Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
سورة الْوَاقِعَة 21
زقوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 34۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(قل ان الاولین والاخرین لمجموعون الی میقات یوم معلوم) (49، 50)۔
(قریش کو تنبیہ)۔ (اصحب الشمال) کے جرائم بیان کرتے ہوئے یہ آنحضرت ﷺ کی زبان سے قریش کو جواب دلوایا کہ یہی استیعاد آج تم میری تذکیر آخرت کے جواب میں پیش کرتے ہو تو اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جتنے بھی اگلے اور پچھلے ہیں سب ایک معین دن کی مقررہ میقات تک جمع کیے جاتے رہیں گے اور جب وہ میقات آجائے گی تو وہ جزاء و سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مر جاتے ہیں یہ نہ سمجھو کہ جس طرح تمہارے اندر سے وہ ختم ہوگئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں سے بھی وہ ختم ہوگئے۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ذخیرہ میں جمع کیے جا رہے ہیں اور جب جزاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
12: بڑے بھاری گناہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قل ................ معلوم (6 5: 0 5) ” اے نبی ان سے کہو یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع ہونے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ “
اس کے بعد اب سیاق کلام دوبارہ ان کی طرف مڑ جاتا ہے جو مکذبین تھے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے عذاب کی تصویر کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
4 یعنی قیامت کے دن جس کا وقت اللہ کے علم میں مقرر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 49{ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ یقینا پہلے بھی اور پچھلے بھی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
25 زَقُّوْمٍ بمعنی تھوہر کا درخت جس کے پتے چوڑے، موٹے بڑے بڑے اور خار دار ہوتے ہیں۔ ذائقہ میں نہایت کڑوا اور اس کا لعاب زہریلا ہوتا ہے۔ بدن کے کسی حصہ سے لگ جائے تو پھوڑے پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة صافات کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
17۔ (جو خوب ڈگڈگا کر پانی سوکھتاچلا جاتا ہے اور پھر بھی اس کی پیاس نہیں بجھتی) جہنم کے شدائد کا بیان ہے جو کافروں کو چاروناچار بھگتنے ہوں گے۔ اور حشرکا منظر تو سب کو پیش آنا ہے۔ (آیت) ” من شجر من زقوم “۔ زقوم۔ پر حاشیہ سورة الصافات (پ 23) میں گزر چکا۔ (آیت) ” من زقوم “۔ میں من بیانیہ ہے۔ (آیت) ” شرب “۔ بالضم مصدر ہے اور اسم کے بھی معنی دیتا ہے۔ مشروب کے مرادف۔ الشرب بالضم مصدر قیل اسم لما یشرب (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ۔۔۔۔۔: تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ تغابن (9) ، نسائ، (87) ، آل عمران (9) ، ہود (103) ، مرسلات (8 3) اور سورة ٔ کہف (47)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
وگانو یقولون ائذا متنا یہ ان کی جانب سے بعث کے امرا کو حقیقت سے بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ! انہیں کہو ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ اولین سے مراد تمہارے آباء، آخرین سے مراد تمہاری ذاتیں ہیں۔ میقات یوم معلوم مراد یوم قیامت ہے۔ کلام کا معنی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لمجموعون میں لام کا دخول قسم کے معنی پر دال ہے یعنی تم ضرور جمع ہو گے یہ حقیقی قسم ہے جو تمہاری باطل قسم کے خلاف ہے۔
ثم انکم ایھا الضالون ہدایت سے بھٹکے ہیء وہا المکذبون۔ بعث کو جھٹلانے والے ہو۔ لا کلون من شجر من زقوم۔ زقوم سے مراد ایسا درخت ہے جس کا منظر بڑا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
9۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔
Read the full tafseer →[قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ : آپ کہیے بیشک سارے اگلے اور سارے آخری ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَۙ0049 لَمَجْمُوْعُوْنَ۠1ۙ۬ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 0050﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بیشک اولین اور آخرین مقررہ معلوم دن کی طرف جمع کیے جائیں گے) یعنی قیامت ضرور واقع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت آئے گی، سب اولین و آخرین اس وقت جمع ہوں گے اس دن بندوں کی پیشی ہوگی ایمان والوں کو جنت دی جائے گی اور اہل کفر وشرک دوزخ میں جائیں گے جہاں طرح طرح کے عذاب ہیں ان عذابوں میں سے ایک زقوم بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔
اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
ف 17:۔ ” قل ان الاولین “ یہ مشرکین کے انکار و تعجب کا جواب ہے۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں وہ تماما گلے اور پچھلے لوگوں کو اس معلوم و متیقن دن میں ضرور جمع کرے گا۔ ” ثمانکم۔ الایۃ “ یہ اہل جہنم کی طرف التفات ہے۔ اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! قیامت قائم ہونے کے بعد تم سب کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور وہاں تمہیں زقوم ایسا پر خار اور نہایت ہی تلخ درخت کھانے کے لیے ملے گا۔ جسے تم خوب پیٹ بھر کر کھاؤ گے۔ پھر جب شدت کی پیاس لگے گی تو اس پر نہایت ہی گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا جسے تم اس طرح پیوگے جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ پیاسا اونٹ خوب سیر ہو کر پانی پیتا ہے اور پھر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔
اصحاب شمال کا حال :
کامیاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ 49 لَمَجْمُوْعُوْنَ 0ۥۙ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 50
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا .
الثاني :
يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ ۔ لَمَجْمُوْعُوْنَ 5 لا اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ (الواقعۃ : 49، 50)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! بیشک اگلے اور پچھلے۔ سب جمع کیے جائیں گے، ایک معین دن کی مقررہ مدت تک۔ )
قریش کو تنبیہ
اصحابُ الشمال کے جرائم بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ اپنے مخالفین سے کہئے کہ تم بھی آخرت کے عقیدے کے جواب میں اسی طرح کی فرسودہ باتیں کرتے ہو، اور بار بار یہ سوال اٹھاتے ہو کہ جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے تو آخر دوبارہ ہمیں کیسے اٹھایا جائے گا۔ تمہیں خوب معلوم ہونا چاہیے کہ کہ جتنے بھی اگلے اور پچھلے ہیں سب ایک معین دن کی مقررہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
فہم القرآن
ربط کلام : بائیں ہاتھ والوں کے جرائم اور انجام۔
ہائیں ہاتھ والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دنیا میں خوش حال اور مال دار تھے، یہی لوگ معاشرے میں اکثر برائیوں کے موجد تھے، مالدار ہونے کے باوجود لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے اور غریبوں کا خیال نہیں رکھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمانی کتاب میں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا ہے اور غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں اور زیر دست لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے، خوش حال اور مال دار لوگوں کے مال میں کمزور لوگوں کا حق رکھا گیا ہے (الذاریات : 19) لیکن جہنم میں جانے والے مجرم کمزور لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے…
Read the full tafseer →49 : قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ (آپ کہہ دیجئے سب اگلے اور پچھلے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
47 ۔” وکانوا یقولون ائذامتنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون “ ابو جعفر، نافع اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائذا “ استفہام کے ذریعے پڑھا ہے۔ ” انا “ استفہام کو چھوڑ کر اور دیگر حضرات نے دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انہیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ نے تمام مخلوقت کے ختم ہوجانے پر ان کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دینے کے اردے سے جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کررکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
[ 43] منکرین کے بعث بعد الموت پر استعجاب کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ استفہام تعجب وانکار کیلئے ہے، کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کہ جب ہم مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، تو ہم کو ازسر نو پھر زندہ کر کے اٹھا دیا جائے، سو یہی تعجب واستبعاد ہمیشہ انسان کیلئے دولت ایمان سے محرومی کا باعث بنا، کل بھی اس قاصر الفہم اور کوتاہ بین انسان کا یہی حال تھا، اور آج بھی یہی ہے، اور بنیادی غلط فہمی ایسے لوگوں کی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ حضرت قادر مطلق سبحانہ وتعالیٰکو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں کہ جب ان کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔
اسرار ومعارف۔
ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 5 اس تھوہر کے درخت سے متعلق سورة صافات میں ارشاد ہے کہ وہ ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کی تہ میں اگتا ہے۔ اس کی کلیاں ایسی ہیں جیسے شیطانوں کے سر (یا سانپوں کے پھن) آیت 65 ۔ 64)
Read the full tafseer →(56:49) قل : (یعنی ان کے انکار کی تردید میں اور حق کی صداقت میں ان منکرین سے) کہئے (اے محمد ﷺ ) ان الاولین والاخرین۔ منصوب بوجہ عمل ان اگلے ، پچھلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة صافات حاشیہ 41 صفحہ 1097۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…
Read the full tafseer →(49) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
ف 2۔ مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ فرمادیجیئے کہ ہاں ! بلا شبہ اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی
49۔ فرمایا تم کو تعجب ہوتا ہے تو ہوا کرے ہم نے جو بات کہی ہے اس کو ہونا ہے اور وہ ہو کر رہے گی۔ تمہارا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے آبا و اجداد بھی جی اٹھیں گے تم کان کھول کر سن لو کہ ہاں تمہار آباواجداد بھی اور تمہارے آباواجداد کے آباواجداد بھی تمہارے سارے اگلے پچھلے میدان حشر میں اکٹھے کردیئے جائیں گے اور کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ وہاں پہنچنے سے انکار کرے تم خود ہی بتائو کہ تمہارے اندر جتنے شاہ و گدا ہیں ہم سب باری باری اپنے قانون کے مطابق موت دیئے چلے جا رہے ہیں اور کیا تم میں سے کسی کا بھی مرنے کا جی چاہتا ہے ؟ اگر نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
21 For the explanation of zaqqum, sec E.N. 34 of As-Saaffat.
Read the full tafseer →