Al-Mulk 67:16

Al-Mulk · from ayah 16

67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُ ۟ۙءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِىۡ السَّمَآءِ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوۡرُۙ‏

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you feel secure that He who [holds authority] in the heaven would not cause the earth to swallow you and suddenly it would sway?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:16

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم اس سےنڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے جبھی وہ کانپتی رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم آسمان والے (رب) سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے (اس طرح) کہ وہ اچانک لرزنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے، تو اچانک وہ حرکت کرنے لگے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے پھر وہ یکایک لرزنے لگے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ وقعتا بگئٹ چل پڑے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے ہو اس سے جو کہ آسمان میں (بھی معبود و متصرف) ہے اس بات سے کہ وہ تمہیں دھنسا دے (تمہارے اپنے زیر پا افتادہ) اسی زمین میں پھر یکایک یہ (عظیم الشان کرہ) ہچکو لے کھانے لگے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے وہ کہیں تم کو زمین میں دھنسا نہ دے اور وہ تھر تھرانے لگے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو ؟ کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you feel secure that He Who is in the heaven will not cause the earth to cave in with you, and then suddenly it will begin to rock violently?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you become fearless of Him who is in the sky if He makes you sink into the earth, and it starts trembling at once?

— Muhammad Taqi Usmani

Have you become fearless of Him who is in the sky if He makes you sink into the earth, and it starts trembling at once?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you feel secure that He, Who is over the heaven, will not cause the earth to sink with you, and then it should quake

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have ye taken security from Him Who is in the heaven that He will not cause the earth to swallow you when lo! it is convulsed?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you feel secure that He who [holds authority] in the heaven would not cause the earth to swallow you and suddenly it would sway?

— Saheeh International

Do you feel secure that the One in the heavens will not cause you to sink into the earth when it is violently shaking?

— Muhammad Sarwar

Are you secure of those in the heaven that He should not make the earth to swallow you up? Then lo! it shall be in a state of commotion.

— Muhammad Habib Shakir

Are ye secure that He who is in the heaven will not sink the earth with you and then it should quake?

— Abdul Majid Daryabadi

Do ye feel secure that He Who is in heaven will not cause you to be swallowed up by the earth when it shakes (as in an earthquake)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–19

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے۔ ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀) 35۔ فاطر :45) ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 25 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ کسی آفت کے موقع پر سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے۔ کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالم بالا سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے۔ (ابو داؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ارشاد فرمایا، (آیت) ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ ، کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والات م ہیں زمین کے اندر خسف کر کے دھنسا دے اور زمین تمہیں نگل جائے یعنی اگرچہ اللہ نے زمین کو ایسا معتدل قوام دیا ہے کہ آدمی بغیر کھودے ہوئے اس کے اندر نہیں اتر سکتا، لیکن وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اس کو ایسا بنا دے کہ یہی زمین اپنے اوپر رہنے اولوں کو نگلج ائے، اس کے بعد نیا میں بسنے والوں کو ایک اور طرح کے عذاب سے ڈرایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہارے اوپر یعنی آسمان سے پتھر بھی برسا کر تمہیں ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے منکر اور نافرمان دنیا میں اس سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک مور ناتواں کے لیے اپنی ہستی پر غرور جائز نہیں: اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے! ’مُوْرٌ‘ کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت، جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ ہے، لیکن بد اعمالیوں کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے مثلاً یہ کہ انسان کو قارون کی طرح زمین میں دھنسا دیا جائے، اور زمین تھرتھرانے لگے جس کے نتیجے میں انسان زمین کے اندر اور زیادہ دھنستا چلا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

ء امنتم ........................ نکیر یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 پہلے انعامات یاد دلائے تھے۔ اب شان قہر و انتقام یاد دلا کر ڈرانا مقصود ہے یعنی زمین بیشک تمہارے لیے مسخر کردی گئی۔ مگر یاد رہے اس پر حکومت اسی آسمان والے کی ہے وہ اگر چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے۔ اس وقت زمین بھونچال سے لرزنے لگے اور تم اس کے اندر اترتے چلے جاؤ لہذا آدمی کو جائز نہیں کہ اس مالک مختار سے نڈر ہو کر شرارتیں شروع کر دے اور اس کے ڈھیل دینے پر مغرور ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوْرُ۔ } ”کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔“ کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر زلزلہ آجائے ‘ زمین شق ہوجائے اور تم اس کے اندر دھنس جائو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

18 ذَلُوْلٌ۔ ذل بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ذلول بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع ومنقاد ہوجانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کرکے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کرسکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کرسکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کرکے تجارتی فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ 19 اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل :۔ یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ یعنی کیا تم نے اپنے کو عذاب الہی کی گرفت سے محفوظ ومصؤن سمجھ لیا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو یہ مجرمانہ غفلت کیا انتہاء ہے۔ (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے یہ مراد تو ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ آسمان پر کہیں بیٹھا ہوا ہے۔ وھذا لایۃ لایمکن اجراؤھا علی ظاھرھا باتفاق المسلمین (کبیر) مراد وہ ذات اعظم ہے جس کا حکم و تصرف آسمان پر چل رہا ہے۔ تقدیر الایۃ من فی السماء سلطانہ ومل کہ قدرتہ والغرض من ذکر السمآء تفخیم سلطان اللہ تعظیم قدرتہ (کبیر) اے من ملکوتہ فی السمآء لانھا مسکن ملائکتہ ومنھا تنزل قضایاہ وکتبہ واوامرۂ ونواھیہ (مدارک) بعض نے (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے مراد آسمانی ملائکہ عذاب سے لی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–30

امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ء امنتم من فی السماء . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کیا بصورت نافرمانی ان کو اس (خدا) کے عذاب کا جو آسمان میں ہے ‘ ڈر نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روزانہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ‘ اللہ نچلے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے معافی مانگنے والا کہ میں اس کے گناہ معاف کروں (بخاری و مسلم) مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے : کون عرض کرتا ہے اس خدا سے جو نہ نادار ہے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے مکہ والو جب تم اللہ کی نافرمانیاں کر رہے ہو کیا تم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ جو آسمان میں عرش پر قائم ہے جس طرح اس نے قارون پر عذاب نازل کیا تمہیں بھی ساتویں زمین تک دھنسا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ۔۔۔۔:”تمور“ حرکت کرنے لگے ، یعنی زبردست زلزلے سے لرزنے لگے۔ (دیکھئے طور : 9) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اگرچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو، لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے ، وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے (جس طرح قارون کو دھنا دیا ، دیکھئے قصص : 81) اور چاہے تو بھونچا سے لرزنے لگے ، لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ فرما برداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔ (اشرف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس نے کہا : کیا تم اس کے عذاب سے امن میں ہو جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے امنتم من فی السماء قدرتہ و سلطانہ و عرشہ و مملکتہ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے جس کی قدرت، سلطان، عرش اور مملکت آسمان میں ہے۔ یہاں آسمان کو خاص کیا ہے جبکہ اس کی مملکت عام ہے۔ اس بات پر آگاہ کرنے کیلئے ہے الہ وہ ہے جس کی قدرت آسمانوں میں نافذ ہے نہ کہ وہ الہ ہے جس کی تم زمین میں عظمت بیان کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جبرائیل امین کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حضرت جبرائیل امین وہ فرشتہ ہے جس کے ذمہ عذاب دینا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–20

7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں 9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ءَاَمِنْتم : کیا تم لوگ امن میں (نڈر) ہوگئے ][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ : اس سے جو آسمان میں ہے ][ ان يَّخْسِفَ : (اِس سے) کہ وہ دھنسا دے ][ بِكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے ساتھ زمین کو ][ فَاِذَا هِيَ تموْرُ : پھر جب ہی وہ کپکپاتی ہو ] نوٹ۔ 2: مَنْ فِی السَّمَائِ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا، اسے قدرت ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت آندھی بھیج دے، بلندی پر جو پرندے اڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کا محافظ ہے ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ زمین جس پر تم بستے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر فرما دی ہے اس کو جیسے چاہتے ہو اپنے تصرف میں لاتے ہو نرم چیز ہے اسے کھودتے ہو بنیادیں ڈال کر گھر بناتے ہو۔ کنویں کھودتے ہو، ہل اور ٹریکٹر چلا کر کھیتی بوتے ہو، اس پر رہتے سہتے ہو، ناپاکی تک اس پر ڈالتے ہو۔ غرض یہ کہ وہ تمہارے کاموں میں آتی ہے اور تمہاری ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے تم اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال ﷺ امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ہِيَ تَمُوْرُ۝ 16 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ھِیَ تَمُوْرُ ۔ (الملک : 16) (کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین یکایک لرزنے لگے۔ ) قہروانتقام سے انسانی ہدایت پر استدلال اس سے پہلے کی آیات میں پروردگار نے انسانوں کو اپنے احسانات و انعامات کے حوالے سے اپنی ذات اور ان کی بندگی اور احتیاج کی طرف متوجہ فرمایا اور اسی طرح دوبارہ جی اٹھنے پر استدلال کیا۔ اب انسانوں کو راہ راست کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنے قہروانتقام کا حوالہ دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے تمہیں ایسی زمین عطا فرمائی ہے کہ وہ تمہارے معمولات اور تگ و تاز کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور زمین کو تمہارے لیے فرش کے طور پر بچھایا ہے کیا اس سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانیاں کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر وہ چاہے تو نافرمانوں کو زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست ونابود کر دے۔ جس رب کے حضور تم نے قبروں سے نکل کر پیش ہونا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ زمین کو اس طرح ہلا دے کہ تمہیں زمین میں دھنسا کر رکھ دے۔ کیا تم اس ہستی سے بےپرواہ ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے وہ چاہے تو تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے تم پر پتھروں کی بارش برسائے پھر تمہیں معلوم ہو کہ اس کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ ( کیا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں ہے) یعنی وہ ذات جس کی بادشاہی آسمان پر ہے۔ کیونکہ آسمان مسکن ملائکہ ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے ‘ کتب، اوامرو نواہی نازل ہوتے ہیں۔ پس گویا اس طرح فرمایا اء منتم خالق السماء و ملکہ کیا تم آسمان کے خالق و بادشاہ سے بےخوف ہوگئے ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ وہ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اسی کی طرف سے اترتے ہیں۔ پس ان کو کہا گیا انہی کے اعتقاد کو سامنے رکھ کر کہ کیا تم اس ذات سے بےخوف ہوگئے ہو جس کے متعلق تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ آسمان میں ہے حالانکہ اس کی ذات تو مکان سے بلند وبالا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا “ نرم کہ اس کی نرمی کی وجہ سے اس پر چلنا مشکل نہ ہو۔ ” فامشوا فی ماکبھا “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کے پہاڑوں میں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کے ٹیلوں میں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کے راستے اور وادیوں میں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کے سبل میں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کے اطراف میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کے ارد گرد۔ فراء فرماتے ہیں اس کے جوانب میں اور اصل کلمہ میں جانب ہے اور اس سے ” منکب الرجل “ آدمی کا کندھا ” الریح النکبائ “ اور ” تنکب فلان “ کے جملے ہیں۔ ” وکلوا من رزقہ “ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین میں رزق پیدا کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

یہ اس شخص کے لیے تہدید وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جماہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چناچہ فرمایا (ء أمنتم من فی السماء) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے (ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور) کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے، تمہیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ (أء منتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بےخوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسا دے۔ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے (فستعلمون کیف نذیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

22 بےفکری اور لاپرواہی پر تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو غافل لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ آسمان والے سے اس بارے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں پھر وہ یکایک ہچکولے کھانے لگے ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے ‘ یعنی تم کو اس ذات اقدس و اعلیٰ کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تم کو آخرت کے اس ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی اس طرح کے کسی بھی عذاب میں ‘ کسی بھی وقت پکڑ سکتا ہے کہ وہ غفور و رحیم اور ستار و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار وقہار اور عزیز ذوانتقام بھی ہے ‘ سبحانہ و تعالی۔ٰ سو کسی کو اپنی طاقت و قوت اور اپنے ذرائع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی بھونچال سے لرزنے لگے… پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے … مطلب یہ ہے کہ زمین کوچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے اور چاہے تو بھونچال سے لرزنے لگے۔ لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ تابعداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:16) ی امنتم من فی السماء ہمزہ استفہامیہ ہے استفہام انکاری ہے۔ یعنی نڈر نہ ہونا چاہیے۔ امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امن (باب سمع) مصدر ۔ تم امن میں ہوئے تم مطمئن ہوگئے۔ تم نڈر ہوگئے۔ من اسم موصول ۔ فی السمائ۔ صلہ۔ من محل نصب میں ہے بوجہ امنتم کے مفعول ہونے کے۔ کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے۔ ان یخسف بکم الارض : ان مصدریہ۔ یخسف مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا۔ دھنسا دینا۔ کہ وہ تم کو دھنسا دے۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا یا دھنسانا۔ خسف سے بطور استعارہ ۔ ذلت بھی مراد ہوتی ہے۔ مثلا تحمل زید خسفا۔ زید نے ذلت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) پہلے انعامات یاد دلائے تھے اب شان قہر وانتقام یاد دلا کر ڈرانا مقصود ہے یعنی زمین بیشک تمہارے لیے مسخر کردی گئی مگر یاد رہے اس پر حکومت اسی آسمان والے کی ہے ، وہ اگر چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے اس وقت زمین بھونچال سے لرزنے لگے اور تم اس کے اندر اترتے چلے جاؤ، لہذا آدمی کو جائز نہیں کہ اس مالک ومختار سے نڈر ہوکر شرارتیں شروع کردے، اور اس کے ڈھیل دینے پر مغرور ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–17

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) کیا تم اس سے نڈر اور بےخوف ہگئے ہو جو آسمان میں بھی حکمراں اور متصرف ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین یکایک لرزنے لگے۔ یعنی آسمان اس کی سلطنت اور اس کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی حکومت صرف آسمان میں ہے بلکہ حکومت اس کی جس طرح زمین میں ہے اسی طرح آسمان میں ہے۔ من فی السماء یا تو حضرت حق تعالیٰ کی علوشان کی وجہ سے آسمان کی جانب نسبت فرمائی یا اس وجہ سے کہ عام کافر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اس کی طرف سے اترا کرتے ہیں۔ اس لئے من فی السماء فرمایا ہم نے تیسیر میں بھی حکمراں متصرف کے تفسیری الفاظ بڑھا کر ان تمام شبہات کو دفع کردیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 4۔ چناچہ وہ تمہارے تصرفات کی قابلیت رکھتی ہے۔ 5۔ پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو کہ ایمان وطاعت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم اللہ رب کریم سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا ہی نہ دے 16 ؎ (تمور) کا ہے (تمور) ترتج و تھتز زمین کے ہچکولے کھانے اور تھرتھرانے کو کہتے ہیں اور یہ صورت وہاں کے لوگوں سے پوچھو جہاں کے لوگ سخت زلزلہ سے کبھی دوچار ہوئے ہوں۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قمر و جلال کی اطلاع دی ہے اور اس طرح لوگوں کو ڈرایا ہے کہ تم اچھے بھلے جب اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے ہو تم نے کبھی نہیں دیکھا کہ اچانک اندر ہی کے مادوں کی حرکت کے باعث زمین کس طرح کانپ جاتی ہے اور ایک حصہ زمین پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کا سب کانپ کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو عام زلزلہ ہی ہوتا ہے اگر یہ زلزلہ ذرا شدید ہوجائے تو پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ (Have you become fearless of Him who is in the sky if He makes you sink into the earth, and it starts trembling at once?...67:16). It means: Though Allah has granted the earth such a balanced infrastructure that man cannot go into it without digging, yet Allah has the power to make the earth swallow up all the communities living on its surface. The next verse warns people of another type of punishment:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 This does trot mean that Allah lives in the heavens, but it has been so said because man naturally looks up to the heaven whenever he wants to turn to Allah, raises his hands heavenward in prayer and implores Allah turning his eyes up to heaven whenever he finds himself helpless in an affliction. Then whenever a calamity befalls him suddenly, he says it has descended from heaven; whenever something unusual happens, he says it has come from heaven; and he calls the Books revealed by Allah as heavenly Books. Accordingly to a tradition-in Abu Da'ud, a person came before the Holy Prophet with…

Read the full tafseer →