Explained with ayahs 12–15
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 20
یہ بات تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرمائی گئی ہے، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر۔ مومن کے لیے اس میں یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں۔ اور کافر کے لیے اس میں تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بےخوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…
Read the full tafseer →منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی:
یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال!
منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی…
Read the full tafseer →13۔ 1 یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔
Read the full tafseer →واسروا .................... الخبیر
تم کوئی بات خفیہ کرو یا جہرا کرو ، اللہ کو تو علم ہے۔ وہ جہر ، خفی اور دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
انہ علیم ............................ الصدور (76 : 31) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ وہ بات جو ابھی دل کو چھوڑ کر منہ پر نہیں آئی۔ کیونکہ ان باتوں کو دلوں کے اندر اس نے تو پیدا کیا ہے جس طرح دلوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی گو تم اس کو نہیں دیکھتے مگر وہ تم کو دیکھ رہا ہے اور تمہاری ہر کھلی چھپی بات خلوت میں ہو یا جلوت میں سب کو جانتا ہے بلکہ دلوں میں اور سینوں میں جو خیالات گزرتے ہیں ان کی بھی خبر رکھتا ہے۔ غرض وہ تم سے غائب ہے پر تم اس سے غائب نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 1 1{ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ } ”پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔“
{ فَسُحْقًا لاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ۔ } ”پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔“
اب تقابل کے طور پر آگے اہل جنت کا تذکرہ آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
15 ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کرسکتی ہے :۔ اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور بااخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10۔ ان مشرک جاہلی قوموں کی حماقت پر تعریض ہے جو ایک طرف خدا کو خدا بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے علم کو ناقص اور جزئیات پر غیر حاوی بھی تسلیم کرتے ہیں ! (آیت) ” الطیف۔ لطیف “۔ سے مراد ہے بڑی بڑی نازل ودقیق حکمتوں اور تدبیروں والا۔ یراد بہ دقائق تدبیر لھم وفیھم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر یہ اہل کفر کی تکذیب کے مقابل میں اہل ایمان کا اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے یہاں ملیں گی، بالغیب کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں (مظہری ملخصًا)
Read the full tafseer →واسروا قولکم او اجھروا بہ . (دونوں امر کے صیغے ہیں) لیکن امر بمعنی خبر ہے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا
اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں (اللہ دونوں سے واقف ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں) پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا۔ اس آیت میں (تفنن کلام کے علاوہ) تہدید پیدا کرنے کیلئے غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر رُوئے خطاب کافروں کی طرف کیا گیا۔
انہ علیم بذات الصدور . مساوات (سابقہ) کی یہ علّت ہے۔ یعنی اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہے زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان کو جانتا ہے ‘ نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ‘ نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔
Read the full tafseer →اور تم لوگ رسول اکرم کے ساتھ مکر و خیانت کی خواہ خفیہ طور پر بات کرو یا علی الاعلان لڑائی کی وہ تمہارے دلوں میں جو نیکی یا برائی ہے اس سے بخوبی واقف ہے۔
Read the full tafseer →وَ اَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِاجْھَرُوْابِہٖ۔۔۔۔: شروع سورت سے اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں کا بیان ہو رہا تھا جو مخلوق کی استطاعت سے باہر ہیں ، درمیان کی سات آسات میں ان سے کفر کرنے والوں اور ان پر ایمان رکھنے والوں کا انجام ذکر فرمایا ، اب دوبارہ اللہ کی قدرتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ فرمایا تم اپنی بات چھپا کر کرو یا بلند آواز سے کرو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے ، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر دلوں کے ارادے اور نیتیں جو زبان پر آکر قول بننے کی منزل تک نہیں پہنچیں ، انہیں بھی جانتا ہے۔ مخلوق بےچاری نہ چھپی بات کو جانتی ہے اور نہ ایک وقت میں بہت سے لوگوں کی اونچی آواز سے کی ہوئی باتوں کو جا ن سکتی ہے دلوں کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
واسروا قولکم اواجھروا بہ لفظ تو امر کا ہے معنی خبر کا دے رہا ہے یعنی اگر تم حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں اپنی کلام مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو۔ ان ہعلیم بذات الصدور۔ وہ ذات پاک تو دلوں میں موجود خیر و شرکو بھی جانتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو حضرت جبرئیل امین نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں ب تا دیتے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : آہستہ بات کرو تاکہ (حضرت) محمد ﷺ کا رب سن ہی نہ لے تو یہ آیت نازل ہوئی واسروا قولکم اوجھروابہ حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں آہستہ بات کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تمام اقوال آہستہ سے کیا کرو یا اعلانیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یخشون ربہم بالغیب وہ لوگ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں سے مراد ہے ابوب کر، عمر علی اور عبیدہ بن جراح ؓ ۔
10۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لہم مغفرۃ واجر کبیر ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے یعنی جنت ہے۔
Read the full tafseer →[وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ : اور تم لوگ چھپائو اپنی بات کو ][ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ۭ: یا نمایاں کرو اس کو ][ انهٗ عَلِيْمٌۢ: بیشک وہ (تو) جاننے والا ہے ][ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو (بھی)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑی مغفرت ہے اور اجر کریم ہے
یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اہل ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اور گناہوں سے بچنے کا فائدہ بتایا ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے بڑا اجر بھی ہے جس طرح یعنی کہ کافروں کے لیے عذاب سعیر ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے اجر کبیر ہے جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے اس کا اجر وہاں کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا، دوسری آیت میں فرمایا کہ تم لوگ آہستہ سے بات کرو یا زور کی آواز سے اللہ تعالیٰ دونوں طرح کی آواز کو سنتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی بےآواز ہو مثلاً دل میں کوئی بات طے کرلی ہو یا کسی بھی گمراہی کا یقین کرلیا ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْہَرُوْا بِہٖ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 13
سرر (كتم)
والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78]
( س ر ر ) الاسرار
السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔
جهر
جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع .
أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ا ؎ واسرواقولکم اواجہروابہ دلیل ہے بالغیب ڈرنے کے لئے۔ بالغیب کیوں ڈرو کس لیے کہ وہ مخفی اور ظاہر باتیں جانتا ہے پھر اور ترقی کرتا ہے۔ انہ علیم بذات الصدور کہ جواہر اور موجود فی الخارج چیزوں کے جاننے پر انحصار نہیں۔ وہ دلی خیالات سے بھی واقف ہے پھر اس پر دلیل لاتا ہے۔ الایعلم من خلق کہ وہ خالق ہے اور خالق کو مخلوق کا علم ہے معلوم ہوا کہ دلی خیالات بھی اس کے مخلوق ہیں۔ اس کے بعد اور ترقی کرتا ہے۔ وہ لطیف ہے مجردات کو غیب کی سینکڑوں باتیں معلوم ہوتی ہیں چہ جائے کہ لطیف ہو تمام مجردات اس کے آگے کثیف ہیں اور اس پر خبیر بھی ہو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَاَسِرُّوْا قَوْلَـکُمْ اَوِ اجْھَرُوْا بِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلَیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الملک : 13، 14)
(تم اپنی بات چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے علم کی ہمہ گیری
خطاب تمام نوع انسانی کو ہے جس میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہوسکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ کافروں کو تہدید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جس طرح من مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا گمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب سے ڈرگئے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے ان کا اجر۔
دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برائی سے اس لیے نہیں بچتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ملکی قانون، خاندانی روایات یا پھر معاشرے کے خوف کی وجہ سے برائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھی بات ہے اور اس کا دینا میں فائدہ ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ اجر پائیں گے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے برائی سے بچتے ہیں۔ ان سے جو گناہ بتقاضا بشریت ہوگا اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرمائے گا بلکہ انہیں اجر کبیر سے بھی ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے غائب میں ڈرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کو سرّ و اعلانیہ کی اطلاع ہے :
13 : وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِا جْھَرُوْا بِہٖ (تم لوگ خواہ چھپا کر بات کرو یا پکار کر کہو) اس کے ظاہر سے دونوں میں سے ایک بات ثابت ہو رہی ہے۔ اسرار یا اظہار مگر معنی یہ ہے کہ تمہارا اسرار و اظہار اس کے علم میں برابر ہے۔ روایت ہے کہ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق طرح طرح کی بدگوئیاں کرتے۔ اللہ تعالیٰ جبریل (علیہ السلام) کو بھیج کر ان کے اقوال کی اطلاع دے دیتے۔ تو وہ کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا الٰہ سن نہ لے۔ پس یہ آیت اتاری۔ پھر اس کی تعلیل آیت کے اگلے حصہ میں ذکر کردی۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب آگاہ…
Read the full tafseer →12 ۔” ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے وسیع علم، بےپایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے، چناچہ فرمایا (واسروا قولکم اواجھروا بہ) اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر، یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس (انہ علیم بذات الصدور) وہ سینے میں چھپائی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جاسکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا (الایعلم من خلق) یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا وہ سینوں کے بھید کیونکر نہ جانتی ہوگی ؟…
Read the full tafseer →17 اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی بات کو خواہ چھپا کر کہو یا اعلانیہ طور پر وہ سب کو ایک برابر جانتا ہے کہ بیشک اللہ دلوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے۔ اس لئے وہاں چرب لسانی ‘ یا چکنی چپڑی باتیں کرنے سے کام نہیں بن سکے گا ‘ بلکہ اس سے بنے گا کہ اپنے اس خالق ومالک سے اپنے دلوں کی دنیا اور اپنی نیتوں کے معاملے کو صحیح اور درست رکھا جائے ‘ تبارک و تعالیٰ ۔ سو کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اس کی مخفی باتیں اللہ سے مخفی اور پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ پس اس ارشاد میں ایک طرف تو منکرین کیلئے تنبیہہ و تہدید ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں
تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 3 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے پیدا کیا کیا وہ جانتا نہیں ہے ؟ “ پہلا صحیحہ ” من “ کو مفعول اور دوسرا ترجمہ فاعل ماننے کی صورت میں ہے۔
Read the full tafseer →(67:13) واسروا قولکم او اجھروا بہ : کلام مستانفہ ہے اسروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر تم چھپاؤ۔ تم چھپا کر کہو۔ اوجھروا بہ : او بمعنی یا۔ اجھروا فعل امر حاضر ، جمع مذکر۔ جھر (باب فتح) مصدر۔ تم زور سے کہو۔ تم کھلم کھلا کہو، تم بلند آواز سے کہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ما تکتمون (21:110) جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے۔
اسروا او اجھروا۔ دونوں امر کے صیغے ہیں لیکن امر بمعنی خبر سے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں۔ پہلے کفار کا ذکر غائبانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
علم الٰہی ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین اسلام کی اور نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مذمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو، ایسانہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن پائے ، اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دل کا بھید تک معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
[4] یعنی جو چاہو اس میں تصرف کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
نظر اور استدلال کی فضیلت
1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…
Read the full tafseer →(13) اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا اس کو کھول کر کہو اور آواز سے کہو وہ سب جانتا ہے کیونکہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ کبھی ان منافقوں سے فرماتے تھے کہ تم نے فلاں موقعہ پر یہ کہا فلاں موقعہ پر اپنی مجلس میں یہ بدزبانی کی تو یہ منکر آپس میں چپکے چپکے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بدگوئی کرتے اس پر حضرت حق نے فرمایا کہ تم کوئی بات چھپا کر کہو یا پکار کر اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے، وہ سینوں تک کے بھیدوں سے واقف ہے اور باخبر ہے آگے اسی باخبر ہونے کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 3۔ حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شے کا خالق مختار ہے، پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور خلق بالاختیار مسبوق بالعلم ہوتا ہے پس علم ضروری ہوا، اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے تخصیص ذکری شاید اس بنا پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں، غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا۔
Read the full tafseer →تم اپنی بات پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو وہ تو دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔
13 ؎ تم میں سے کوئی شخص اپنی باتوں کو اس طرح چھپائے کہ وہ کسی پر بھی ان کو ظاہر نہ ہونے دے یا وہ اپنی باتوں کو ظاہر کرے دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کے لئے یکساں ہیں وہ ہر انسان کی باتوں کو جانتا ہے ، ان کو بھی جن کو چھپا کر رکھا جاتا ہے اور ان کو بھی جن کو وہ ظاہر کرتا ہے۔ وہ سب کو یکساں جانتا ہے ، کوئی خواہ کتنے ہی راز میں رکھی گئی ہو اس سے پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔ زبان سے کہی ہوئی بات تو خیر کہی گئی ہوتی ہے وہ تو سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے اور جو خیالات و افکار ابھی انگڑایاں لے رہے ہوتے ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…
Read the full tafseer →20 The address is to all human beings, whether they are believers or unbelievers. For the believer it contains the admonition that while living his life in the world he should always remember that not only his open and hidden deeds but even his secret intentions and innermost thoughts are not hidden from Allah; and for the unbeliever the warning that he may do whatever he may please fearless of God, but nothing that he does can remain un-noticed and unseen by Him.
Read the full tafseer →