Explained with ayahs 6–11
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی اور جوش مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے اور جوش اور غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لئے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ بدنصیبو ! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا ؟ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کو ستے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 17
قصور کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اصل قصور جس کی بنا پر وہ جہنم کے مستحق ہوئے رسولوں کا جھٹلانا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے۔ باقی سارے گناہ اسی کی فرع ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…
Read the full tafseer →فرمایا کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے اور خود اپنے اعتراف کی رو سے جہنم کے مستحق بن جائیں گے تو ان بدبختوں پر خدا کی پھٹکار ہو جنھوں نے جانتے بوجھتے اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔
Read the full tafseer →11۔ 1 جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب۔
11۔ 2 یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔
Read the full tafseer →فاعترفوا .................... السعیر (76 : 11) ” اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ سحق کے معنی بعد کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بددعا ہے۔ جب انہوں نے اعتراف کرلیا اور یہ اعتراف ، اس وقت کیا جب وہ منظر ان کے سامنے آگیا ، جس کے وقوع کا وہ انکار کررہے تھے۔ اور اللہ جس کے لئے بددعا کردے تو گویا ان کی بربادی کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ لوگ رحمت خداوندی سے دور ہوگئے ، اب ان کو اللہ کی مغفرت کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ نہ عذاب سے چھوٹنے کی کوئی امید ہے۔ اب تو وہ دوزخ کے ساتھی ہیں۔ کیا ہی بری صحبت ہے اور کیا ہی بری ہم نشینی ہے ان کی اور کیا ہی برانجام !
یہ عذاب ، جہنم…
Read the full tafseer →4 یعنی خود اقرار کرلیا کہ بیشک ہم مجرم ہیں یوں ہی بےقصور ہم کو دوزخ میں نہیں ڈالا جا رہا لیکن اس ناوقت کے اقرار و اعتراف سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ارشاد ہوگا (فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ ) 67 ۔ الملک :11) (اب دفع ہوجائیں دوزخ والے) ان کے لیے جوار رحمت میں کہیں ٹھکانا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 1 1{ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ } ”پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔“
{ فَسُحْقًا لاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ۔ } ”پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔“
اب تقابل کے طور پر آگے اہل جنت کا تذکرہ آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →14 یہاں گناہ کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ ان کی ساری کی ساری زندگی گناہوں سے لبریز تھی۔ اس لیے کہ اللہ کی آیات سے انکار اور جھٹلانا یہ ایک گناہ باقی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ باقی سب گناہ اسی ایک بڑے گناہ کی شاخیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9۔ (جس کا ظہور کامل آخرت میں ہوگا) (آیت) ” یخشون ربھم “۔ یہی خشیت الہی ہی تو ہے جو انہیں ایمان وطاعت کی طرف لاتی ہے۔ (آیت) ” بالغیب “۔ ایمان بالغیب کی طرح یہ خشیت بالغیب کی بھی تصریح اس امر کو ظاہر کردیتی ہے کہ کسی کا مرتبہ ایمان و خشیت جس درجہ کا بھی ہو، بہرحال کوئی نہ کوئی درجہ غیب ان کے لئے بھی باقی رہے گا، یہ شہود کا مل اس عالم ناسوت میں بشر کے لئے ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…
Read the full tafseer →فاعتر فوابذنبھم . قالوا پر عطف تفسیری ہے ‘ یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا اور گناہ سے مراد ہے کفر ‘ ذنب چونکہ اصلاً مصدر ہے (اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی) اس لیے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔
فسحقا لاصحب السعیر . سحقًا مصدر (مفعول مطلق) ہے۔ اس کا فعل محذوف ہے یعنی فَاَسْحَقَھُمُ ﷲُ سُحْقًااللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ کلام میں ایجاز اور معنی میں مبالغہ پیدا کرنے کیلئے یہ تغیر کیا گیا۔ یہ جملہ معترضہ بددعائیہ ہے۔
Read the full tafseer →غرض اپنے شرک کا اقرار کریں گے سو آج کے دن دوزخیوں پر لعنت اور رحمت خداوندی سے دوری ہے۔
Read the full tafseer →فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ۔۔۔۔: وہ اپنے گناہ کا اقرارکریں گے ، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا ، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا ، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گا کہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دورہو جائیں۔ ”سحقا“ ”سحبن“ (س، ک) کا مصدر ہے ، دور ہونا اور ”سحیق“ بعید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
تکاد تمیز من الغیظ وہ ٹکڑے ہوجائے گی اور اس کا بعض، بعض سے جدا ہوگا، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ضحاک اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر شدت غیظ کی وجہ سے پھٹ جائے گی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الغیظ کا معین جوش مارنا ہے۔ تمیز کی اصل تتمیز ہے کلمآ القی فیھا فوج فوج سے مراد کفار کی جماعت ہے۔ سالھم خزنتھآ جہنم کے داور غے تو بیخ اور قریع کے انداز میں ان سے سوال کریں گے۔ الم یاتکم نذیر۔ کیا تمہارے پاس دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جو تمہیں اس دن سے ڈراتا یہاں تک کہ تم احتیاط برتتے ؟ قالوا بلی قدجآء نا نذیر یعنی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا، اس نے ہمیں ڈرایا اور خبردار…
Read the full tafseer →6۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فسحقا “ سے مراد ہے دوسری۔
7۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) ان سے ” فسحقا “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے دوری۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے حسان ؓ کا قول نہیں سنا
الا من مبلغ عنی ابیا فقد القیت فی سحق السعیر
8۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسحقا لا صحب السعیر دوری ہے دوزخ والے کے لیے۔ کہ سحْق جہنم میں ایک وادی ہے۔
Read the full tafseer →[فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ: پھر وہ لوگ اعتراف کریں گے اپنے گناہ کا ][ فَسُحْقًا : (تو ثابت ہوگی) دوری (رحمت سے)][ لِاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : آگ والوں کے لیے ]
(آیت۔ 11) سُحْقًا کسی فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →﴿فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ 1ۚ﴾ (یہ بات کہہ کر کہ اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج جلنے کے عذاب میں نہ ہوتے اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے یعنی یہ مان لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ ) ۔ ﴿ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 0011﴾ (سو جلتی ہوئی آگ میں داخل ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے) یہ دوری ہمیشہ کے لیے ہے کبھی بھی ان پر رحم نہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8:۔ ” وقاو لو کنا نسمع “ اب مشرکین حسرت و ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کاش ! اگر ہم اللہ کی آیتیں سن کر بلا تفکر و تامل مان لیتے یا سمجھ سوچ کر ان کو قبول کرلیتے تو آج دوزخیوں کے ساتھ نہ ہوتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر داعئ حق کی بات محض سن کر بحث و تمحیص کے بغیر ہی اس کی دیانت و امانت پر اعتماد کر کے اس کی دعوت کو قبول کیا جائے تو یہ بھی ذریعہ نجات ہے۔ ای لو کنا نسمع کلام النذیر فن قبلہ جملۃ من غیر بحث وتفتیش اعتمادا علی مالاح صدقہ بالمعجز الخ۔ (روح ج 29 ص 12) ۔ ” فاعترفوا بذنبھم “ اس طرح مشرکین و کفار اپنے جرم کا اقبال کرلیں گے اور ان جہنمیوں کے لیے خدا کی رحمت سے دوری اور محرمی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِہِمْ 0 ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 11
اعْتِرَافُ
والاعْتِرَافُ : الإقرارُ ، وأصله :إظهار مَعْرِفَةِ الذّنبِ ، وذلک ضدّ الجحود . قال تعالی: فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] ، فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[ غافر/ 11] .
الاعتراف ( افتعال ) کے معنی اقرار کے میں اصل میں اس کے معنی گناہ کا اعتراف کرنے کے ہیں ۔ اس کی ضد جحود یعنی انکار کرنا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ؛ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے ۔ فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[ غافر/ 11] ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے
ذنب
والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ا ؎ کلماء القی فیہا فوج اس سے معلوم ہوا کہ تمام دوزخی ایک بار دوزخ میں نہیں ڈالیں جائیں گے بلکہ ہر ایک گروہ اور فرقہ ایک ملک کے یا ایک خاندان کے یا ایک مذہب کے یکے بعد دیگرے داخل ہوں گے اور ہر ایک گروہ علیٰ حسب مراتب ہر طبقہ میں بند ہوگا اور ان کے شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ یہ سوال کریں گے اور وہ یہ جواب دیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ ج فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 11)
( اس طرح) وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے، پس لعنت ہو ان دوزخ والوں پر۔ )
اوپر ان لوگوں کے اعتراف کی تفصیل گزری۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے اور اعتراف کے اہم اجزاء کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراف اس وقت ہوا جب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔ لیکن اس اعتراف سے انھوں نے اس بات کی تصدیق کردی کہ انھیں جہنم میں بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ ان کی اپنی بداعمالیوں اور افکار کی خرابیوں کا نتیجہ تھا۔
ان کے زندگی بھر کے فکری اور عملی گناہوں کو صرف ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
فہم القرآن
ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے…
Read the full tafseer →11 : فَاعْتَرَفُوْا بِذَمنْبِہِمْ (غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے) کہ تکذیب رسل کر کے انہوں نے کفر کیا ہے۔ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (پس اہل دوزخ پر لعنت ہے)
قراءت : فَسُحُقًا یزید و علی نے پڑھا۔ سحقاً کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت و کرامت سے ان کو دور کردیا گیا وہ اعتراف کریں یا انکار اس سے ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
نحو : یہ مصدر ہے جو بددعا کے موقعہ پر استعمال ہوا۔ اس لئے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” وقالوا لو کنا نسمع “ رسولوں سے جو وہ ہمارے پاس لائے ہیں۔ ” اونعقل “ ان سے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر ہم ہدایت کو سنتے یا اس کو سمجھتے پھر اس پر عمل کرتے۔ ” ما کنا فی اصحاب السعیر “ زجاج (رح) فرماتے ہیں اگر ہم سنتے اس شخص کی طرح سنتے یا اس کو سمجھتے پھر اس پر عمل کرتے۔ ” ماکنا فی اصحاب السعیر “ زجاج (رح) فرماتے ہیں اگر ہم سنتے اس شخص کی طرح سننا جو غور وفکر کرتا ہے یا ہم سمجھتے اس کی طرح جو شعور وتمیز رکھتا ہے تو ہم جہنم والوں میں نہ ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →جہنم میں داخل ہونے والوں اور اپنے ظلم وعناد کا اعتراف کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، (فاعترفوا بذنبھم فسحقا لاصحاب السعیر) ۔ یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے اللہ کے ثواب کو کھودیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
15 دوزخیوں کے اظہار یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم سن لیتے۔ یعنی سن لیتے دعوت حق و ہدایت کو اور دل سے اپنالیتے اس کو اور مان لیتے اس بات کو کہ یہ پاکیزہ صفت حضرات جو کچھ کہتے کرتے ہیں اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ‘ ان کی یہ بےلوث اور مخلصانہ باتیں ہمارے بھلے ہی کیلئے ہیں ‘ کاش کہ یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ میں آجاتی اور آج ہمیں اس حشر سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ سو حق و ہدایت کی دعوت کو سننا اور ماننا سعادتوں کی سعادت اور سرفرازیوں کی سرفرازی ہے جبکہ اس سے اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کشف حقائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ
تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 1 سحق (پھٹکار) سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ” سخق “ دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے واللہ اعلم (شواکفی)
Read the full tafseer →(67:11) فاعترفوا بذنبھم : قالوا پر عطف تفسیری ہے یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف (افتعال) کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا۔ اور (ذنب) گناہ سے مراد ہے کفر۔ ذنب چونکہ اصلا مصدر ہے اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی اس لئے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔
فسحقا لاصحب السعیر : سحقا مفعول مطلق ہے اور مصدر ہے اس کا فعل محذوف ہے ۔ ای فاسحقھم اللہ سحقا : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ یہ جملہ بددعائیہ معترضہ ہے (تفسیر المظہری)
سحق (باب سمع) مصدر۔ دور کرنا، دفع کرنا، سحق سے سحیق بروزن فعیل بمعنی فاعل بمعنی دور، بعید 22:31 میں مستعمل ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
[4] یعنی جو چاہو اس میں تصرف کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
پردہ زنگاری میں
1: سابقہ آیات میں یہ بتایا تھا کہ یہ نظام کائنات بہرنوع کامل ہے اس میں کوئی نقص وعیب نہیں ہے ۔ اور اس کو دیکھ کر بادنی تامل ہر شخص کہہ سکتا ہے ۔ کہ اس کو بنانے والا اور کتم عدم سے وجود میں لانے والا کوئی صاحب علم وقدرت خدا ہے ۔ اس پردہ زنگاری کو دیکھ کر شبہ نہیں ۔ بلکہ یقین ہوتا ہے ۔ کہ اس میں کوئی معشوق ضرور پنہاں ہے ۔ اس زندگی وموت کے تسلسل کو مشاہدہ کرنے کے بعد کون ہے ۔ جو تلی اور ممیت ذات کا انکار کرسکے ۔ اور اس سقف زنگار کی آرائش و خوبی کو دیکھ کر کہیں میں جرات ہے ۔ کہ اس نوزانی جہان کو تسلیم نہ کرے ۔ پھر وہ لوگ جو ان سب چیزوں کو صبح ومساء دیکھتے ہیں ۔ اور ذات خداوندی اور…
Read the full tafseer →(11) غرض یہ کافر اپنے جرم کا اقرار کریں گے پس یہ اہل دوزخ خدائے تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گی۔ یہ منکر آخر کار اپنے جرم یعنی اپنی غفلت کا اقرار کرلیں گے لیکن یہ اقرار بےوقت ہوگا جس جس وقت اقرار و اعتراف مفید نہیں ہوتا وانی لہ الذکری اس لئے فرماتے ہیں۔
فستحقا الاصحاب السعیر کا مطلب یہ ہے کہالزمہم اللہ ستھایا اسحقھم اللہ سحقا
یعنی ہر قسم کے الطاف و عنایات اور مہرومحبت سے دوری ہی دوری ہو ان اصحاب سعیر کو العیاذ باللہ ان منکروں کا ذکر کرنے کے بعد آگے نیک اور ڈرانے والوں کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 2۔ یعنی پیغمبروں کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے۔
Read the full tafseer →اس طرح وہ لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے لیکن اس اعتراف کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہو گا
11 ؎ جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے گناہوں کا برملا اعتراف کریں گے اور اس سے جو فائدہ ہوگا وہ ان کا نہیں بلکہ ان کو دیکھنے والوں کا ہوگا کہ ان کو اچھی طرح معلوم ہوگا تو ان لوگوں کو جو پکڑا گیا ہے اور اس طرح نہایت بےدردی کے ساتھ جو دوزخ میں گرایا جا رہا ہے تو یہ بغیر کسی مقصد کے نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہوا ہے وہ ان کے گناہوں اور ان کے عملوں کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ بات ان کے اس طرح کے اعتراف سے ثابت ہوجائے کہ یہ اپنے جرم کا تو اس وقت بھی اقرار کر رہے ہیں حالانکہ اس وقت ان سے جرم کیا اعتراف کرایا نہیں جا رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…
Read the full tafseer →17 The word dhanb (sin) has been used in the singular. It means that the real sin because of which they became worthy of Hell was to belie the Messengers and refuse to obey them; all other sins are its consequences.
Read the full tafseer →