Al-Waaqia 56:68

Al-Waaqia · from ayah 68

56:68

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۟ؕاَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِىۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ

بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And have you seen the water that you drink?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:68

کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا یہ بتاؤ جو پانی تم پیتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا دیکھو ! جو پانی تم پیتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ذرا غور تو کرو اس پانی پر جو تم پیتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا تم نے کبھی اس پانی کے بارے میں بھی غور کیا جو تم لوگ (دن رات غٹاغٹ) پیتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اچھا پھر یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کبھی تم نے غور کیا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Did you cast a good look at the water that you drink?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Again, tell Me about the water you drink:

— Muhammad Taqi Usmani

Again, tell Me about the water you drink:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you not see the water that you drink.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have ye observed the water which ye drink?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And have you seen the water that you drink?

— Saheeh International

Have you seen the water which you drink?

— Muhammad Sarwar

Have you considered the water which you drink?

— Muhammad Habib Shakir

Behold! - the water which ye drink:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–74

آگ اور پانی کا خالق کون ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–69

سورة الْوَاقِعَة 29 یعنی تمہاری بھوک مٹانے ہی کا نہیں، تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے۔ یہ پانی، جو تمہاری زندگی کے لیے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے، تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم فراہم کرتے ہیں۔ زمین میں یہ سمندر ہم نے پیدا کیے ہیں۔ ہمارے سورج کی گرمی سے ان کا پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے۔ ہم نے اس پانی میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ ایک خاص درجہ حرارت پر وہ بھاپ میں تبدیل ہوجائے۔ ہماری ہوائیں اسے لے کر اٹھتی ہیں۔ ہماری قدرت اور حکمت سے وہ بھاپ جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہمارے حکم سے یہ بادل ایک خاص تناسب سے تقسیم ہو کر زمین کے مختلف خطوں پر پھیلتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–72

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 68–69

(افراء یتم الماء الذی تشربون ءانتم انزلتموہ من المزن ام نحن المنزلون) (68، 69)۔ (سامان غذا کی بعد پانی کی نعمت کی طرف اشارہ)۔ غذائی نعمتوں کے بعد یہ پانی کی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ بھلا کبھی اس پانی پر بھی غور کیا ہے جو پیتے ہوا کیا اس کو بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں ! یعنی یہ ہماری ہی قدرت و حکمت اور ربوبیت ہے کہ ہم سمندروں کے کھاری پانی کو بھاپ بھنا کر اڑاتے اور پھر اس کو صاف، شیریں اور خوش گوار بنا کر تمہارے اوپر برساتے جس کو تم بھی پیتے ہو، تمہارے مویشی بھی پیتے ہیں اور ان سے تمہاری فصلیں بھی سیراب ہوتی ہیں۔ بھلا بتائو کہ ہے کسی میں یہ قدرت کہ بادلوں سے پانی برسا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–69

66-1یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے۔ لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہوگئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت کا معاوضہ نہ ملے، بلکہ یوں ہی ضائع ہوجائے یا زبردستی اس سے کچھ وصول کرلیا جائے اور اسکے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

افرءیتم ................ تشکرون (07) (6 5: 86) ” کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا ، یہ پانی جو تم پیتے ہو ، اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں ، پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے ؟ “ یہ پانی تو زندگی کی اصل بنیاد ہے اور پانی کے سوا زندگی نشوونما ہی نہیں پاسکتی۔ اس طرح اللہ نے اسے مقدر کیا ہے۔ اس پانی کی تخلیق میں انسان کا کردار کیا ہے۔ اس کا کردار بس یہ ہے کہ انسان اسے حلق سے اتار دے۔ یہ کہ اس کے عناصر کس نے بنائے ، اسے بادلوں سے کس نے اتارا۔ اسے ندیوں میں کس نے بہایا۔ اسے میٹھا کس نے بنایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 68–69

3 یعنی بارش بھی ہمارے حکم سے آتی ہے اور زمین کے خزانوں میں وہ پانی ہم ہی جمع کرتے ہیں۔ تم کو کیا قدرت تھی کہ پانی بنا لیتے یا خوشامد اور زبردستی کر کے بادل سے چھین لیتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68{ اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ } ”کبھی تم نے غور کیا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–70

32 آبی بخارات تو کھاری پانی کے ہوں اور بارش کا پانی خوشگوار :۔ یہ ایک اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کرکے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں سخت کھاری اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے۔ مگر جو بارش برستی ہے اس میں کھاری پن نام کو نہیں ہوتا۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اسی طرح عرق کشید کرتے ہیں۔ ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے اور بو بھی۔ لیکن سمندر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 68–69

25۔ اب استدلال حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید پر نظام کائنات کے چوتھے شعبہ سے ہے۔ سال کی خاص خاص فصلوں اور مناسب زمانہ میں زمین کو ایک خاص حد تک بنانا، حرارت پہنچانا، سمندر سے ایک خاص اندازہ کے مطابق بھاپ اٹھانا، بخارات کو فضا میں ایک خاص بلندی تک لے جانا، یہاں ہوا میں ایک خاص درجہ کی برودت پیدا کرکے بخارات میں انجماد پیدا کرکے انہیں بادل کی شکل دینا ایک مناسب مدت تک اس ابر کو بلند رکھنا، پھر فضاء میں ایک اور تبدیلی پیدا کرکے ابر کو پانی کے قطروں کو شکل دے کر انہیں زمین پر برسانا، بارش کو ایک مقدار، مناسب میں نازل کرنا پھر اس سے خلقت کو براہ راست اور بالواسطہ فائدے پہنچانا، یہ ساری کاریگری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–73

اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔ نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 68–70

(68۔ 69) اچھا یہ تو بتاؤ کہ جس میٹھے اور شیریں پانی کو تم خود پیتے اور اپنے جانوروں کو پلاتے اور باغوں کو سیراب کرتے ہو مکہ والو اس شیریں پانی کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم، نہیں بلکہ ہم تم پر برسانے والے ہیں تم نہیں برساتے۔ اگر ہم چاہیں تو اس شیریں پانی کو بالکل کڑوا تلخ کردیں پھر تم اس شیریں پانی پر شکر کیوں نہیں کرتے کہ ایمان لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 68–70

1۔ اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ۔۔۔۔۔”المزن“ اسم جمع ہے ، بادل۔ مفرد اس کا ”مزنۃ“ ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے :”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے ، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں ، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے ، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دوائیوں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائق بھی منتقل ہوتا ہے اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(افرء یتم الماء الذی۔۔۔ ) افرء یتم الماء الذی تشربون۔ تاکہ اس کے ساتھ تم اپنے آپ کو زندہ رکھو اور اس کے ساتھ اپنی پیاس کو سکون بہم پہنچائو کیونکہ مشروب کھانے کے تابع ہوتا ہے، اسی وجہ سے آپ میں کھانے کا ذکر پہلے ہوتا ہے کیا تو دیکھتا نہیں کہ تو مہمان کو کھانا کھلانے کے بعد اسے پلاتا ہے۔ ایک عرب کو مشروب پلایا گیا تو اس نے کہا : انا لا اشرب الاعلی ثمیلۃ میں نہیں پیتا مگر ہلکے پیٹ والا ہو کر۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–68

10۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا لمغرمون (کہ ہم پر تاوان پڑگیا) بیشک تو شر میں مبتلا ہوگئے آیت بل نحن محرو موت (بلکہ محروم ہی ہو کر رہ گئے) یعنی ہم تو خیر سے روک دئیے گئے۔ (پھر فرمایا) ء انتم انزلتموہ من المنز (کیا تم ہو اس کو نازل کرنے والے بادل سے) مزن سے مراد ہے بادل۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ : تو تم لوگوں نے غور کیا اس پانی پر جو ][ تَشْرَبُوْنَ : تم پیتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 68–70

بارش برسانے کی نعمت : ﴿اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَؕ0068َ﴾ الایات الثلاث ان آیات میں پانی کی نعمت کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ : بتاؤ یہ پانی جو تم پیتے ہو تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں (ظاہر ہے کہ پانی کو بادل سے اتارنے میں تمہارا کوئی دخل نہیں جب بارش نہیں ہوتی تو ٹک ٹک آسان کی طرف دیکھا کرتے ہیں اور ناامید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے۔ کمافی سورة الشوریٰ ﴿ وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ 1ؕ ﴾ (اور اللہ وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش بھیجتا ہے اور اپنی رحمت کو پھیلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–70

23:۔ ” افرایتم الماء الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ اچھا اب یہ بتاؤ کہ یہ میٹھا اور خوشگوار پانی جو تم پیتے ہو یہ بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم ہی اسے اتارتے ہیں ؟ اگر تم خود مینہ برسا سکتے ہو تو خشک سالی میں خود ہی بارش برسا لیا کرو، خدا سے کیوں دعائیں مانگتے ہو ؟ مشرکین کو اس کا بھی اعتراف تھا کہ بارش اللہ ہی برساتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو پانی کو بد مزہ اور کڑوا بنا دیں جو پینے کے قابل نہ رہے تو بتاؤ کیا تم مجھے ایسا کرنے سے روک سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں، تو پھر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر کیوں نہیں بجا لاتے ہو ؟ اور صرف اسی ہی کو منعم و محسن اور برکات دہندہ کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ۝ 68 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–74

1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–69

اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ اَنْزَلْـتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 68، 69) (کیا تم نے اس پانی کو دیکھا ہے جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادلوں سے اتارا ہے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں۔ ) انزالِ ماء سے استدلال فیضانِ ربوبیت کا دوسرا ثمرہ غذائی نعمتوں کے سلسلے میں یہ پانی کی نعمت ہے جس کی احتیاج انسان کے لیے غذا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ذرا غور سے دیکھو یہ پانی جو تم پیتے ہو اس کو بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم اس کے اتارنے والے ہیں۔ سمندر کی کرنیں پانی کو بھاپ بنا کر اڑاتی ہیں اور پھر پانی میں ہم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–70

فہم القرآن ربط کلام : کھیتی کا ذکر کرنے کے بعد پانی کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ اپنی ذات کی طرف مرکوز کروانے کے لیے ایک دفعہ پھر ار شاد فرمایا ہے کہ غور تو کرو ! کہ جو پانی تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم نے اسے نازل کیا ہے ؟ اگر ہم چاہیں تو اس پانی کو کھارا بنادیں تو پھر تم اسے کس طرح میٹھا بنا سکتے ہو ؟ لیکن اس کے باوجود تم شکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم آسمان سے بارش نازل کرتے ہیں اور بارش کے ذریعے باغات، نباتات اور کھیتیاں اگاتے ہیں۔ یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ سورج کی تپش سے سمندر کا پانی بخارات کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68 : اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآ ئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ (اچھایہ بتلائو کہ جس پانی کو تم پیتے ہو) الماءؔ سے وہ پانی جو میٹھا پینے کے قابل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–69

67 ۔” بل نحن محرومون “ یعنی ہم اس سے محروم کیے گئے جو ہم کاشت میں غلہ تلاش کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–74

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–70

جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکتا (فلو لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 68–69

[ 58] پانی کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پانی کو بھی دیکھا یعنی اس کے بارے میں بھی کبھی سوچا اور گور کیا جو تم لوگ پیتے ہو، اور دن رات پیتے ہو، اور جس پر تمہاری زندگی کا مدارو انحصار ہے، کیا اس کو بادلوں سے تم نے اتارا یا ہم ہی ہیں اس کو اتارنے اور برسانے والے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ رب ذوالجلال ہی کا کرم اور اسی کی قدرت و عنایت ہے جس میں تمہارے یا کسی اور کے عمل دخل کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، تو پھر تم اس وحدہٗ لاشریک کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے ؟ جو اس طرح بادلوں کے اس پُر حکمت نظام سے تمہیں ایسا صاف ستھرا اور عمدہ و میٹھا پانی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–70

ف 4 مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب پانی نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے ” الحمد للہ الذی شقانا عذبنا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحاً اجاجاً بذنوبنا حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں شیریں اور خوشگوار پانی پلایا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–74

(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو پانی تم پیتے ہو کبھی اس پر بھی تم نے غور کیا ہے ؟ 86۔ پانی جس پر حیوانی زندگی کا انحصار ہے بھوک سے بھی نہایت اہم چیز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کس قدر عام کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہماری خوراک کا بندوبست کیا ہے اسی طرح ہماری پیاس بجھانے کا انتظام بھی فرما دیا اور قدرت نے اس کے لیے کتنا بڑا نظام بنایا کہ سمندروں کے کھاری پانی اور جوہڑوں کے ناپاک پانی کو اڑا کر بھاپ بنا دیا جو ناپاک تھا وہ پاک ہوگیا اور جو کھاری تھا وہ میٹھا ہوگیا جس سے تم بھی پیتے ہو اور تمہارے مویشی بھی پیتے ہیں اور اس سے تمہاری فصلیں بھی سیراب ہوتی ہیں اور اس نظام قدرت سے تم نے بڑے بڑے تجربات حاصل کر کے بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–72

was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–69

29 That is, "We have not only made arrangements of satisfying your hunger, but also of satisfying your thirst, This water that is even more essential for your life than bread has been arranged by Us, not by you The seas in the earth have boon created by Us. It is the heat of Our sun that causes their water to evaporate, and it is Our winds that cause the vapours to rise. Then it is by Our power and wisdom that the vapours collect and form into clouds. Then, by Our command the clouds divide in a particular proportion and spread over different regions of the earth so that the share of the water…

Read the full tafseer →