Al-Mulk 67:14

Al-Mulk · from ayah 14

67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ— وَهُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۟۠اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Does He who created not know, while He is the Subtle, the Acquainted?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:14

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا جس نے پیدا کیا وہی نہ جانے ؟ جبکہ وہ بہت باریک بین، مکمل طور پر باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ بڑا باریک بین (ہر چیز سے) خبردار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا وہ نہ جانے گا جس نے (سب کو) پیدا کیا ہے ؟ وہ تو باریک بین اور ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ نہ جانے لگا جس نے پیدا کیا ہے تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا وہی نہ جانے گا جس نے خود پیدا کیا ہے ؟ جب کہ وہ (ذات اقدس) انتہائی باریک بیں بھی ہے اور نہایت باخبر بھی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا وہی آگا نہ ہوگا جس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ تو (بڑا ہی) باریک بین اور (پورا) باخبر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ بہت باریک بین ہے ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Would He not know, He Who has created, when He is All-Subtle, All-Aware?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it (imaginable) that He who has created (them) will not have (such a) knowledge, while He is the Knower of the finest things, the All-Aware?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it (imaginable) that He who has created (them) will not have (such a) knowledge, while He is the Knower of the finest things, the All-Aware?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Should not He Who has created know And He is the Most Kind and Courteous, All-Aware.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Should He not know what He created? And He is the Subtile, the Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Does He who created not know, while He is the Subtle, the Acquainted?

— Saheeh International

Does the One Who is Subtle, All-aware, and Who created all things not know all about them?

— Muhammad Sarwar

Does He not know, Who created? And He is the Knower of the subtleties, the Aware.

— Muhammad Habib Shakir

Shall not He Who hath created know? And He is the Subtile, the Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

Should He not know,- He that created? and He is the One that understands the finest mysteries (and) is well-acquainted (with them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 21 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا " ؟ اصل میں من خلق استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی " جس نے پیدا کیا ہے " بھی ہو سکتے ہیں، اور " جس کو اس نے پیدا کیا ہے " بھی۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ یہ دلیل اس بات کی جو اوپر کے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بیخبر ہو ؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بیخبر ہو سکتی ہے، مگر خالق اس سے بیخبر نہیں ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–14

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے یا اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب وہ تمہارا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ناواقف ہو۔ جس نے تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کو وجود بخشا اور جس کے حکم سے ساری مشینری حرکت کر رہی ہو وہ اپنی مخلوق کی کسی نقل و حرکت سے کس طرح بے خبر رہ سکتا ہے! ’وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ ’لَطِیْفٌ‘ کے معنی، جیسا کہ جگہ جگہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے، باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ فرمایا کہ حقیقی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بےعلم رہ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الا یعلم من خلق (76 : 41) ” کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا “۔ وھو ................ الخبیر (76 : 41) ” حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “۔ اس کا علم بہت ہی باریکی اور تاریکی تک پہنچا ہواہوتا ہے۔ ہر خقی ومستور بھی اس کے علم میں ہے۔ جو لوگ اپنی کوئی حرکت اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا باتیں اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا دل کی نیت کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو نیت ہے ، وہ ایک مضحکہ خیز سوچ رکھتے ہیں۔ جس ضمیر میں وہ بات چھپاتے ہیں وہکس کے ہاتھ میں ہے ؟ وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کے اندر ابھرنے والی سوچ کی تمام لہروں کو وہ جانتا ہے۔ نیت و ارادہ بھی اللہ کی مخلوقات کا حصہ ہے۔ اور اس کو بھی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تمہارا اور تمہارے افعال و اقوال ہر چیز کا خالق و مختار وہ ہے اور خالق و مختار جس چیز کو پیدا کرے ضروری ہے کہ اس کا پورا علم اسے حاصل ہو، ورنہ پیدا کرنا ممکن نہیں، پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ جس نے بنایا وہ ہی نہ جانے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ } ”کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟“ یہ آیت اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ ہم میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دعوت کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق دی ہے ‘ انہیں ایسی آیات ازبر ہونی چاہئیں۔ ایک شخص نے اگر گھڑی بنائی ہے تو ظاہر ہے اس سے بڑھ کر بھلا اور کون اس گھڑی کے بارے میں جان سکتا ہے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ جو انسان کا خالق ہے ‘ اس سے اس کے ظاہر اور باطن کا کوئی پہلو بھلا کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے ! { وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔ } ”اور وہ بہت باریک بین ہے ‘ ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص کسی چیز کو پیدا کرتا یا بناتا یا وجود میں لاتا ہے۔ جتنا وہ اس چیز سے واقف ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر وہ انسان کے افعال و اعمال حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادہ سے ناواقف اور بیخبر کیسے رہ سکتا ہے۔ اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا اللہ کو یہ بھی علم نہیں کہ اس نے کون کون سی چیزیں پیدا کی ہیں ؟ 17 لطیف کا لغوی مفہوم :۔ لَطِیْفٌ۔ لطف کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں، (1) رقت نظر اور (2) نرمی۔ اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی رقت نظر یا باریک بینی یا راز اور چھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

10۔ ان مشرک جاہلی قوموں کی حماقت پر تعریض ہے جو ایک طرف خدا کو خدا بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے علم کو ناقص اور جزئیات پر غیر حاوی بھی تسلیم کرتے ہیں ! (آیت) ” الطیف۔ لطیف “۔ سے مراد ہے بڑی بڑی نازل ودقیق حکمتوں اور تدبیروں والا۔ یراد بہ دقائق تدبیر لھم وفیھم (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–14

ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر یہ اہل کفر کی تکذیب کے مقابل میں اہل ایمان کا اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے یہاں ملیں گی، بالغیب کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں (مظہری ملخصًا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا یعلم من خلق . یہ استفہام انکاری ہے اور نفی علم ‘ نفی ثبوت علم کی موجب ہے۔ یعنی جس نے سینوں کو اور سینوں کے اندرونی خیالات کو بلکہ ہر چیز کو پیدا کیا وہ قلبی اسرار سے ناواقف کس طرح ہوسکتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس کو اللہ نے پیدا کیا ‘ اس سے ناواقف کیونکر ہوسکتا ہے۔ (پہلی صورت میں الا یعلم کا مفعول محذوف ہے اور مَنْ فاعل ہے اور دوسری صورت میں یعلم کی ضمیر (یعنی اللہ) فاعل ہے اور مَنْ خَلَق کا مفعول ہے۔ بہرحال کلام سابق کی یہ تاکید ہے۔ وھو اللطیف الخبیر . خَلَقَ کی ضمیر سے حال ہے یعنی اللہ کا علم ہر چیز تک رسائی رکھتا ہے خواہ وہ چیز ظاہر ہو یا باطن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور بھلا کیا وہ خفیہ باتوں کو نہیں جانے گا جس نے خفیہ باتوں کو پیدا کیا اور وہ باریک بین اور پورا باخبر ہے، یا یہ کہ اس کا علم نیکی اور برائی ہر ایک چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ہر ایک چیز سے باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ۔۔۔۔: یہ ”علیم“ ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے ، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے ، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار و اقوال نہیں جانے گا ؟ ”الصف“ کا مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

واسروا قولکم اواجھروا بہ لفظ تو امر کا ہے معنی خبر کا دے رہا ہے یعنی اگر تم حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں اپنی کلام مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو۔ ان ہعلیم بذات الصدور۔ وہ ذات پاک تو دلوں میں موجود خیر و شرکو بھی جانتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو حضرت جبرئیل امین نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں ب تا دیتے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : آہستہ بات کرو تاکہ (حضرت) محمد ﷺ کا رب سن ہی نہ لے تو یہ آیت نازل ہوئی واسروا قولکم اوجھروابہ حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں آہستہ بات کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تمام اقوال آہستہ سے کیا کرو یا اعلانیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یخشون ربہم بالغیب وہ لوگ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں سے مراد ہے ابوب کر، عمر علی اور عبیدہ بن جراح ؓ ۔ 10۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لہم مغفرۃ واجر کبیر ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے یعنی جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَ : کیا ][لَا يَعْلَمُ : نہیں جانے گا ][ مَنْ خَلَقَ ۭ: وہ جس نے پیدا کیا ][ وَهُوَ اللَّطِيْفُ : دو آنحالیکہ وہی باریک بین ہے ][ الْخَبِيْرُ : باخبر ہے ] (آیت۔ 14) اس کے بھی دو ترجمے ممکن ہیں، ایک یہ کہ ان کو حرف تنبیہ (خبردار۔ سن لو) مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ہمزہ کو استفہامیہ (کیا) مان کر اور لَا یَعْلَمُ کو فعل نفی مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا فرمایا : تیسری آیت میں فرمایا کہ تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی سب کو پیدا فرمایا، اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے جب وہ ہر چیز کا خالق ہے تو اپنی ہر مخلوق کو کیسے نہ جانے گا تمہارے احوال و اقوال بھی اس کی مخلوق ہیں اسے ان سب کا علم ہے زور سے یا آہستہ سے بات کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اسے ظاہر اور باطن کا اور ہر چیز ہر قول ہر فعل کا علم ہے اس کے احاطہ علمی سے کوئی چیز باہر نہیں تمہارا یہ خیال کرنا کہ آہستہ بات کریں گے تو وہ نہ سنے گا اور اسے ہماری بات کا علم نہ ہوگا تو ہماری گرفت بھی نہ ہوگی یہ سب تمہاری جہالت اور ضلالت یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–14

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ۝ 0 ۭ وَہُوَاللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ۝ 14 ۧ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–14

ا ؎ واسرواقولکم اواجہروابہ دلیل ہے بالغیب ڈرنے کے لئے۔ بالغیب کیوں ڈرو کس لیے کہ وہ مخفی اور ظاہر باتیں جانتا ہے پھر اور ترقی کرتا ہے۔ انہ علیم بذات الصدور کہ جواہر اور موجود فی الخارج چیزوں کے جاننے پر انحصار نہیں۔ وہ دلی خیالات سے بھی واقف ہے پھر اس پر دلیل لاتا ہے۔ الایعلم من خلق کہ وہ خالق ہے اور خالق کو مخلوق کا علم ہے معلوم ہوا کہ دلی خیالات بھی اس کے مخلوق ہیں۔ اس کے بعد اور ترقی کرتا ہے۔ وہ لطیف ہے مجردات کو غیب کی سینکڑوں باتیں معلوم ہوتی ہیں چہ جائے کہ لطیف ہو تمام مجردات اس کے آگے کثیف ہیں اور اس پر خبیر بھی ہو۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَاَسِرُّوْا قَوْلَـکُمْ اَوِ اجْھَرُوْا بِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلَیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الملک : 13، 14) (تم اپنی بات چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے علم کی ہمہ گیری خطاب تمام نوع انسانی کو ہے جس میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہوسکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ کافروں کو تہدید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جس طرح من مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا گمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–14

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اپنے رب سے ڈرگئے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے ان کا اجر۔ دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برائی سے اس لیے نہیں بچتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ملکی قانون، خاندانی روایات یا پھر معاشرے کے خوف کی وجہ سے برائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھی بات ہے اور اس کا دینا میں فائدہ ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ اجر پائیں گے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے برائی سے بچتے ہیں۔ ان سے جو گناہ بتقاضا بشریت ہوگا اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرمائے گا بلکہ انہیں اجر کبیر سے بھی ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے غائب میں ڈرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین پورا باخبر ہے) نحو : مَن یہ یعلم کا فاعل ہونے کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ کیا وہ جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی صفت لطیف وخبیر بھی ہے وہ ان کے ضمیر اور راز ہائے سینہ اور ظاہر سے واقف نہ ہوگا ؟ اللطیف اس کی صفت یہ ہے کہ وہ اشیاء کے دقائق سے واقف ہے۔ الخبیر ؔ اور اشیاء کے حقائق سے بھی آگاہ ہے۔ فائدہ : اس سے ثابت ہوا کہ اللہ اقوال کا خالق ہے پس افعال کا خالق ہونا خود ثابت ہوگیا۔ قولِ ابوبکر اصم وجعفر بن حرب : کہ مَنْؔ مفعول ہے اور فاعل مضمر ہے اور وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” واسرواقولکم اواجھروا بہ انہ علیم بذات الصدور “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کو جبرئیل (علیہ السلام) خبر کردیتے تھے تو وہ آپس میں کہتے آہستہ بات کرو تاکہ محمد ﷺ کا خدا نہ سن لے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے وسیع علم، بےپایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے، چناچہ فرمایا (واسروا قولکم اواجھروا بہ) اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر، یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس (انہ علیم بذات الصدور) وہ سینے میں چھپائی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جاسکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا (الایعلم من خلق) یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا وہ سینوں کے بھید کیونکر نہ جانتی ہوگی ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 اللہ بڑا ہی لطیف وخبیر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ انتہائی باریک بیں بھی ہے اور نہایت باخبر بھی۔ پس وہ ضرور ہی جانے گا ‘ اور بھرپور طریقے سے اور ٹھیک ٹھیک جانے گا ‘ اس لئے اس کے یہاں ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کا معاملہ بھی درست رکھنے کی فکر و کوشش کرو ‘ اللہ توفیق بخشے آمین ‘ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس سے کسی کی کوئی بھی حالت اور کیفیت مخفی اور مستور نہیں رہ سکتی ‘ کہ وہ خالق بھی ہے اور لطیف وخبیر بھی ‘ اور علیم بذات الصدور بھی ‘ سو اس میں منکرین کیلئے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ وہ حق اور اہل حق کے خلاف جو بھی کچھ کہتے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 3 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے پیدا کیا کیا وہ جانتا نہیں ہے ؟ “ پہلا صحیحہ ” من “ کو مفعول اور دوسرا ترجمہ فاعل ماننے کی صورت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:14) الا یعلم من خلق یہ استفہام انکاری ہے۔ الا خبردار ہوجاؤ۔ جان لو، سن رکھو۔ ذہن نشین کرلو۔ یعلم من خلق اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یعلم فعل بافاعل من خلق موصول اور صلہ مل کر یعلم کا مفعول ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ جانتا ہے جس کو اس نے پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف تنبیہ ہے۔ (2) من خلق فاعل ہے یعلم فعل۔ مفعول محذوف : ای من خلق یعلم ما خلق جس نے پیدا کیا وہ جانتا ہے اس نے کیا پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف استفہام ہے۔ بہرحال کلام سابق کی یہ تاکید ہے۔ وھو الطیف الخبیر : یہ جملہ خلق کی ضمیر فاعل سے حال ہے یعنی اللہ تعالٰٰ کا علم ہر چیز تک رسائی رکھتا ہے۔ خواہ وہ چیز ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ لطیف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

علم الٰہی ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین اسلام کی اور نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مذمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو، ایسانہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن پائے ، اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دل کا بھید تک معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–17

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے حالات سے بیخبر ہوسکتا ہے حالانکہ وہ بڑا باریک بیں اور پوری طرح باخبر ہے۔ یعنی بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہ جانے بھلا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ جو خالق اور مختار ہو وہ خالق و مختار جس چیز کو پیدا کرے یہ ضروری ہے کہ اس کو پورا علم اس کا حاصل ہو ورنہ پیداکرنا ممکن نہیں بھلا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے بنایا وہی نہ جانے وہ نہایت لطیف اور ہر بھید سے واقف ہے۔ حقائق نفس الامریہ کے ادراک کے لئے وہاں کوئی چیز مانع نہیں کائنات کا کوئی ذرا ایسا نہیں کہ جس کے احوال سے وہ باخبر نہ ہو آگے اپنے بعض انعامات اور دلائل توحیدکا بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

ف 3۔ حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شے کا خالق مختار ہے، پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور خلق بالاختیار مسبوق بالعلم ہوتا ہے پس علم ضروری ہوا، اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے تخصیص ذکری شاید اس بنا پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں، غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانے گا وہ تو بڑاہی باریک بیں ہے 14 ؎ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے اور کفار کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر رہی ہے اور مخالفین و معاندین سے استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ وہ ذات بھی نہیں جانتی جس نے خود انسان کی تخلیق کی ہے اور اس کے اندر جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔ اس سے زیادہ اور کون واقف حال ہو سکتا ہے۔ کائنات کی ہرچیز کا جب وہ خالق ہے اور ہرچیز میں حسب حالات مختلف صلاحیتیں اور خاصیتیں اور اثرات اسی نے تو ودیعت کئے ہیں تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ اسے اس بات کی خبر نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور اس کی دی ہوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–14

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 Another translation can be: "Would He not know His own creatures?" In the original man khalaqa has been used, which may mean: "Who has created" as well as "whom He has created, " In both cases the meaning remains the same. This is the argument for what has been said in the preceding sentence. That is, how is it possible that the Creator should be unaware of His creation? The creation may remain unaware of itself, but the Creator cannot be unaware of it. He has made every vein of your body, every fibre of your heart and brain. You breathe because He enables you to breathe, your limbs…

Read the full tafseer →