Al-Mulk 67:12

Al-Mulk · from ayah 12

67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِیْرٌ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ كَبِيۡرٌ‏

(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who fear their Lord unseen will have forgiveness and great reward.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:12

جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اس کے برخلاف) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بیشک مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک جو لوگ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بڑا اَجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) جو لوگ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ان کے لئے یقینا بڑی بخشش بھی ہے اور ایک بہت بڑا اجر بھی

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کی لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے ہوئے ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely forgiveness and a mighty reward await those who fear Allah without seeing Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, for those who have awe of their Lord without seeing (Him) , there is forgiveness and a big reward.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, for those who have awe of their Lord without seeing (Him) , there is forgiveness and a big reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who fear their Lord unseen, theirs will be forgiveness and a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who fear their Lord in secret, theirs will be forgiveness and a great reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who fear their Lord unseen will have forgiveness and great reward.

— Saheeh International

Those who fear their Lord in secret will receive forgiveness and a great reward.

— Muhammad Sarwar

(As for) those who fear their Lord in secret, they shall surely have forgiveness and a great reward.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who dread their Lord unseen, theirs shall be forgiveness and a great hire.

— Abdul Majid Daryabadi

As for those who fear their Lord unseen, for them is Forgiveness and a great Reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 18 یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے، یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے، یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے، یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیار خیر و شر اول تو یکساں نہیں ہیں، پھر وہ وقتاً فوقتا بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیار دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–14

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین قیامت کے انجام کے بعد یہ ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا ہے جو قیامت کو آنکھوں سے دیکھے بغیر، اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک عظیم رحمت و مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کا صلہ: ’یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ‘ کے الفاظ سے ان لوگوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی گزاری اور نہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے بلکہ اس کائنات کی نشانیوں پر انھوں نے غور کیا، جن لوگوں نے ان کو ہوشیار کیا ان کی باتیں انھوں نے توجہ سے سنیں اور ان پر غور کیا اس وجہ سے یہ مستحق ہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان الذین ................ اجرکبیر غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اللہ کو دیکھا نہیں، مگر اس پر اور اس کی صفات پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کی عظمت و جلال کے تصور سے لرزتے اور اس کے عذاب کا خیال کر کے تھرتھراتے ہیں۔ یا " بالغیب " کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے مجمع سے الگ ہو کر خلوت و عزلت میں اپنے رب کو یاد کر کے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–13

آیت 1 1{ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ } ”پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔“ { فَسُحْقًا لاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ۔ } ”پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔“ اب تقابل کے طور پر آگے اہل جنت کا تذکرہ آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

15 ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کرسکتی ہے :۔ اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور بااخلاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–12

9۔ (جس کا ظہور کامل آخرت میں ہوگا) (آیت) ” یخشون ربھم “۔ یہی خشیت الہی ہی تو ہے جو انہیں ایمان وطاعت کی طرف لاتی ہے۔ (آیت) ” بالغیب “۔ ایمان بالغیب کی طرح یہ خشیت بالغیب کی بھی تصریح اس امر کو ظاہر کردیتی ہے کہ کسی کا مرتبہ ایمان و خشیت جس درجہ کا بھی ہو، بہرحال کوئی نہ کوئی درجہ غیب ان کے لئے بھی باقی رہے گا، یہ شہود کا مل اس عالم ناسوت میں بشر کے لئے ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–14

ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر یہ اہل کفر کی تکذیب کے مقابل میں اہل ایمان کا اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے یہاں ملیں گی، بالغیب کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں (مظہری ملخصًا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یخشون ربھم بالغیب . یعنی جو لوگ اپنے رب کے اس عذاب سے ڈرتے ہیں جو ابھی تک ان پر نہیں آیا اور ظاہر نہیں ہوا یا بالغیب سے مراد یہ ہے کہ وہ ابھی عذاب کے سامنے نہیں پہنچے یا یہ کہ وہ تنہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں ‘ منافقوں کی طرح نہیں ہیں یا غیب سے مراد وہ حصۂ بدن ہے جو مخفی ہے یعنی دِل۔ یعنی وہ دلوں میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ لھم مغفرۃ . یعنی ان کے گناہوں کی مغفرت۔ واجر کبیر . اور بڑا ثواب ہے جس کے مقابلہ میں ہر لذت کا تصور حقیر ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ نے (پہلے) کافروں پر ہونے والے عذاب پر تنبیہ کی پھر اس کے مقابلہ میں مؤمنوں سے مغفرت وثواب کا وعدہ فرمایا اور ثواب کی اساسی تمہید خشیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو لوگ غائبانہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں تو ان کے د نیاوی گناہوں کی مغفرت اور جنت میں بہت بڑا ثواب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ۔۔۔۔: پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انہیں قیامت کا یا اپنی بد اعمالیوں کی سزا کا خوف تھا ، کیونکہ نہ وہ ان دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور گربزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا اور اسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان الذین یخشون ربھم اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : من خشی الرحمٰن بالغیب (ق : 33) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں جو غیب ہے۔ یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ لھم مغفرۃ ان کے لئے ان گناہوں کی بخشش ہے اور واجر کبیر۔ اجر بکیر ہے۔ اجر کبیر سے مراد جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یخشون ربہم بالغیب وہ لوگ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں سے مراد ہے ابوب کر، عمر علی اور عبیدہ بن جراح ؓ ۔ 10۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لہم مغفرۃ واجر کبیر ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے یعنی جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ : بیشک جو لوگ مرعوب رہتے ہیں اپنے رب سے ][ بِالْغَيْبِ : اَن دیکھے میں ][ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ: اس کے لیے مغفرت ہے ][ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ: اور بڑا اجر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–13

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑی مغفرت ہے اور اجر کریم ہے یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اہل ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اور گناہوں سے بچنے کا فائدہ بتایا ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے بڑا اجر بھی ہے جس طرح یعنی کہ کافروں کے لیے عذاب سعیر ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے اجر کبیر ہے جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے اس کا اجر وہاں کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا، دوسری آیت میں فرمایا کہ تم لوگ آہستہ سے بات کرو یا زور کی آواز سے اللہ تعالیٰ دونوں طرح کی آواز کو سنتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی بےآواز ہو مثلاً دل میں کوئی بات طے کرلی ہو یا کسی بھی گمراہی کا یقین کرلیا ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–22

بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–14

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَيْبِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۝ 12 خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الذین موصول یخشون الجملۃ صلۃ بالغیب متعلق بیخشون ویمکن ان یکون حالامن ضمیر یخشون ای غائبین مغفرۃ مبتداء واجر کبیر معطوف علیہ لہم خبر مقدم والجملۃ خبران والموصول والصلۃ اسمھا۔ واسروا الخ جملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان تساوی الاسرار والجھر بالنسبۃ الی علم اللہ تعالیٰ انہ الجملۃ تعلیل وتقریر لماقبلھا۔ من خلق من فی موضع رفع فاعل یعلم والمفعول محذوف ای الایعلم الخالق خلقہ وقیل الفاعل مضمر ومن مفعولہ ای الایعلم اللہ المخلوق الذی خلقہ وھو اللطیف الخبیر حال من فاعل یعلم۔ تفسیر : مسئلہ معاد کی بابت گروہ اشقیاء کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان الذین یخشون ربہم بالغیب۔ کہ وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (الملک : 12) (بیشک جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔ ) اصلاحِ اخلاق کی اصل بنیاد یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے۔ یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–14

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اپنے رب سے ڈرگئے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے ان کا اجر۔ دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برائی سے اس لیے نہیں بچتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ملکی قانون، خاندانی روایات یا پھر معاشرے کے خوف کی وجہ سے برائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھی بات ہے اور اس کا دینا میں فائدہ ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ اجر پائیں گے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے برائی سے بچتے ہیں۔ ان سے جو گناہ بتقاضا بشریت ہوگا اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرمائے گا بلکہ انہیں اجر کبیر سے بھی ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے غائب میں ڈرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ (بےشک جو لوگ اپنے رب سے بےدیکھے ڈرتے ہیں) یعنی اس کے عذاب کو دیکھنے کے بغیر ڈرتے ہیں۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ان کے لئے مغفرت ہے) گناہوں کی۔ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (اور اجر عظیم ہے) وہ جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” فاعترفوا بذنبھم فسحقا “ دوری ہے۔ ” لاصحاب السعیر “ ابوجعفر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فسحقا “ حاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے حاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں الرعب اور الرعب اور السحت اور السحت کی طرح۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا چناچہ فرمایا (ان الذین یخشون ربھم بالغیب) بیشک وہ لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتی کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے (لھم مغفرۃ) ان کے لیے گناہوں کی بخشش ہے جب اللہ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر سے اور جہنم کے عذاب سے بچالیا (و) ، اور، ان کے لیے (اجر کبیر) بڑا اجر ہے جو اللہ نے ان کے لیے جنت میں تیار کررکھا ہے یعنی ہمیشہ رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

16 خوف و خشیت خداوندی ذریعہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرنے والوں کیلئے بڑی بخشش بھی ہے اور اجر کبیر بھی یعنی ان کے ان گناہوں کی بخشش جو بشری تقاضوں کی بناء پر ان سے سرزد ہوگئے ‘ والعیاذ باللہ کہ ان کو معاف کردیا جائے گا سو منکرین کے انجام کے بیان کے بعد اب یہاں سے ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ جو اپنی زنڈگیوں میں بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے ‘ کہ ان کیلئے ایک عظیم الشان بخشش اور رحمت ہے ‘ سو اسی سے ان خوش نصیبوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے ‘ کہ انہوں نے اپنے کان ‘ آنکھ بند کرکے اور اندھے بہرے بن کر زندگی نہیں گزاری ‘ اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–22

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ” بن دیکھے “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور نہ اس کے عذاب کو محض انبیاء کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بالغیب کا دوسرا ترجمہ ” تنہائی میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیثت ’ دسبعتہ بظلھم اللہ فی ظلہ “ میں ساتواں وہ شخص شمار کیا ہے جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:12) ان الذین یخشون ربھم بالغین : ان حرف مشبہ بالفعل الذین موصول۔ یخشون ربہم صلہ۔ بالغیب متعلق یخشون، مغفرۃ مبتدائ۔ وعاجر کبیر معطوف اس کا عطف مغفرۃ پر ہے لہم خبر مقدم ہے ان کی۔ اور موصول و صلہ مل کر اسم ان۔ یخشون مضارع جمع مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ وہ ڈرتے ہیں ۔ ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے یخشون کا۔ بالغیب : ڈرتے ہیں اس عذاب سے جو ابھی تک ان پر نہیں آیا یا ظاہر نہیں ہوا۔ یا تنہائی میں ڈرتے ہیں۔ یا اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اجر کبیر : موصوف و صفت ۔ بڑا ثواب۔ جس کے مقابلہ میں ہر لذت، ہیچ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے کہ اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بدلوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھوں سے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف ان کے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکانے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا، نیک کام کا کرنا، جو کچھ کرتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–17

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) البتہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کو بغیر دیکھے اس سے ڈرتے ہیں تو ان کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجروثواب ہے بن دیکھے یعنی نہ عذاب کا معائنہ کیا نہ میدان حشر کو دیکھا نہ دوزخ آنکھوں کے سامنے آئی پھر بھی ان باتوں کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو ایسے لوگ بڑی بخشش اور اور ثواب کے امیدوار ہیں۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتن آگے ان لوگوں کو تنبیہہ فرمائی جو اپنی مجالس اور محافل اور روزانہ کی صحبتوں میں بیٹھ کر قرآن اور اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرنے والوں کے لئے بخشش خداوندی ہے 12 ؎ قرآن کریم میں اکثر جگہ جہاں دوزخیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ساتھ ہی اہل جنت کا ذکر بھی ضرور کیا جاتا ہے اور اس طرح اگر اہل جنت کا ذکر کیا جاتا ہو تو ساتھ ساتھ اہل دوزخ کی طرف بھی ایک دو آیات کریمات بیان کردی جاتی ہیں تاکہ دونوں کا تقابل بھی ہوتا رہے۔ اگر اہل دوزخ ہیں تو ان کو افسوس ہوتا رہے کہ کاش ہم اہل جنت ہوتے اور اگر وہ اہل جنت ہیں تو اللہ تعالیٰ کا مزید احسان اور شکریہ ادا کریں کہ اللہ نے ان کو اس دھکتی ہوئی آگ سے بچا لیا۔ یہی بات اس جگہ بھی کی ہے کہ پیچھے بدنصیبوں اور محروموں کا ذکر کیا جا رہا تھا اور اب ان کے ذکر کے ساتھ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–14

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 This is the real basis of morality in religion. A person's refraining from an evil because it is an evil in his personal opinion, or because the world regards it as an evil, or because its commission is likely to bring loss in the world, or because it may entail a punishment by a worldly power, is a very flimsy basis for morality. A man's personal opinion may be wrong, he may regard a good thing as bad and a bad thing as good because of some philosophy of his own. In the first place, the worldly standards of good and evil have never been the same: they have been changing from time to time.…

Read the full tafseer →