Al-Mulk 67:15

Al-Mulk · from ayah 15

67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ؕ— وَاِلَیْهِ النُّشُوْرُ ۟هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِىۡ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِهٖ‌ؕ وَاِلَيۡهِ النُّشُوۡرُ

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہو) رزق کھاؤ اور تم کو اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who made the earth tame for you - so walk among its slopes and eat of His provision - and to Him is the resurrection.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:15

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہو) رزق کھاؤ اور تم کو اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کردیا ہے، لہذا تم اس کے مونڈھوں پر چلو پھرو، اور اس کا رزق کھاؤ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وُہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم و مسخر کر دیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو، اور اُس کے (دئیے ہوئے) رِزق میں سے کھاؤ، اور اُسی کی طرف (مرنے کے بعد) اُٹھ کر جانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع بنادیا، سو اس کے کندھوں پر چلو اور اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف (دوبارہ) اٹھ کر جانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے تابع کر رکھا ہے اس کی اطراف میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ اور اسی کے پاس تمہیں زندہ ہو کرجانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرمانبردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے بر تو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے رام کردیا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو پس تم لوگ چلو (پھرو) اس کے کندھوں پر اور کھاؤ (پیو) اس (وحدہ لاشریک) کے دیئے ہوئے میں سے اور (یاد رکھو کہ آخرکار تم سب کو) بہر حال اسی کے حضور جانا ہے دوبارہ زندہ ہو کر

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کردیا تو تم اس کے راستوں میں چلو پھر و اور اللہ کی (دی ہوئی) روزی میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی کے پاس زندہ ہو کر جانا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین اور اس کے (دیے ہوئے) رزق سے کھائو پیو اور (یاد رکھو کہ تم نے) اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کیا تم اس کی راہوں میں چلو پھر و اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور تم کو قبروں سے نکل کر اسی کے پاس جانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who made the earth subservient to you. So traverse in its tracks and partake of the sustenance He has provided. To Him will you be resurrected.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has made the earth subjugated for you, so walk on its shoulders, and eat out of His provision, and to Him is the Resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has made the earth subjugated for you, so walk on its shoulders, and eat out of His provision, and to Him is the Resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who has made the earth subservient to you; so walk in the paths thereof and eat of His provision. And to Him will be the resurrection.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath made the earth subservient unto you, so Walk in the paths thereof and eat of His providence. And unto Him will be the resurrection (of the dead).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who made the earth tame for you - so walk among its slopes and eat of His provision - and to Him is the resurrection.

— Saheeh International

It is He who has made the earth subservient to you. You walk through its vast valleys and eat of its sustenance. Before Him you will all be resurrected.

— Muhammad Sarwar

He it is Who made the earth smooth for you, therefore go about in the spacious sides thereof, and eat of His sustenance, and to Him is the return after death.

— Muhammad Habib Shakir

He it is Who hath made the earth Unto you subservient, so go forth in the regions thereof, and eat of His provision. And Unto Him is the Resurrection.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who has made the earth manageable for you, so traverse ye through its tracts and enjoy of the Sustenance which He furnishes: but unto Him is the Resurrection.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 23 یعنی زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہوگیا، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کرہ ایسا پرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوان نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بےحدو حساب سرو سامان موجود ہے۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کردینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں۔ (تشریح کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا۔ ذلول کے لفظی معنی منقاد و مطیع کے ہیں اس جانور کو ذلول کہا جاتا ہے جو سواری دینے میں شوخی نہ کرے۔ مناکب، منکب کی جمع ہے مونڈھے کو کہتے ہیں۔ کسی بھیج انور کا مونڈھا سواری کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ اسکی کمر یا گردن ہوتی جو جانور سوار ہونے والوں کے لئے اپنے مونڈھے بھی پیش کردے وہ بہت ہی مطیع و منقاد اور مسخر ہو سکتا ہے اس لئے فرمایا کہ زمین کو تمہارے لئے ہم نے ایسا مخسرو مطیع بنادیا ہے کہ تم اس کے مونڈھیوں پر چڑھتے پھرو۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام بخشا ہے کہ نہ تو پانی کیر طح سیال اور بہنے والا ہے نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زمین کے آثار ربوبیت کی طرف اشارہ: اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکمت سے استشہاد کیا تھا یہ زمین کے آثار ربوبیت سے قیامت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نہایت مطیع و فرماں بردار بنایا ہے کہ تم اس کی بلندیوں اور پستیوں، اس کی وادیوں اور کوہساروں میں چلو پھرو اور اس میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو رزق پھیلا رکھا ہے اس سے بہرہ مند ہو اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ ایک دن اسی کے حضور میں سب کو اکٹھے ہونا ہے۔ لفظ ’ذَلُوْلٌ‘ اور ’مَنَاکِبُ‘ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں ایک تمثیل مضمر ہے۔ یعنی اس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اس کے اندر جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کردیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو۔ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھوالذی .................... النشور ” لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اس زمین پر رہتے رہتے اور اس زمین پر ان کو ہر قسم کی رہائشی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ، اس میں چلنے پھرنے کی قدرت اور اس کی مٹی ، پانی ، ہوا اور دوسرے خزانوں پر دسترس کی وجہ سے اور اس کی تمام پیداوار استعمال کرنے کی وجہ سے ، لوگ یہاں کی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ بات تک بھول گئے ہیں کہ اللہ نے اس کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کی دسترس میں دے دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو۔ چناچہ ہر دور میں لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق تسخیر کائنات کے مفہوم کو سمجھا۔ ایک مسخر زمین ، ابتدائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی زمین کو تمہارے سامنے کیسا پست و ذلیل و مسخر و منقاد کردیا کہ جو چاہو اس میں تصرف کرو تو چاہے کہ اس پر اور اس کے پہاڑوں پر چلو پھرو اور روزی کماؤ، مگر اتنا یاد رکھو کہ جس نے روزی دی ہے اسی کی طرف پھر لوٹ کر جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا } ”وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست“ اس نے زمین کو تمہارے ماتحت اور تابع حکم کر رکھا ہے۔ { فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا } ”تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین“ زمین کے کندھوں سے مراد اس کے وہ میدان ہیں جو انسان کو بہت وسیع اور کشادہ نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک چیونٹی اگر ہاتھی کے کندھوں کے درمیان چل پھر رہی ہوگی تو ظاہر ہے اس جگہ کو وہ بہت وسیع میدان سمجھے گی۔ { وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖط وَاِلَـیْہِ النُّشُوْرُ۔ } ”اور اس کے دیے ہوئے رزق سے کھائو پیو ‘ اور یاد رکھو کہ تم نے اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

18 ذَلُوْلٌ۔ ذل بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ذلول بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع ومنقاد ہوجانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کرکے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کرسکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کرسکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کرکے تجارتی فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ 19 اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل :۔ یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ بندوں کو ترغیب ہے کہ زمین سے جو چاہوکام لو، جس طرح چاہو رہو سہو، بس صرف اتنا یاد رہے کہ تم بندے ہو، خدا نہیں ہو، خود مختار ومطلق العنان نہیں ہو، خدا کے قانون کے محکوم وپابند ہو اور اسی کے سامنے اپنے ہر عمل کے جوابدہ ہو، (آیت) ” من رزقہ “۔ یاددلادیا کہ جو کچھ تمہیں کھانے پینے کو مل رہا ہے یہ سب حق تعالیٰ کا ہی عطیہ تو ہے۔ (آیت) ” ھو ..... ذلولا “۔ یہ ارشاد ہوا کہ زمین میں تمہارے لئے ہر قسم کے تصرفات کی اہلیت رکھ دی گئی ہے، تم تو خود اس پر حاکم و متصرف ہو، الٹے اسی کو دیوی سمجھ لینا کیسی حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر نرم، اس پر چلنے کے قابل کر رکھا ہے تاکہ تم اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور خدا کی روزی میں سے جس کو اس نے تمہارے لئے پیدا کیا، کھائو، اور قبروں میں سے جزاء کے لئے اسی کی طرف اٹھ کھڑا ہونا ہے، کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ؟ (اامنتم) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ، اور مسہلہ اور غیر مسہلہ کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے، اور اس کو الف سے بدل کر، کہ آسمان والا یعنی آسمان میں جس کی سلطنت اور قدرت ہے تم کو زمین میں دھنسا دے (ان یخسف) من سے بدل ہے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یعنی تم کو لے کر تھرتھرانے لگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی . اللہ کی ندرت آگیں صنعت اس کے علم اور اس کی قدرت کی ہمہ گیری کو ظاہر کر رہی ہے لیکن کافر جاہل ہیں ‘ وہ اس سے ناواقف ہیں پھر اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی نعمتیں اداء شکر کی مقتضی ہیں لیکن کافر ناشکرے ہیں ‘ نعمت کا تقاضا پورا نہیں کرتے ‘ آئندہ آیات میں کافروں کی اس جہالت اور بد اطواری پر تنبیہ کرنے کے لیے اپنی حیرت آفریں صنعت کو بیان فرمایا ہے۔ جعل لکم الارض ذلولا . ذلول بمعنی سہل یعنی اللہ نے تمہارے لیے زمین کو ایسا بنا دیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکتے ہو ‘ ایسا (نرم اور سخت) نہیں کہ چلنا پھرنا ناممکن ہو۔ المناقۃ الذلول فرمانبردار ‘ سرکشی نہ کرنے والی اونٹنی کو کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ ایسا ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے پہاڑوں کے ساتھ مسخر کردیا، سو تم اس کے رستوں، گوشوں، پہاڑوں اور کونوں میں چلو پھرو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کے پاس آخرت میں جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا۔۔۔۔:”دلولا“ جو تمہارے تابع ہوجائے ، سرکشی نہ کرے۔ یہاں لے۔ یعنی تم اس پر چل پھر سکتے ہو اور اسے کام میں لاسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑ گاڑ کر اسے ہر وقت زلرلے کی حالت میں رہنے سے محفوظ کردیا ، تا کہ تم سکون سے رہ سکو۔ اسے لوہے کی طرح سخت نہیں بنایا ، ورنہ نہ اس سے کچھ اگتا ، نہ عمارتیں بنتیں ، نہر نہریں یا کنویں کھودے جاسکتے اور نہ انسان اور جانوروں کے رزق کا انتظام ہوتا اور اسے ضرورت سے زیادہ نرم بھی نہیں بنایا ، ورنہ سب کچھ اس کے اندر دھنس جاتا۔ مشرک اقوام کی کم عقلی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو انسان کے تابع کیا ، انہوں نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا یعنی نرم جس پر تم قرار پذیر ہوتے ہو۔ ذلول ایسے مطیع کو کہتے ہیں جو تیرے لئے نرمی کرتا ہے اس کا مصدر ذل ہے جس کا معین نرمی اور اطاعت کرنا ہے یعنی زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ اس کی سختی کی وجہ سے اس میں چلنا ممکن نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے پہاڑوں کے ساتھ مضبوط کردیا تاکہ وہ اپنے مکینوں کے ساتھ جھک ہی نہ جائے۔ اگر یہ ایک طرف جھکنے والی ہوتی تو یہ ہمارے لئے مطیع نہ ہوتی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اس امر یک طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں کھیتی اگانا، درخت لگانا، چشموں کا پھوٹ پڑنا، نہریں نکالنا اور کنوئیں کھودنا ممکن ہے۔ فامشوا فی مناکبھا امراباحت کے لئے ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہ سے مراد ہے زمین کے پہاڑ۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف۔ 3۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بشیر بن کعب (رح) نے یہ آیت پڑھی آیت فامشوا فی مناکبہا چلو تم اس کے اطراف میں۔ اور اپنی باندی سے فرمایا اگر تو یہ بتادے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں پھر تو اللہ کے لیے آزاد ہے اس نے کہا زمین کے مناکب اس کے پہاڑ ہیں پھر انہوں نے ابودرداء ؓ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر ایسی چیز کو اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔ 4۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ : وہ، وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ][ ذَلُوْلًا : رام (تابعدار) کی ہوئی ][ فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا : پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں (راستوں) میں ][ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ: اور کھائو اس (اللہ) کے رزق میں سے ][ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ : اور اس ہی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 15) ئِ زْقِہٖ کی ضمیر ھُوَ الَّذِیْ کے لیے ہے۔ اگر اَلْاَرْضَ کے لیے ہوتی تو رِزْقَھَا آتا۔ نوٹ۔ 1: فرمایا کہ زمین کو تمہارے لیے ہم نے ایسا مطیع بنادیا کہ تم اس کے مونڈھوں (کندھوں) پر چڑھتے پھرو۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام (مادہ) بخشا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا، اسے قدرت ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت آندھی بھیج دے، بلندی پر جو پرندے اڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کا محافظ ہے ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ زمین جس پر تم بستے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر فرما دی ہے اس کو جیسے چاہتے ہو اپنے تصرف میں لاتے ہو نرم چیز ہے اسے کھودتے ہو بنیادیں ڈال کر گھر بناتے ہو۔ کنویں کھودتے ہو، ہل اور ٹریکٹر چلا کر کھیتی بوتے ہو، اس پر رہتے سہتے ہو، ناپاکی تک اس پر ڈالتے ہو۔ غرض یہ کہ وہ تمہارے کاموں میں آتی ہے اور تمہاری ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے تم اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” ھو الذی جعل “ یہ چوتھی دلیل عقلی خاص ہے۔۔ اوپر کا حال تو دیکھ لیا اچھا اب نیچے کی طرف دیکھو۔ یہاں ” ذلولا “ مدار کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے اس زمین کو تمہارے لیے عاجز بنا دیا ہے کہ اس کی راہوں میں چلتے ہو اور اس میں پیدا ہونے والا رزق کھاتے ہو اور پھر آخر اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے جس نے زمین کو ذلول بنایا وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ ذلول، یعنی نہ ایسی سخت اور درشت کہ پاؤں کو چھیل ڈالے اور نہ ایسی نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جائیں۔ ” الیہ النشور “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–22

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِہَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۝ 0 ۭ وَاِلَيْہِ النُّشُوْرُ۝ 15 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلاً فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔ (الملک : 15) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع بنا رکھا ہے تو تم اس کے کندھوں پر چلو پھرو اور کھائو اس کی دی ہوئی روزی، پھر اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے مزید احسانات کا ذکر اس سے پہلے سورة کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عجائباتِ قدرت و حکمت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے آسمان کی حیرت انگیز صنعت اور نگاہوں کو خیرہ کردینے والے حسن و جمال کا ذکر کیا تھا۔ اس سے ایک طرف اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال پر استشہاد کیا اور دوسری طرف اپنے احسانات کے حوالے سے اپنی کبریائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے انسان کو پیدا کیا ہے اسی نے انسان کے لیے زمین کو بنایا اور بچھایا ہے۔ اس سورت کی آیت 3 تا 5 میں آسمانوں کی تخلیق، تزئین اور حفاظت کا ذکر فرماکر انسان کو یہ حقیقت یاد کرائی گئی ہے کہ جس خالق نے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اور جو رب لوگوں کے دلوں کے جذبات کو جانتا ہے اس نے ہی زمین کو اس قابل بنایا ہے تاکہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اپنے رازق کا رزق کھاؤ اور یاد رکھو ! کہ تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہاں زمین کے لیے ” ذَلُوْلًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی نر م ہے۔ بیشک زمین میں پہاڑ اور چٹانیں بھی پائی جاتی ہیں مگر اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انعاماتِ الٰہیہ : 15 : ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا (وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا) ھو سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ذلولا (نرم اور سہل) ایسی تابع کہ اپنے اوپر چلنے سے نہیں روکتی۔ فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا (پس تم اسکے رستوں میں چلو) مناکب (جوانب و اطراف) استدلال کرتے ہوئے اور رزق کو طلب کرنے کیلئے چلو۔ نمبر 2۔ مناکب کا معنی پہاڑنمبر 3۔ راستے۔ وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ (اور اللہ تعالیٰ کی روزی میں سے کھائو) جو اس میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق ہے۔ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ (اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے) اسی کی طرف تم نے اٹھ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” الا یعلم من خلق “ کیا نہیں جانتا دلوں کے حال جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ ” وھوا للطیف الخیر “ اس کا علم لطیف ہے دلوں میں اور دلوں میں راز اور وسوسے ہیں ان سے باخبر ہے اور کہا گیا ہے ” من “ مخلوق کی طرف لوٹتا ہے۔ یعنی کیا اللہ اپنی مخلوق کو نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کردیا اور اسے تمہارا مطیع کردیا تکاہ تم اس میں سے ہر وہ چیز حاصل کرسکو جس سے تمہاری حاجات متعلق ہیں۔ باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمہیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں (فامشوا فی مناکبھا) پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو یعنی طلب رزق ومکاسب کے لیے (وکلوا من رزقہ والیہ النشور) اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 بچھونہ ارضی میں سامان غور و فکر کی طرف راہنمائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک وہی ہے جس نے تمہارے لئے رام کردیا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو۔ جس کے باعث تم لوگ اس کی خیرات و برکات سے ہمیشہ اور لگاتار مستفید ہوتے اور اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ‘ ذلول کے اصل معنی مطیع و منقاد کے آتے ہیں اس لئے ہم نے رام کرنے کے لفظ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ‘ واللہ الموفق اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکتم کا ذکر تھا اور اب اس سے زمین کے اندر پائے جانے والے آثار رحمت و ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے ‘ جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پائے جاتے ہیں۔ سو اس بچھونہ ارضی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–30

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ” ذلولا “ کے لفظی معنی ہیں ذلیل سخر اور تابعدار ملائم بنادیا ہے کہ تم جیسے چاہو اسے کھو دو ، اس میں راستے بنائو اور اس کی مٹی سے کچی اور پکی عمارتیں تعمیر کرو وغیرہ5 ” مناکب “ کے لفظی معنی ” کندھوں “ کے ہیں۔ مراد زمین کے راستے، اطراف اور پہاڑ ہیں۔ یعنی تین طرف چاہو سفر کرو، کسب و تجارت کے لئے چلو پھرو۔6 یعنی کھائو پیئو مگر آزادی سے نہیں بلکہ سمجھتے ہوئے کہ آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:15) ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا : الارض مفعول اول۔ فعل جعل کا ذلولا مفعول ثانی، لکم متعلق فعل۔ ذلولا سیغہ صفت مشبہ۔ ذلل جمع : ذل وذل مصدر۔ پست، نرم ، ہموار مطیع۔ یعنی اللہ نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنادیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکو۔ جعل بسیط ایک مفعول چاہتا ہے اس وقت بمعنی خلق ہوگا۔ جعل مرکب دو مفعول کو چاہتا ہے اس وقت بمعنی صیر ہوگا۔ پہلی صورت میں ذلولا حال ہوگا الارض سے۔ فامشوا فی مناکبھا :ترتیب کے لئے ہے ای لترتیب الامر بالمشی : امشوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ مشی باب ضرب مصدر۔ بمعنی چلنا۔ تم چلو پھرو۔ مناکبھا۔ مضاف مضاف الیہ، نکب مادہ سے منکب بمعنی کندھا ۔ (جمع مناکب بمعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–24

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی زمین کو تمہارے سامنے کیساپست و ذلیل اور مسخر ومنقاد کردیا کہ جو چاہو اس میں تصرف کرو، تو چاہیے کہ اس پر اور اس کے پہاڑوں پرچلو پھرو، اور روزی کماؤ، مگر اتنا یاد رکھو کہ جس نے روزی دی ہے اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–17

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) وہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہے کہ جس نے تمہارے نفع کے لئے زمین کو مطیع مسخر اور فرماں بردار کردیا سو اب اس کے کندھوں یعنی اس کے راستوں میں اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا اور اٹھنا ہے۔ یعنی زمین کو باوجود اس کی اتنی وسعت وپنہاں کے تمہارا تابعدار کردیا کہ جس طرح چاہتے ہو اس کو استعمال کرتے ہو۔ اس کی معدنیات کو اپنے کام میں لاتے ہو، کھیتی باڑی کے لئے ہل چلاتے ہو اس کی نباتات سے فائدہ حاصل کرتے ہو اس پر ہر قسم کی تعمیر کرتے ہو اور مویشی کو جس طرح چاہتے ہو کام میں لاتے ہو غرض اس عالم کی ایک بہت بڑی طاقت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 4۔ چناچہ وہ تمہارے تصرفات کی قابلیت رکھتی ہے۔ 5۔ پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو کہ ایمان وطاعت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی ہے جس نے زمین کو ایسا نرم بنا دیا کہ تم جو کام اس سے لیتے ہو وہ دیتی چلی جاتی ہے 15 ؎ (ذلولا) صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور اس کا مادہ ذل ل ہے ذلول رام ، نرم ، مطیع اور ہموار پست۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نہایت نرم ، مطیع اور فرمانبردار بنا دیا ہے کہ تم اپنی مرضی کے مطابق جو کام اس سے لینا چاہتے ہو وہ دیین چلی جاتی ہے۔ (مناکبھا) جمع منتہی الجموع مضاف ھا ضمیر واحد مونث مضاف الیہ منکب واحد اس کے اطراف و جوانب کیونکہ منکب کے اصل معنی جانب ہی کے ہیں اس لئے آدمی کے کندھوں کو بھی منکبین کہتے ہیں نکب اور نکوب پھرجانا ، مڑ جانا اور نکبہ رنج اور سخیی کو کہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ ذَلُولًا (He is the One who has made the earth submissive for you ...67:15) The word dhalul signifies 'submissive'. When dhalul is used for an animal, it means that it is not insolent when someone is riding it. The word manakib is the plural of mankib, which means 'shoulder', which in animals refer to the upper part of their front legs. Normally, this is not the part of the animals where a rider would sit to ride them. Their back or neck is involved in riding. But an animal that offers its shoulders as well to the riders is very obedient and submissive.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 That is, "This earth has not become subdued for you of its own accord, and the provisions also that you are eating have not become available here by themselves, but AIlah has so arranged it by His wisdom and power that your life became possible here and this splendid globe became so peaceful that you are moving about on it with full peace of mind, and it has become such a vast table spread with food that it contains endless and limitless provisions for your sustenance. If you are not lost in heedlessness and look about yourself intelligently you will find how much wisdom underlies the…

Read the full tafseer →