Al-Mulk 67:20

Al-Mulk · from ayah 20

67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ؕ— اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ ۟ۚاَمَّنۡ هٰذَا الَّذِىۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّكُمۡ يَنۡصُرُكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ‌ؕ اِنِ الۡكٰفِرُوۡنَ اِلَّا فِىۡ غُرُوۡرٍ‌ۚ

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or who is it that could be an army for you to aid you other than the Most Merciful? The disbelievers are not but in delusion.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:20

بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا خدائے رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے ؟ کافر لوگ تو نرے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا وہ کونسا تمہارا لشکر ہے کہ رحمٰن کے مقابل تمہاری مدد کرے کافر نہیں مگر دھوکے میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا کوئی ایسا ہے جو تمہاری فوج بن کر (خدائے) رحمان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے؟ کافر محض دھوکہ میں (مبتلا) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا کون ہے وہ جو تمہارا لشکرہو، تمہاری مدد کرے، رحمان کے مقابلے میں ؟ کافر دھوکے کے سوا کسی کھاتے میں نہیں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا ؟ یہ کافر تو محض دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بتائو تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرسکے گا ! یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے کہو کہ) بھلا کون ہے وہ جو تمہارے لئے لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے (خدائے) رحمان کے مقابلے میں ؟ کافر لوگ تو محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا (خدائے) رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری نصرت کرسکے ؟ کافر تو بڑے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بھلا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے رحمن کے مقابلہ میں ؟ نہیں ہیں یہ کافر مگر دھوکے میں مبتلا ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Which is your army that will come to your aid against the Merciful Lord? But the unbelievers are in utter delusion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now, who is there to act as a force for you to help you, except the RaHman ? The disbelievers are in nothing but delusion.

— Muhammad Taqi Usmani

Now, who is there to act as a force for you to help you, except the RaHman ? The disbelievers are in nothing but delusion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who is it besides the Most Gracious that can be an army to you to help you The disbelievers are in nothing but delusion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or who is he that will be an army unto you to help you instead of the Beneficent? The disbelievers are in naught but illusion.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or who is it that could be an army for you to aid you other than the Most Merciful? The disbelievers are not but in delusion.

— Saheeh International

Do you have any armies who will help you against the Beneficent God? The disbelievers are certainly deceived (by satan).

— Muhammad Sarwar

Or who is it that will be a host for you to assist you besides the Beneficent Allah? The unbelievers are only in deception.

— Muhammad Habib Shakir

Who. is he that can be an army Unto you and succour you, beside the Compassionate! The infidelsjb are but in delusion.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, who is there that can help you, (even as) an army, besides (Allah) Most Merciful? In nothing but delusion are the Unbelievers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–27

رزاق صرف رب قدیر ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة الْمُلْک 31 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنا ہوا تمہاری دستگیری کرتا ہو "۔ ہم نے متن میں جو ترجمہ کیا ہے وہ آگے کے فقرے سے مناسبت رکھتا ہے، اور اس دوسرے ترجمہ کی مناسبت پچھلے سلسلہ کلام سے ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چناچہ ارشاد فرمایا۔ (آیت) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ۔ اس کے بعد اس کے ڈرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا جو رزق تم کو آسمان سے پانی برسنے و اور زمین سے نباتا اگانے کے ذریعہ مل رہا ہے یہ کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش ہے وہ اس کو روک بھی سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کوئی فوج خدائی حملہ کا دفاع نہیں کر سکتی: یعنی اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو کہ تمہیں دکھا دیا جائے تو تمہارے پاس کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرے گا؟ ’اِنِ الْکَافِرُوْنَ إِلَّا فِیْ غُرُورٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کے طنطنہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ہی ناقابل تسخیر دفاعی حصار ان لوگوں نے تعمیر کر رکھا ہے جس کو کوئی طاقت بھی توڑ نہیں سکتی لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عذاب الٰہی کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی آ گیا تو ان کے سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

5: یعنی یہ کافر لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے من گھڑت معبود ہماری مدد کریں گے، وہ خالص دھوکے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

امن ھذا ................................ فی غرور ” اللہ نے اس سے پہلے انسانوں کو خسف سے ڈرایا ، جبکہ اس سے قبل کئی مکذبین کو یہ سزا دی گئی ، پھر سنگباری سے ڈرایا جبکہ کئی پر سنگباری کی گئی۔ اور اسی طرح دوسرے مکذبین کی مختلف ہلاکتوں سے ڈرایا تھا۔ یہاں دوبارہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو ان کی امداد کرتا ہے اور اس قسم کی مختلف ہلاکتوں سے تمہیں بچاتا ہے ؟ اللہ کو پکڑ کر رحمن کے سوا کون روکے ہوئے ہیں ؟۔ ان الکفرون الا فی غرور (76 : 02) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ دھوکہ ان کو اس بات پر مطمئن کردیتا ہے کہ وہ امن میں ہیں۔ کسی کی ضمانت اور اطمینان میں ہیں ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی منکر سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچالے گی ؟ خوب سمجھ لو ! رحمان سے الگ ہو کر کوئی مدد کو نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ جُنْدٌ لَّــکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ } ”بھلا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے رحمن کے مقابلہ میں ؟“ { اِنِ الْکٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ۔ } ”نہیں ہیں یہ کافر مگر دھوکے میں مبتلا ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین صرف دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 کافر جو بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں کہ اگر ہمیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا بھی پڑا تو ہم دوزخ کے فرشتوں سے نمٹ لیں گے۔ یہ باتیں وہ محض اس لیے کرتے ہیں کہ نہ انہیں مر کر جی اٹھنے کا یقین ہے اور نہ جہنم کے عذاب کا۔ وہ بڑے سخت دھوکے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور موت سے پہلے ان کو لگا ہوا یہ دھوکا ان کے ذہن سے نکل نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ اور کافر تو وہی ہیں جو خدائے واحد کے بجائے ادھر ادھر کے سہاروں اور آسروں میں الجھے رہتے ہیں) (آیت) ” امن ...... الرحمن “۔ مثال دفع مضرت کی ہے۔ بتایا ہے کہ اس پر بجز خدائے رحمن کے کوئی قادر نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم من دون الرحمن . اس سے پہلے اَوَلَمْ یَرَوْا آچکا ہے اس لیے اس جگہ اَمْ متصلہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ کیا انہوں نے ایسی مصنوعات کو دیکھ کر اس بات کو نہیں سمجھا کہ خسف زمین اور سنگ بار طوفان کا عذاب دینے پر اللہ کو قدرت ہے یا ان کے پاس ان کا کوئی جتھا اور لشکر ایسا ہے جو رحمن کے مقابلہ میں ان کی حمایت کرسکے اور خدا کے بھیجے ہوئے عذاب کو دفع کرسکے۔ بعض لوگ قائل ہیں کہ تکرار استفہام سے بچنے کے لیے اس جگہ اَمْ کو ابتدائیہ قرار دیا جائے گا نہ متصلہ ہوگا نہ منفصلہ۔ مَنْ استفہامی مبتداء ہے ھٰذَا خبر ہے اَلَّذِیْ صفت ہے یا بدل ہے۔ ینصرکم جُنْدٌ کی صفت ہے چونکہ لفظ جندٌ مذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ کے سوا وہ کون ہے جو عذاب خداوندی سے تمہاری حفاظت کرے، کافر تو دنیاوی جھوٹ اور بڑے دھوکا میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ ہُوَ جُنْدٌ لَّکُمْ۔۔۔۔: بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اتنی قدرتوں والا رحمان تمہیں پکڑنے پر آجائے تو وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر اس کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ کوئی نہیں ، بالکل نہیں۔ کافر لوگ جن کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فلاں ہستی اور فلاں مشکل کشا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے اور زبردستی سفارش کر کے چھڑا لیں گے ، محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ، جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔ ”من دون الرحمن“ کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رحمان کے علاوہ وہ کون ہے جو کسی مصیبت میں لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس نے جند کا معنی حزب اور منعۃ کیا ہے (1) یعنی ایسی جماعت جو تمہارا دفاع کرے گی۔ اللہ تعالیٰ جس کا تمہارے بارے میں ارادہ کرے گا۔ اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ لفظ جند واحد ہے اسی وجہ سے فرمایا : ھذا الذی ھوجندلکم یہ استفہام انکاری ہے یعنی تمہارے پاس کوئی لشکر نہیں جو تمہارا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دفاع کرے۔ دون، سوا کے معنی میں ہے۔ کافر شیطان کی جانب سے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ وہ انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ کوئی عذاب نہیں کوئی حساب نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–20

7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں 9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي : یا کون یہ ہے جو (کہ)][ هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ : وہ ہو ایسا لشکر تمہارے لیے ][ يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری ][ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ: رحمن کے بجائے ][ ان الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر لوگ ][ اِلَّا فِيْ غُرُوْر : مگر کچھ فریبوں میں (مبتلا)] (آیت۔ 20) اَمَّنْ دراصل اَمْ مَنْ ہے جس کو ملا کر لکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رحمٰن کے سوا تمہارا کون مددگار ہے ؟ اگر وہ اپنا رزق روک لے تو تم کیا کرسکتے ہو ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے مدد فرمانے اور رزق عطا فرمانے کا اور کافروں کے غرور اور نفور میں اور سرکشی میں بڑھتے چلے جانے کا ذکر ہے۔ ان آیتوں کا سبب نزول بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو کافر دعوت حق قبول کرنے سے گریز کرتے تھے اور عناد پر تلے ہوئے تھے انہیں دو چیزوں پر گھمنڈ تھا اول تو یوں کہتے اور سمجھتے تھے کہ ہمارے اموال اور ہمارے افراد قوم اور قبیلہ کے لوگ ہماری حفاظت کرلیں گے، دوم وہ بتوں سے نفع وضرر کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں باتوں کی تردید فرمائی اول تو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” امن ھذا “ یہ تخویف دنیوی ہے اور یہ دونوں آیتیں ماقبل کا ثمرہ ہے۔ یہ تباؤ کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود جن کو تم برکات دہندہ سمجھتے ہو کیا یہ خدائے رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا اس سکے عذاب سے تم کو پناہ دے سکتے ہیں ؟ استفہام انکار ہے یعنی وہ مدد نہیں کرسکتے۔ یہ مشرکین جو ان عاجزوں کو مددگار اور برکات دہندہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ ان معبودوں کے حفظ وامان میں ہیں، وہ بہت بڑے دھوکہ میں ہیں، وھو استفہام انکار ای لاجند لکم یدع عنکم عذاب اللہ (قرطبی ج 18 ص 218) ۔ ای ماھم فی زعمہم انھم محفوظون فی النوائب بحفظ الھتہم لا بحفظہ تعالیٰ فقط وان الہتہم تحفظہم من باس اللہ تعالیٰ الا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ ہُوَجُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ۝ 0 ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ۝ 20 ۚ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–21

ترکیب : او الھمزۃ للاستفہام والواو للعطف علی مقدر ای اغفلواولم ینظروا الی الطیر جمع طائر و یقع علی الواحد والجمع قال ابن الابناری الطیر جمع طائر و تانیثھا اکثر من تذکیرھا ولایقال للواحد طیربل طائر قلما یقال للانثی طائرۃ۔ فوقہم ظرف لصافات اوعال وصافات حال من الطیر اومن الضمیر فی فوقہم۔ ویقبضن معطوف علی صافات حملاً علی المعنٰی ای ویقبضن اوصافاتٍ وقابضاتٍ ۔ مایمسکھن یجوزان یکون مستانفا ان یکون حالامن الضمیر فی یقبضن امن قریٔ الجمہور بتشدید المیم علی ادغام میم ام فی میم من وام بمعنی بل من الاستفہامیۃ مبتداء ھذا خبرہ الذی موصول یرزتکم صل تھا لمجموع صفۃ ھذا ینصرکم صفت لجندٍ ومن دون الرحمن فی محل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ جُنْدٌ لَّـکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ط اِنِ الْـکٰفِرُوْنَ اِلاَّ فِیْ غُرُوْرٍ ۔ (الملک : 20) (بتائو، تمہارے پاس وہ کون سی فوج ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتی ہے، یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) کفار کی خودفریبی پر تنبیہ نبی کریم ﷺ جب قریش مکہ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور قیامت میں جوابدہی سے ڈراتے تھے تو یہ فکرمند ہونے کی بجائے مذاق اڑاتے تھے، حتیٰ کہ ان کی جرأت یہاں تک بڑھی کہ جب بھی ان کا آنحضرت ﷺ سے سامنا ہوتا تو وہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے یا قیامت کے جلد وقوع پذیر ہونے پر اصرار کرتے۔ اس آیت کر یمہ میں ان سے کہا جارہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید قدرتوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا تذکرہ فرما کر منکرین حق کو دعوت فکر دیتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ ! اگر ” اللہ “ تمہاری گرفت کرنے پر آئے تو کون ہے جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود کافر دھوکے میں مبتلا ہیں۔ اگر ” اللہ “ تمہارا رزق بند کرلے تو پھر کون تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں۔ لیکن پھر بھی کافر اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی توحید سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپنے رب پر حقیقی ایمان لانے والا شخص یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ جُندٌ لَّکُمْ یَنْصُرُ کُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ (ہاں رحمان کے سوا اور کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بنکر تمہاری حفاظت کرسکے) نحو : أمَّنْ یہ مبتدأ ہے ھذاؔ اس کی خبر ہے۔ الذی ھو یہ ؔ ھذاؔ کا بدل ہے۔ اور ینصرکم ؔ جملہ جندٌ کی صفت محل رفع میں ہے یہ بحیثیت لفظ اس کی صفت ہے۔ معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کون ایسا ہے جس کی طرف نصرت و مدد میں اشارہ کیا جائے۔ (یعنی کوئی ایسا نہیں) اِنِ الْکٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ (کافر نرے دھوکہ میں ہیں) اِنؔ، ما کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” اولم یروا الی الطیر فوقھم صافات “ جو اپنے پروں سے ہوا میں صف بناتے ہیں۔ ” ویقبضن “ اپنے پروں کو پھیلانے کے بعد۔ ” ما یمسکھن “ پر پھیلانے اور سکیٹر نے کی حالت میں گرنے سے۔ ” الاالرحمن انہ بکل شیء بصیر “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–27

20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے رو گردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے (امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن) ۔ یعنی جب رحمن تمہارے ساتھ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو کون سا تمہارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے ؟ یعنی رحمن کے سوا تمہارے دشمنوں کے خلاف کون تمہاری مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے، اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہوجائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اس ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی، پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمن کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا، اپنے کفر پر جمے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 ۔ کافر اور منکر لوگ نرے دھوکے میں والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافروں اور منکروں کے دیوں پر ایک دستک کے طور پر بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمٰن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ کافر لوگ تو محض دھوکے میں پڑے ہیں جو خدائے رحمٰن سے منہ موڑ کر طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں پر تکیہ کر کے حق اور حقیقت سے دور اور محروم ہور ہے ہیں اور حضرت حق جل مجدہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اس کی عاجز اور بےبس مخلوق کے آگے جھک کر جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنی تذلیل کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد میں ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کی غفلت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 دوسرا یہ بھی ہے کہ وہ کون سا لشکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکتا اور اس کے عذاب سے تمہیں بچا سکتا ؟13 جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بت اور جھوٹے معبود اللہ تعالیٰ کے مقابل ہمیں ان کی مدد کرسکیں گے اور اسی کے حضور سفارش کر کے انہیں اس کی پکڑ سے نجات دلا سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:20) امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم من دون الرحمن : امن مبتداء ھذا، اس کی خبر۔ الذی ھو جند لکم ھذا سے بدل ینصرکم من دون الرحمن صفت ہے جند کی۔ مشارالیہ، جند سے مراد غیر اللہ کی مدد ہے۔ (مدارک التنزیل) امن : ام بمعنی کیا، خواہ، بھلا، من استفہامیہ سے مرکب ہے، استفہام انکاری ہے جند فوج، واحد، جنود جمع۔ من دون الرحمن خدا کو چھوڑ کر، خدا کے سوا۔ خدا سے ورے، خدا کے مقابلہ میں۔ ترجمہ از شاہ عبد القادر (رح) :۔ بھلا وہ کون ہے جو فوج ہے تمہاری ، مدد کرے گی تمہاری ، رحمان کے سوا۔ مطلب یہ کہ تمہارا کوئی لشکر یا فوج نہیں کہ رحمان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکے۔ ان الکفرون الا فی غرور : ان نافیہ ہے۔ غرور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

پرندے قدرت الٰہیہ کانمونہ۔ (ف 2) پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو، پرندے زمین وآسمان کے درمیان کبھی پرکھول کر اور کبھی بازوسمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے، نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے بتلاؤ رحمان کی سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضا میں تھام رکھا ہے بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے انکی ساخت ایسی بنائی اور ان میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہرسکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا ہے اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے شائد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–20

[6] یعنی کافر سخت دھوکے میں ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچا لے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–26

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) بھلا رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے یہ دین حق کے منکر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا وہ کون ہے جو آفات و مصائب میں تمہاری فوج اور تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے اور تمہاری خواہش کے مطابق تمہاری حفاظت کرے اگر تم نے یہ خیال کررکھا ہے کہ یہ تمہارے جھوٹے اور باطل معبود کسی آفت کے وقت تمہارے کام آجائیں گے یا تمہارے سپاہی بن کر تمہاری مدد کریں گے تو ایسا خیال کرنا محض دھوکا اور فریب ہے۔ اسی کو فرمایا ان الکافرون الافی غرور۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 7۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے، پس اگر کسی حکمت سے یہاں عذاب تل گیا تو دوسرے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تمہارے پاس کوئی لشکر ہے جو رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکے ؟ 20 ؎ وہ لوگ جو حق کی مخالفت اور باطل کی موافقت میں دن رات کوشیاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ حق اور باطل دونوں کو ملا کر یا باطل کو حق کے نیچے چھپا کر اپنا الو سیدھا کریں کیا ان کے پاس کوئی ایسا لشکر ہے جو رحمن کے خلاف ان کی مدد کے لئے تیار کھڑا ہے اور ان کے حکم کے انتظار میں ہے کہ جونہی رحمن کی طرف سے ان کے وارنٹ گرفتاری نکلیں گے تو وہ وارنٹ لانے والوں کو وارنٹوں کے ساتھ ہی بھسم کر کے رکھ دیں گے اور اس جس کی حمایت میں ایسا کریں گے وہ رحمن کے عذاب سے بچ جائے گا۔ فرمایا کان کھول کر سن لو کہ نہ کوئی تھا ، نہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُ‌كُم مِّن دُونِ الرَّ‌حْمَـٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُ‌ونَ إِلَّا فِي غُرُ‌ورٍ‌ (Now, who is there to become a force for you to help you, except the Rahman? The disbelievers are in nothing but delusion...67:20). Then the next verse warns the disbelievers that the sustenance Allah grants them by sending down rain from the clouds and by growing plants/ vegetation in the earth is not their personal property. It is a gift and bounty from Allah. If He wills, He can withhold it. This is the import of the following verse:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

31 Another translation can be: "Who is there beside the Merciful, who comes to your rescue as your army?" The translation that we have adopted in the text above has relevance to the following sentence, and this second to the preceding discourse.

Read the full tafseer →