Explained with ayahs 20–27
رزاق صرف رب قدیر ہے
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة الْمُلْک 31
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنا ہوا تمہاری دستگیری کرتا ہو "۔ ہم نے متن میں جو ترجمہ کیا ہے وہ آگے کے فقرے سے مناسبت رکھتا ہے، اور اس دوسرے ترجمہ کی مناسبت پچھلے سلسلہ کلام سے ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ کا یہی مطلب ہے۔ آگے کفار کے حال پر افسوس ہے جو نہ آیات قدرت میں خود غور کرتے ہیں نہ دوسرے بتانے والوں کی بات سنتے ہیں ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر یعنی یہ لوگ برابر اپنی سرکشی اور حق سے دوری میں بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ آگے میدان قیامت میں کافرو مومن کا جو حال ہونا ہے اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے میدان میں کفار اس طرح حاضر کئے جاویں گے کہ پاؤں پر چلنے کے بجائے سر کے بل چلیں گے۔ صحیح بخایر و مسلم میں حضرت انس کی روایت ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ کفار چہرے کے بل کیسے چلیں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سج ذات نے ان کو پیروں پر…
Read the full tafseer →قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’رِزُق‘ یہاں بارش کی تعبیر ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوئی ہے۔ فرمایا کہ فرض کرو اللہ تعالیٰ اس بارش ہی کو روک لیتا ہے جو تمہارے لیے رزق رسانی کا ذریعہ ہے تو کیا تمہارے پاس ہے کوئی ایسا زور آور جو اس بند دروازے کو ازسر نو کھول دے؟
’بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَنُفُوْرٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اگرچہ ان میں سے کسی سوال کا جواب بھی یہ اثبات میں دینے کی جرأت نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود یہ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر بضد ہیں۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ سوچنے سمجھنے والے ہوں تو ان کو بات سمجھائی جا سکتی ہے لیکن ضد…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہوجائے، اگر اللہ تعالیٰ ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے ؟ یعنی وعظ و نصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض ونفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
6: کافر لوگ بار بار آخرت کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر آخرت کا عذاب برحق ہے تو اس میں دیر کیوں ہورہی ہے، ابھی کیوں نہیں آجاتا۔
Read the full tafseer →امن ھذا ................ نفور
” جیسا کہ اوپر گزر گیا۔ ہر انسان اللہ کے پیدا کردہ اسباب کا مرہون منت ہے۔ اللہ ان اسباب میں سے کسی ایک سبب کو کھینچ لے تو بھول سے لوگ مرجائیں۔ اور یہ رزق اللہ نے اس کائنات کی اسکیم میں بطور سلسلہ اسباب رکھا ہوا ہے۔ یہ اسباب سب کے سب ایسے ہیں جو انسان کی قدرت میں نہیں ہیں۔ اور یہ تمام انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ یہ سب اسباب انسان کے وجود سے بھی پہلے پیدا کردیئے گئے تھے۔ اور یہ اسباب اپنی طبیعی قوت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے بہت ہی بڑے ہیں اور ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی دست قدرت کی طرف سے محو کردیا جائے تو انسان سب کے سب صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔
اگر…
Read the full tafseer →3 یعنی اللہ اگر روزی کے سامان بند کرلے تو کس کی طاقت ہے جو تم پر روزی کا دروازہ کھول دے ؟4 یعنی دل میں یہ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ سے الگ ہو کر نہ کوئی نقصان کو روک سکتا ہے نہ نفع پہنچاسکتا ہے۔ مگر محض شرارت اور سرکشی ہے کہ توحید و اسلام کی طرف آتے ہوئے بدکتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 21{ اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُـکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ } ”پھر بھلا کون ہے وہ جو تمہیں رزق دے سکے اگر اللہ اپنے رزق کو روک لے ؟“
{ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّوَّنُفُوْرٍ۔ } ”بلکہ یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق سے گریز میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔“
اگلی آیت فلسفہ و حکمت ِقرآن کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔
Read the full tafseer →23 رزق حاصل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ آسمان سے نازل ہونے والی بارش ہے۔ بارش پڑنے سے ہی زمین سے نباتات اگتی ہے جو تمام جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب دیکھئے کہ اس بارش کے جملہ اسباب اللہ تعالیٰ کے قبضہ ئقدرت میں ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ طویل مدت تک بارش نہ برسائے تو اللہ کے علاوہ اور کون ہستی ہے جو بارش برسا سکے۔ اللہ کی قدرتوں کو سمجھنے کے لیے نشانیاں تو بہت ہیں مگر ان کافروں نے اگر نہ ماننے پر اور سرکشی کی راہ اختیار کرنے پر ہی کمر باندھ رکھی ہو تو یہ ان باتوں سے کیسے عبرت حاصل کرسکتے ہیں ؟
24 لجَّ بمعنی ضد سے جھگڑنا۔ دشمنی میں مداو مت کرنا اور لُجّۃ بمعنی پانی کی گہرائی۔ پانی کا گہرا…
Read the full tafseer →17۔ (اور بلاکسی شائبہ دلیل کے کفر وشرک میں مبتلا ہیں) (آیت) ” امن .... رزقہ “۔ مثال ایصال نفع کی ہے کہ اس پر بھی بجز خدائے رحمن کے کوئی قادر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →امن ھذا الذی یرزقکم ان امسک رزقہ . یعنی تم کو رزق کون دے گا اگر خدا اپنا رزق تم سے روک لے
یعنی بارش اور رزق پیدا کرنے والے اسباب (فطری) روک لے یا رزق پیدا کرنے والے اسباب کی اثر انگیزی ختم کر دے (بارش ہو ‘ ہوا بھی چلے ‘ زمین میں قوت نامیہ بھی ہو مگر غلّہ پیدا نہ ہو) ۔
اس عبارت کی نحوی تحلیل بھی وہی ہے جیسی مذکورہ بالا عبارت کی ذکر کردی گئی۔
بل لجوا . یعنی کافر بڑھتے جاتے ہیں ‘ (جمے ہوئے ہیں) ۔
فی عتو . گمراہ کنی میں۔
و نفور . اور حق سے دوری اختیار کرنے میں (اوّل کی وجہ) کافروں کی انتہائی جہالت ہے اور (دوسری کا باعث)
کافروں کی طبعی نفرت ہے۔
Read the full tafseer →یہ بھی بتاؤ کہ وہ کون ہے جو آسمان سے پانی برسا کر اور زمین سے پیداوار کر کے تمہیں روزی پہنچا دے اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرے، بلکہ یہ لوگ انکار حق پر جم رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ۔۔۔۔: یعنی اگر اللہ تعالیٰ بارش ہی روک لے تو وہ کون ہے جو بارش برسا دے ؟ یا زمین کو پیداوار سے روک دے یا کسی بھی طریقے سے تمہاری روزی روک دے تو وہ کون ہے جو تمہیں روزی مہیا کر دے ؟ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش مکہ نے نبی ﷺ کے مقابلے میں نافرمانی کی حد کردی تو آپ ﷺ نے ان پر یوسف ؑ جیسی قحط سالی کی بد دعا فرمائی تو ان پر ایسا قحط آیا کہ وہ ہڈیاں تک کھا گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ قحط اس وقت دور ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ (دیکھئے بخاری ، التفسیر ، باب :(یغشی الناس ھذ ا عذاب الیم) :…
Read the full tafseer →کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو تمہیں دنیا کے منافع عطا کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا ہے جو تم پر بارش نازل فرمائے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے بلکہ انہوں نیس رکشی کی اور سرکشی میں اور قح سے دور بھاگنے میں اصرار کیا۔
Read the full tafseer →12۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل لجوا فی عتو ونفور بلکہ وہ سرکشی اور نفر میں اڑے بیٹھے ہیں یعنی گمراہی میں۔
13۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت بل لجوا فی عتو ونفور کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی ناشکری میں آیت افمن یمشی مکبا علی وجہۃ پس وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلتا ہے یعنی گمراہی میں۔ امن یمشی سویا علی صراط مستیم۔ یا جو سیدھے راستے پر سیدھا چلا جاتا ہے سے مراد ہے الحق المستقیم یعنی سیدھی راہ پر۔
14۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا سے مراد ہے گمراہی میں آیت امن یمشی سویا یعنی ہدایت پانے والا یعنی وہ جو ہدایت پائے…
Read the full tafseer →[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي؛یا کون یہ ہے جو ][ يَرْزُقُكُمْ : روزی دے تم کو ][ ان اَمْسَكَ رِزْقَهٗ ۚ: اگر وہ (رحمن) روک لے اپنا رزق ][ بَلْ لَّجوا : بلکہ وہ لوگ اڑے رہے ][ فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی کرنے میں ][ وَّنُفُوْرٍ : اور بیزاریوں میں ]
(آیت۔ 21) اَمْسَکَ میں شامل ھُوَ کی ضمیر کو اگر قریبی مرجع ھٰذَا الَّذِیْ کے لیے مانیں تو جملہ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ضمیر اَلرَّحْمٰن کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →طرح طرح کے دلائل سامنے آتے ہیں لیکن پھر بھی سرکشی میں اور نفور میں یعنی حق سے دور ہونے میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی کو فرمایا : ﴿ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ 0021﴾ بلکہ وہ لوگ سرکشی اور نفرت پر جمے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…
Read the full tafseer →14:۔ ” امن ھذا الذی یرزقکم “ یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ جو تمہیں روزی دیتا ہے اگر وہ روزی بند کردے تو پھر تمہیں کون روزی دے گا ؟ یعنی اس کے سوا کوئی روزی رساں نہیں اس لیے اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ ” بل لجو فی عتو “ یہ مقدر سے متعلق ہے۔ ای لم یتاثروا بذلک ولم یذعنوا للحق (روح) ۔ اس بیان سے وہ نہ متاثر ہوئے اور نہ حق کو قبول کیا، بلکہ سرکشی اور نفرت میں پوری قوت سے اور آگے بڑھ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
گزشتہ سے پیوستہ (ربط) :
پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…
Read the full tafseer →اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَہٗ 0 ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ 21
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم،
( ر ز ق) الرزق
وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ترکیب : او الھمزۃ للاستفہام والواو للعطف علی مقدر ای اغفلواولم ینظروا الی الطیر جمع طائر و یقع علی الواحد والجمع قال ابن الابناری الطیر جمع طائر و تانیثھا اکثر من تذکیرھا ولایقال للواحد طیربل طائر قلما یقال للانثی طائرۃ۔ فوقہم ظرف لصافات اوعال وصافات حال من الطیر اومن الضمیر فی فوقہم۔ ویقبضن معطوف علی صافات حملاً علی المعنٰی ای ویقبضن اوصافاتٍ وقابضاتٍ ۔ مایمسکھن یجوزان یکون مستانفا ان یکون حالامن الضمیر فی یقبضن امن قریٔ الجمہور بتشدید المیم علی ادغام میم ام فی میم من وام بمعنی بل من الاستفہامیۃ مبتداء ھذا خبرہ الذی موصول یرزتکم صل تھا لمجموع صفۃ ھذا ینصرکم صفت لجندٍ ومن دون الرحمن فی محل…
Read the full tafseer →اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُـکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَـہٗ ج بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّوَّنُفُوْرٍ ۔ (الملک : 21)
(بتائو وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے، اگر رحمن اپنا رزق روک لے، دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں قریش کی ہٹ دھرمی
قریشِ مکہ اور دیگر منکرین سے سوال کیا جارہا ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے دین کی بات سننے کے روادار نہیں ہو اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دشمنی پر اس لیے تلے ہوئے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے تمہاری یہ سرکشی اور بےنیازی کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید قدرتوں کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا تذکرہ فرما کر منکرین حق کو دعوت فکر دیتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ ! اگر ” اللہ “ تمہاری گرفت کرنے پر آئے تو کون ہے جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود کافر دھوکے میں مبتلا ہیں۔ اگر ” اللہ “ تمہارا رزق بند کرلے تو پھر کون تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں۔ لیکن پھر بھی کافر اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی توحید سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپنے رب پر حقیقی ایمان لانے والا شخص یقین…
Read the full tafseer →کیا اللہ کے رزق روکنے پر تمہارے معبود رزق دیتے ہیں :
21 : اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ (ہاں وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرے) امن کون ایسا ہے جس کی طرف اشارہ کر کے کہا جائے کہ تم کو یہ رزق دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا رزق روک لیا ؟ یہ تو اس تقدیر پر ہے جب کہ منؔ سے جمیع خلق مراد لی جائے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سے اشارہ ان کے تمام بتوں کی طرف ہو کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ ان کی مصائب سے حفاظت کرتے ہیں اور ان کو اپنے ان معبودوں کی برکت سے رزق ملتا ہے گویا وہ اصنام مددگار ‘ لشکر اور رازق لشکر ہیں۔ جب انہوں نے اس سے…
Read the full tafseer →20 ۔” امن ھذا الذی ھو جندلکم “ استفہام انکاری ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کون سا لشکر ہے تمہارے پاس۔ ” ینصرکم من دون الرحمن “ جو تم کو اس کے عذاب سے روکے اور تم سے اس کو دور کرے جو وہ تمہارے برے میں ارادہ کرے۔ ” ان الکافرون الافی غرور “ یعنی شیطان کے دھوکے میں وہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے کہ ان پر عذاب نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے رو گردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے (امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن) ۔ یعنی جب رحمن تمہارے ساتھ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو کون سا تمہارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے ؟ یعنی رحمن کے سوا تمہارے دشمنوں کے خلاف کون تمہاری مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے، اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہوجائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اس ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی، پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمن کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا، اپنے کفر پر جمے…
Read the full tafseer →26 : روزی کا معاملہ بھی اللہ ہی کے اختیار میں : سبحانۃ وتعالیٰ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رزق و روزی کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے سکے اگر وہ خدا رحمٰن اپنی روزی بند کر دے ؟ : یعنی اس کے اسباب و ذرائع کو کاٹ کر مثلاً آسمان سے بارش بند کر دے، ہاؤں کا چلنا روک لے، زمین سے اس کی اگانے کی قوت و خاصیت سلب کرلے، یا پانی کے سوتے بند کر دے، یا پانی کے ذخائر کو کھارا کر دے، یا سورج سے ملنے والی گرمی اس سے چھین لے، جس سے ان کی طرح طرح کی یہ فصلیں پکتی اور تیار ہوتی ہیں، وغیرہ وغیرہ سو اگر اس طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں
تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1 یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ کافر باطل خیالات اور شرک کی تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہے، جیسے کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چل رہا ہو۔ وہ بھلا صحیح راستہ پر کیسے چل سکتا ہے کہ اپنی مراد کو پہنچے۔ اس کے برعکس مومن توحید کی راہ پر سیدھا اتنا ہوا چل رہا ہے وہ یقینا اپنی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچے گا۔
Read the full tafseer →(67:21) امن ھذا الذی یرزکم ان امسک رزقہ : امن مبتدا۔ ھذا اس کی خبر۔ الذی یرزقکم بدل ہے ھذا سے۔
بھلا وہ کون ہے جو روزی دے گا تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے (یعنی روکے رکھے) اپنی روزی استفہام انکاری ہے، مراد یہ کہ اگر پروردگار اپنی روزی کو بندے سے روک دے۔ تو اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں جو بندے کو روزی دے سکے۔
ان شرطیہ ہے۔ امسک ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر ۔ بمعنی روکے رکھنا۔ روکنا۔ اگر وہ روکے رکھے اپنے رزق کو۔
بل حرف اضراب ہے۔ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی کافرین نہ صرف شیطان کی طرف سے فریب و دھوکے میں ہیں بلکہ مزید برآں اس فریب خوردنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
پرندے قدرت الٰہیہ کانمونہ۔
(ف 2) پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو، پرندے زمین وآسمان کے درمیان کبھی پرکھول کر اور کبھی بازوسمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے، نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے بتلاؤ رحمان کی سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضا میں تھام رکھا ہے بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے انکی ساخت ایسی بنائی اور ان میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہرسکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا ہے اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے شائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[7] یعنی یہ کافر کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سر جھکائے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دائیں بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے
2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…
Read the full tafseer →(21) اچھا اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی اور اپنے رزق کو تم سے روک لے تو بھلا وہ کون ہے جو پھر تم کو روزی پہنچائے اور تم کو رزق دے اصل بات یہ ہے کہ یہ کافر سرکشی اور نفرت پر اڑے ہوئے ہیں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی اور رزق رسانی کے دروازے اور وسائل و اسباب بند کرے تو بھلا وہ کون ہے جو تم کو رزق پہنچا سکے۔
ان تمام باتوں کو سن کر اور اس کی بےپناہ طاقت اور بےکراں قدرت کا حال سن کر بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں آتے تو اصل بات یہ ہے کہ سخت عناد سرکشی اور حد سے تجاوز کرنے اور حق بات سے بھاگنے ، نفرت کرنے اور بدکنے پر جمے ہوئے ہیں لجاج انتہائی عناد پر اڑنا اور جم جانا عقو حد سے تجاوز کرنا…
Read the full tafseer →ف 8۔ خلاصہ یہ کہ تمہارے معبودات باطلہ نہ دفع مضار پر قادر ہیں اور نہ ایصال منافع پر قادر ہیں، پھر ان کی عبادت محض سفاہت ہے۔
Read the full tafseer →کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو اللہ اگر رزق روک لے تو تم کو روزی بہم پہنچائے
21 ؎ (لجوا) جمع مذکر غائب ماضی معروف لحاج اور لحاجۃ مصدر وہ اڑ رہتے اور وہ جمے رہتے۔ وہ پھنس گئے لحاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو مجازاً کہتے ہیں۔ (راغب) (عتو) اصل مادہ ع ت ر ہے اور اس کے معنی شرارت ، سرکشی اور نافرمانی کے ہیں۔ عتایعتو کا مصدر ہے جس کے معنی اطاعت و فرمانبرداری سے اکڑنے ، تکبر کرنے اور حد سے بڑھ جانے کے ہیں ، اس کا فعل باب نصر سے آتا ہے العتد مجاوزۃ الحد فی الطغیان والبلوغ الی اقصی غایاتہ (قاضی شوکانی فتح القدر) ج 4 ص 67 طبع مصر) (عتو) کے معنی ہیں سرکشی میں حد سے گزر جانا اور نافرمانی کی آخری منزل پر پہنچ…
Read the full tafseer →أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ (Or, who is there to give you sustenance, if He withholds His sustenance? Still, they persist in rebellion and aversion. [ 67:21] '.
The last sentence of the verse purports to express the unbelievers' sad state of affairs. They neither consider the Signs of Allah nor do they pay heed to other people's good advice. They obstinately persist in insolence and deviation from the Truth.
Next, the conditions of non-believers and believers on the field of Resurrection are described. It is mentioned…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
31 Another translation can be: "Who is there beside the Merciful, who comes to your rescue as your army?" The translation that we have adopted in the text above has relevance to the following sentence, and this second to the preceding discourse.
Read the full tafseer →