اَوَاٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۟اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
And our forefathers [as well]?"
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
اَوَاٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۟اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
And our forefathers [as well]?"
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟"
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟
اور کیا ہمارے پہلے گزرے ہوئے باپ دادوں کو بھی ؟
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ کئے جائیں گے)،
اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی ؟
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ؟
اور کیا ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی !
اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی جو ہم سے بھی کہیں پہلے گزر چکے ہیں ؟
اور ہمارے اگلے باپ دادا بھی ؟۔
اور کیا ہمارے آباء و اَجداد بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟
(We) and our fore-fathers of yore?”
and our ancient fathers as well?
and our ancient fathers as well?
"And also our forefathers"
And also our forefathers?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And our forefathers [as well]?"
Will our ancient forefathers be resurrected too?
Or our fathers of yore?
We and our fathers of old?
"(We) and our fathers of old?"
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
سورة الْوَاقِعَة 21 زقوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 34۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(یہ ان کے ان بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد گو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلومہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کردیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بد قسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے !) (انھم گانو قبل ذلک مترفین) فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مالدار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بندے بنتے لیکن یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
12: بڑے بھاری گناہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وکانو ................ الاولون (6 5: 8 4) ” اور کہتے تھے کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گزر چکے ہیں۔ “ یہ لوگ یوں تھے۔ گویا یہ دنیا اب نہیں ہے۔ یہ لوگ میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ دنیا ماضی پارینہ ہے اور یہ اب وہاں عذاب کے سامنے کھڑے ہیں یہ اس لئے کہ دنیا کا تو ایک مختصر وقت ہے۔ اتنا ہی جتنا پلک جھپکنے کا وقت لگتا ہے۔ اصل وقت ، حاضر وقت تو آخرت کا وقت ہے جہاں دوام ہے۔ سباق کلام اب پھر ہمیں دنیا میں لاتا ہے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
3 جو ہم سے بھی پہلے مرچکے۔ یعنی یہ بات کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 48{ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ۔ } ”اور کیا ہمارے آباء و اَجداد بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
25 زَقُّوْمٍ بمعنی تھوہر کا درخت جس کے پتے چوڑے، موٹے بڑے بڑے اور خار دار ہوتے ہیں۔ ذائقہ میں نہایت کڑوا اور اس کا لعاب زہریلا ہوتا ہے۔ بدن کے کسی حصہ سے لگ جائے تو پھوڑے پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة صافات کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
16۔ یہ وہی گروہ ہے، جس کی جانشینی اور ترجمانی آج مادی تہذیب و تمدن میں مبتلا بیسویں صدی کی ”’ روشن خیال “ دنیا کررہی ہے۔ مصری، یونانی، رومی، ہر جاہلی تمدن میں ایک گروہ ان خیالات کا ترجمان رہا کیا ہے، اور آج یورپ اور یورپ زدہ سارے ملکوں کا تمدن اسی انکار آخرت کے عقیدہ میں شریک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →یا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ کیے جائیں گے۔ اَوَ اٰبَاؤُنَا : باپ ‘ دادا کو مرے ہوئے زمانۂ دراز ہوگیا۔ ان کی دوبارہ زندگی کا تو ان کو اور بھی سخت انکار تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وَ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ۔۔۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومنون (82، 83) اور سورة ٔ صفا ات (16، 17)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
وگانو یقولون ائذا متنا یہ ان کی جانب سے بعث کے امرا کو حقیقت سے بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ! انہیں کہو ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ اولین سے مراد تمہارے آباء، آخرین سے مراد تمہاری ذاتیں ہیں۔ میقات یوم معلوم مراد یوم قیامت ہے۔ کلام کا معنی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لمجموعون میں لام کا دخول قسم کے معنی پر دال ہے یعنی تم ضرور جمع ہو گے یہ حقیقی قسم ہے جو تمہاری باطل قسم کے خلاف ہے۔ ثم انکم ایھا الضالون ہدایت سے بھٹکے ہیء وہا المکذبون۔ بعث کو جھٹلانے والے ہو۔ لا کلون من شجر من زقوم۔ زقوم سے مراد ایسا درخت ہے جس کا منظر بڑا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
9۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔
Read the full tafseer →[اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ : اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
﴿ وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِۚ0046﴾ (اور یہ لوگ بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے) یعنی شرک اور کفر پر اصرار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم ایمان قبول نہیں کریں گے اور ہمیشہ کفر پر جمے رہیں گے۔ ان لوگوں کو توحید قبول کرنے سے بھی سخت انکار تھا اور قیامت قائم ہونے کا بھی سختی سے انکار کرتے تھے اسی لیے اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ 1ۙ۬ اَىِٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ0047﴾ (اور وہ کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے) یہ بات کہنے سے ان کا مطلب وقوع قیامت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
16:۔ ” انہم “ مترفین، عیش و عشرت اور شہوات نفسانیہ کے اتباع میں منہمک۔ الحث العظیم، بہت بڑا گناہ یعنی شرک و کفر۔ یہ دنیا میں عیش و عشرت اور خواہشات نفسانیہ کے پیچھے پڑے رہے اور شرک وکفر ایسے عظیم گناہ پر بضد رہے اور قیامت کا انکار کرتے رہے اور اس کو عقل و قیاس سے بعد سمجھ کر کہتے تھے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی ہوجائیں اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں اور پھر بھی ہم دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب…
Read the full tafseer →اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ 48 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۔ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۔ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ 5 لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 45 تا 48) (یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے۔ اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ ) اصحابُ الشمال کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر گزشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اب ان کے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
فہم القرآن ربط کلام : بائیں ہاتھ والوں کے جرائم اور انجام۔ ہائیں ہاتھ والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دنیا میں خوش حال اور مال دار تھے، یہی لوگ معاشرے میں اکثر برائیوں کے موجد تھے، مالدار ہونے کے باوجود لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے اور غریبوں کا خیال نہیں رکھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمانی کتاب میں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا ہے اور غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں اور زیر دست لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے، خوش حال اور مال دار لوگوں کے مال میں کمزور لوگوں کا حق رکھا گیا ہے (الذاریات : 19) لیکن جہنم میں جانے والے مجرم کمزور لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے…
Read the full tafseer →48 : اَوَاٰبَآ ؤُنَا الْاَوَّلُوْنََ (یا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ کیے جائیں گے) نحو : ہمزہ استفہام کو حرف عطف پر داخل کیا گیا۔ اور مبعوثون کے مضمر پر اس کا عطف نحنؔ کی ضمیر فاصل کے بغیر ہی خوب ہے۔ اس لئے کہ ہمزہ فاصل موجود ہے۔ جیسا کہ اس قول میں خوب ہے۔ ما اشرکنا ولا ٰاباؤنا۔ ] الانعام : 148 [ کیونکہ لاؔ جو تاکید نفی کیلئے ہے وہ فاصل کافی ہے۔ قراءت : أَوْآبَا ؤنا مدنی وشامی نے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
47 ۔” وکانوا یقولون ائذامتنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون “ ابو جعفر، نافع اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائذا “ استفہام کے ذریعے پڑھا ہے۔ ” انا “ استفہام کو چھوڑ کر اور دیگر حضرات نے دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
( وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ ) یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انہیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا پس انہوں نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے (اَىِٕذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ 48) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ پھر کھڑے کیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
[ 43] منکرین کے بعث بعد الموت پر استعجاب کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ استفہام تعجب وانکار کیلئے ہے، کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کہ جب ہم مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، تو ہم کو ازسر نو پھر زندہ کر کے اٹھا دیا جائے، سو یہی تعجب واستبعاد ہمیشہ انسان کیلئے دولت ایمان سے محرومی کا باعث بنا، کل بھی اس قاصر الفہم اور کوتاہ بین انسان کا یہی حال تھا، اور آج بھی یہی ہے، اور بنیادی غلط فہمی ایسے لوگوں کی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ حضرت قادر مطلق سبحانہ وتعالیٰکو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں کہ جب ان کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 5 اس تھوہر کے درخت سے متعلق سورة صافات میں ارشاد ہے کہ وہ ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کی تہ میں اگتا ہے۔ اس کی کلیاں ایسی ہیں جیسے شیطانوں کے سر (یا سانپوں کے پھن) آیت 65 ۔ 64)
Read the full tafseer →(56:48) او اباء نا الاولون : أ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ جس کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ایء انا لمبعوثون واباء نا الاولون۔ کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اولین باپ دادا بھی۔ جملہ استفہام انکاریہ ہے۔ اباء نا مضاف مضاف الیہ ہمارے آباء و اجداد۔ باپ دادے، الاولون ہم سے پہلے ، ہمارے اگلے، اسلاف۔ آیت 47 میں ائذا متنا اورء انا میں ہمزہ استفہامیہ کے تکرار کے متعلق اور آیت 48 میں واؤ عاطفہ پر ہمزہ استفہامیہ داخل کرنے کے متعلق بیضاوی میں ہے۔ ہمزہ کا تکرار بعث سے مطلقاً انکار کی دلیل ہے یعنی اگر ہمزہ کو دوبارہ نہ لایا جاتا تو انکار بعث محض مٹی اور ہڈیاں کے دوبارہ جی اٹھنے پر محدود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة صافات حاشیہ 41 صفحہ 1097۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…
Read the full tafseer →(48) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
ف 2۔ مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Read the full tafseer →اُنھوں نے کہا کیا ہمارے آباو اجداد بھی دوبارہ پیدا ہوں گے 48۔ اُنھوں نے تعجب سے پوچھا کہ کیا ہمارے آباد و اجداد بھی دوبارہ زندہ ہوں گے۔ یہ سوال اُ نھوں نے پہلی بار نہیں اٹھایا بلکہ قرآن کریم میں ان کا یہ سوال بار بار دہرایا گیا ہے چناچہ بالکل یہی سوال سورة المؤمنون کی آیت 83 ‘ الخل کی آیت 67 ، 28 ، الصافات کی آیت 17 میں بھی دہرایا گیا ہے اور ان کو ہر بار جواب دیا گیا کہ اگر تم لوہا یا پتھر بھی ہو جائو تو بھی تم کو زندہ کرلیا جائے گا کیونکہ پہلی بار زندہ کرنے سے دوسری بار زندہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ابھی مارا اور ابھی زندہ کیا جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو وہ ہماری قدرت سے باہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
21 For the explanation of zaqqum, sec E.N. 34 of As-Saaffat.
Read the full tafseer →