھوں سے تم اللہ کی آیات کا مشاہدہ کرو، کانوں سے اللہ کی آیات و احکام سنو، پھر دل سے ان میں غور کرو۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ ان نعمتوں پر شکر تو کیا کرتے، الٹا ان نعمتوں کو اللہ کی راہ کی مخالفت میں استعمال کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

19۔ تمہیں چلنا اس کے قانون پر ہے جو انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کی نعمتوں کا جامع اور مالک ہے۔ (آیت) ” قل ھوالذی انشاکم “۔ الخ۔ اس آیت میں خطاب افراد انسانی سے ہے (آیت) ” قل ھو الذی ذراکم “۔ الخ اس آیت میں خطاب اجتماع انسانی سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ھو الذی انشاکم . مذکورہ بالا (دونوں) آیات امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم اور امن ھذا الذی یرزقکم میں صراحت فرمائی تھی کہ کافروں کا کوئی حمایتی نہ ان کی مدد کرسکتا ہے ‘ نہ ان کو رزق دے سکتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نصرت و رزق کون عطا کرتا ہے ٗ اس سوال ؟ مقدر ’ کے جواب میں فرمایا کہ تم کو نصرت و رزق وہی عطا فرماتا ہے جس نے تم کو پیدا کیا تاکہ تم اس کو پہچانو اور اس کی عبادت کرو۔ و جعل لکم السمع . اور تمہارے کان بنائے تاکہ نصیحتوں کو سنو۔ والابصار . اور آنکھیں بنائیں تاکہ مصنوعات الٰہیہ کو دیکھو۔ والافئدۃ . اور دل بنائے تاکہ غور کرو اور عبرت اندوز ہو۔ السمع اصل میں مصدر ہے اور مصدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان کافروں سے فرما دیجیے وہی ایسا منعم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور حق و ہدایت کی بات سننے دیکھنے اور سوچنے کے لیے کان اور آنکھیں اور دل دیے، ان احسانات کے سامنے تمہارا شکر بھی کم ہے یا یہ کہ تم تھوڑا بہت بھی شکر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکرتو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمانے کا شکریہ تھا کہ انہیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے ، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی ، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بیشمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں ، انہی کے ذریعے سے آدمی کو حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو شرک کی قباحت سے آگاہ کریں جبکہ وہ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں پیدا کیا ہے۔ الافدۃ سے مراد دل ہیں۔ قلیلاً ما یہ لا کے معنی میں ہے یعنی تم ان نعمتوں کا شکر بجا نہیں لاتے اور تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان نہیں کرتے تو کہتا ہے : قلما افعل کذا یعنی میں اسے نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

داڑھ میں درد کا علاج 5۔ الخطیب فی تاریخہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی داڑھ میں درد ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی انگلی کو اس پر رکھ کر یہ آیت پڑھے۔ آیت قل ہوا لذی انشائکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون فرمادیجیے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔ 6۔ دارقطنی نے الافراد میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی داڑھ میں درد ہو اس کو چاہیے اپنی انگلی اس پر رکھ کر سات مرتبہ یہ دونوں آیتیں پڑھے۔ آیت وہوا لذی انشاء کم من نفس واحدۃ فمستقر (الانعام : آیت 98) اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ کہیے ][ هُوَ الَّذِيٓ انشَاَكُمْ : وہ، وہ ہے جس نے اٹھایا تم لوگوں کو ][ وَجَعَلَ لَكُمُ : اور بنائے تمہارے لیے ][ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ: سماعت اور بصارتیں اور دل ][ قَلِيْلًا مَا تَشْكُرُوْنَ : بہت تھوڑا تم لوگ شکر کرتے ہو ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں اعضاء انسانی میں ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعور موقوف ہے۔ فلاسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعے بیان کیے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ ان پانچ چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ۔ وجہ یہ ہے کہ سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے بہت کم چیزوں کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کی معلومات کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اعضاء وجوارح کا شکر کرو : اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ ٗ کا یہ احسان فرمایا کہ اس نے تمہیں پیدا کیا، تمہارا بالکل ہی وجود نہ تھا اس نے تمہیں وجود بخشا اور صرف وجود ہی نہیں دیا بلکہ بہترین اعضاء وجوارح سے آراستہ فرما دیا، تمہیں اس نے قوت سامعہ دی آنکھیں عطا فرمائیں دل عنایت فرمائے۔ ان سب نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ خوب بڑھ چڑھ کر اس کا شکر ادا کرو۔ قلب سے اور قالب سے شکر گزار بندے بنے رہو۔ سمجھداری کا تو تقاضا یہی ہے مگر تمہارا حال یہ ہے کہ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے علم و فہم اور ادراک و شعور عطا فرمایا ہے ان کے کچھ ذرائع بھی بنا دیئے ہیں۔ دیکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انکھیں دیں سننے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

16:۔ ” قل ھو الذی انشاکم “ چھٹی دلی عقلی خاص۔ زمین و آسمان کے احوال کے بعد اب اپنی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں عطا کیں، مگر تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ہو۔ ” جعل لکم السمع الخ “ مدار کلام ہے۔ جب یہ قوتیں عطا کرنے والا کوئی اور نہیں، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ ” قل ھو الذی ذرا کم “ ساتویں دلیل عقلی خاص۔ تمہیں پیدا بھی میں نے کیا اور پھر زمین میں تم کو پھیلایا اور آباد کیا اور پھر آخر سب اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے کیا یہ سب کچھ کسی دوسرے نے کیا ہے ؟ نہیں، نہیں ! میں ہی نے کیا ہے تو برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–24

انسانی وجود کی نعمت : اللہ کی قدر ت کی چند نشایاں بیان کی گئی ہیں اور ان کو توحید اور قیامت پر دلیل بنانا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طو ر پر اور بھی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ساتھ ساتھ انسان سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کرے۔ فرمایا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے۔ انشاء کا معنی ہے ایجاد کرنا بناکر کھڑا کردینا۔ یعنی وجود کی نعمت عطا فرمائی تمہارا وجود ذاتی نہیں ہے تم کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ تمہارا وجود اور جسم اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اسی نے بنایا ہے۔ کان آنکھ اور دل : وجود کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ ہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَۃَ۝ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۝ 23 نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ ھُوَالَّذِیْ اَنْشَاکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (الملک : 23) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ ) اپنے من میں ڈوب کر فیصلہ کرنا سیکھئے اس سے پہلی آیت میں گمراہ اور ہدایت سے محروم شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اوندھے منہ سر جھکائے جامد تقلید کے بندھنوں میں گرفتار خواہشات کا اسیر اور دنیا کے چلن کا پرستار بن کر سر جھکائے چلتا رہتا ہے اور کبھی غور و فکر نہیں کرتا کہ میرا طرزعمل صحیح ہے یا غلط۔ اسے ملامت کرتے ہوئے پیش نظر آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت 16 سے لے کر 22 تک چھ مرتبہ سوالیہ انداز میں اپنی قدرتیں سمجھائی ہیں اور اب نبی ﷺ کو چھ مرتبہ ” قُلْ “ کے لفظ سے حکم دیا ہے کہ آپ اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں کہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک بڑی نشانیاں ہیں کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا، تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تھوڑے لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ بھی انہیں بتلائیں کہ اس نے تمہیں پیدا کرنے کے بعد زمین پر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گئے۔ ان آیات میں بڑے اختصار کے ساتھ انسان کی تخلیق، اس کی صلاحیتوں اور لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : قُلْ ھُوَ الَّذِیْ اَنْشَآَکُمْ (آپ کہہ دیجے کہ وہی جس نے تم کو پیدا کیا) ابتداء ًاس نے تمہیں پیدا کیا۔ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَ فْئِدَۃَ (اور اس نے تم کو کان، آنکھیں اور دل دیے) ان کو اس لئے خاص کیا کیونکہ یہ تینوں ذرائع علم ہیں۔ تم بالکل شکر نہیں کرتے : قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو) ان انعامات کا کیونکہ تم شرک کرتے ہو اور خالص اس کی عبادت نہیں کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم بہت قلیل شکریہ ادا کرتے ہو۔ اس صورت میں ماؔ زائد ہے۔ ایک قول یہ ہے قلت سے مراد عدم ہے کہ تم بالکل شکر نہیں کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” پھر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” افمن یمشی مکبا علی وجھہ “ اپنے سر کو گمراہی اور جہالت میں جھکائے ہوئے آنکھوں اور دل کا اندھا دائیں بائیں نہ دیکھتا ہو اور وہ کافر ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں دنیا میں معاصی پر سوار۔ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ کے بل جمع کریں گے۔ ” اھدیٰ امن یمشی سویا “ معتدل راستے کو دیکھتا ہو اور وہ ” علیٰ صراط مستقیم “ اور وہ مومن ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن سیدھا چلے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–27

20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–26

اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔ (قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 ۔ قوائے علم و ادراک کی قدردانی کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے کان آنکھ اور دل و دماغ وغیرہ ذرائع علم و ادراک اور عظیم الشان نعمتوں کی قدردانی کی طرف توجہ مبذول کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ جو کہ علم و ادراک کے عظیم الشان ذرائع و وسائل ہیں، تاکہ ان کے ذریعے تم لوق حق اور حقیقت کی دولت سے بہرہ ور ہو سکو اور دین حق کو اپنا کر اور اپنے خالق ومالک کے حضور صدق دل سے جھک کر تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو، مگر تم لوگوں نے اس کے برعکس ان عظیم الشان نعمتوں اور ادرک حق و حقیقت کے لئے بخشے گئے ان ذرائع و وسائل کو بطن و فرج کی شہوات کی تحصیل و تکمیل میں لگا کر اپنے آپ کو شرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اللہ کی نعمتوں کا شکر یہی ہے کہ انہیں اس کی رضا مندی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔ کان کا شکریہ ہے کہ اس سے حق بات سنی جائے اور آنکھ کا شکریہ ہے کہ اس سے وہی چیز دیکھی جائے جس کے دیکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یا اجازت دی ہے اور دل کا شکریہ ہے کہ اس میں وہی خیالات رکھے جائیں جو حق کے مطابق ہوں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی دوسری نعمتوں کا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:23) قل ھو الذی انشاکم : مذکورہ بالا دونوں آیات : امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم اور امن ھذا الذی ھو یرزقکم میں صراحت فرمائی تھی کہ کافروں کا کوئی حمایتی نہ ان کی مدد کرسکتا ہے اور نہ ان کو رزق دے سکتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نصرت اور رزق کون عطا کرتا ہے ؟ اس سوال مقدرہ کے جواب میں فرمایا :۔ کہ تم کو نصرت اور رزق وہی عطا فرماتا ہے جس نے تم کو پیدا کیا تاکہ تم اس کو پہچانو اور اس کی عبادت کرو۔ (تفسیر مظہری) انشأ ماضی واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر۔ اس نے پیدا کیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، تم کو۔ السمع کان ، سننا، الابصار (آنکھیں) بصر کی جمع۔ الافئدۃ (دل) فؤاد کی جمع۔ السمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–27

(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی صلاحیتیں حق شناسی کے لئے عطا فرمائی تھیں لیکن یہ نہایت ناشکرے نکلے کہ ان صلاحیتوں سے اور سارے کام تو لیتے ہیں مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لئے وہ دی گئی تھیں۔ اسی سبب سے کفر و شرک میں مبتلا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–26

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اے پیغمبر آپ فرمائیے وہ اللہ تعالیٰ ایسا منعم اور محسن ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کا بہت کم شکرادا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–26

ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ وہ ہے جس نے تم کو سماعت ، باصرہ اور دل دیئے ہیں لیکن تم نے کم ہی ان سے کام لیا ہے 23 ؎ اللہ کون ہے ؟ وہی جس نے انسان کو کان ، آنکھ اور دل عطا کیا اور اس کو سمجھ بھی عطا فرمائی کہ یہ سماعت باصرہ اور دل کا کیا کام ہے اور ان کے دیئے جانے کا کیا فائدہ اور کیا ضرورت ہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ انسان سب کچھ سمجھنے کے باوجود ان سے وہ کام نہ لے جس کام کے لئے اس کو یہ سب عطا کئے گئے ہیں اور نہ ہی ان کے عطا کئے جانے کے باعث اللہ کا وہ شکر ادا کرنے والا ہو بلکہ وہ اندھا ، بہرا اور گونگا ہو کر ایک طرف ہٹ کر بیٹھ جائے۔ گویا بجائے شکر ادا کرنے کے ان سے وہ کام لینا ہی ترک کر دے جس کام کے لئے اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–29

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ‌ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُ‌ونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23). Specifying ears, eyes and Heart Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

33 That is, "Allah had made you men, not cattle. You were not meant to follow blindly whatever error and deviation you found prevailing in the world, without considering for a moment whether the way you had adopted was right or wrong. You had not been given these ears that you may refuse to listen to the one who tries to distinguish the right from the wrong for you, and may persist in whatever false notions you already had in your mind; you had not been given these eyes that you may follow others like the blind and may not bother to see whether the signs scattered around you in the world…

Read the full tafseer →