Al-Waaqia 56:60

Al-Waaqia · from ayah 60

56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۟ۙنَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ الۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَۙ

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have decreed death among you, and We are not to be outdone

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:60

ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کے فیصلے کر رکھے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو ہمیں اس بات سے عاجز کرسکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا اور ہم اس سے ہارے نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرّر فرمایا ہے اور ہم (اِس کے بعد پھر زندہ کرنے سے بھی) عاجز نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز رہنے والے نہیں ہیں بلکہ قادر ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم ہی نے مقدر کیا تمہارے درمیان تمہاری موت کو اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو ٹھہرا رکھا ہے۔ اور ہم اس سے عاجز نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

It is We Who ordained death upon you and We are not to be frustrated.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have appointed (the times of) death among you, and We cannot be frustrated

— Muhammad Taqi Usmani

We have appointed (the times of) death among you, and We cannot be frustrated

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We have decreed death to you all, and We are not outstripped,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We mete out death among you, and We are not to be outrun,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have decreed death among you, and We are not to be outdone

— Saheeh International

We have destined death for you and no one can challenge Us

— Muhammad Sarwar

We have ordained death among you and We are not to be overcome,

— Muhammad Habib Shakir

We! it is We Who have decreed death Unto you all. And We are not to be outrun.

— Abdul Majid Daryabadi

We have decreed Death to be your common lot, and We are not to be frustrated

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–62

منکرین قیامت کو جواب اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لئے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کردیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہوگا ؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے ؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 25 یعنی تمہاری پیدائش کی طرح تمہاری موت بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ ہم یہ طے کرتے ہیں کہ کس کو ماں کے پیٹ ہی میں مر جانا ہے، اور کسے پیدا ہوتے ہی مر جانا ہے، اور کسے کس عمر تک پہنچ کر مرنا ہے۔ جس کی موت کا جو وقت ہم نے مقدر کردیا ہے اس سے پہلے دنیا کی کوئی طاقت اسے مار نہیں سکتی، اور اس کے بعد ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ نہیں رکھ سکتی۔ مرنے والے بڑے بڑے ہسپتالوں میں بڑے سے بڑے ڈاکٹروں کی آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں، بلکہ ڈاکٹر خود بھی اپنے وقت پر مر جاتے ہیں۔ کبھی کوئی نہ موت کے وقت کو جان سکا ہے، نہ آتی ہوئی موت کو روک سکا ہے، نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ کس کی موت کس ذریعہ سے، کہاں، کس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–62

خلاصہ تفسیر ہم نے تم کو (اول بار) پیدا کیا ہے (جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو) تو پھر تم (باعتبار اس کے نعمت ہونے کے توحید کی اور باعتبار اس کے دلیل قدرت علی الاعادہ ہونے کے قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے (آگے اس تخلیق کی پھر اس کے اسباب بقاء کی تفصیل و تذکیر ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو (عورتوں کے رحم میں) منی پہنچاتے ہو اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ہم ہی بناتے ہیں اور) ہم ہی نے تمہارے درمیان میں موت کو (معین وقت پر) ٹھہرا رکھا ہے (مطلب یہ کہ بنانا اور اس بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ جیسا انسان کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(نحن تدرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین) (60)۔ یعنی یہ گمان کرنے کی بھی ذراگنجائش نہیں ہے کہ کوئی ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نکل سکتا ہے۔ ہم نے لوگوں کے درمیان موت کا جال بچھا رکھا ہے اور یہ جال ایسا ہے کہ اس نے سب کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ہر بڑے چھوٹے اور امیر و غریب کے لیے موت لازمی ہے اور اس طرح ہم سب کو روز قیامت کی پیشی کے لیے جمع کر رہے ہیں۔ آگے آیات 83، 87 میں یہ مضمون وضاحت سے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60-1یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا، چناچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے 60-2یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–60

15: اس سے مراد خود نطفے کی تخلیق بھی ہوسکتی ہے کہ اسے پیدا کرنے میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے، اور اس نطفے سے جو بچہ پرورش پاتا ہے، اس کی تخلیق بھی مراد ہوسکتی ہے، کیونکہ نطفے کے اس قطرے کو کئی مرحلوں سے گزار کر انسان کی شکل دینا، اس میں جان ڈالنا اور پھر اسے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی طاقت عطا فرمانا سوائے اللہ تعالیٰ کے کس کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–61

نحن ............ تعلمون (6 5: 16) ” ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تم جیسے اور لوگ لے آئیں اور کسی ایسے جہاں میں تمہیں دوبارہ پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے۔ “ یہ موت جس تک تمام زندہ مخلوق سفر کرکے پہنچتی ہے یہ کیا ہے ؟ کس طرح واقع ہوتی ہے ؟ اس کی کس قدر طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ کی تقدیر ہے۔ اس لئے اس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ اس سے کوئی آگے نہیں جاسکتا۔ یہ ایک حلقہ اور کڑی ہے اس تخلیق کے سلسلے میں جس نے پورا ہونا ہے۔ اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اس زمین سے نابود کرکے اس کی تعمیروترقی کے لئے دوسرے لوگوں کو وہ لاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جلانا مارنا سب ہمارے قبضے میں ہے۔ جب وجود و عدم کی باگ ہمارے ہاتھ میں ہوئی تو مرنے کے بعد اٹھا دینا کیا مشکل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 60–61

آیت 60 ‘ 61{ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ اَمْثَالَـکُمْ } ”ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں“ یہ مقام بھی مشکلات القرآن میں سے ہے۔ بہرحال اس کی ایک توجیہہ جو میری سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہاں دو انسانی زندگیوں اور ان کے درمیان طے شدہ موت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ایک دنیا کی زندگی ہے اور دوسری آخرت کی زندگی اور درمیان میں اللہ تعالیٰ نے موت کا پردہ حائل کردیا ہے۔ موت کی اس سرحد کے اس طرف بھی تم ہو اور دوسری طرف بھی تم ہو۔ گویا موت کے وقفے کے بعد زندگی کا تسلسل پھر سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 انسان جو نطفہ رحم مادر میں ٹپکاتا ہے۔ اس کا ایک ایک قطرہ لاکھوں خوردبینی جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک جرثومہ نسوانی بیضہ سے مل کر حمل کے استقرار کا سبب بنتا ہے باقی سب متحرک جرثومے رحم مادر سے خارج ہوتے ہی مرجاتے ہیں۔ استقرار حمل کے بعد بسا اوقات عورت کو خون جاری ہوجاتا ہے اور حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ اسقاط ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ بچہ پیٹ میں ہی مرجاتا ہے اور کبھی پیدا ہوتے ہی مرجاتا ہے اور جو زندہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کے سر پر بھی موت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے معلوم نہیں کہ کس وقت رگ جان کو کاٹ ڈالے۔ کوئی بچپن میں ہی مرجاتا ہے کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں، اور کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (ایک وقت معین ومناسب پر) یعنی وجود میں بھی ہم ہی لائے، بقائے وجود کے اسباب بھی ہم ہی نے فراہم کیے اور فنائے وجود بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ تخلیق ابقاء، افناء کی تینوں قوتیں ہم ہی میں جمع ہیں۔ کوئی الگ الگ تین خدا نہیں، جیسا کہ بعض مشرک، جاہلی قوموں نے سمجھ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

نحن قدرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین یعنی جس طرح ہم انسانی زندگی کے خلاق اور مالک ہیں اس میں ہمارا نہ کوئی شریک ہے اور نہ مددگار، اسی طرح ہم ہر متنفس کی موت کے بھی تنہا مالک ہیں اور ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا چناچہ کوئی رحم مادر میں تو کوئی بچپن میں تو کوئی جوانی میں تو کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ہم نے تمہارے درمیان (وقت مقررہ پر) موت کو ٹھہرا رکھا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں نَحْنُ قَدَّرْنَا .... یعنی جس طرح اپنی مشیت کے مطابق ہم نے تمہارے لیے رزق تقسیم کردیا ہے ‘ اسی طرح تمہاری موت کو بھی تقسیم کردیا ہے ‘ اسی وجہ سے تم میں سے کسی کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے ‘ کسی کی بہت کم ‘ کسی کی درمیانی یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کا وقت مقرر کردیا ہے ‘ جس سے تم آگے ‘ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ نَحْنُکو قَدَّرْنَا سے پہلے لانا مفید حصر و اختصاص ہے یعنی موت کی تقدیر و توقیت ہمارا ہی کام ہے جیسے ہر ایک کی تخلیق ہمارا ہی فعل ہے۔ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ : یہ جملہ حالیہ ہے ‘ اس کے دو مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کر رکھا ہے تم سب مرو گے یا یہ کہ مرنے تک ہم نے تمہارے درمیان عمروں کو تقسیم کر رکھا ہے کہ تم میں سے بعض اسی سال تک اور بعض سو اور بعض پچاس سال تک زندہ رہتے ہیں اور بعض کی عمریں اس سے کم یا زیادہ ہوتی ہیں اور ہمارے لیے یہ مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نَحْنُ قَـدَّرْنَـا بَـیْـنَـکُمُ الْمَـوْتَ : یعنی تمہاری پیدائش کی طرح تمہاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے اور ہم نے یہ طے کردیا ہے کہ کس کی موت کس وقت ہوگی ، ماں کے پیٹ میں مرجائے گا یا پیدا ہوتے ہی یا جوان ہو کر یا ادھڑ عمر میں یا ارذل العمر کو پہنچ کر۔ اس سے پہلے نہ کوئی اسے مار سکتا ہے اور نہ اس کے بعد کوئی اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ مومن (67) ، فاطر (11) ، منافقون (11) ، اعراف (34) ، نوح (4) اور سورة ٔ آل عمران (45)۔ 2۔”بینکم“ کے لفظ میں ایک اور معنی بھی ہے کہ موت ایسی چیز ہے جو تمہارے درمیان رکھ دی گئی ہے ، سب میں تقسیم ہوگی مگر ایک وقت میں نہیں ، بلکہ باری باری ہر ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–61

نحن قدرنا بینکم الموت یہ بھی استدلال ہے یعنی وہ ذات جو موت دینے پر قادر ہے وہ پیدا کرنے پر قادر ہے جب وہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔ مجاہد، حمید، ابن محصین اور ابن کثیر نے قدر نادال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ضحاک نے کہا : معنی ہے ہم نے اہل آسمان اور اہل زمین کے درمیان برابری کردی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے فیصلہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے ہم نے لکھ دیا۔ معنی قریب قریب ہے۔ اس ذات کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہے گا۔ وما نحن بمسوقین۔ علی ان نبدل امثالکم اگر ہم ارادہ کریں کہ تمہاری جگہ اور پیدا کریں تو کوئی ہم پر غالب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

2۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن قدرنا بینکم الموت ہم نے تمہارے درمیان موت کو ٹھہرا رکھا ہے، سے مراد ہے کہ ہم نے زمین اور آسمان والوں کے لیے تقدیر بنا دی ہے اس میں ان کے شریف لوگ اور ان کے ضعیف لوگ سب برابر ہیں۔ موت کا وقت مقرر ہے 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن قدرنا بینکم الموت یعنی ہم نے تمہارے درمیان موت کو تاخیر سے یا جلدی سے مقرر کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَحْنُ قَدَّرْنَا : ہم نے (وقت) طے کیا ہے ] [بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ : تمہارے مابین موت کا ] [وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ : اور ہم عاجز کیے ہوئے نہیں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–61

اس کے بعد موت کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا ﴿ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ ﴾ (کہ ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا ہے) وہ اپنے مقررہ وقت پر آئے گی، یہ موت کا مقدر کرنا اور اس کے وقت کا مقرر فرمانا اور ہر ایک کے مقررہ وقت پر موت دے دینا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کوئی بھی شخص موت سے نہیں بچ سکتا اور وقت مقررہ سے آگے اس کی زندگی نہیں بڑھ سکتی۔ ﴿ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ۠ۙ0060﴾ (الایۃ) اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہیں ہلاک کردیں اور تمہاری جیسی دوسری مخلوق تمہارے بدلہ پیدا کردیں، اور ہم اس سے بھی عاجز نہیں کہ ہم تمہیں ان صورتوں میں پیدا کردی جنہیں تم نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–61

19:۔ ” نحن خلقناکم “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ نیز قیامت کی دلیل ہے۔ ہر دلیل میں ” افرایتم “ سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہر دلیل بالکل واضح اور روشن ہے تم خود سوچ کر بتاؤ کہ دلائل میں جو حقائم مذکور ہیں وہ درست ہیں یا نہیں۔ پہلی دلیل میں فرمایا تم خوب جانتے ہو کہ پہلی بار ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو پھر دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں نہیں مانتے ہو ؟ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کرلیا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو تم سب کا خالق ہے وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ افرایتم۔ یہ اس دلیل کی تفصیل ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ بیویوں کے رحموں میں تم جو مادہ منویہ ڈالتے ہو کیا اس سے کامل ومکمل انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ۝ 60 ۙ قَدْرُ والتَّقْدِيرُ والقَدْرُ والتَّقْدِيرُ : تبيين كمّيّة الشیء . يقال : قَدَرْتُهُ وقَدَّرْتُهُ ، وقَدَّرَهُ بالتّشدید : أعطاه الْقُدْرَةَ. يقال : قَدَّرَنِي اللہ علی كذا وقوّاني عليه، فَتَقْدِيرُ اللہ الأشياء علی وجهين : أحدهما : بإعطاء القدرة . والثاني : بأن يجعلها علی مقدار مخصوص ووجه مخصوص حسبما اقتضت الحکمة، وذلک أنّ فعل اللہ تعالیٰ ضربان : ضرب أوجده بالفعل، ومعنی إيجاده بالفعل أن أبدعه کاملا دفعة لا تعتريه الزّيادة والنّقصان إلى إن يشاء أن يفنيه، أو يبدّله کالسماوات وما فيها . ومنها ما جعل أصوله موجودة بالفعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–60

ترکیب : نحن مبتداء خلقنا کم خبرہ افرائیتیم الھمزۃ للاستفہام والفاء للتفریع اوالعطف ما موصولۃ تمنون قراء الجمہور بضم الفوقیۃ من امنی یمعنی وقریٔ بفتحہا من منی یمعنی وھما بمعنی واحد قیل بینھما فرق امنی اذا انزل عن الجماع ومنی اذا انزل من احتلام والمعنی ماتصبومہ فی ارحام النساء والجملۃ صلۃ۔ والموصول مع صلۃ مفعول ارء یتم بمسبو قین ای لایسبقنا احد فیھرب من الموت اوالعذاب اولایغلبنا احد من سبقتہ علی کذا اذا غلبۃ علیہ علی الاول حال من فاعل قدرنا الموت کائنین علٰی ان نبدل امثالکم او علۃ تقدرنا وعلی بمعنی اللام و مانحن بمسبوقین اعتراض وعلی الثانی صلۃ ظلتم بفتح الظاء مع لام واحدۃ قریٔ بکسرھا معھا وقریٔ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–61

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَـکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَـکُمْ وَنُنْشِئَـکُمْ فِیْ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 60، 61) (ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے، اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ اس بات سے کہ ہم تمہاری جگہ تمہارے مانند بنادیں، اور تمہیں اس عالم میں اٹھائیں جس کو تم نہیں جانتے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا حوالہ یعنی جس طرح ہم تمہاری صورت گری اور تمہاری تخلیق پر قادر ہیں اسی طرح ہم تمہاری موت پر بھی قادر ہیں۔ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر رکھی ہے۔ یہ بات ہم طے کرتے ہیں کہ کس کو ماں کے پیٹ ہی میں اور کسے پیدا ہوتے ہیں مرجانا ہے اور کسے کس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–62

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دیتا ہے۔ سورۃ الملک کی دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ اسی ذات نے زندگی اور موت پیدا کی ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 185 میں ارشاد ہوا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور قیامت کے دن تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جسے جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوا۔ سورة یونس کی آیت 49 میں ارشاد فرمایا کہ ہر نفس کا ایک وقت مقرر ہے جب وقت آتا ہے۔ تو ایک لمحہ بھی اس میں آگا پیچھا نہیں کیا ج۔ اس بات کو یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

60 : نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمْ الْمَوْتَ (ہم نے تمہارے درمیان موت کو وقت مقررہ پر ٹھہرا رکھا ہے) ہم نے اس کو پورے اندازے سے مقرر کررکھا ہے۔ اور رزق کی طرح اختلاف و تفاوت کے ساتھ اس کو ہم نے تمہارے لئے تقسیم کردیا ہے۔ جیسا کہ ہماری مشیئت تقاضا کرتی ہے۔ پس تمہاری عمریں مختلف لمبی، چھوٹی، متوسط ہیں۔ قراءت : قدرنا تخفیف کے ساتھ مکی نے پڑھا۔ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ (اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں) سبقت بالشیٔ بولتے ہیں جبکہ اس کے کرنے سے عاجز آجائیں اس چیز کا غلبہ ہوجائے۔ اب معنی یہ ہوگا ہم عاجز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59 ۔” ء انتم تخلقونہ “ یعنی جو تم منی ڈالتے ہو کیا تم اس کو انسان بناتے ہو۔ ” ام نحن الخالقون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–61

57۔ 61۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لئے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے۔ ورنہ یہ کسی عقل مند کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجانا آنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو۔ سورة الزمر میں گزر چکا ہے ولئن سئلنھم من خلق السموت والارض لقوسلن اللہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–62

یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحموں میں) ٹپکاتے ہو کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کے خالق تم ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی۔ میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی ہے ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعقل قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے اس لیے الہ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ ) اور تمہیں یقنی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 53] موت اور اس کا وقت بہر حال مقدر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی تمہارے درمیان مقدر کیا موت کو۔ اپنی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کی بنا پر، اور اس طرح کہ تم لوگ اپنی موت کے اسی مقررہ وقت سے لمحہ بھر نہ آگے بڑھ سکتے ہو نہ پیچھے ہٹ سکتے ہو، اور اس طرح تم دیکھو کہ کس عجیب و غریب اور حیرت انگیز طریقے سے اگلے قومیں اور نسلیں مٹتی اور دوسری ان کی جگہ آتی گئیں، اور مسلسل و لگاتار آتی جارہی ہیں، سو یہ سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے مگر تم ہو کہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتے، سو ہم نے لوگوں کے درمیان موت کا ایسا جال بچھا رکھا ہے، جس نے ان سب کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، کوئی اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:60) قدرنا ماضی جمع متکلم۔ تقدیر (تفعیل) مصدر سوچ سمجھ کر غور کرکے اندازہ کیا۔ ہم نے مرنے کو تمہارے درمیان اندازہ کر دہا۔ ٹہرا دیا موت تمہارے درمیان حساب کے ساتھ مقرر کردی کوئی اس کو کم و بیش نہیں کرسکتا۔ مسبوقین : اسم مفعول جمع مذکر سبق (باب نصر) مصدر پیچھے چھوڑے گئے یعنی جن کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے آگے بڑھ جائیں سبقت لے جائیں۔ مراد عاجز۔ نحن کو قدرنا سے پہلے لانا مفید حصر ہے اور مفید اختصاص ہے یعنی موت کی تقدیر و توقیت ہمارا ہی کام ہے جیسے تخلیق صرف ہمار ہی فعل ہے اور کوئی اسے نہیں کرسکتا ۔ وما نحن بمسوقین جملہ حالیہ ہے۔ بحالیکہ کوئی ہم سے موت کے معاملہ میں سبقت نہیں رکھتا۔ اور ہم مغلوب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–61

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپرذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لیے عقبی کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے، ورنہ یہ کسی عقل مندی کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجاناآنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو، سورة الزمر میں گزرچکا ہے ، ولئن سالتھم من خلق السماوات والارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–60

[8] یعنی حسب اقتضائے حکمت و مشیت کوئی بچپن ہی میں مرجاتا ہے، کوئی جوان ہو کر، کوئی ادھیڑ عمر میں مرتا ہے اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر۔ جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–74

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(60) ہم ہی نے تم میں مرنے کا ایک وقت معین کررکھا ہے اور موت کو تم میں اور تمہارے درمیان ٹھہرارکھا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ مطلب یہ کہ بنانا اور بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کیا ہے اور ہم سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا 60۔ { مسبوقین } اسم مفعول جمع مذکر مجرورمسبوق واحد اور سبق مصدر ، پیچھے چھوڑے گئے یعنی جن کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے آگے برھ جائیں مراد اس سے عاجز ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اسی طرح انسان کو پیدا کیا ہے اور پھر جس طرح دنیا کی ہر ایک چیز فانی ہے اسی طرح انسان بھی فانی ہے اور یہ فناکس نے مقدر کی ہے ؟ فرمایا ہم ہی نے فنا یعنی موت کو مقدر کیا ہے اور ہم دوبارہ زندہ کرنے سے بھی عاجز نہیں ہیں اور اس دنیا میں بھی ہم ہی موت دینے والے ہیں جن لوگوں کو چاہئتے ہیں اور جب چاہتے ہیں موت دے دیتے ہیں ، کوئی ایسا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–62

Proof of the occurrence of the Day of Resurrection Thus far the Surah dealt with three categories of people on the Plain of Hashr (Gathering.) The verses so far described the reward and punishment of these three groups. The current set of verses warn the deviant skeptics and atheists who completely deny the Day of Judgment and life after death, or set up partners to Allah in His worship. The verses purport to tear down the curtain of negligence and ignorance that has kept man in the dark. Whatever exists, or is coming into existence at the present time, or will come into existence in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 That is, "Like yow birth yow death too, is under Our control. We decide as to who is to die in the mother's womb itself, who is to dic soon after birth, and who is to die at a later stage. No power in the world can cause death to a person before the time appointed for his death by Us, nor can keep him alive after it even for a moment. The dying ones dic in big hospitals even before the eyes of eminent doctors; and the doctors themselves also die at their appointed time. Never bas anyone been able to know the time of death in advance, nor has anyone been able to avert the approaching death,…

Read the full tafseer →