Al-Mulk 67:18

Al-Mulk · from ayah 18

67:18

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ ۟وَلَـقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And already had those before them denied, and how [terrible] was My reproach.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:18

اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک ان لوگوں نے (بھی) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے، سو میرا اِنکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، پھر کس طرح تھا میرا سزا دینا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر (دیکھ لو) میری گرفت کیسی تھی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ جھٹلایا (حق اور حقیقت کو) ان لوگوں نے بھی جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے پھر (دیکھ لو) کیسا تھا میرا عذاب ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی تو جھٹلایا تھا سو میرا عذاب کیسا (ان پر واقع) ہوا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا تو کیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who came before them also gave the lie (to the Messengers): then how awesome was My chastisement!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And of course, those before them (also) rejected (the truth) . So, how was My censure?

— Muhammad Taqi Usmani

And of course, those before them (also) rejected (the truth) . So, how was My censure?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed those before them rejected, then how terrible was My reproach

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily those before them denied, then (see) the manner of My wrath (with them)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And already had those before them denied, and how [terrible] was My reproach.

— Saheeh International

Those who lived before them had also rejected Our warning, and how terrible was Our retribution!

— Muhammad Sarwar

And certainly those before them rejected (the truth), then how was My disapproval.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly those before them belied; then what wise hath been My wrath!

— Abdul Majid Daryabadi

But indeed men before them rejected (My warning): then how (terrible) was My rejection (of them)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–19

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے۔ ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀) 35۔ فاطر :45) ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 28 اشارہ ہے ان قوموں کی طرف جو اپنے ہاں آنے والے انبیاء کو جھٹلا کر اس سے پہلے مبتلائے عذاب ہوچکی تھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ۔ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والا تم پر آسمان سے پتھر برسا دے، اس وقت تمہیں اس ڈرانے کا انجام معلوم ہوگا کہ اس وقت معلوم ہونا بےسود ہوگا آج جبکہ تم صحیح سالم محفوظ ومامون ہو اس کی فکر کرو اس کے بعد پچھلی ان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کیا جن پر دنیا میں عذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان تکبر کا یہی مطلب ہے اس کے بعد پھر اصل مضمون سورت کی طرف رجوع ہے کہ ممکنات و مخلوقات کے حالات سے حق تعالیٰ کی توحید اور علم وقدرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت: یہ قریش کو تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت ہے کہ یہ عذاب اگر ان کے اوپر ابھی نہیں آیا ہے تو اس کے سبب سے اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ یہ کوئی دانش مندی کی بات نہیں ہے کہ جو کچھ آدمی کے اپنے سر پر گزر جائے اسی کو مانے بلکہ دوسری قوموں کی سرگزشت سے انھیں سبق لینا چاہیے جن کو انہی کی طرح انذار کیا گیا لیکن انھوں نے اس کا مذاق اڑایا بالآخر وہ عذاب ان پر مسلط ہو کر رہا جس کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ’فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ‘ تو دیکھیں کس طرح ان پر میری پھٹکار ہوئی! یعنی میں نے کس نفرت و بیزاری کے ساتھ ان کو اپنے عذاب کا ہدف بننے کے لیے چھوڑ دیا اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کردیا۔ 17۔ 2 لیکن اس وقت یہ علم، بےفائدہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

5: یعنی یہ کافر لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے من گھڑت معبود ہماری مدد کریں گے، وہ خالص دھوکے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد کذب .................... نکیر (76 : 81) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی “۔ نکسیر کا مفہوم ہے غصہ اور سرزنش اور اس کے نتیجے میں آنے والی سزا۔ ان کو وہ واقعات معلوم ہیں کہ اللہ نے امم سابقہ کو پکڑا۔ انہی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم ہی بتاﺅ کہ پکڑ کیسے رہی۔ فکیف کان نکیر (76 : 81) ” کیونکہ آثار ان کے سامنے تھے۔ لہذا وہ جانتے کہ عذاب کیسا رہا۔ یہاں اللہ ان کی جس بےخوفی پر تنبیہ فرماتا ہے وہ ایسی بےخوفی ہے ، جس میں انسان اللہ سے غافل ہوجائے۔ ایسا امان ہے جس کے نتیجے میں انسان کے دل سے اللہ کی قدرت کا ڈر نکل جائے اور اللہ کی عظمت کا خیال نہ رہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی " عاد " و " ثمود " وغیرہ کے ساتھ جو معاملہ ہوچکا ہے اس سے عبرت پکڑو۔ دیکھ لو ! ان کی حرکات پر ہم نے انکار کیا تھا تو وہ انکار کیسے عذاب کی صورت میں ظاہر ہو کر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوْرُ۔ } ”کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔“ کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر زلزلہ آجائے ‘ زمین شق ہوجائے اور تم اس کے اندر دھنس جائو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

20 آسمان میں کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے اس میں محنت کرو اور جو جو فائدے اس سے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ مگر اس ذات سے بےخوف نہ ہوجانا جو تمہاری اور ان سب اشیاء کی خالق ومالک ہے۔ اسے ہر دم یاد رکھنا۔ یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی جگہ زمین کھود رہے ہو یا کان کنی میں مصروف ہو تو اس میں دھنستے ہی چلے جاؤ۔ یا زمین میں زلزلہ آجائے۔ زمین پھٹ جائے اور تم اس میں غرق ہوجاؤ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم پر ایسی سخت آندھی بھیج دے جس میں پتھر کنکر ہوں۔ اور وہ تمہارا ستیاناس کردیں۔ لہذا زمین سے اللہ کی نعمتیں حاصل کرو تو اس کا شکر بھی بجا لایا کرو اور اگر تم ناشکری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ اگر ماضی سے نمونے ہی اس عذاب کے تلاش کرنے ہیں تو تاریخ وسیر کے صفحات کا مطالعہ کرلیں کہ کیسی کیسی پر قوت قومیں اور امتیں سرکشی کی پاداش میں ہلاک ہوچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان نکیر . یہ قسم محذوف کا جواب ہے نکیر بمعنی انکار کسی چیز کو برا جاننا یعنی ان کے خلاف میری ناگواری جو بصورت نزول عذاب ہوگی (ان کو معلوم ہوجائے گی) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور کافروں کے لیے تہدید عذاب ہے۔ استفہام تعجب کے لیے بھی ہے اور تاکید مدعا کے لیے بھی اور جملہ سوالیہ (اگرچہ انشایہ ہے لیکن) خبریہ کی تاویل میں ہو کر کَذَّب پر معطوف ہے یعنی گزشتہ کافروں نے تکذیب کی اور ان کے خلاف میری ناگواری بہت زیادہ ہوگئی (پہلا کلام خطابی ہے اور یہ کلام بصورت غائب ہے ‘ پس) کلام کا رخ خطاب سے غائب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

(17۔ 18) یا تم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ جو آسمان میں عرش پر قائم ہے کہ وہ قوم لوط کی طرح تم پر پتھر برسا دے عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا عذاب سے ڈرانا کیسا صحیح تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۔۔۔۔: تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کے لیے پہلے لوگوں کا خیال دیکھ لو۔ عرب میں عاد وثمود ، فرعون و قارون اور قوم لوط و شعیب کے واقعات معروف تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

نکیر بھی انکاری کے معنی میں ہے یعنی یائے متکلم محذوف ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ورش نے نذیری اور نکیری میں یاء کو صول میں ثابت رکھا ہے۔ یعقوب نے دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے باقی قراء نے مصحف کی اتباع میں حذف کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–20

7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں 9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ كَذَّبَ : اور بیشک جھٹلا چکے ہیں ][ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ : وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ][ فَكَيْفَ كَان : تو (دیکھو کہ) کیسا تھا ][ نَكِيْرِ : میرا عدم عرفان ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

پھر فرمایا کہ تمہارے سامنے یہ ہمارا رسول ایمان کی دعوت پیش کرتا ہے اس کی بات مانو اور فرمانبرداری کرو۔ اس کی دعوت پر کان نہ دھرنے اور قبول نہ کرنے سے آسمان سے بھی عذاب آسکتا ہے اور زمین سے بھی جس ذات پاک کا حکم آسمانوں میں نافذ ہے کیا تم اس کی طرف سے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یہی زمین جس کو تمہارے قابو میں دیا ہے وہ اسی زمین کو تمہارے لیے ہلاکت اور عذاب کا سبب بنا سکتا ہے وہ اس زمین میں شگاف ڈال کر تمہیں اس میں دھنسانے لگے تو زمین تھرتھرا کر الٹ پلٹ ہونے لگے گی جس سے تم اس کے اندر چلے جاؤ گے اور اس ذات پاک کو یہ بھی قدرت ہے جس کا آسمان میں حکم اور تصرف جاری ہے کہ تم پر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال ﷺ امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ۝ 18 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (الملک : 18) (اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے، پھر کیسا ہوا میرا انکار۔ ) تاریخ کے حوالے سے قریش کو تہدید آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل تو آنحضرت ﷺ کا بلند کردار تھا اور قریش کی بےپناہ تکلیفوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کی ناقابلِ شکست استقامت تھی۔ لیکن جب کفار قریش نے اتنے محکم دلائل کی موجودگی میں ان حقائق کو قبول کرنے سے انکار کردیا جو آنحضرت ﷺ ان کے سامنے پیش فرماتے تھے تو اب ان کے سامنے تاریخ کی مسلمہ حقیقت پیش کی جارہی ہے جس سے انکار کرنا شاید قریش کے لیے ممکن نہ ہو کہ تمہیں اس بات کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور زمین کو تمہارے لیے فرش کے طور پر بچھایا ہے کیا اس سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانیاں کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر وہ چاہے تو نافرمانوں کو زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست ونابود کر دے۔ جس رب کے حضور تم نے قبروں سے نکل کر پیش ہونا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ زمین کو اس طرح ہلا دے کہ تمہیں زمین میں دھنسا کر رکھ دے۔ کیا تم اس ہستی سے بےپرواہ ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے وہ چاہے تو تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے تم پر پتھروں کی بارش برسائے پھر تمہیں معلوم ہو کہ اس کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (اور ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے جھٹلا یا تھا) آپ کی قوم سے پہلے فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پس میرا عذاب کیسا ہوا) میرا انکار ان پر کیسا رہا جبکہ میں نے ان کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا “ ہوا پتھروں والی جیسا کہ قوم لوط (علیہ السلام) کے ساتھ کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

یہ اس شخص کے لیے تہدید وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جماہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چناچہ فرمایا (ء أمنتم من فی السماء) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے (ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور) کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے، تمہیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ (أء منتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بےخوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسا دے۔ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے (فستعلمون کیف نذیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے گزشتہ زمانے کے منکرین و مکذبین کے انجام سے درست عبرت و بصیرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو یہ تاریخی ثبوت کا حوالہ ہے کہ قوموں کے جرائم پر آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے اور فی الواقع اور بالفعل آچکا ہے ‘ پس جو انجام کل کے ان منکروں اور سرکشوں کا ہوچکا ہے ‘ وہ آج کے ان منکروں اور سرکشوں کا بھی ہوسکتا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عام ہے ‘ بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ‘ بس آج کے ان منکروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ‘ قبل اس سے کہ یہ بھی اسی طرح کے کسی ہولناک انجام سے دوچار ہوں ‘ جس سے وہ لوگ ہوچکے ہیں والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ” نکیر “ (عذاب) دراصل اس انتقامی کارروائی کو کہتے ہیں جو کسی کے خلاف اس کے طرز عمل کو غلط اور ناپسندیدہ سمجھ کر کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:18) ولقد کذب الذین من قبلہم فکیف کان نکیر : قبلہم میں ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ پہلا کلام خطابی ہے اور اب یہ کلام بصورت غائب، یہ التفات ضمائر کفار مکہ کی مسلسل روگردانی کے پیش نظر نفرت اور ناگوارہ کے اظہار کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ والالتفات الی الغیبۃ لابراز الاعراض عنہم (روح المعانی) الذین من قبلہم سے مراد وہ قومیں ہیں جو کفار مکہ سے قبل ہو گزریں اور جنہوں نے پیغمبروں کا جھٹلایا۔ مثلا قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود ، وغیرہ۔ فکیف کان نکیر سے قبل جملہ مقدرہ ہے۔ ” تم خود دیکھ لو “ میرا انکار کیسا تھا۔ اس کی ترکین نحوی مثل کیف کان نذیر ہے۔ لغات القرآن میں جمل، روح المعانی کے حوالہ سے نکیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی عاد وثمود وغیرہ کے ساتھ جو معاملہ ہوچکا ہے اس سے عبرت پکڑو دیکھو ان کی حرکات پر ہم نے انکار کیا تھا تو وہ انکار کیسے عذاب کی صورت میں ظاہر ہو کررہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–20

[6] یعنی کافر سخت دھوکے میں ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچا لے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فریب نفس کی بدترین مثال 1: اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ۔ کہ وہ مجرموں کو سنبھلنے کی کافی مہلت دیتا ہے تاکہ تمام حجت ہوجائے ۔ اور ان کے پاس کوئی معقول عذر باقی نہ رہے ۔ وہ ڈھیل دیتا ہے ۔ اور درگزرعفو سے کام لیتا ہے ۔ تاکہ یہ اپنے طرز عمل پر غور کرسکیں مگر ان کے مزاج اس قدر بڑا ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کہ خدا ہم سے خوش ہے ۔ اور ہم اس کے عذاب سے ہمیشہ مامون اور محفوظ رہیں گے ۔ اس کا استدلال یہ ہوتا ہے ۔ کہا گر اس کو ہمارے افعال ناگوار ہوتے ۔ اور اس کے نزدیک ہم گنہگار ہوتے ۔ تو کبھی کے مٹ گئے ہوتے ۔ اور اس کے غضب نے ہمارا قصہ تمام کردیا ہوتا ۔ اب جو باوجودانکار اور کفر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) اور بلا شبہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں وہ بھی پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں پھر دیکھ لو میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔ یعنی ان پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور میں ان کی حرکات ناشائستہ پر انکار کیا پھر اس انکار کا انجام جو کچھ ہوا وہ تاریخی اعتبار سے تمہارے سامنے ہے۔ اوپر کی آیتوں میں اپنے انعامات اور احسانات کی جانب توجہ دلائی تھی ان آیتوں میں تنبیہہ فرمائی اور اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرا۔ اب آگے پھر دلائل قدرت پر توجہ دلاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے بعض نے نکیر کا ترجمہ عذاب بھی کیا ہے عام مفسرین نے انکاری علیہم سے تفسیر کی ہے لیکن اپنے اکابر میں سے بعض حضرات نے انکار ہم علی سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 7۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے، پس اگر کسی حکمت سے یہاں عذاب تل گیا تو دوسرے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے لوگوں نے جو جھٹلایا تھا تو ان کے جھٹلانے ہی کو نگاہ میں رکھو تو بات واضح ہو جائے 18 ؎ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی مخالفت شروع سے ہوتی چلی آرہی ہے اور ان کے مخالفین بھی دو ہی طرح کے رہے ہیں ایک وہ جو منکرین و معاندین تھے اور دوسرے وہ جنہوں نے بظاہر ان کو مانا اور تسلیم کیا لیکن اندر سے مخالفت کرتے رہے۔ آپ کے وقت میں بھی دونوں طرح کے مخالف موجود تھے خصوصاً مدنی زندگی میں بعض ایسے بھی تھے جو دعویٰ ایمان تو کرتے تھے لیکن آپ ﷺ کی مخالفت اور مسلمانوں کی مخالفت کا کوئی موقع بھی انہوں نے خالی نہ جانے دیا۔ یہی بات زیر نظر آیت میں کیر جا رہی ہے کہ تم لوگ پہلے نہیں جنہوں نے ہمارے رسول کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْ‌سِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ‌ (Or, have you become fearless of Him who is in the sky if He looses a violent wind with stones against you? So, you will soon come to know how was My warning! - 67:17). In other words, they at the moment feel secure that the Supreme Being in the heaven will not release against them a sudden squall of stones together with violent wind. Soon they will realise how true the Divine warning was, but by the time they realise its veracity it would be too late. Now that they are safe, sound and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 The allusion is to the communities who had belied the Messengers, who had come to them previously and consequently been afflicted with Divine punishment.

Read the full tafseer →