Al-Mulk 67:22

Al-Mulk · from ayah 22

67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰی وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۟اَفَمَنۡ يَّمۡشِىۡ مُكِبًّا عَلٰى وَجۡهِهٖۤ اَهۡدٰٓى اَمَّنۡ يَّمۡشِىۡ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is one who walks fallen on his face better guided or one who walks erect on a straight path?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:22

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا چل رہا ہو، وہ منزل تک زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ جو ایک سیدھے راستے پر سیدھا سیدھا چل رہا ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ شخص جو منہ کے بل اوندھا چل رہا ہے زیادہ راہِ راست پر ہے یا وہ شخص جو سیدھی حالت میں صحیح راہ پر گامزن ہے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا کھڑا ہو کر راہ راست پر چل رہا ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گایا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا وہ شخص زیادہ راست رو ہے جو اوندھا چل رہا ہو اپنے منہ کے بل یا وہ جو سر اٹھا کر سیدھا چل رہا ہو ایک (کھلی کشادہ) شاہراہ پر ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو کیا جو شخص اپنے منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو کیا وہ بہتر رہرو ہوگا یا وہ جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا وہ شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who is better guided: he who walks grovelling on his face, or he who walks upright on a Straight Path?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, is the one who walks falling down (frequently) on his face more right or the one who walks properly on a straight path?

— Muhammad Taqi Usmani

Then, is the one who walks falling down (frequently) on his face more right or the one who walks properly on a straight path?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is he who walks prone on his face, more rightly guided, or he who walks upright on a straight path

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he who goeth groping on his face more rightly guided, or he who walketh upright on a straight road?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is one who walks fallen on his face better guided or one who walks erect on a straight path?

— Saheeh International

Can one who walks with his head hanging down be better guided that one who walks with his head upright?

— Muhammad Sarwar

What! is he who goes prone upon his face better guided or he who walks upright upon a straight path?

— Muhammad Habib Shakir

Is he, then, who goeth about grovelling upon his face better directed, or he who walketh evenly on a straight path?

— Abdul Majid Daryabadi

Is then one who walks headlong, with his face grovelling, better guided,- or one who walks evenly on a Straight Way?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–27

رزاق صرف رب قدیر ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 32 یعنی جانوروں کی طرح منہ نیچا کیے ہوئے اسی ڈگر پر چلا جا رہا ہو جس پر کسی نے اسے ڈال دیا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰي وَجْهِهٖٓ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِيْ سَوِيًّا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ، یعنی کیا وہ آدمی جو اوندھا اپنے چہرہ کے بل چلے زیادہ ہدایت پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا چلنے والا ہے۔ سیدھا چلنے والے سے مراد مومن ہے کہ ہدایت یافتہ وہی ہوسکتا ہے۔ آگے پھر انسانی تخلیق میں حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے چند مظاہر کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

گمراہی کی اصل علت: اب یہ وضاحت فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں ان لوگوں پر ہدایت کی راہ نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں؟ فرمایا کہ یہ لوگ کتے کے مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھ بند کیے، اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر، سر اٹھا کر، دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انسان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ؟ یقینا نہیں اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔ (2) جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہوا اور اس کو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آرہا ہو ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا آخرت میں سرخرو رہے گا بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی کافر منہ کے بل جہنم میں جائے جائیں گے اور مومن سیدھے قدموں سے چل کر جنت میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–25

6: کافر لوگ بار بار آخرت کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر آخرت کا عذاب برحق ہے تو اس میں دیر کیوں ہورہی ہے، ابھی کیوں نہیں آجاتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افمن .................... مستقیم ” جو شخص اوندھا چلتا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ کہ وہ پاﺅں پر سیدھا نہیں چلتا بلکہ منہ کے بل چلتا ہے ، حالانکہ اللہ نے چلنے کے لئے پاﺅں پیدا کئے ہیں ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راہ میں گرتا پڑتا ہے اور پھر اٹھ کر چلتا ہے۔ اور پھر منہ کے بل گرتا ہے ، اور اسے سیدھی چال نصیب نہیں ہے۔ یہ اس بدبخت شخص کی حالت ہے جو مشقت برداشت کرتا ہے ، تکلیفیں اٹھاتا ہے ، گرتا پڑتا جاتا اور منزل مقصود سے بھی محروم رہتا ہے ، اس کے مقابلے میں ایک مومن سیدھا شاہراہ پر ایک متوازن رفتار سے جارہا ہے ، راستہ بھی واضح ہے ، جاری راستہ ہے اور یقینا منزل تک پہنچانے والا راستہ ہے۔ پہلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ظاہری کامیابی کی راہ طے کر کے وہی مقصد اصلی تک پہنچے گا جو سیدھے راستہ پر آدمیوں کی طرح سیدھا ہو کر چلے۔ جو شخص ناہموار راستہ پر اوندھا ہو کر منہ کے بل چلتا ہو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔ یہ مثال ایک موحد اور ایک مشرک کی ہوئی۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 { اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْہِہٖٓ اَہْدٰٓی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ } ”تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟“ اس آیت میں دو قسم کے انسانوں کے ”طرزِ زندگی“ کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ ایک قسم کے انسان وہ ہیں جو انسان ہوتے ہوئے بھی حیوانی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جیسے ان کی حیوانی جبلت انہیں چلا رہی ہے بس اسی طرح وہ چلے جا رہے ہیں۔ بظاہر تو وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندیاں بھی کرتے ہیں ‘ معاشی دوڑ دھوپ میں بھی سرگرمِ عمل رہتے ہیں ‘ کھاتے پیتے بھی ہیں اور دوسری ضروریات بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 یعنی کوئی شخص کامیابی اور مقصد کے حصول کی راہ اسی صورت میں طے کرسکتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلے اور سیدھا ہو کر چلے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی ناہموار اور ٹیڑھے میڑھے راستہ پر چلنا شروع کر دے اور وہ بھی منہ کے بل یا چوپایوں کی طرح منہ ڈالے ہوئے تو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ اس آیت میں یہ دراصل ایک موحد اور ایک مشرک کی مثال بیان کی گئی ہے۔ موحد کی راہ سیدھی اور صاف ہوتی ہے اور اس پر چلنے کے لئے اس کے پاس واضح ہدایات اور علم کی روشنی میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرک کی ایک نہیں کئی راہیں ہوتی ہیں اور وہ سب راہیں تاریکی اور ضلالت کی ہی ہوسکتی ہیں۔ پھر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ آیت کے اندر پہلی مثال کافر کی ہے، اور دوسری مثال مومن کی (آیت) ” افمن یمشی .... وجھہ “۔ کافر کا راستہ ہی زیغ وضلالت کا ہوتا ہے، اور وہ سر کے بل گرتا ہی جاتا ہے ہلاکتوں میں اس کا نقطہ نظر ہی کائنات کی ہر شے سے متعلق اوندھا ہوتا ہے۔ (آیت) ” امن ..... مستقیم “۔ مومن سیدھے قد کے ساتھ تنا ہوا چلتا ہے۔ افراط وتفریط کے غاروں، گڑھوں سے بچتا ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی . کلام تقریری اور رنگ استفہامی ہے یعنی کلام میں مخاطب کو حق کا اقرار کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے (مقصود یہ ہے کہ استفہام سے مراد طلب علم نہیں ‘ نہ جواب دینے سے عجز کا اظہار مقصود ہے بلکہ مدعا کو مدلل طور پر ثابت کرنا غرض ہے) ۔ مَکِبًّا : (اسم فاعل) اکباب سے مشتق ہے اور اکباب کا مادہ کبٌّ ہے۔ کبٌّ متعدی ہے اور اکبابٌ لازم اور یہ امر (یعنی ثلاثی مجرد کے باب کا متعدی ہونا اور باب افعال کا لازم ہونا) عربی میں نادر ہے جیسے فَشَعَ اللہ السَّحَابَ فَاَقْشَعَ ۔ اللہ نے بادلوں کو پھاڑ دیا اور ابر پھٹ گیا۔ یا مکبًّا کا مفعول محذوف ہے یعنی مکبًّا نفسہٗ اپنے آپ کو سرنگوں کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ابو جہل جو کہ اپنے کفر و ضلالت میں منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہے وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا رسول اکرم جو کہ سیدھے اور پسندیدہ دین اسلام پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْہِہٖٓ۔۔۔۔:”مکبا“”اکب یکب اکبابا“ (افعال) اوندھا گرنا۔ مزید فیہ ہونے کے باوجود باب لازم ہے ، اس کا مجرد ”کب یکب کبا“ (ن) متعدی ہے ، جس کا معنی کسی کو اوندھا گرانا ہے۔ ”اھدی“”ھدی یھدی ھدایۃ“ (ض) سے اسم تفصیل ہے جو عموماً اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے ، مگر کبھی کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہے ، اس لیے اس کا معنی زیادہ ہدایت دینے والا نہیں بلکہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ یہ موحد مومن اور مشرک کافر کی مثال ہے۔ کافر سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے گڑھوں میں پڑ جانتے کی وجہ سے منہ کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

افمن یمشی مکبا علی وجھۃ اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی ہے مکباً وہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہے وہ اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا نہ دائیں دیکھ سکتا ہے اور نہ بائیں دیکھ سکتا ہے۔ وہ لڑکھڑانے اور منہ کے بل گرنے سے امن میں نہیں ہوتا جس طرح وہ آدمی جو سیدھا اعتدال سے چلتا ہے جبکہ وہ سامنے، اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ دنیا میں ہے۔ یہ جائز ہے کہ مراد اندھا ہو جو راستہ کی طرف ہدیات نہیں پاتا تو وہ بھٹک جاتا ہے وہ ہمیشہ منہ کے بل گرتا رہتا ہے۔ وہ اس آدمی کی طرح نہیں جو سیدھے قد والا، صحیح، دیکھنے والا ہے اور راستہ میں چلتا ہے اور ہدایت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا علی وجہہ سے مراد ہے وہ کافر جو اللہ کی نافرمانی کے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائیں گے۔ آیت امن یمشی سویا علی صراط مستقیم سے مراد ہے وہ مومن جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی اطاعت پر اٹھائیں گے۔ آیت فلما رأوہ یعنی جب اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے آیت زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا۔ قریب سے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گے جو کافر ہیں یعنی ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جب وہ اللہ کے عذاب کو اور اس کی جانب سے ذلت کو دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : تو کیا وہ جو چلتا ہے ][ مُكِبًّا : اوندھا کرنے والا ہوتے ہوئے (خود کو)][ عَلٰي وَجْهِهٖٓ: اپنے چہرے کے بل ][ اَهْدٰٓى: زیادہ ہدایت پر ہے ][ اَمَنْ يَّمْشِيْ : یا وہ جو چلتا ہے ][ سَوِيًّا : کامل (سیدھا) ہوتے ہوئے ][ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے پر ] (آیت۔ 22) یَمْشِیْ فعل لازم ہے۔ اس لیے مُکِبًا اور سَوِیًّا اس کے مفعول نہیں ہوسکتے بلکہ یہ حال ہیں۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 22 ۔ میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ان لوگوں پر یہ آیت کی راہ کیوں نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو شخص اوندھا منہ کر کے چل رہا ہو کیا وہ صراط مستقیم پر چلنے والے کے برابر ہوسکتا ہے ؟ ان آیات میں پہلے تو کافر اور مومن کی مثال بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ ایک شخص منہ کے بل گرا ہوا ہے اور اسی طرح اوندھا چل رہا ہے (یہ کافر کی مثال ہے) اور ایک وہ شخص ہے جو ٹھیک راستے پر جا رہا ہے نہ اسے گرنے کا خطرہ ہے نہ پھسلنے کا ڈر ہے (یہ مومن کی مثال ہے) بتاؤ ان دونوں میں صحیح راہ پر کون ہے اور دونوں میں کون بہتر ہے۔ ظاہر ہے ایک سمجھدار آدمی اس کو بہتر اور صحیح راہ پر بتائے گا جو اعتدال کے ساتھ ٹھیک طریقہ سے سیدھے راستہ پر جا رہا ہے جس میں نہ کجی ہے نہ پھسلنے کا خطرہ ہے مومن اس صفت سے متصف ہے اور اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” افمن یمشی مکبا “ یہ پہلی دو آیتوں پر متفرع ہے اور اس میں مشرک اور موحد کی مثال بیان کی گئی ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ عذاب سے پناہ دینے والا اور رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، تو جو شخص اس کے باوجود پھر اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرے اور شرک کا راستہ اختیار کرے اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو سرجھکا کر ادھر ادھر دیکھے بغیر جدھر اس کا منہ آجائے ادھر ہی چلا جائے اور اس طرح سیدھی راہ سے ہٹ کر بھٹکتا رہے یہ مشرک کی مثال ہے جو سوچ بچار کے بغیر ہی مشرک باپ دادا کی راہ چلتا ہے اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو سوچ سمجھ کر قدم رکھتا ہے اور سیدھا صراط مستقیم پر چل رہا ہے۔ یہ مومن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰي وَجْہِہٖٓ اَہْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِيْ سَوِيًّا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝ 22 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبَّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ اَھْدٰٓی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الملک : 22) (بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہے، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے۔ ) انسان کے بگاڑ کے اصل اسباب کفار ِمکہ جو آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت، آپ ﷺ کے پیغام کی فصاحت و بلاغت اور آپ ﷺ کی عظمت کردار کے باوجود بھی آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پائی جاتی ہے۔ اور دوسری وجہ پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کا رویہ اور ان کا طرزعمل دو باتوں کی غمازی کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید قدرتوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا تذکرہ فرما کر منکرین حق کو دعوت فکر دیتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ ! اگر ” اللہ “ تمہاری گرفت کرنے پر آئے تو کون ہے جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود کافر دھوکے میں مبتلا ہیں۔ اگر ” اللہ “ تمہارا رزق بند کرلے تو پھر کون تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں۔ لیکن پھر بھی کافر اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی توحید سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپنے رب پر حقیقی ایمان لانے والا شخص یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ (پس کیا جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو) یعنی اپنے چہرے کے بل گرنے والا ہو اور ہر گھڑی لڑکھڑائے اور بغیر سمجھے بوجھے راستہ اختیار کرنے والا ہو۔ نحو : مَنؔ کی خبر اھدی ہے۔ اَھْدٰٓی (راہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہو) زیادہ راہ پانے والا ہو۔ نحو : اکب یہ کب کا مطاوع آتا ہے کہتے ہیں کببتہٗ فاکبَّ میں نے اس کو اوندھا کیا وہ اوندھا ہوگیا ( گویا اکباب لازم و متعدی ہر دو طرح ہے) اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا (یا وہ شخص جو سیدھا چلتا ہے) سویا ؔ درست ‘ سیدھا ‘ پھسلنے گرنے سے محفوظ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو) ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” امن ھذا الذی یرزقکم ان امسک رزقہ “ یعنی کون ہے جو تمہیں بارش دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ تم سے بارش کو روک لے۔ ” بل لجوا فی عتو “ گمراہ میں سرگرداں ہیں۔ ” ونفور “ حق سے دور ہونا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–27

20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ان دو شخصوں میں سے کون زیادہ ہدایت کی راہ پر ہے ؟ کیا وہ شخص جو گمراہی میں سرگشتہ پھرتا ہے، اپنے کفر میں غرق ہے اور اس کی سمجھ الٹ گئی ہے اس کے نزدیک حق باطل اور باطل حق بن چکا ہے یا وہ شخص جو حق کا علم رکھنے والا ہے ؟ ان دونوں اشخاص کے احوال پر مجرد ایک نظر ڈالنے سے ہدایت یافتہ اور گمراہ کے درمیان فرق معلوم ہوجائے گا، احوال، اقوال سے بڑے گواہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 کافر و مشرک اندھے اور اوندھے، والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ کافر اور مشرک کی مثال اوندھے انسان کی ہے۔ پس یہ مثال کافر اور مشرک کی ہے، جو ایمان و توحید کی سیدھی اور سچی راہ سے محروم ہو کر اوندھے منہ الٹا چلا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اپنی اسی الٹی روش اور اوندھی چال کے نتیجے اور انجام میں کل آخرت کے اس ابدی جہاں میں جو کہ کشف حقاق کا جہاں ہوگا، یہ اپنے منہ کے بل چل کر دوزخ کی آگ میں گرے گا والعیاذ باللہ، آنضحرت ﷺ سے جب اس بارہ عرض کیا گیا کہ یہ لوگ وہاں پر منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس ذات نے ان کو پاؤں کے بل چلایا ہے وہ ان کو منہ کے بل چلانے پر بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 1 یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ کافر باطل خیالات اور شرک کی تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہے، جیسے کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چل رہا ہو۔ وہ بھلا صحیح راستہ پر کیسے چل سکتا ہے کہ اپنی مراد کو پہنچے۔ اس کے برعکس مومن توحید کی راہ پر سیدھا اتنا ہوا چل رہا ہے وہ یقینا اپنی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:22) افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی : ہمزہ استفہامیہ ہے۔ترتیب کا ہے۔ من موصولہ مبتداء ہے یمشی مکبا علی وجھہ صلہ۔ مکبا علی وجھم ضمیر فاعل یمشی سے حال ہے۔ یمشی مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ، مشی باب ضرب مصدر سے ۔ وہ چلتا ہے۔ مکبا اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اکباب (افعال) مصدر سے ، سرنگوں ، اوندھا یعنی رستہ کی دشواری ونشیب ق فراز کی وجہ سے چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرپڑنا ہے منہ کے بل۔ اھدی ، ھدایۃ سے (باب ضرب) مصدر سے، افعل التفضیل کا صیغہ۔ بمعنی زیادہ ہدایت یافتہ، یہ مبتداء کی خبر ہے۔ امن یمشی سویا علی صراط مستقیم : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تعلیل نحوی تقریبا وہی ہے جو جملہ سابقہ کی ہے۔ سویا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–27

(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[7] یعنی یہ کافر کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سر جھکائے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دائیں بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–26

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) بھلا ایک وہ شخص جو اندھا اپنے منہ کے بل چلے وہ سیدھی راہ پائے گا یا وہ شخص جو چلے سیدھا اور ایک سیدھی راہ پر وہ مقصود تک پہنچے گا۔ قرآن نے یہ مشرک اور موحد کی مثال بیان فرمائی مکب کہتے ہیں اس شخص کو جو منہ کے بل گرتا ہو جیسے مرگی والا اندھا آدمی جو قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہو اور منہ کے بل گر گرپڑتا ہو تو ایک ایسا شخص جو قدم قدم پر منہ کے بل گرتا ہو اور اس حال میں راستہ طے کرتا ہو اور ایک ناہموار راستے پر رینگ رہا ہو اور سوائے زمین کے اس کو کچھ نظر نہ آتا ہو کیونکہ جب سیدھا کھڑا ہونے کا موقعہ ہی نہ ملے گا اور دوسری چیزیں اس کو کس طرح دکھائی دیں گی بہرحال ایک شخص تو ایسا ہے تو کیا یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–26

ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا منہ کے بل چلنے والا سیدھے راستے پر ہوگا یا وہ جو سیدھا ہموار چل رہا ہے 22 ؎ (مکتبا) کا اصل مادہ ک ب ب ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر البات مصدر ، سرنگوں ، اوندھا۔ عرب کہتے ہیں کہ کبہ اللہ اللہ اس کو اوندھا گرا دے۔ اس طرح اوندھے منہ کسی کو گرانا یا اوندھے منہ گرانا دونوں پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں کافر کی حالت کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جا رہی ہے جو سر اوندھا کئے ہوئے کسی راستہ پر چل رہا ہے نہ دائیں دیکھتا ہے نہ بائیں ، نہ اوپر اور نہ نیچے اس کی نظر پڑتی ہے اور اس حالت میں کسی وقت بھی وہ کسی چیز سے ٹکرا کر تباہ و برباد ہو سکتا ہے اور اس طرح وہ کسی بھی گڑھے میں گر کر اپنا آپ تباہ و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ (Then, tell me whether the one who walks falling down [ frequently ] on his face is better guided or the one who walks on a straight path...67:22). The phrase 'the one who walks on a straight path' refers to the believer who is rightly guided. The next verse describes the manifestation of Divine power and wisdom in the creation of man, thus:

Read the full tafseer →