Explained with ayahs 20–27
رزاق صرف رب قدیر ہے
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کرسکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے نہ روزی پہنچا سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کرسکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل وحدہ لا شریک لہ کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 37
یعنی ان کا وہی حال ہوگا جو پھانسی کے تختہ کی طرف لے جائے جانے والے کسی مجرم کا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔
سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے…
Read the full tafseer →منکرین کے غرور کی بے ثباتی:
یعنی ابھی تو بڑے طنطنہ اور غرور سے یہ عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ ساری شیخی اسی وقت تک ہے جب تک وہ سامنے نہیں آ جاتا۔ جب اس کو قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور سب کی سٹی بھول جائے گی۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا مطالبہ کر رہے تھے تو اب اس کو دیکھتے ہی بدحواسی کیوں طاری ہو رہی ہے! یہ تو تمہاری مانگی ہوئی مراد ہے تو اب اس کا مزہ چکھو!
Read the full tafseer →27۔ 1 یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہونگی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
7: بہت سے کافر یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا دین ختم ہوجائے گا، چنانچہ وہ آپ کی وفات کا انتظار کر رہے تھے، جیسا کہ سورة طور : 30 میں گذرا ہے۔ یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ چاہے اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہلاک فرمائے، یا ان پر رحم فرما کر انہیں فتح عطا فرمائے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے) لیکن اس سے تمہارے انجام پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتوں میں کافروں کو عذاب سے ضرور سابقہ پڑے گا۔
Read the full tafseer →فلما راوہ .................... تدعون
” جب انہوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ ان کے سامنے ہے۔ ان کو توقع ہی نہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اب تو ان کے چہروں کی شکل بگڑ رہی ہے۔ غم کے بادل ہیں ان چہروں پر۔ اب ان کو یوں سرزنش کی جاتی ہے۔
ھذا الذی ................ تدعون (76 : 72) ” یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کرتے تھے “۔ یہ ہے حاضر اور قریب۔ اور دعویٰ تمہارا یہ تھا کہ قیامت کہاں ہے ؟
یہ انداز کہ ہونے والے واقعات کو قرآن اس طرح پیش کرتا ہے کہ گویا ہوگئے ، یہ ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں کیا ہی خوب انداز ہے۔ ان کو ایک شعوری جھٹکا دیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت تو برپا ہے۔ اور تکذیب کرنے والا اور…
Read the full tafseer →10 یعنی اب تو جلدی مچا رہے لیکن جس وقت وہ وعدہ قریب آلگے گا، بڑے بڑے سرکشوں کے منہ بگڑ جائیں گے اور چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 27{ فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْـفَۃً سِیْــٓئَـتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”پھر جب وہ دیکھیں گے اس کو اپنے قریب آتے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے“
{ وَقِیْلَ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ۔ } ”اور کہا جائے گا ‘ یہ ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کرتے ‘ تھے۔“
ہماری وعیدوں اور تنبیہات کے جواب میں تم لوگ طنزیہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ لائو دکھائو کیسی ہے وہ جہنم ! لائو ابھی لے آئو ہمارے اوپر وہ عذاب موعود ! تو لو دیکھ لو اب ‘ یہ ہے جہنم ! تمہارا اصل اور دائمی ٹھکانہ !
Read the full tafseer →30 یعنی اس وقت تو تم قیامت اور بعث بعد الموت کا مذاق اڑاتے اور طنزیں کرتے ہو مگر جب اسے واقع ہوتے دیکھ لو گے تو تمہاری کیفیت وہی ہوگی جو ایک پھانسی کے مجرم کو تختہ دار دیکھنے سے طاری ہوجاتی ہے۔ چہرے کا حلیہ بگڑ جائے گا اور ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔ اس وقت فرشتے تمہیں مخاطب کرکے کہیں گے یہ ہے قیامت کا دن جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے کیا اب بھی تمہیں یقین آیا ہے یا نہیں ؟
Read the full tafseer →22۔ یہ کہنے والے فرشتے ہوں گے اور یہ اہل جہنم سے ان کی مزید توبیخ اور زیادہ دل جلانے کے لئے کہا جائے گا۔ (آیت) ” راؤہ “۔ ضمیرہ اسی یوم موعود کی جانب ہے۔ اے الوعد یعنی العذاب الموعود (مدارک) یعنی العذاب فی الاخرۃ علی قول اکثر المفسرین (معالم) (آیت) ” سیٓئت وجوہ الذین کفروا “۔ یعنی جب قیامت واقعۃ آنے لگے گی تو منکرین کے چہرے فرط ہیبت و دہشت سے بگڑ کر رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں…
Read the full tafseer →فلما راوہ . جب کافر اس وعدہ کے وقوع کو دیکھیں گے یعنی جس چیز سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے ‘ جب وہ چیز ان کے
سامنے آجائے گی۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک اس سے مراد عذاب آخرت ہے لیکن مجاہد کا قول ہے کہ جنگ بدر کی تباہی مراد ہے۔
زلفۃ . (زلفۃ بمعنی قرب ہے لیکن مراد ہے) قریب۔
سیئت . تو بدنما سیاہ ہوجائیں گے۔
وجوہ الذین کفروا . کافروں کے منہ عذاب کو دیکھنے سے۔
و قیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون . اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلد آنے کے
تم خو استگار تھے۔ تَدَّعُوْنَ دعاء سے مشتق ہے یعنی تم طلب کرتے تھے یا دعویٰ سے ماخوذ ہے یعنی تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت نہ آئے گی۔
Read the full tafseer →سو جب یہ دوزخ کے عذاب کو پاس آتا ہوا یا یہ کہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو وہ برا عذاب کافروں کے چہروں کو جھلس دے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم دنیا میں طلب کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب واقع نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَۃً سِیْئَتْ۔۔۔۔۔”زلقۃ“ ”زلق یزلف“ (ن) سے اسم مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، قریب۔”تدعون“”دعا یدعو“ کے باب افتعال سے فعل مضارع ہے ، جس میں تائے افتعال کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کردیا ہے۔ اب وہ جس قیامت کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور جس کا مطالبہ بڑے دھڑلے سے بار بار کر رہے ہیں ، جب قریب آتی ہوئی دیکھیں گے تو سب ہنسی مذاق اور شیخی شوخی بھول جائیں گے ، خوف اور دہشت سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ قیامت جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →فلما را اوہ زلفۃ زلفۃ مصدر ہے جو مزدلفا کے معنی میں ہے جس کا معنی قریب ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے ہا، اس کا معنی عیاں ہے۔ اکثر مفسرین نے کہا : معنی ہے جب وہ عذاب کو قریب دیکھیں گے۔ اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مجاہد نے کہا : مراد بدر کا عذاب ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس حشر کا ان سے وعدہ کیا گیا اس کو قریب دیکھیں گے۔ اس پر تحشرون دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب وہ اپنے برے عمل کو قریب دیکھیں گے۔
سیئت وجوہ الذین کفروا کفار کے ساتھ برا معاملہ کیا جائے گا۔ زجاج نے کہا، ان کے چہروں میں طوء کو ظاہر کر دے گا اور ان کے چہروں پر ایسی نشانی ظاہر ہوگی جو ان کے کفر پر دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وقیل ہذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے تم خواست گار تھے۔ یعنی تدعون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
18۔ عبد بن حمید نے ابوبکر بن عیاش سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اسی طرح پڑھا آیت تدعون تشدید کے ساتھ ابوبکر (رح) فرمایا کہ تدعون سے مراد ہے کہ تم جلدی کرتے تھے۔ عذاب کے آنے میں۔
Read the full tafseer →[فَلَمَا رَاَوْهُ : پھر جب وہ دیکھیں گے اس (وعدہ) کو ][ زُلْفَةً : قریب میں ][ سِيْۗـــــَٔتْ : تو بگاڑے جائیں گے ][ وُجوهُ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کے چہرے جنھوں نے کفر کیا ][ وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِي : اور کہا جائے گا یہ ہے وہ ][ كُنْتم بِهٖ تَدَّعُوْنَ : تم لوگ جس کو مانگا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →﴿وَ قِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 0027﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جسے تم طلب کیا کرتے تھے۔
یعنی تم جو یہ کہتے تھے کہ قیامت آنے کا وعدہ کب پورا ہوگا گویا انداز بیان ایسا تھا جیسے تم قیامت کے چاہنے والے ہو، لو اب وعدہ پورا ہوگیا تمہاری مانگ پوری ہوگئی آج اپنے انکار و تکذیب کی سزا بھگت لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18:۔ ” فلما راوہ “ تخویف اخروی۔ جب مشرکین اللہ کے عذاب کو اپنے قریب دیکھ لیں گے تو خوف وہراس سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ وہی عذاب ہے جس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔ ” قل ارایتم “ تخویف دنیوی و طریق تبلیغ اول۔ شرط کی جزا محذوف ہے۔ ای لیس لنا غیرہ من عذابہ۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا عذاب دینے والا اور رحم کرنے والا کوئی نہیں۔ اے مشرکین یہ بتاؤ کہ اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ ہلاک کر ڈالے جس طرح تمہاری تمنا ہے یا وہ ہم پر مہربانی اور ہمیں عذاب سے مھفوظ رکھے تو بتاؤ تمہیں اس کے دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا ؟ کیونکہ تمہارے معبود تو عاجز اور بےبس ہیں۔ اس لیے تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔
یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَۃً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ ہٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ 27
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَـۃً سِٓیْئَتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَـفَرُوْا وَقِیْلَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْـتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ ۔ (الملک : 27)
(پس جب اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم تقاضا کرتے تھے۔ )
قیامت کے روز مخالفت کا انجام
جو لوگ منہ پھاڑ پھاڑ کر آنحضرت ﷺ سے عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے یا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی، آخر وہ کہاں رک گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ جب اس عذاب یا روزقیامت کو قریب آتا دیکھیں گے، عذاب نظر آئے گا کہ سروں پر پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : ان آیات میں کفار کو بتلائی جانے والی چوتھی اور پانچویں حقیقت۔
اس سے پہلے ” قُلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر نبی کو حکم ہوا کہ کفار کو یہ بتلا یا جائے کہ تمہیں ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے ہیں، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور وہی تمہیں اپنے حضور دوبارہ اکٹھا کرے گا اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی۔ اب حکم ہوا کہ اے نبی ﷺ ! انہیں بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کرے یا ہم پر مہربانی فرمائے تو کافرو ! تم بتلاؤ کہ تمہیں عذاب الیم سے کون بچائے گا ؟ انہیں یہ بھی بتلائیں کہ جو ہلاک کرنے اور بچانے والا ہے اسی…
Read the full tafseer →27 : فَلَمَّا رَاَوْہُ (پھر جب اس کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے) ہٗ سے مراد وہ عذاب ہے جس کا وعدہ کیا گیا۔ زُلْفَۃً (اپنے قریب )
نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
کافروں پر اکتاہت کا سوار ہونا :
سِیْئَتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تو کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے) وعدئہ عذاب کو دیکھتے ہی ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اس لئے کہ ان پر اکتاہٹ اور برائی سوارہو جائیگی اور ان کے چہروں پر سیاہی کے بادل چڑھ جائیں گے۔ وَقِیْلَ ھٰذَا الَّذِیْ (اور ان کو کہا جائے گا) یہ زبانیہ کا قول ہے وہ کہیں گے۔ کُنْتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ (جس کو تم مانگا کرتے تھے) تدعون الدعاء سے باب افتعال ہے یعنی تم اس کو جلد مانگتے تھے…
Read the full tafseer →26 ۔” قل انما العلم عند اللہ وانما انا نذیر مبین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل ومقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں جب جزاوسزا کا دن ہوگا اور وہ عذاب کو (زلفۃ) اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انہیں بہت برا لگے گا اور انہیں خوف زدہ کردے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انہیں زجر وتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا، یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا ہے، تمہارے تمام اسباب منقطع ہوگئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔
چونکہ رسول مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے…
Read the full tafseer →32 ۔ قیامت کے روز منکرین کے حال بد کی تصویر ذکر وبیان، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان کا حال بہت برا ہوگا۔ یعنی آخرت کے اس ہولناک عذاب کو جس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے تو اس وقت ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور حقیقت حال ان کے سامنے خود منکشف اور پوری طرح آشکارا ہوجائے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ویدالھم سیات ماعملوا وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون (الجاثیۃ :33) تب ان سے ان کی تقریع و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا، ھذا الذی کنتم بہ تدعون (یہی ہے وہ حقیقت جس کا تم لوگ بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے) سو تم اس کے لئے جلدی مت مچاؤ کہ اس نے اپنے وقت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری
تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–30
آیات 15 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔
اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی غم اور افسوس کے مارے روسیاہ ہوجائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔6 یعنی بار بار پیغمبر اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا
Read the full tafseer →(67:27) فلما راوہ :ترتیب کا ہے۔ پھر ، لما : یہاں بطور کلمہ ظرف مستعمل ہے اور شرط کے لئے آیا ہے۔ بمعنی جب۔
راوہ : ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الوعد (آیت 25 میں مذکور ہے) الوعد سے مراد روز حشر، وقت وقوع حشر، حشر کے دن کا عذاب۔
زلفۃ : ای قریبا منہم۔ اپنے قریب ہی ، اپنے پاس ہی ، یہ راوہ میں ہ ضمیر مفعول سے حال ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنے قریب ہی پائیں گے یاد یکھیں گے۔ فلما راوہ زلفۃ جملہ شرط ہے۔
سیئت وجوہ الذین کفروا : جواب شرط۔ سیئت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب سوء (باب نصر) مصدر۔ بمعنی غمگین کرنا۔ برا سلوک کرنا۔ س و ء مادہ سے باب افعال سے اساء یسی اساء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن۔
زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔
تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 1: قریش مکہ حضور ﷺ کے لئے ہمیشہ ہلاکت کے طالب رہتے ۔ اور دعا کرتے کہ کہیں ان پر ہمارے دیوتاؤں کا غضب بھی نازل ہو ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے ۔ کہ آپ ان سے کہہ دیجئے ۔ کہ میں تو موت سے خائف نہیں ہوں میں اور میری جماعت خندہ پیشانی موت کا خیر مقدم کریگی ۔ ہم کو اللہ پر پورا پورا اعتماد ہے ۔ ہمیں وہ ہلاکت وفناکا ہدف بنائے ۔ خواہ رحمت وکرم سے نوازے اور ایک عرصہ تک مزید زندہ رکھے ۔ تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ سوال یہ ہے کہ تم لوگوں کو اس عذاب سے جو مقدمات میں سے ہے ۔ کون بچا سکے گا جب موت تمہارے سامنے آغوش کھولے آکھڑی ہوگی ۔ اور جہنم کے شعلے تمہاری جانب ایک رہے ہوں گے ۔ اس وقت تم کو…
Read the full tafseer →(27) کہ جب اس روز قیامت یا اس وعدہ قیامت کو قریب اور پاس آتا ہوا دیکھیں گے تو اس وقت ان منکرین حق اور کفر پیشہ لوگوں کے چہرے اور شکلیں بگڑ جائیں گی اور اس وقت کہا جائے گا یہی وہ عذاب ہے جس کا تم سخت تقاضا کیا کرتے تھے اور تاکید کے ساتھ مانگا کرتے تھے۔ یعنی جس وعدے کا تعین کر ارہے ہو اور تاریخ اور وقت کی تعیین کر ارہے ہو جب وہ وعدہ آئے گا اور وہ قیامت قریب آجائے گی تو کافروں کی صورتیں اور ان کی شکلیں مارے غم اور پریشانی کے بگڑ جائیں گی اور اس وقت ان سے کہا جائے گا یہی تو وہ دن ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 2۔ پاس آتا ہوا دیکھنا یہ کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا جس سے متیقن ہوجائے گا کہ اب عذاب سر پر آیا۔
Read the full tafseer →ہاں ! جونہی اس آنے والی کو لوگ دیکھیں گے تو منکرین کے چہرے اترنا شروع ہوجائیں گے
27 ؎ ہاں ! جس بات کا مجھے علم دیا گیا ہے اس کو مجھے آگے پہنچانے میں کوئی دیر نہیں ہے۔ میں تم کو یہ بات کہوں گا کہ وہ جب آئے گی اور اس کو آتے لوگ دیکھیں گے تو یہ بات مجھ کو بتائی گئی کہ منکرین کے چہرے تو اس کے نشانات کو دیکھتے ہی اتر جائیں گے اور ان کے بگڑتے چہروں کے سامنے بزور آواز دے کر کہا جائے گا کہ یہ آنے والی آگئی ہے اور بلاشبہ یہ وہی ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا اور آج جو لوگ جلدی مچا رہے ہیں وہ تو خیر مچا ہی رہے ہیں لیکن اس وقت بھی ان کے ساتھی موجود ہوں گے اور ان کے چہرے قیامت کے آثار دیکھتے ہی اترنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ (Say, "He is the One who has originated you, and made for you the ears and the eyes and the hearts. How little you pay gratitude" ...67:23).
Specifying ears, eyes and Heart
Of all the human sense organs, only three are mentioned here on which depends knowledge and perception of the external world. Philosophers have identified five sources of knowledge and perception that are called 'five senses': to see, hear, smell, taste or feel something. Allah has equipped man with 'nose'…
Read the full tafseer →37 That is, they will be in the same agony as is suffered by the criminal who is being taken to the gallows.
Read the full tafseer →