Al-Waaqia 56:67

Al-Waaqia · from ayah 67

56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۟بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ

بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب

— Fateh Muhammad Jalandhari

Rather, we have been deprived."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:67

بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بلکہ ہم بے نصیب رہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ ہم بے نصیب ہوگئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ ہم بےنصیب ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ ہمارے نصیب ہی پھوٹ گئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ ہماری تو قسمت ہی مار دی گئی

— مولانا اسحاق مدنی

بلکہ ہم (بالکل ہی) محروم رہ گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم ہو کر رہ گئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلکہ ہم ہیں ہی بد نصیب

— محترمہ رفعت اعجاز

rather we are totally deprived.

— Muhammad Taqi Usmani

rather we are totally deprived.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Nay, but we are deprived!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Rather, we have been deprived."

— Saheeh International

Surely, we have been deprived (of the benefits)".

— Muhammad Sarwar

Nay! we are deprived.

— Muhammad Habib Shakir

Aye! we are deprived!

— Abdul Majid Daryabadi

"Indeed are we shut out (of the fruits of our labour)"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–74

آگ اور پانی کا خالق کون ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ امام حجر مدری ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–69

سورة الْوَاقِعَة 29 یعنی تمہاری بھوک مٹانے ہی کا نہیں، تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے۔ یہ پانی، جو تمہاری زندگی کے لیے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے، تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم فراہم کرتے ہیں۔ زمین میں یہ سمندر ہم نے پیدا کیے ہیں۔ ہمارے سورج کی گرمی سے ان کا پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے۔ ہم نے اس پانی میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ ایک خاص درجہ حرارت پر وہ بھاپ میں تبدیل ہوجائے۔ ہماری ہوائیں اسے لے کر اٹھتی ہیں۔ ہماری قدرت اور حکمت سے وہ بھاپ جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہمارے حکم سے یہ بادل ایک خاص تناسب سے تقسیم ہو کر زمین کے مختلف خطوں پر پھیلتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–72

اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–67

(انا لمغرمون بل نحن محرومون) (66، 67) یعنی کوئی تو یوں فریاد کرے کہ بھائی ہم تو تاوان میں پڑگئے، جو کچھ لگایا وہ بھی پلے نہ پڑا۔ دوسرے بولیں کہ اس آفت نے تو ہمیں بالکل ہی محروم کر چھوڑا، اب بیوی بچوں کی پرورش اور گزارے کی کیا شکل ہوگی ! سورة قلم میں ایک باغ والوں کی تمثیل بیان ہوئی ہے جس سے اس صورت حال کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے، فرمایا ہے :۔۔۔۔۔ (القلم۔۔۔۔۔ 68، 17، 27)۔۔ (ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا جب کہ انہوں نے قسم کھائی کہ کل صبح صبح وہ اپنے باغ کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے، اور ذرا بھی نہیں چھوڑیں گے تو ابھی وہ سوئے ہی پڑے تھے کہ تیرے رب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–69

66-1یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے۔ لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہوگئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت کا معاوضہ نہ ملے، بلکہ یوں ہی ضائع ہوجائے یا زبردستی اس سے کچھ وصول کرلیا جائے اور اسکے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

18: یعنی تمہارا کام بس اتنا ہی تو ہے کہ تم زمین میں بیج ڈال دو ، اس بیج کو پروان چڑھا کر کونپل کی شکل دینا اور اسے درخت یا کھیتی بنادینا اور اس میں تمہارے فائدے کے پھل یا غلے پیدا کرنا کیا تمہارے اپنے بس میں تھا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو تمہارے ڈالے ہوئے بیج کو یہاں تک پہنچا دیتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 63–67

افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا ” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “ یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–67

2 یعنی کھیتی پیدا کرنے کے بعد اس کا محفوظ اور باقی رکھنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ ہم چاہیں تو کوئی آفت بھیج دیں جس سے ایک دم میں ساری کھیتی تہس نہس ہو کر رہ جائے پھر تم سر پکڑ کر روؤ اور آپس میں بیٹھ کر باتیں بنانے لگو کہ میاں ہمارا تو بڑا بھاری نقصان ہوگیا۔ بلکہ سچ پوچھو تو بالکل خالی ہاتھ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67{ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۔ } ”بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم ہو کر رہ گئے۔“ ہمارا تو سب کچھ برباد ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–70

32 آبی بخارات تو کھاری پانی کے ہوں اور بارش کا پانی خوشگوار :۔ یہ ایک اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کرکے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں سخت کھاری اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے۔ مگر جو بارش برستی ہے اس میں کھاری پن نام کو نہیں ہوتا۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اسی طرح عرق کشید کرتے ہیں۔ ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے اور بو بھی۔ لیکن سمندر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 65–67

24۔ یعنی سارا سرمایہ نقصان میں آگیا بلکہ سارا ہی گیا گزرا ہوا۔ (آیت) ’ لجعلنہ حطاما “۔ یعنی ہم چاہیں تو اسی پیدوار کو چورا چور کردیں یا مثل سوکھے ہوئے بھوسہ کے ریزہ ریزہ کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–73

اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔ نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بلکہ محروم ہی ہو کر رہ گئے۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ : بلکہ ہم تو رزق سے بھی محروم ہوگئے۔ یہ کلام سابق سے اعراض ہے یعنی مال کا نقصان تو سہل تھا ‘ اب تو رزق سے بھی محروم ہوگئے ‘ جس سے بھوکوں مرجانے کا اندیشہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–67

(63۔ 67) اچھا یہ بتاؤ کہ تم جو بیج بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو سرسبز ہونے کے بعد پھر اس کو خشک کردیں پھر تم اس کے خشک ہونے اور اس کی ہلاکت سے حیران ہو کر رہ جاؤ اور کہنے لگو کہ ہماری کھیتیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ہم تباہ ہوگئے، بلکہ ہم تو اس کے منافع سے بالکل ہی محروم رہ گئے یا یہ کہ آپس میں لڑنے لگو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 65–67

1۔ لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا۔۔۔۔۔:”حطاما“”حطم یحطم حطما“ (ض) (توڑنا) سے مشق ہے ، بمعنی ”محطوم“ ، جیسے ”فتاتا“ ”فت“ سے اور ”جذاذا“ ”جذ“ سے مشتق ہے۔ سب کا معنی ”ریزہ ریزہ کیا ہوا“ ہے۔ ”فظلتم“ اصل میں باب ”سمع“ سے ”فظلتم“ ہے ، پہلا لام تخفیف کے لیے حذف کردیا ہے۔ (دیکھئے طہٰ : 97)”تفکھون“ اصل میں ’ ’ تتفکھون“ ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی ہے۔ ”تفکۃ“ کا اصل معنی ”ایک پھل سے دوسرے پھل کی طرف منتقل ہونا“ ہے ، پھر ایک بات سے دوسری کی طرف منتقل ہونے میں بھی استعمال ہونے لگا ہے۔ یہاں کھیتی برباد ہونے کے بعد طرح طرح کی باتیں کرنا مراد ہے۔ ”مغرمون“ غرم ، تاوان اور چٹی کو کہتے ہیں ، باب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 66–67

انا لمغر مون۔ ابوبکر اور مفضل نے ائنا دو ہمزہ کے ساتھ استفہام کی صورت میں پڑھا ہے عاصم نے اسے زربن حبیش سے روایت کیا ہے باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ خبر کی صورت میں پڑھا ہے یعنی وہ کہتے ہیں : ہم عذاب میں ہیں (1) حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : غرام سے مراد عذاب ہے، اس معنی میں ابن محلم کا قول ہے : وثقت بان الفظ منی سجیۃ وان قوادی متبل بک مغوم (2) مجھے اعتماد ہے کہ میری طرف سے یاد کھنا خصلت ہے اور میرا دل تیری وجہ سے پریشان اور عذاب میں ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : ہمیں شوق اور جوش دلایا گیا تھا : اس معنی میں نمربن تو لب کا قول ہے : کان رھینا بھا مغرما وہ اس کے بدلہ میں رہن رکھا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–68

10۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا لمغرمون (کہ ہم پر تاوان پڑگیا) بیشک تو شر میں مبتلا ہوگئے آیت بل نحن محرو موت (بلکہ محروم ہی ہو کر رہ گئے) یعنی ہم تو خیر سے روک دئیے گئے۔ (پھر فرمایا) ء انتم انزلتموہ من المنز (کیا تم ہو اس کو نازل کرنے والے بادل سے) مزن سے مراد ہے بادل۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–67

کھیتی اگانے کی نعمت : ﴿اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ0063﴾ (الایات الخمس) (ان آیات میں کھیتی کا تذکرہ فرمایا جو عام انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، ارشاد فرمایا کہ تم جو کھیتی کرتے ہو یعنی ہل یا ٹریکٹر چلا کر زمین کو نرم کرتے ہو پھر اس میں بیج ڈالتے ہو اس کے بارے میں یہ بتاؤ کہ بیج ڈالنے کے بعد کھیتی کو کون اگاتا ہے ؟ تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ یعنی تم تو بیج ڈال کر فارغ ہوجاتے ہو، اب کھیتی کا اگانا ہمارا کام ہے، اگائیں یا نہ اگائیں ہمیں اختیار ہے پھر اگر کھیتی نکل بھی آئی تو اس میں دانے نکلنے تک اس کا بڑھنا ضروری نہیں پہلے بھی ہلاک ہوسکتی ہے اور اگر کھیتی پوری ہوگئی بالیں نکل آئیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–67

22:۔ ” افرایتم ما تحرثون “۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اب یہ بتاؤ یہ جو تم زمین میں ہل چلا کر بیج ڈال دیتے ہو کیا ان دانوں سے سر سبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت تم خود ہی پیدا کرلیتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ اگر تمہارے اختیار میں ہو تو تم کوئی موسم نہ دیکھو اور ہر وقت ہی ہر چیز اگاتے رہو۔ مشرکین کو اس کا بھی اقرر تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اگاتا ہے اور وہی کھیتوں اور باغوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے کھیتوں کو ناگہانی آفتوں سے چورہ کر کے رکھدیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو مارے گئے، بلکہ سال بھر کی روزی سے بھی محروم ہوگئے۔ التف کہ التکلم فیما لایعنیک (قرطبی ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۝ 67 حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–74

1 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند قادر مطلق کے حقائقِ غیوب بےانتہا ہیں اور بیشمار و بےحد قدرت کے سانچے ہیں جس میں چاہے ڈھالے۔ سعادت کے سانچے میں یا شقاوت کے اور پھر ہر وقت ایک جداسفر نئی منزل اور نیا میدان اس کے سامنے ہے۔ اس سے سمجھ لینا کہ انسان تناسخ کا لباس پہنتا ہے غلط سمجھ ہے کیونکہ یہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا کرسکتے ہیں اور نیز یہ تغیرات یا اسی عالم کے ہیں جو اس کے حالات کے تغیر و تبدل ہیں یا اس عالم سے دوسرے عالم کے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–67

لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَـکَّھُوْنَ ۔ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 65 تا 67) (ہم چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں، اور تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی۔ بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہے۔ ) یعنی اس معاملے میں انسان کی بےبسی کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس بیج کو کاشت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور رحمت سے پروان چڑھتا اور کھیتی کی صورت میں لہلہانے لگتا ہے۔ اگر اسے کوئی افتاد پہنچ جائے تو انسان اس کو بچانے پر قادر نہیں۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اگر چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں۔ جس وقت تمہارا یہ حال ہو کہ تم کھیتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–67

فہم القرآن ربط کلام : اللہ ہی انسان کو پیدا کرتا اور موت دیتا ہے اور وہی بیج سے کھیتی پیدا کرتا ہے۔ بیج اور کھیتی کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور موت کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اب بیج اور کھیتی کی مثال دے کر انسان کو اپنے خالق ہونے اور قیامت کے دن زندہ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ ارشاد ہوا جو بھی تم بوتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا اس سے فصل تم اگاتے ہو یا ہم اسے اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو بیج کو زمین میں ہی ناکارہ کردیں، اگر ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

67 : بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (بلکہ ہم محروم ہی ہو کر رہ گئے) بلکہ ہم ایسے لوگ ہیں جو محروم کردیئے گئے ہیں ہم تو بدنصیب و بدبخت ہیں نہ کہ خوش نصیب۔ ہمارا نہ کوئی حصہ ہے اور نہ نصیب۔ اگر ہم خوش نصیب ہوتے تو ہمارے ساتھ یہ نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66 ۔” انا لمغرمون “ ابوبکر نے عاصم سے ” ائنا “ دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے خبر پر پڑھا ہے اور آیت کا مجاز ہے۔ ” فظلتم تفکھون “ اور تم کہنے لگے ” انا لمغرمون “ اور مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہم پر مصیبت آپڑی ہے اور ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) نے فرمایا ہے ” معذبون “ ہم عذاب دیئے گئے ہیں اور الغرام بمعنی عذاب اور ضحاک اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہم نے اپنے اموال کا تاوان دیا ہے اور جو ہم نے خرچ کیا ہے وہ ہم پر تاوان ہوگیا ہے اور مغرم وہ شخص جس کا مال بغیر عوض کے چلا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–74

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–67

(لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰهُ ) اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔ یعنی یہ کاشت کی کئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو (حطاما) ریزہ ریزہ کیا گیا چورا۔ جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ یہ رزق کام دیتا ہے یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے اس کے عبد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے پھر تم ہوجاتے (تفکھون) ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہونے والے جو تم پر نازل ہوئی تمہاری ساری فرحت اور مسرت اور لذت زائل ہوجاتی اور تم کہہ اٹھتے۔ (انا لمغرمون) کہ بلا شبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی جس نے ہمیں ہلاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–67

[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–70

ف 4 مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب پانی نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے ” الحمد للہ الذی شقانا عذبنا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحاً اجاجاً بذنوبنا حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں شیریں اور خوشگوار پانی پلایا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:67) بل نحن مخرومون : بل حرف اضراب ہے ما قبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کیلئے آیا ہے۔ یعنی (ہائے) ہم مفت میں تاوان میں پھنس گئے اور نہ صرف اپنے خرچ کردہ مال پر بھی گھاٹے میں رہ گئے بلکہ بالکل ہی محروم ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–74

(ف 1) اوپر کی آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دارومدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجات ہیں ، کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یابرستے تو سمندر کا ساکڑوا پانی بیج کا جلادینے والا بر سے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو، اور پانی پینے تک لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(67) بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم اور بےنصیب رہ گئے۔ یعنی کچھ بھی پلے نہ پڑا اور نقصان ہی نقصان میں رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ ہم تو محروم ہی رہ گئے ہیں 76۔ { محرومون } اسم مفعول جمع مذکر ہے مرفوع۔ بد نصیبی کی وجہ سے حصول رزق سے روکے گئے ہیں۔ یہ اٹھیں باتوں میں سے ایک بات ہے جو ایسی نا گہانی آفت کے آجانے کے بعد انسان فطری طور پر اپنے منہ سے نکالتا ہے۔ یا اس کے منہ سے نکلتی ہے کہ ہائے ہم پر آفت آگئی۔ ہائے ہماری تو اصل بھی ضائع ہوگئی۔ اس طرح کی باتیں تم کرنے لگے کہ نفع تو ایک طرف رہا اصل پونجی بھی ضائع ہوگئی۔ وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–72

was lost in the secondary or extrinsic causes and lost sight of his Real Creator and Master, the Primary or Intrinsic Cause of his creation. This unawareness was unveiled in a particular way. In a similar style, the reality of his source of nourishment is explicated. Allah poses the question to man: 'Indeed you till the land and plant the seeds but who causes them to sprout and grow - you or Allah?' When considered carefully, we will come up with the answer that the farmer or tiller has a very limited role to play. He ploughs the land and fertilizes the soil with manure, and thus softens it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–69

29 That is, "We have not only made arrangements of satisfying your hunger, but also of satisfying your thirst, This water that is even more essential for your life than bread has been arranged by Us, not by you The seas in the earth have boon created by Us. It is the heat of Our sun that causes their water to evaporate, and it is Our winds that cause the vapours to rise. Then it is by Our power and wisdom that the vapours collect and form into clouds. Then, by Our command the clouds divide in a particular proportion and spread over different regions of the earth so that the share of the water…

Read the full tafseer →