Al-Mulk 67:17

Al-Mulk · from ayah 17

67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ؕ— فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ ۟اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِى السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا‌ ؕ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ كَيۡفَ نَذِيۡرِ

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you feel secure that He who [holds authority] in the heaven would not send against you a storm of stones? Then you would know how [severe] was My warning.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:17

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تم پر پتھروں کی بارش برسادے ؟ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو اب جانو گے کیسا تھا میرا ڈرانا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم آسمان والے (رب) سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے؟ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ والی آندھی بھیج دے، پھر عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا اس سے نڈر ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے پھر فوراً تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دے تو تم جان لو گے کہ میرا انداز کیسا ہوتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے ہو اس سے جو کہ آسمان میں (بھی معبود و متصرف) ہے اس سے کہ وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی کوئی ہولناک ہوا، پھر تمہیں خود معلوم ہوجائے کہ کیسا تھا میرا ڈرانا (اور خبردار کرنا) ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے وہ تمہارے اوپر ہوئے تند بھیج دے ؟ سوعنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا خبردار کرنا کیسا تھا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے ڈرتے نہیں ؟ کہ تم پر پتھروں کی (بارش) ہوا چلا دے ”سو تم عنقریب جان لوگے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you feel secure that He Who is in the heaven will not let loose upon you a storm of stones? Then shall you know what My warning is like!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or, have you become fearless of Him who is in the sky if He looses a violent wind with stones against you? So, you will soon come to know how was My warning!

— Muhammad Taqi Usmani

Or, have you become fearless of Him who is in the sky if He looses a violent wind with stones against you? So, you will soon come to know how was My warning!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or do you feel secure that He, Who is over the heaven, will not send against you a Hasib Then you shall know how has been My warning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have ye taken security from Him Who is in the heaven that He will not let loose on you a hurricane? But ye shall know the manner of My warning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you feel secure that He who [holds authority] in the heaven would not send against you a storm of stones? Then you would know how [severe] was My warning.

— Saheeh International

Do you feel secure that the One in the heavens will not strike you with a sandstorm? You will soon know, with the coming of the torment, how serious Our warning was.

— Muhammad Sarwar

Or are you secure of those in the heaven that He should not send down upon you a punishment? Then shall you know how was My warning.

— Muhammad Habib Shakir

Or are ye secure that He Who is in the heaven will not send against you a whirlwind? Anon ye shall know what wise hath been My warning.

— Abdul Majid Daryabadi

Or do ye feel secure that He Who is in Heaven will not send against you a violent tornado (with showers of stones), so that ye shall know how (terrible) was My warning?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–19

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے۔ ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀) 35۔ فاطر :45) ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 26 مراد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اس زمین پر تمہارا بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ اپنے بل بوتے پر تم یہاں مزے سے نہیں دندنا رہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں گزر رہا ہے، اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا رہین منت ہے۔ ورنہ کسی وقت بھی اس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آسکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوش مادر کے بجائے قبر کا گڑھا بن جائے، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہاری بستیوں کو غارت کر کے رکھ دے۔ سورة الْمُلْک 27 تبیہ سے مراد وہ تنبیہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک کے ذریعہ سے کفار مکہ کو کی جا رہی تھی کہ اگر کفر و شرک سے باز نہ آؤ گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ۔ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والا تم پر آسمان سے پتھر برسا دے، اس وقت تمہیں اس ڈرانے کا انجام معلوم ہوگا کہ اس وقت معلوم ہونا بےسود ہوگا آج جبکہ تم صحیح سالم محفوظ ومامون ہو اس کی فکر کرو اس کے بعد پچھلی ان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کیا جن پر دنیا میں عذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان تکبر کا یہی مطلب ہے اس کے بعد پھر اصل مضمون سورت کی طرف رجوع ہے کہ ممکنات و مخلوقات کے حالات سے حق تعالیٰ کی توحید اور علم وقدرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فضائی عذاب کی دھمکی: اوپر کی آیت میں قدموں کے نیچے سے کسی عذاب کے نمودار ہو جانے کا اشارہ تھا یہ سر کے اوپر سے کسی عذاب کے آ دھمکنے کی دھمکی ہے کہ کیا تم اپنے اس خداوند سے، جو آسمان میں ہے نچنت ہو کہ وہ تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی ہوا مسلط کر دے۔ ’حَاصِبٌ‘ کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں۔ سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے اس کے متعلق استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی نقل کی ہے۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت میں اس کو ایک اہم عامل کی حیثیت حاصل رہی ہے، خاص طور پر قوم لوط تو اسی عذاب سے ہلاک ہوئی۔ قریش کو قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کردیا۔ 17۔ 2 لیکن اس وقت یہ علم، بےفائدہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

5: یعنی یہ کافر لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے من گھڑت معبود ہماری مدد کریں گے، وہ خالص دھوکے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

ء امنتم ........................ نکیر یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی بیشک زمین پر چلو پھرو اور روزی کماؤ، لیکن خدا کو نہ بھولو ورنہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر ایک سخت آندھی بھیج دے۔ یا پتھروں کا مینہ برسا دے۔ پھر تم کیا کرو گے ساری دوڑ دھوپ یوں ہی رکھی رہ جائے گی۔ 11 یعنی جس عذاب سے ڈرایا جاتا تھا وہ کیسا تباہ کن اور ہولناک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوْرُ۔ } ”کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔“ کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر زلزلہ آجائے ‘ زمین شق ہوجائے اور تم اس کے اندر دھنس جائو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

20 آسمان میں کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے اس میں محنت کرو اور جو جو فائدے اس سے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ مگر اس ذات سے بےخوف نہ ہوجانا جو تمہاری اور ان سب اشیاء کی خالق ومالک ہے۔ اسے ہر دم یاد رکھنا۔ یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی جگہ زمین کھود رہے ہو یا کان کنی میں مصروف ہو تو اس میں دھنستے ہی چلے جاؤ۔ یا زمین میں زلزلہ آجائے۔ زمین پھٹ جائے اور تم اس میں غرق ہوجاؤ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم پر ایسی سخت آندھی بھیج دے جس میں پتھر کنکر ہوں۔ اور وہ تمہارا ستیاناس کردیں۔ لہذا زمین سے اللہ کی نعمتیں حاصل کرو تو اس کا شکر بھی بجا لایا کرو اور اگر تم ناشکری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یعنی کیسا صحیح، کتنا مطابق واقعہ اور کتنا شدید ! (آیت) ” فستعلمون “۔ س سے مراد ہے کہ موت کے ساتھ ہی (آیت) ” من فی السمآء پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام امنتم . ام بمعنی ھل (استفہامیہ) ہے اور استفہام انکاری ہے۔ من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا . حاصب سنگ بار طوفان جیسا قوم لوط پر آیا تھا۔ فستعلمون . کلام سابق کے مضمون پر اس کا عطف ہے یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں اور جب تم خود عذاب کو دیکھ لو گے تو تم کو۔ کیف نذیر . میرے ڈرانے کی کیفیت معلوم ہوجائے گی مگر اس وقت جان لینا ‘ سودمند نہ ہوگا ‘ (نذیر بمعنی انذار ‘ ڈرانا)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

(17۔ 18) یا تم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ جو آسمان میں عرش پر قائم ہے کہ وہ قوم لوط کی طرح تم پر پتھر برسا دے عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا عذاب سے ڈرانا کیسا صحیح تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا : جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ ہوا ، فرمایا :(اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ) (القمر : 34)”بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی ، سوائے لوط کے گھر والوں کے ، انہیں صبح سے کچھ پہلے بچا کر نکال لیا“۔ 2۔”نذیر“ مصد رہے ، اصل میں ”نذیری“ تھا، میراڈرانا۔ یاء حذف کردی اور راء پر کسرہ باقی رہنے دیا ، ورنہ اس پر رفع ہونا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حاصباً یعنی آسمان سے پتھر برسائے جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور اصحاب فیل پر پتھر برسائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ایسی ہوا بھیجے جس میں پتھر اور سنگریزے ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا بادل بھیجے جس میں پ تھر ہوں۔ نذیر اندازی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نذیر منذر کے معنی میں ہے۔ مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے تو تم عنقریب آپ ﷺ کی صداقت اور جھٹلانے کا انجام دیکھ لو گے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–20

7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں 9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ اَمِنْتم : یا تم لوگ امن میں ہوگئے ][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ : اس سے جو آسمان میں ہے ][ ان يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ : کہ وہ بھیج دے تم لوگوں پر ][ حَاصِبًا ۭ: کنکریاں مارنے والی تند ہوا ][ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ : پھر تم جان لو گے (کہ) کیسا تھا ][ نَذِيْرِ : میرا خبردار کرنے والا ] (آیت۔ 17 ۔ 18) نَذِیْرِ اور نَکِیْرِ کی ر پر کسرہ بتارہی ہے کہ ان کے آگے یائے متکلم محذوف ہیں اور یہ دراصل نَذِیْرِیْ اور نَکِیْرِیْ ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

پھر فرمایا کہ تمہارے سامنے یہ ہمارا رسول ایمان کی دعوت پیش کرتا ہے اس کی بات مانو اور فرمانبرداری کرو۔ اس کی دعوت پر کان نہ دھرنے اور قبول نہ کرنے سے آسمان سے بھی عذاب آسکتا ہے اور زمین سے بھی جس ذات پاک کا حکم آسمانوں میں نافذ ہے کیا تم اس کی طرف سے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یہی زمین جس کو تمہارے قابو میں دیا ہے وہ اسی زمین کو تمہارے لیے ہلاکت اور عذاب کا سبب بنا سکتا ہے وہ اس زمین میں شگاف ڈال کر تمہیں اس میں دھنسانے لگے تو زمین تھرتھرا کر الٹ پلٹ ہونے لگے گی جس سے تم اس کے اندر چلے جاؤ گے اور اس ذات پاک کو یہ بھی قدرت ہے جس کا آسمان میں حکم اور تصرف جاری ہے کہ تم پر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال ﷺ امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا۝ 0 ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ۝ 17 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ اَمِنْـتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ط فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیْرِ ۔ (الملک : 17) (کیا تم بےخوف ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے، پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا انذار کیسا ہوتا ہے۔ ) فضائی عذاب کی دھمکی گزشتہ آیت کریمہ میں زمین میں دھنسانے کا ذکر تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمین پر تم رہتے ہو اور وہ تمہارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اللہ تعالیٰ کے عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ یہی زمین اور تمہارے پائوں کے نیچے کی مٹی تمہارے لیے عذاب کا عنوان بن جائے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح پائوں کے نیچے سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور زمین کو تمہارے لیے فرش کے طور پر بچھایا ہے کیا اس سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانیاں کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر وہ چاہے تو نافرمانوں کو زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست ونابود کر دے۔ جس رب کے حضور تم نے قبروں سے نکل کر پیش ہونا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ زمین کو اس طرح ہلا دے کہ تمہیں زمین میں دھنسا کر رکھ دے۔ کیا تم اس ہستی سے بےپرواہ ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے وہ چاہے تو تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے تم پر پتھروں کی بارش برسائے پھر تمہیں معلوم ہو کہ اس کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآ ئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا (کیا تم لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر ایک ہوائے تند بھیج دے) حاصبؔ: پتھر۔ نحو : ان یرسل یہ بدل الاشتمال سے بدل ہے اور اسی طرح ان یخسف ؔ بھی۔ امؔ بمعنی ھل ہے۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیْرِ (پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈر انا کیسا تھا) یعنی جب تم عذاب کو دیکھ لو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا مگر اس وقت کا علم چنداں مفید ثابت نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” پھر کفار کو ڈراتے ہوئے فرمایا ” ء امنتم من فی السمائ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے عذاب سے جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ” ان یخسف لکم الارض فاذاھی تمور “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنے اہل کے ساتھ حرکت کرے گی اور کہا گیا ہے ان کو گرا دے گی اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دھنسانے کے وقت زمین کو حرکت دیتے حتیٰ کہ وہ ان کو نیچے ڈال کر ان پر بلند ہوجاتی ہے اور لوگ ان پر گزرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ماریمور جب آئے اور جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

یہ اس شخص کے لیے تہدید وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جماہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چناچہ فرمایا (ء أمنتم من فی السماء) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے (ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور) کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے، تمہیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ (أء منتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بےخوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسا دے۔ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے (فستعلمون کیف نذیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

22 بےفکری اور لاپرواہی پر تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو غافل لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ آسمان والے سے اس بارے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں پھر وہ یکایک ہچکولے کھانے لگے ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے ‘ یعنی تم کو اس ذات اقدس و اعلیٰ کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تم کو آخرت کے اس ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی اس طرح کے کسی بھی عذاب میں ‘ کسی بھی وقت پکڑ سکتا ہے کہ وہ غفور و رحیم اور ستار و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار وقہار اور عزیز ذوانتقام بھی ہے ‘ سبحانہ و تعالی۔ٰ سو کسی کو اپنی طاقت و قوت اور اپنے ذرائع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 جیسا کہ اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر پتھرائو کیا۔9 یعنی سچ تھا یا جھوٹ ؟ لیکن تمہارا اس وقت جاننا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، لہٰذا اس وقت جو مہلت تمہیں مل رہی ہے اس سے فائدہ اٹھائو اور توبہ کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:17) ام امنتم میں ام بمعنی ہل استفہامیہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی نہیں ہونا چاہیے۔ امنتم : ماضی جمع مذکر حاضر امن (باب سمع) مصدر (ملاحظہ ہو 67:16 متذکرۃ الصدر) یرسل : مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب ارسال (افعال) مصدر وہ بھیجے، وہ بھیج دے۔ خاصبا : (منصوب بوجہ مفعول فعل یرسل کا) حصب (باب ضرب ونصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ کنکریاں اڑانے والی تیز ہوا۔ باد سنگ بار۔ سخت آندھی، حصبا کنکریاں ۔ حصب کنکر۔ ایندھن ۔ جیسے انکم وما تعبدون من دون اللہ حسب جھنم (21:98) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ فستعلمون :عاطفہ س مضارع پر داخل ہوکر اس کو خالص…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی بیشک زمین پرچلو پھرو اور روزی کماؤ، لیکن خدا کو نہ بھولو، ورنہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر ایک سخت آندھی بھیج دے یا پتھروں کامینہ برسا دے پھر تم کیا کرو گے ساری دوڑ دھوپ یوں ہی رکھی رہ جائے گی۔ (ف 4) یعنی جس عذاب سے ڈرایا جاتا تھا وہ کیسا تباہ کن ہولناک ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–20

[6] یعنی کافر سخت دھوکے میں ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچا لے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–17

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) کیا تم لوگ اس سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو جو آسمان میں بھی حکمراں اور متصرف ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوا اور کیونکر تھا۔ یعنی جس کی حکومت دونوں جہان پر یکساں ہے وہ اگر چاہے تو تم پر ایسی ہوا اور آندھی بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو۔ بہرحال اگر تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرو گے اور اس کے رسولوں کی مخالفت کرتے رہو گے تو تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ میراڈرانا کیسا تھا یعنی اگر دنیا میں کوئی عذاب عاجل نہ آیا تو مرتے ہی معلوم ہوجائیگا کہ میرا عذاب سے تم کو ڈرانا کیسا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

17 ؎ گزشتہ آیت میں زمین کی طرف سے عذاب کے اٹھ کھڑے ہونے کا ذکر تھا اور اس کے نتیجے میں ان کو غرق ہونے کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں آسمان کی طرف سے کسی عذاب کے نازل ہوجانے کا خوف دلایا جا رہا ہے اور مراد یہی ہے کہ انسانوں کو ہر لحاظ سے احکام خداوندی کی پابندی لازم ہے اور ان کو عذاب الٰہی سے نچنت ہو کر زندگی نہیں گزارنا چاہئے بلکہ قانون الٰہی کے تابع ہو کر رہنا چاہئے۔ یہ زندگی تو سب کی عارضی زندگی ہے نہ اس میں اچھوں کو باقی رہنا ہے اور نہ بروں کو لیکن اتنی بات تو یقینی ہے کہ نیک لوگ بحمد اللہ یہاں بھی سرخرو ہوں گے اور آخرت میں بھی وہ کامیاب و کامران ہوں گے اور بروں کا انجام اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْ‌سِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ‌ (Or, have you become fearless of Him who is in the sky if He looses a violent wind with stones against you? So, you will soon come to know how was My warning! - 67:17). In other words, they at the moment feel secure that the Supreme Being in the heaven will not release against them a sudden squall of stones together with violent wind. Soon they will realise how true the Divine warning was, but by the time they realise its veracity it would be too late. Now that they are safe, sound and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 The object is to impress this: " Your very survival and well-being on the earth are at alI tunes dependent upon Allah Almighty's grace and bounty: you are not strutting about on this earth at will by your own power: you are under obligation only to Allah's protection for each moment of your life that you are passing here, otherwise Allah at any moment may cause such an earthquake to occur as may make this very earth to become your grave instead of the cradle that it is, or may cause a windstorm to blow razing all your towns and settlements to the ground. " 27 "My warning": the warning that…

Read the full tafseer →