Al-Waaqia 56:59

Al-Waaqia · from ayah 59

56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ۟ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡخٰلِقُوۡنَ

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Is it you who creates it, or are We the Creator?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:59

اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو کیا اس (سے انسان) کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم اسے پیدا کرتے ہو، یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اس بچہ کو تم پیدا کرتے ہو یا اسے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کی صورت گری تم کرتے ہو یا صورت گری کرنے والے ہم ہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم اس سے بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم ہی ہیں پیدا کرنے والے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو آدمی تم بناتے ہو یا (اس کے) بنانے والے ہم ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم اس سے انسان کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you create a child out of it, or are We its creators?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it you who create it, or are We the Creator?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it you who create it, or are We the Creator?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it you who create it, or are We the Creator

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Do ye create it or are We the Creator?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Is it you who creates it, or are We the Creator?

— Saheeh International

Did you create it or was it We who created it?

— Muhammad Sarwar

Is it you that create it or are We the creators?

— Muhammad Habib Shakir

Create him ye, or are We the Creator?

— Abdul Majid Daryabadi

Is it ye who create it, or are We the Creators?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–62

منکرین قیامت کو جواب اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لئے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کردیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہوگا ؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے ؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 58–59

سورة الْوَاقِعَة 24 اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑا اہم سوال انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ دنیا کی تمام دوسری چیزوں کو چھوڑ کر انسان اگر صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے۔ نہ اس کی تعلیم آخرت میں۔ انسان آخر اسی طرح تو پیدا ہوتا ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے رحم تک پہنچا دیتا ہے مگر کیا اس نطفہ میں بچہ پیدا کرنے کی، اور لازماً انسان ہی کا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آپ سے آپ پیدا ہوگئی ہے ؟ یا انسان نے خود پیدا کی ہے ؟ یا خدا کے سوا کسی اور نے پیدا کردی ہے ؟ اور کیا یہ مرد کے، یا عورت کے، یا دنیا کی کسی طاقت کے اختیار میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–62

خلاصہ تفسیر ہم نے تم کو (اول بار) پیدا کیا ہے (جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو) تو پھر تم (باعتبار اس کے نعمت ہونے کے توحید کی اور باعتبار اس کے دلیل قدرت علی الاعادہ ہونے کے قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے (آگے اس تخلیق کی پھر اس کے اسباب بقاء کی تفصیل و تذکیر ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو (عورتوں کے رحم میں) منی پہنچاتے ہو اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ہم ہی بناتے ہیں اور) ہم ہی نے تمہارے درمیان میں موت کو (معین وقت پر) ٹھہرا رکھا ہے (مطلب یہ کہ بنانا اور اس بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ جیسا انسان کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

(افرء یتم ما تمنون ءانتم تخلقونہ امر نحن الخلقون) (58، 59) (انسان کی خلقت سے قیامت کی دلیل)۔ یہ انسان کی خلقت کی طرف توجہ دلائی کہ اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تمہاری خلقت میں کچھ تمہاری تدبیر و حکمت کو بھی دخل ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ تمہیں وجود میں نہیں لا سکتا تو آئو دیکھو کہ اس میں تمہارا دخل کتنا ہے ؟ فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے ہو بس اس قدر ہے کہ پانی کی ایک بوند عورت کے رحم میں ٹپکا کر الگ ہوجاتے ہو۔ اس بوند کو تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر گونا گوں مراحل سے گزار کر ایک بھلے چنگے بچہ کی صورت میں عورت کے پیٹ سے باہر لانا اور پھر اس کو بچپن، بلوغ، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گزار نا کس کا کام ہے ؟…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59-1یعنی تمہارے بیویوں سے مباشرت کرنے کے نتیجے میں تمہارے جو قطرات منی عورتوں کے رحموں میں جاتے ہیں، ان سے انسانی شکل و صورت بنانے والے ہم ہیں یا تم ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–60

15: اس سے مراد خود نطفے کی تخلیق بھی ہوسکتی ہے کہ اسے پیدا کرنے میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے، اور اس نطفے سے جو بچہ پرورش پاتا ہے، اس کی تخلیق بھی مراد ہوسکتی ہے، کیونکہ نطفے کے اس قطرے کو کئی مرحلوں سے گزار کر انسان کی شکل دینا، اس میں جان ڈالنا اور پھر اسے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی طاقت عطا فرمانا سوائے اللہ تعالیٰ کے کس کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 58–59

افرءیتم ................ الخلقون (6 5: 9 5) ” کبھی تم نے غور کیا ، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو ، اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں “ تخلیق یا تناسل میں انسان کا کردار یہی ہے کہ وہ نطفہ رحم زوجہ میں ڈال دے۔ پھر دونوں کا کردار ختم ہوجاتا ہے۔ (ٹیوب بےبی نے یہ بھی ختم کردیا ہے) اب یہ کمزور پانی رب تعالیٰ کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ صرف دست قدرت اس کی تخلیق اور تربیت اور بڑھو تری میں کام کرتا ہے۔ اس کو شکل دیتا ہے ۔ روح دیتا ہے اور پہلے لحظہ سے لے کر تمام مراحل معجزات ہی معجزات ہیں۔ ہر مرحلے میں ایسا خارق العادت معجزہ رونما ہوتا ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کا کوئی کردار نہیں۔ بشر تو آج تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 58–59

9 یعنی رحم مادر میں نطفہ سے انسان کون بناتا ہے۔ ؟ وہاں تو تمہارا کسی کا ظاہری تصرف بھی نہیں چلتا۔ پھر ہمارے سوا کون ہے جو پانی کے قطرہ پر ایسی خوبصورت تصویر کھینچتا اور اس میں جان ڈالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59{ ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٓٗ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ۔ } ”کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟“ تم تو پانی کی وہ بوند ٹپکا کر فارغ ہوجاتے ہو۔ اس کے بعد رحم مادر میں ایک حیرت انگیز تخلیقی عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوتا ہے ‘ علقہ سے مغضہ بنتا ہے۔ پھر ہڈیاں بنتی ہیں ‘ جوڑ بند درست ہوتے ہیں ‘ آنکھوں ‘ کانوں اور دوسرے اعضاء کا نقشہ تیار ہوتا ہے اور یہ سارا عمل تین پردوں { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ کیا اس سارے عمل میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہے ؟ ماں کے پیٹ میں مختلف پیچیدہ تخلیقی مراحل سے گزرتے ہوئے بچے کے کسی عضو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–59

27 رحم مادر میں انسانی تخلیق کا نقطہ آغاز :۔ پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے ؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے ؟ جن چیزوں سے نطفہ بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ ؟ اور اس نطفہ کے بننے میں یا بنانے میں تمہارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا ؟ پھر اس نطفہ کو رحم مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے۔ اس کے بعد پھر اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم یا کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین سے نظر آسکتے ہیں۔ اسی طرح رحم مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 58–59

19۔ یعنی اسباب وجود کو فراہم کردینا ہمارے اختیار کی چیز ہے یا تمہارے ؟ (آیت) ” ما تمنون “۔ یعنی عورت کے رحم میں جو تم تلقیح کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 57–59

نحن خلقنکم فلولا تصدقون الخ شروع سورت سے یہاں تک محشر میں انسانوں کی تین قسموں کا ذکر تھا، مذکورۃ الصدر آیات میں ان گمراہ لوگوں کو تنبیہ ہے جو سرے سے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں اور اس کی توحید کے قائل ہونے کے بجائے مختلف مظاہر قدرت کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ مذکورہ مختصر فقرے میں ایک بڑا اہم سوال انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے دنیا کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے، تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے نہ اس کی تعلیم آخرت میں، انسان آخر اسی طرح تو پیدا ہوتا ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے رحم تک پہنچا دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ءَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗ : یعنی کیا تم اس کو انسان بناتے ہو یا ہم ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) اچھا تو پھر یہ بتاؤ کہ تم جو عورتوں کے رحم میں منی پہنچاتے ہو تو مکہ والو کیا رحم میں تم اولاد بناتے ہو یا ہم لڑکا یا لڑکی نیک یا بد۔ نہیں بلکہ ہم ہی بناتے ہیں تم نہیں بناتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 58–59

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ۔۔۔۔۔۔:”تُمْنُوْنَ“”امنی یمنی امنا“ (افعال) (گرانا ، ٹپکانا) سے جمع مذکر حاضر مضارع معلوم ہے۔ ”افرء یتم“ میں رؤیت سے مراد رؤیت علمی ہے ، کیونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں۔ (دیکھئے سورة ٔ یٰسین : 77) منی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا قیامت کی دلیل ہونا ایسی بات ہے جس پر غور کرنا ہر شخص پر واجب ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے ، فرمایا :(فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ) (الطارق : 5، 6) ”پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھئے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے“۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 58–59

افراء یتم ما تمنون۔ مراد ہے منی میں سے جو تم عورتوں کے رحموں میں ٹپکاتے ہو۔ ء انتم تخلقونہٗ کیا تم اسے سے انسان کی تصویر کشی کرتے ہو۔ ام نحن الخلقون۔ یا ہم مقدر کرنے والے اور تصویر کشی کرنے والے یہ ان کے 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 458 خلاف استدلال اور پہلی آیت کا بیان ہے یعنی جب تم نے اقرار کرلیا ہے کہ ہم اس کو پیدا کرنے والے ہیں کوئی اور پیدا کرنے والا نہیں تو تم دوبارہ اٹھائے جانے کا اعتراف کرلو۔ ابو سمال، محمد بن سمیقع اور اشہب عقلی نے پڑھا ہے تمنون یعنی تاء پر فتحہ ہے امنی اور منی دونوں لغتیں ہیں، جس طرح امذی، مذی، یمنی، یمنی، یمذی، یمذی، یہ ماوردی کا قول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ میرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 58–59

1۔ عبدالرزاق وابن المنذر والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں حجر المرادی (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت علی ؓ کے پاس تھا اور وہ رات کو نماز میں (سورۃ واقعہ) پڑھ رہے تھے جب اس آیت آیت افرء یتم ماتمنون، ء انتم تخلقونہ ام نحن الخلقون پر گزرے (بتلاؤ تم جو عورتوں کے رحم میں نطفہ ٹپکاتے ہو اس کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں) تو فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی پیدا فرماتے ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا پھر یہ آیت ءانت تزرعونہ پڑھی (اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں، پھر فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی اگاتے ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا پھر یہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن، (اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗٓ: کیا تم لوگ پیدا کرتے ہو اس (نطفہ) کو ] [اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ : یا ہم پیدا کرنے والے ہیں (اس کو) ] ترکیب : (آیت ۔ 59) تخلقونہ کی ضمیر مفعولی کو رء یتم کے مفعول ما یعنی نطفہ کے لیے بھی مانا جاسکتا ہے اور اس کے لیے بھی جو نطفہ سے پیدا ہوتا ہے یعنی انسان ۔ ترجمہ میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–59

بنی آدم کی تخلیق کیسے ہوئی ؟ دنیا میں ان کے جینے اور بسنے کے اسباب کا تذکرہ بنی آدم کی تینوں قسمیں بیان فرمانے کے بعد بنی آدم کی تخلیق کو بیان فرمایا اور بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا جو انکے لیے اسباب کے طور پر زندگی کا سامان ہیں، خطاب کا رخ منکرین کی طرف ہے لیکن نعمتوں کی یاددہانی سب ہی کے لیے ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ 0057﴾ ہم نے تم کو پیدا کیا (جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے) کمافی سورة الدھر ﴿لَمْ يَكُنْ شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا 001﴾ سو تم کیوں تصدیق نہیں کرتے، (موت کے بعد اٹھائے جانے اور قیامت قائم ہونے پر کیوں ایمان نہیں لاتے) جس ذات پاک نے تمہیں عدم سے نکالا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–61

19:۔ ” نحن خلقناکم “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ نیز قیامت کی دلیل ہے۔ ہر دلیل میں ” افرایتم “ سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہر دلیل بالکل واضح اور روشن ہے تم خود سوچ کر بتاؤ کہ دلائل میں جو حقائم مذکور ہیں وہ درست ہیں یا نہیں۔ پہلی دلیل میں فرمایا تم خوب جانتے ہو کہ پہلی بار ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو پھر دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں نہیں مانتے ہو ؟ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کرلیا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو تم سب کا خالق ہے وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ افرایتم۔ یہ اس دلیل کی تفصیل ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ بیویوں کے رحموں میں تم جو مادہ منویہ ڈالتے ہو کیا اس سے کامل ومکمل انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ۝ 59 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–60

ترکیب : نحن مبتداء خلقنا کم خبرہ افرائیتیم الھمزۃ للاستفہام والفاء للتفریع اوالعطف ما موصولۃ تمنون قراء الجمہور بضم الفوقیۃ من امنی یمعنی وقریٔ بفتحہا من منی یمعنی وھما بمعنی واحد قیل بینھما فرق امنی اذا انزل عن الجماع ومنی اذا انزل من احتلام والمعنی ماتصبومہ فی ارحام النساء والجملۃ صلۃ۔ والموصول مع صلۃ مفعول ارء یتم بمسبو قین ای لایسبقنا احد فیھرب من الموت اوالعذاب اولایغلبنا احد من سبقتہ علی کذا اذا غلبۃ علیہ علی الاول حال من فاعل قدرنا الموت کائنین علٰی ان نبدل امثالکم او علۃ تقدرنا وعلی بمعنی اللام و مانحن بمسبوقین اعتراض وعلی الثانی صلۃ ظلتم بفتح الظاء مع لام واحدۃ قریٔ بکسرھا معھا وقریٔ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَـہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 58، 59) (کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم ٹپکا دیتے ہو۔ اس سے بچہ تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔ ) انسان کی اپنی خلقت سے قیامت پر دلیل اس میں انسان سے خود اس کی خلقت کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ مقصود یہ نہیں کہ وہ جواب دے بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ اس پر غور کرے اور دیکھے کہ انسان کی تخلیق میں خود انسان کا کتنا حصہ ہے۔ اور پھر کیا اس میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے یا نہیں۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ پانی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–59

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید اور آخرت کا انکار کرنے والوں سے ایک سوال جس میں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا ثبوت بھی ہے اور آخرت میں زندہ کرنے کی دلیل بھی۔ ہر انسان بالخصوص کافر اور مشرک کو یہ سوال کیا گیا ہے کیا ہم بچہ پیدا کرتے ہیں یا تم اسے پیدا کرتے ہو۔ لیکن اس کے باوجود تم اپنے خالق کو نہیں مانتے اور نہ ہی قیامت کے دن زندہ ہونے کی تصدیق کرتے ہو۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جو نطفہ تم ڈالتے ہو اس سے تم بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ بچہ پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ہے کہ پہلے انسان یعنی آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

59 : ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗ ( کیا تم اس کو آدمی بناتے ہو) تم اس کا اندازہ کرتے، تصویربناتے اور اس کو صحیح سالم بشربناتے ہو۔ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (یا ہم بناتے ہیں)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–61

57۔ 61۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لئے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے۔ ورنہ یہ کسی عقل مند کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجانا آنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو۔ سورة الزمر میں گزر چکا ہے ولئن سئلنھم من خلق السموت والارض لقوسلن اللہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–62

یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحموں میں) ٹپکاتے ہو کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کے خالق تم ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی۔ میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی ہے ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعقل قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے اس لیے الہ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ ) اور تمہیں یقنی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 52] خلقت انسانی میں دعوت غور و فکر : سو انسان کی خلقت کے بارے میں دعوت غورفکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس بارے میں بھی غور و فکر سے کام لیا کہ جو منی تم گراتے ہو کیا اس سے بچہ تم لوگ پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ اس کو جواب ایک اور یقینا ایک ہی ہے، کہ یہ سب کچھ از اول تا آخر ہماری ہی قدرت و کارستانی کا نتیجہ ہے، ورنہ تمہیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ نطفہئِ منی اور قطرہئِ آب کہاں پہنچا اور بطن مادر میں اس پر کیا کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اور وہ قطرہ آب کن کن مرحلوں سے گزرتا ہے اور خود اس ماں کو بھی اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی جس کے پیٹ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–74

مسلمان کے بنیادی عقائد توحید و آخرت تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے ہم اور ہماری تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی حکمت اور خلاقی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ تمام راز، غیب کی باتیں اور زندگی کا راز یعنی جن باتوں کا انسان کو اس زندگی میں جان لینا ضروری نہیں وہ راز اللہ تعالیٰ نے انسان سے جنوں سے پوشیدہ رکھے۔ مثلاً جینے مرنے کا راز قیامت کا راز کہ کب آئے گی مستقبل کا حال۔ کہ کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس طرح کے بیشمار راز ہیں جو انسان کو ہرگز کسی صورت بھی معلوم نہیں ہوسکتے یہ ایک حقیقت ہے اور یہی حقیقت اگر انسان دل سے مان لے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

‘9 مطلب یہ ہے کہ اسے ہم نے بنایا۔ تم نہ اسے بنا سکتے تھے اور نہ رحم مادر میں اسے بچہ کی شکل دے سکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:59) ء انتم تخلقونہ : ء استفہامیہ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جو ما موصولہ آیت 58 کی طرف راجع ہے۔ تخلقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ خلق (باب نصر) مصدر۔ تم پیدا کرتے ہو ؟ کیا تم اس کو (انسان کی صورت میں) پیدا کرتے ہو۔ ام : یا (ہم پیدا کرنے والے ہیں) ۔ یقینا تم تخلیق بشر نہیں کرتے ہم ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–61

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپرذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لیے عقبی کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے، ورنہ یہ کسی عقل مندی کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجاناآنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو، سورة الزمر میں گزرچکا ہے ، ولئن سالتھم من خلق السماوات والارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–60

[8] یعنی حسب اقتضائے حکمت و مشیت کوئی بچپن ہی میں مرجاتا ہے، کوئی جوان ہو کر، کوئی ادھیڑ عمر میں مرتا ہے اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر۔ جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–59

ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) کیا تم اس کو انسان بناتے ہو یا ہم اس کے بنانے والے ہیں۔ یعنی مادہ منویہ کا ڈال دینا اور منی کا رحم میں پہنچانا بظاہر تمہارا کام ہے۔ لیکن نطفے کے رحم میں پہنچنے کے بعد اس کو بنانا اور رحم مادر میں اس کی تخلیق یہ کس کا کام ہے اور اندھیری کوٹھری میں کس کا دست صنعت اپنی کاریگری کے جوہر دکھاتا ہے اور وہ کس کی کلک قدرت ہے جو پانی کی بوند کو جیتا جاگتا خوش نما انسان بنانکالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مطلب یہ کہ بنانا اور بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر اس کو تم انسان بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟ 59۔ کس کا دست قدرت ہے جو اس کام کے بعد ان کروڑوں جرثوموں میں جس کو زندگی عطا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور باقی سب مردہ ہو کر فنا ہوجاتے ہیں اور پھر کس کی قدرت نے یہ کام کیا کہ اس ایک جرثومے کو عورت کے بیضہ سے جا کر ملا دیا پھر رحم مادر کے اندر ایک تنگ و تاریک گوشہ میں اس کو قرار بخشا اور اس کے ارد گرد پہرے لگا دیئے کہ کوئی باہر سے حملہ آور اس پر حملہ نہ کر پائے۔ تم خود ہی سوچ لو کہ تم نے کتنی بار حملہ کیا لیکن ان پہرہ داروں نے تم کو ہر بار ناکام بنا کر رکھ دیا اور جس تنگ و تاریک کو ٹھری میں عمل جاری ہوا تھا وہ بد ستور اپنی جگہ کام کرتا رہا اور کتنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–62

Proof of the occurrence of the Day of Resurrection Thus far the Surah dealt with three categories of people on the Plain of Hashr (Gathering.) The verses so far described the reward and punishment of these three groups. The current set of verses warn the deviant skeptics and atheists who completely deny the Day of Judgment and life after death, or set up partners to Allah in His worship. The verses purport to tear down the curtain of negligence and ignorance that has kept man in the dark. Whatever exists, or is coming into existence at the present time, or will come into existence in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–59

24 In this brief sentence a very important question has been put before man. Apart from aII other things in the world, if man only considers as to how he himself has come into being, he can then neither have any doubts left about the doctrine of Tauhid presented by the Qur'an nor about its doctrine of the Hereafter. The process of man's own creation starts when the male has conveyed his sperm to the womb of the female. But the question is: Has the sperm by itself become endowed with the capability of producing a child, and necessarily a human child ? Or, has it been created by man himself,…

Read the full tafseer →