Explained with ayahs 16–19
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے۔
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45) 35۔ فاطر :45) ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 29
یعنی ایک ایک پرندہ جو ہوا میں اڑ رہا ہے، خدائے رحمن کی حفاظت میں اڑ رہا ہے۔ اسی نے ہر پرندے کو وہ ساخت عطا فرمائی جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا۔ اسی نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اسی نے ہوا کو ان قوانین کا پابند کیا جن کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کا اس میں اڑنا ممکن ہوا۔ اور وہی ہر اڑنے والے کو فضا میں تھامے ہوئے ہے، ورنہ جس وقت بھی اللہ اپنی حفاظت اس سے ہٹا لے وہ زمین پر آ رہے۔
سورة الْمُلْک 30
یعنی کچھ پرندوں ہی پر موقوف نہیں، جو چیز بھی دنیا میں موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے وہی ہر شے کے لیے وہ اسباب فراہم کر رہا ہے جو اس کے وجود کے…
Read the full tafseer →(آیت) اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ الآیتہ، یعنی کیا وہ پرندوں کو اپنے سروں پر اڑتے ہوئے نہیں دیکھتے جو کبھی اپنے بازؤں کو پھیلا دیتے ہیں اور بکھی سیمٹ لیتے ہیں۔ ان میں غور کرو کہ یہ وزنی جسم میں عام قاعدہ کیر و سے وزنی جسم جب اوپر چھوڑا جائے تو اسے زمین پر گجانا چاہئے ہو ان وزنی جسموں کو عام طور پر نہیں روک سکتی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان پرندوں جانوروں کو ایسی وضع پر بنایا ہے کہ وہ ہوا پر ٹھہر سکیں اور ہوا پر اپنے جسام کا بوجھ ڈالنے اور اس میں تیرتے ہوئے پھرنے کے لئے حق تعالیٰ نے اس بظاہر بےعقل و شعور جانور کو یہ سلیقہ سکھا دیا ہے کہ وہ اپنے پروں کو پھیلانے اور سمیٹنے کے…
Read the full tafseer →ہر چیز خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے:
یعنی اس دنیا میں کوئی چیز بھی، خواہ اوپر ہو یا نیچے، نہ خود کار ہے نہ اپنے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے بلکہ اللہ ہی اس کو حرکت دیتا ہے اور وہی اس کو تھامتا ہے۔ زمین ہمارے قدموں کے نیچے ٹکی ہوئی ہے تو اس وجہ سے ٹکی ہوئی ہے کہ خدا نے اس کو ٹکا رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو نہ تھامے رکھے تو، جیسا کہ اوپر اشارہ ہے، وہ سب کے سمیت کہیں سے کہیں جا نکلے۔ اسی طرح آسمان اگر ہمارے سروں پر تھما ہوا ہے تو خود نہیں تھما ہوا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو کیا عجب وہ ہمارے اوپر ہی گر پڑے۔ اسی حقیقت کو یہاں مثال سے سمجھایا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے سروں…
Read the full tafseer →19۔ 1 پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔
19۔ 2 یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا ؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5: یعنی یہ کافر لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے من گھڑت معبود ہماری مدد کریں گے، وہ خالص دھوکے میں ہیں۔
Read the full tafseer →اولم یروا .................... بصیر
یہ خارق العادت معجزہ جو ہر وقت واقع ہوتا رہتا ہے۔ یہ چونکہ بار بار واقع ہوتا ہے اس لئے ہم اسے اہم نہیں سمجھتے۔ اور اس کے اندر اللہ کی جو قدرت کام کررہی ہے اسے بھی ہم بھول جاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ صف بندی میں اڑتے ہیں اور پروں کو پھیلاتے ہیں اور سکیڑ لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں وہ سف بستہ اڑتے ہیں۔ اور یہ پرندے بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتے ہیں ، جن سے ان کی تخلیق کی خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اللہ کی عجیب و غریب مخلوقات کا یہ ایک عجیب تماشا ہے۔ جس کے اندر کمال اور جمال باہم یکجا نظر آتے ہیں۔ اس منظر کی طرف قرآن کا اشارہ یہ ہے !
اولم…
Read the full tafseer →1 پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا۔ یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو پرندے زمین و آسمان کے درمیان کبھی پر کھول کر اور کبھی بازو سمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں۔ اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ بتلاؤ رحمان کے سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضاء میں تھام رکھا ہے۔ بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے ان کی ساخت ایسی بنائی اور اس میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہر سکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے۔ شاید پرندوں کی مثال بیان کرنے سے…
Read the full tafseer →یعنی اس کائنات کی ایک ایک مخلوق اور ایک ایک چیز جس قانونِ طبعی پر چل رہی ہے وہ اللہ ہی کا وضع کردہ ہے۔
Read the full tafseer →21 صفت۔ صف یعنی صف بنانا، سیدھی قطار بنانا اور صف بمعنی ہر شے کی سیدھی قطار اور صف الطیر بمعنی پرندوں نے اپنی اڑان میں اپنے پروں کو قطار کی طرح سیدھا کردیا۔ نیز اس کا معنی پرندوں کا اپنے پروں کو ہوا میں پھیلا دینا اور بالکل بےحرکت بنادینا بھی ہے۔ جبکہ سب ایک ہی حالت میں ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے کبھی اپنے پر پھیلا بھی دیتے ہیں اور کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہوا سے وزنی اجسام ہیں لیکن پھر بھی زمین پر گر نہیں پڑتے۔ نہ ہی زمین کی کشش ثقل انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ہوا جو ایک کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ بھی آہستہ آہستہ زمین پر آگرتا ہے۔ تو پرندوں کے وزنی…
Read the full tafseer →15۔ (اور جس میں جو تصرف چاہے، اپنے حسب مرضی ومشیت کرتا رہتا ہے) پرندوں کی قوت پرواز، ان کا وہ ہوا کی موجوں کو چیرتے ہوئے جانا، ان کا وہ اتنی بلندیوں پر اپنے جسم کا توازن قائم رکھنا، یہ سب انسان کے لئے کیسے حیرت انگیز مشاہدات ہین، اور ان سے کیسا سبق حق تعالیٰ کی صناعی کا ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →اولم یروا . ہمزہ (1َ ) استفہام کی اور واو (و) عطف کے لیے ہے۔ معطوف علیہ محذوف ہے۔ اصل کلام یوں مانا
جائے گا ‘ کیا انہوں نے آسمان و زمین کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا اور
الی الطیر فوقھم صفت . ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر بازو پھیلائے اڑتے ہوتے ہیں۔ فوقھم کا
تعلق صافات سے ہے صافات سے الطیر کی حالت بیان کی گئی ہے اور دیکھنے سے مراد ہے آنکھوں سے دیکھنا کیونکہ یروا کے بعد الٰی مذکور ہے۔ صافات کا معنی ہے فضا میں اڑنے کی حالت میں بازو پھیلائے ہونا ‘ پرندے جب پر پھیلائے ہوتے ہیں توشہ پر (اور ان سے اندر والے پر) ترتیب کے ساتھ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں و یقبضن۔ صافات پر عطف ہے یعنی اور پرندے پَر…
Read the full tafseer →کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں پر نظر نہیں کی کہ پر پھیلائے ہوئے اڑتے پھرتے ہیں اور کبھی اسی حالت میں پر سمیٹ لیتے ہیں، اللہ کے سوا ان کو کون تھامے ہوئے ہے اور وہ سب کو دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ۔۔۔۔: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور قدرت بیان فرمائی کہ عام مشاہدے میں مادی چیزیں جو وزن رکھتی ہیں وہ نیچے کی طرف میلان رکھتی ہیں ، مگر پرندے وزن رکھنے کے باوجود فضاء میں اڑتے پھرتے ہیں۔ اڑتے وقت اکثر وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں ، کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں ، انہیں تھامنے والا اس رحمان (بےحد مہربان) کے علاوہ کوئی نہیں۔ ”صفت“ اسم فاعل ہے جو دوام پر دلالت کرتا ہے اور ”یقبض“ فعل مضارع ہے جو تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ فضاء کی بلندی میں اڑنے والے پرندے اکثر پر پھیلائے ہوئے اڑ رہے ہوتے ہیں ، کبھی پر مار بھی لیتے ہیں۔
2۔ اِنَّہٗ بِکُلِّ شّیْئٍم…
Read the full tafseer →اولم یروا الی الطیر فوقھم صفت جس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اس طرح پرندوں کے لئے ہوا کو مخسر کیا ہے صفت کا معنی باسات ہے یعنی وہ اڑنے کے وقت فضا میں اپنے پروں کو پھیلا لیتے ہیں کیونکہ جب وہ انہیں پھیلاتے تو، تو ادم (بڑے پر) کو صف درصف کرلیتے ہیں ویقضن انہیں پانے پہلوئوں سے مارتے ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا، پرندہ جب اپنے پروں کو پھیلائے تو اسے صافک ہتے ہیں اور جب انہیں ملا لے تو اسے قابضک ہتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ پروں کو قبض کرلیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے پروں کو پھیلانے کے بعد قبض کرل یتے ہیں جب وہ اڑنے سے وقفہ کرتے ہیں۔ اس کا عطف صفت پر ہے۔ فعل مضارع کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔
8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں
9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔
10۔ فریابی وعبد بن حمید…
Read the full tafseer →[اَوَلَمْ يَرَوْا : اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ][ اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ : پرندوں کی طرف اپنے اوپر ][ صٰۗفّٰتٍ : صف بچھانے (پھیلانے) والے ہوتے ہوئے ][ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹتے ہوئے ][ ڪ مَا يُمْسِكُـهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو (کوئی)][ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ۭ : سوائے رحمن کی ][ انهٗ بِكُلِ شَيْءٍۢ: بیشک وہ ہر چیز کو ][ بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد پرندوں کا حال بیان فرما کر اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ بیان فرمائی اور فرمایا :
﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ يَقْبِضْنَ 1ؕۘؔ﴾ (کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہوا میں اپنے بازو پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں اور وہ اپنے بازوؤں کو پھیلانے کے بعد سکیڑ لیتے ہیں اور دونوں حالتوں میں وہ فضا میں موجود رہتے ہیں اور باوزن ہونے کے باوجود فضا میں پھرتے رہتے ہیں زمین پر نہیں گرتے) ۔ ﴿ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ﴾ (رحمٰن کے علاوہ انہیں کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے) ۔ ﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍۭ بَصِيْرٌ0019﴾ (بلاشبہ وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے) مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…
Read the full tafseer →12:۔ ” اولم یروا “ یہ پانچویں دلیل عقلی خاص۔ مدار کلام ” صٰفت ویقبضن “ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ فضاء میں پرندے صف در صف پرواز کر رہے ہیں، کبھی پروں کو پھیلا لیتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں، فضا میں ان کو تھامنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے اور پھر کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ جب یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
گزشتہ سے پیوستہ (ربط) :
پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَہُمْ صٰۗفّٰتٍ وَّيَقْبِضْنَ 0 ؔۘ ۭ مَا يُمْسِكُـہُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ 0 ۭ اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍؚبَصِيْرٌ 19
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ترکیب : او الھمزۃ للاستفہام والواو للعطف علی مقدر ای اغفلواولم ینظروا الی الطیر جمع طائر و یقع علی الواحد والجمع قال ابن الابناری الطیر جمع طائر و تانیثھا اکثر من تذکیرھا ولایقال للواحد طیربل طائر قلما یقال للانثی طائرۃ۔ فوقہم ظرف لصافات اوعال وصافات حال من الطیر اومن الضمیر فی فوقہم۔ ویقبضن معطوف علی صافات حملاً علی المعنٰی ای ویقبضن اوصافاتٍ وقابضاتٍ ۔ مایمسکھن یجوزان یکون مستانفا ان یکون حالامن الضمیر فی یقبضن امن قریٔ الجمہور بتشدید المیم علی ادغام میم ام فی میم من وام بمعنی بل من الاستفہامیۃ مبتداء ھذا خبرہ الذی موصول یرزتکم صل تھا لمجموع صفۃ ھذا ینصرکم صفت لجندٍ ومن دون الرحمن فی محل…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِفَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَ م ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ م بَصِیْرٌ۔ (الملک : 19)
(کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو، بیشک وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ )
مخلوق کی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے استشہاد
اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت اور اس کے سامنے ہر مخلوق کی بےبسی ایک مثال کے ذریعے واضح فرمائی جارہی ہے۔ قرآن کریم اپنے پڑھنے اور سننے والوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کیا لوگ اپنے اوپر پرندوں کو ہوا میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ایک اور قدرت جس پر لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا اور پھیلایا اور اس میں کشش اتصال پیدا فرمائی۔ اسی وجہ سے فضا میں ایک حد تک پھرنے والی چیز کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بیشک بندوق کی گولی ہو یا یا سکڈ میزائل بالآخر وہ زمین پر آتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پرندوں میں ایسی قوت اور شعور پیدا کیا ہے جس بنا پر وہ فضا میں اپنی مرضی کے مطابق اڑتے اور پھرتے ہیں۔ کبھی دونوں پَر کبھی ایک پر ہلاتے ہیں، کبھی دونوں پَر پھیلا کر فضا میں تیر رہے ہوتے ہیں اور کبھی دونوں پروں کو بند کرلیتے ہیں انہیں یہ قوت اور شعور دینے والی…
Read the full tafseer →19 : پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خسف اور آندھی بھیجنے پر اپنی قدرت کے متعلق متنبہ کیا اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ (کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کی) الطیرؔ یہ جمع طائر کی ہے فوقؔ سے فضا مراد ہے۔ صٰٓفّٰتٍ (کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں) وہ اپنے پر فضا میں اڑتے وقت پھیلانے والے ہیں۔ وَّ یَقْبِضْنَ ( اور پر سمیٹ لیتے ہیں) اور ان کو سمیٹ لیتے ہیں جبکہ وہ ان پروں کو اپنے پہلوئوں پر مارتے ہیں۔
نحو : ویقبضن کا عطف اسم فاعل صافاتؔ پر اس کو یصففن کے معنی پر محمول کرنے کی بناء پر ہے ای یصففن ویقبضن یا اس کو اسم فاعل کے معنی میں مان کر ای صافات و قابضاتٍ حکمت : اسی دوسری…
Read the full tafseer →18 ۔” ولقد کذب الذین من قبلھم “ یعنی گزشتہ امتوں کے کفار نے۔ ” فکیف کان نکیر “ یعنی میرا ان پر عذاب کے ذریعے انکار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
16۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر…
Read the full tafseer →یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ نے مسخر کرلیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھر تے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق ادھر ادھر تیرتے پھرتے ہیں۔ (مایمسکھن الا الرحمن) انہیں اللہ رحمن ہی تھامے ہوئے ہے پس رحمن ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کرکے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عیانت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →24 فضا میں اڑتے پرندوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر فضا میں اڑتے ہیں جو کبھی پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑے ہوئے ؟ اور یہ دیکھنا ان ظاہری آنکھوں سے نہیں کہ اس طرح تو ہر کوئی دیکھتا ہے جانور بھی دیکھتے ہیں ‘ بلکہ دل کی اور باطن کی آنکھوں سے اور عبرت و اعتبار کی نیت و نگاہ سے دیکھنا ‘ تاکہ ان کو حق اور حقیقت تک رسائی حاصل ہوتی اور سیدھی راہ ملتی ‘ اور اس طرح یہ لوگ بچ جاتے گمراہی اور اپنے برے انجام سے ‘ پس اللہ کی مخلوق میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینا ایک اہم مقصد ہے ‘ سو یہ لوگ اگر اپنے سروں کے اوپر اڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں
تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی اپنی کسی مخلوق سے بیخبر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(67:19) اولم یروا الی الطیر فوقھم۔ ہمزہ استفہامیہ واؤ عاطفہ جس کا عطف کلام مقدرہ پر ہے ای اغفلوا ولم ینظروا ۔۔ کیا وہ بھول گئے اور اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا۔ طیر طائر کی جمع ہے جیسے صاحب کی صحب جمع ہے۔ اور راکب کی جمع رکب ہے
ابو عبیدہ اور مطرب کا بیان ہے کہ لفظ طیر واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے جیسے آیت ہذا میں بمعنی جمع آیا ہے ۔ اور آیت شریفہ فیکون طیرا باذن اللہ (3:49) تو وہ ہوجاوے اڑتا ہوا (جانور) پرندہ اللہ کے حکم سے۔ میں طیر کا اطلاق واحد پر ہوا ہے۔
ابن الانباری نے کہا ہے کہ طیر جمع ہی ہے اور اس کی تانیث بہ نسبت تذکیر کے زیادہ مستعمل ہے اور واحد کے لئے طیر نہیں بلکہ طائر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
پرندے قدرت الٰہیہ کانمونہ۔
(ف 2) پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو، پرندے زمین وآسمان کے درمیان کبھی پرکھول کر اور کبھی بازوسمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے، نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے بتلاؤ رحمان کی سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضا میں تھام رکھا ہے بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے انکی ساخت ایسی بنائی اور ان میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہرسکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا ہے اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے شائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[6] یعنی کافر سخت دھوکے میں ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچا لے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے
2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم…
Read the full tafseer →(19) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر اڑتے پرندوں کے حال پر نظر نہیں کی جو اپنے بازو اور پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان پرندوں کے سوائے رحمن کے اور کوئی گرنے سے نہیں روکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ یعنی زمین کا ذکر فرمایا آسمان کا ذکر اب درمیانی بات کی طرف اشارہ فرمایا جیسا کہ سورة نحل میں گزر چکا ہے یعنی جو کی طرف اشارہ ہے کہ صدہا پرندے اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان کے ثقل اور ان کے خاکی ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ زمین پر گرپڑیں اور زمین کی قوت جاذبہ ان کو کھینچ لے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ دو دو چار چار آسمان و زمین کے درمیان اڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 7۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے، پس اگر کسی حکمت سے یہاں عذاب تل گیا تو دوسرے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا۔
Read the full tafseer →کیا انہوں نے اپنے سروں کے اوپر کبھی پرندوں کو اڑتے نہیں دیکھا ؟
19 ؎ غور و فکر ہی ایک چیز ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے ماحلو میں دیکھتا رہے اور ایک ایک چیز پر غور کرے کہ وہ کیوں ہے اور کیسے ہے ؟ وہ خود قائم ہے یا اس کا کوئی قائم کرنے والا ہے۔ اگر کوئی قائم کرنے والا ہے تو وہ کون ہے ؟ زیر نظر آیت میں لوگوں کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کیا تم نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو تمہارے سروں پر اور تمہارے اردگرد تم کو اڑتے نظر آ رہے ہیں ، کبھی پر کھولتے ہیں اور کبھی سمیٹتے ہیں لیکن نہ تو پر پھیلاتے ہوئے گرتے ہیں اور نہ ہی ان کو ساکن کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ آخر ان کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ (Have they not looked to the birds above them spreading their wings, and (at times) they fold (them) in? No one holds them up except the Rahman (the All-Merciful). Surely He is watchful of every thing...67:19)
This verse invites attention to the fact that the birds have weight, and in terms of the law of gravity, weighty bodies should fall down on the earth, if they are released from above. Normally, it is not possible for the air to hold them up.…
Read the full tafseer →29 That is, each bird that flies in the air, dces so in the protection of the AII-Merciful God. He it is Who has given to each bird the form and structure by which it became able to fly; He it is Who has taught each bird the method to fly; He it is Who has made the air obey the laws by which it became possible for the heavier than air bodies to fly in it; and He it is Who upholds every bird in the air; otherwise the moment AIIah withdraws His protection from it, it drops to the ground.
30 That is, this is not confined only to birds, but whatever exists in the world, exists because of Allah's…
Read the full tafseer →