Explained with ayahs 47–55
شکوک و شبہات کے مریض لوگ
بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة الْقَمَر 28
یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کا کیا دھرا کہیں غائب ہوگیا ہے۔ نہیں، ہر شخص، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ، قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں، اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے عالم کی تمام مخلوقات کو اور اس کی ہر نوح و صنف کو ایک حکیمانہ اندازہ سے بڑا چھوٹا اور مختلف ہیئت و صورت میں بنایا ہے، پھر ہر نوع و صنف کے ہر فرد کی تخلیق میں بھی حکیمانہ انداز بڑی حکمت کے ساتھ رکھا ہے، انگلیاں سب یکساں نہیں بنائیں، طول میں فرق رکھا، ہاتھوں پاؤں کے طول و عرض اور ان کے کھلنے بند ہونے سمٹنے اور پھیلنے کے لئے اسپرنگ لگائے، ایک ایک عضو کے ایک ایک جز کو دیکھو تو قدرت و حکمت خداوندی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(وکل شی فعلرہ فی الذبر و کل صغیر و کبیر مستطر) (52، 53)۔
(اللہ کے ہاں سب کا ریکارڈ محفوظ ہے)۔ یعنی اس مغالطے میں بھی نہ رہیں کہ ان کا کوئی قول و فعل خدا کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب ریکارڈ کے دفتروں میں محفوظ اور ہر چھوٹی بڑی بات نوشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کا سارا کیا دھرا رکھ دے گا اور مجرم اس کو دیکھ کر پکار اٹھیں گے کہ عجیب ہے یہ رجسٹر کو ہر چھوٹی اور بڑی بات اس نے محفوظ کرلی ہے۔)
Read the full tafseer →53۔ 1 یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
15: یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ناپ تول اور ہر کام کا ایک وقت مقرر رکھا ہے، اس لیے وہ قیامت اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب…
Read the full tafseer →3 یعنی اس سے قبل ہر چھوٹی بڑی چیز کی تفصیل " لوح محفوظ " میں لکھی جا چکی۔ تمام دفاتر باقاعدہ مرتب ہیں کوئی چھوٹی موٹی چیز بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →آیت 53 { وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ۔ } ”اور ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔“
قیامت کے دن یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ سورة الکہف کی یہ آیت اس منظر کا نقشہ دکھاتی ہے جب سرمحشر ان مجرمین کے سامنے ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے :
{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا۔ }
”اور رکھ دیا جائے گا اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
37 اس سے مراد فرشتوں کے تیار کردہ ہر انسان کے اعمال نامے ہیں جن میں ہر انسان کے اقوال و افعال، حرکات و سکنات، لب و لہجہ اور طرز بیان سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ثبت ہو رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس میں درج ہونے سے رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
34۔ (اور یہ نہیں کہ کچھ لکھا گیا ہو اور کچھ رہ گیا ہو) (آیت) ’ فی الزبر “۔ یعنی اعمالناموں میں۔ اے مکتوب فی کتب الحفظۃ (بیضاوی) فی دوادین الحفظہ (بحر) یہ نوشتوں کا پیش ہونا ثبوت جرم کی مزید اکملیت کے لئے ہوگا ورنہ ثبوت کی قطعیت کیلئے تو محض علم الہی کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
وکل شیء فعلوہ فی الزبر (الآیۃ) یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کے کئے ہوئے کالے کرتوت غائب اور مفقود ہوگئے ہیں، نہیں، ہر شخص، ہر گوہ اور ہر قوم کا پورا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →وکل صغیر و کبیر مستطر .
اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ “
کُلُّ صَغِیْرٍ وَّ کَبِیْرٍ : یعنی مکلفین کا ہر چھوٹا بڑا عمل یا تمام چھوٹی بڑی مخلوق اور اس کی مدت زندگی۔
مُسْتَطَرٌ : اعمالنامے لکھنے والے فرشتوں کے صحیفوں میں یا لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ یہ جملہ سابقہ جملہ کی تاکید و تائید ہے یا اوّل جملہ میں ملائکہ کے اعمالناموں میں اندراج ہونا اور اس جملہ میں لوح محفوظ میں مکتوب ہونا مراد ہے۔
Read the full tafseer →اور ہر چھوٹی اور بڑی بات خواہ نیکی ہو یا برائی سب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے یہ دونوں آیتیں فرقہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ وہ اس کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ۔۔۔۔”مستطر“ ”مسطور“ کے معنی میں ہے۔ افتعال کی تاء کی وجہ سے معنی میں مبالغہ مقصود ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات بہت اچھی طرح لکھی ہوئی ہے ، مراد اعمال نامے ہیں۔ یعنی ان مجرموں نے جو کچھ کیا ہے سب دفتروں میں درج ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ کہف (49) اور سورة ٔ انفطار (10 تا 12)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ولقد اھلکنا اشیاعکم یعنی ہم نے سابقہ امتوں میں سے ایسے لوگوں کو قتل کیا جو کفر میں تمہارے مشابہ تھے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہارے پیرو کاروں اور تمہارے مددگاروں۔ فھل من مد کر۔ ہے کوئی ایسا جو نصیحت حاصل کرے۔ وکل شی فعلوہ فی الزبر۔ یعنی ان سے قبل امتوں نے بھلائی یا برائی میں سے جو بھی اعمال کئے وہ لھ کے ہوتے ہیں یہ انا کلی شیء خلقنہ بقدر۔ کا بیان ہے۔
فی الزبر۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کراما کاتبین کی کتابیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے وکل صغیر و کبیر مستطر۔ یعنی ہر گناہ جو چھوٹا ہو یا بڑا ہو وہ عامل کے حق میں لکھا ہوتا ہے قبل اس کے کہ وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
8:۔ ابن جریر وابن لمنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (کہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو اندازے کے ساتھ پیدا کیا اور ان کے لئے خیر اور شر کو بھی اندازے سے پیدا فرمایا۔
ہر چیز قضاء وقدر سے ہے :
9:۔ مسلم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز قضا اور قدر سے ہے یہاں تک کہ عاجز ہونا اور عقل مند ہونا بھی۔
10:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز قضا اور قدر کے ساتھ ہے یہاں تک تیرا ہاتھ رکھنا اپنے رخسار پر (یہ بھی تقدیر میں سے ہے)
11:۔ احمد نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَكُلُّ صَغِيْرٍ [ اور ہر چھوٹی (چیز) ] وَّكَبِيْرٍ [ اور بڑی (چیز) ] مُّسْـتَـطَرٌ [لکھی ہوئی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
بندوں نے جو اعمال کیے ہیں صحیفوں میں محفوظ ہیں :
﴿وَ كُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 0052﴾ (اور لوگوں نے جو بھی کام کیے وہ سب کتابوں میں ہیں) فرشتوں نے لکھ لیا اعمال نامے محفوظ ہیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں نے جو اعمال کیے ہوا میں اڑ گئے لاشئی بن گئے۔ ﴿وَ كُلُّ صَغِيْرٍ وَّ كَبِيْرٍ مُّسْتَطَرٌ0053﴾ (اور ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہے) تفصیل کے ساتھ لوح محفوظ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
24:۔ ” ولقد اھلکنا۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اشیاعکم “ ای اشباھکم فی الکفر من الامم الخالیۃ (قرطبی ج 17 ص 149) ۔ اے مشرکین عرب ! تم سے پہلے ہم ایسی سرکش اور متمرد قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا ان کے عبرتناک انجام سے بھی تم کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ ” وکل شیء فعلوہ۔ الایۃ “ یہ کفار جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان کی ہر بات اور ان کا ہر کام ان کے اعمالناموں میں لکھا جا رہا ہے۔ اس لیے انہیں ان کے ہر عم کی سزا ملے گی۔ ” وکل صغیر۔ الایۃ “ ہر چھوٹی اور بڑی بات لوح محفوظ میں تحریر ہے۔ اس لیے قضاء وقدر کا کوئی فیصلہ ٹل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →وَكُلُّ صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍ مُّسْـتَطَرٌ 53
كبير
الْكَبِيرُ والصّغير من الأسماء المتضایفة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صغیرا في جنب شيء، وكبيرا في جنب غيره، ويستعملان في الكمّيّة المتّصلة كالأجسام، وذلک کالکثير والقلیل، وفي الكمّيّة المنفصلة کالعدد، وربما يتعاقب الکثير والکبير علی شيء واحد بنظرین مختلفین نحو : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] و : كثير «1» قرئ بهما . وأصل ذلک أن يستعمل في الأعيان، ثم استعیر للمعاني نحو قوله : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] ، وقوله : وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] ، وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَکُلُّ شَیْ ئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ ۔ وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ۔ (القمر : 52، 53)
(اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے سب رجسٹروں میں درج ہے۔ اور ہر چھوٹی بڑی بات ان میں لکھی ہوئی ہے۔ )
مخالفین کے ایک اور واہمے کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ زندگی میں جو اعمال کیے جاتے ہیں ان کا ریکارڈ کہاں ہوگا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی عمل ایسا نہیں جو کیا گیا ہو وہ سب رجسٹروں میں موجود ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات ان رجسٹروں میں لکھی ہوئی ہے۔ اور یہی وہ نوشتے ہیں جو قیامت کے دن ہر شخص کے ہاتھوں میں دے دیئے جائیں گے۔ اور ہر شخص اپنا اعمال نامہ دیکھ کر چیخ اٹھے گا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا دنیا اور آخرت میں انجام ذکر کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کوئی چیز اپنے اندازے اور وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ اگر ان لوگوں کی ابھی تک گرفت نہیں ہوئی تو اس کا بھی وقت مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں کی طرف بھیجا اور ہر نبی نے اپنی امت کو نیکی کرنے کا حکم دیا اور قیامت کے دن اس کے صلہ کی خوشخبری سنائی۔ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے لوگوں کو برے اعمال سے منع کیا اور اس کے انجام سے ڈرایا۔ ہر نبی کے مخاطبین کی اکثریت نے قیامت اور اس کی…
Read the full tafseer →آیت 53: وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّ کَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ اعمال اور جو چیزیں آئندہ کرنی ہیں۔ مستطر۔ لوح میں لکھی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →52 ۔” وکل شیء فعلوہ “ یعنی جو ان لوگوں نے خیر وشر کیا۔ ” فی الزبر “ حفاظت کرنے والوں کی کتاب میں اور کہا گیا ہے لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
49۔ 55۔ مسند 3 ؎ امام احمد اور صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ سے قضاء و قدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضاء و قدر کے بھی وہ لوگ جو منکر تھے یہ انکار اور ہے اور صحابہ ؓ کے آخر زمانہ میں بصرہ کے ایک شخص معبد الجہنی کے سبب سے اہل قبلہ میں ایک اختلاف قضاء و قدر کے مسائل…
Read the full tafseer →(وَكُلُّ صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍ مُّسْـتَـطَرٌ) یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے اور قضا وقدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کررکھا ہے اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ڈبل نہیں ہوسکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 56] انسان کا ہر عمل مکتوب و محفوظ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ یعنی ان کے نامہ اعمال میں اور اس سے پہلے لوح محفوظ میں، اور اس کے مطابق ہر انسان کو اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہوگا پس دیکھ لے کہ وہ کیا عمل کرتا ہے، [ روح، خازن وغیرہ ] سو ان کے اعمال و اقوال میں سے ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی کوئی موجود ہے، ان کے نامہ ہائے اعمال میں، سو اس کے مطابق ان کا سب کیا دھرا ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، تب ہر مجرم پکار اٹھے گا کہ کیسا ہے یہ دفتر جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو محفوظ کر رکھا ہے اور کل قیامت کے رور اس کا وہ نامہ اعمال کھلا ہوا اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور اس سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
نیک لوگوں کا انعام
تشریح : اللہ سبحانہ تعالیٰ بےحد انصاف کرنے والا رحمن و رحیم ہے وہ کسی شخص کو بھی قصور کے بغیر بدلہ نہیں دے گا۔ اگر گناہگاروں کو دوزخ کا عذاب ملے گا تو نیکو کاروں کو جنت ملے گی۔ جس میں ہر طرح کی تمام نعمتیں برکتیں اور آسائشیں موجود ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ اسی لیے سبحانہ تعالیٰ بار بار یاددہانی کرواتے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا یہی لوگ فاسق ہیں دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے جنت میں جانے والے ہی اصل کامیاب ہیں۔ (سورۃ الحشر آیات 20-19)
خلاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ف 1 حضرت عبید اللہ بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصاف کرنے والے لوگ رحمان کے دائیں ہاتھ نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ یہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں اور اپنی رعیت کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(54:53) کل صغیر وکبیر مستطر۔ ای صغیر وکل کبیر ہر چھوٹی چیز اور بڑی چیز۔ یعنی مکلفین کا ہر چھوٹا بڑا عمل یا تمام چھوٹی بڑی مخلوق اور اس کی مدت زندگی ۔
مستطر اسم مفعول واحد مذکر استطار (افتعال) مصدر۔ سطر مادہ۔ مستطر لکھا ہوا۔ مطلب یہ کہ ہر چھوٹی بڑی چیز ، اعمال نامے لکھنے والے فرشتوں کے صحیفوں میں یا لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ یہ سابق جملہ کی تاکید و تائید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
مسئلہ تقدیر اور قدرت کی نشانیاں۔
(ف 2) شان نزول : مسند امام احمد اور صحیح مسلم، ترمزی، وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش لوگ نبی ﷺ سے قضا وقدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور نبی ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضا وقدر کے بھی وہ لوگ منکر تھے صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ نیک وبد دنیا میں ہونے والا تھا اس سب کو اپنے علم ازلی کے موافق لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
قضاوقدر کیا ہے ۔ !
1: صدیوں سے مسئلہ متکلمین کے نزدیک مابہ التراع رہا ہے ۔ کہ تضادوقدر کا مفہوم کیا ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام افعال کو خود پیدا کرتا ہے ۔ یا بندے اپنے اعمال میں آزاد اور خود مختار ہیں ۔ اس باب میں اول شرعی احتساب اور باز پرس کی حدود سمجھ لیجئے ۔ اگر یہ فیصل شدہ ہے ۔ کہ سب کچھ پہلے سے مقدر ہوچکا ہے ۔ اور حرکت اور جنبش فکر پہلے سے متعین اور مقرر ہے ۔ تو پھر گناہ اور معصیت کسے کہتے ہیں ۔ اور اگر ہم بالکل آزاد اور خودمختار ہیں ۔ تو اس قضا وقدر کے مسئلہ کی حیثیت کیا ہے ۔ جواب یہ ہے ۔ کہ قرآن کے نقطہ نگاہ سے انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کو بوجہ اس کے علیم ہونے کے معلوم…
Read the full tafseer →(53) اورہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ یعنی جو اعمال کرتے ہیں وہ سب نامہ اعمال میں لکھے ہوئے موجود ہیں اور ہر صغیروکبیر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے یعنی لوح محفوظ میں یا ان کے اعمال نامے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 1۔ جو دلیل ہے اس طریقہ کے مبغوض ہونے کی اور وہی تمہارا طریقہ ہے اور یہ دلیل نہایت واضح ہے۔
2۔ یعنی اس دلیل سے استدلال کرو مبغوضیت طریقہ کفریہ پر۔
Read the full tafseer →ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے
53 ؎ (مستطر) اسم مفعول واحد مذکر استطار مصدر باب افعال سطر لکھا ہوا سطر اور سطر ایک لائن خواہ وہ تحریر کی ہو یا درختوں کی یا آدمیوں کی اسطر اور سطور اور اسطار جمع میں ہر چھوٹی بات ہو یا بڑی بات بہرحال وہ لکھی ہوئی ہے یعنی انسان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور محفوظ رہے گی کیونکہ اس بات کی ذمہ داری اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ہے جس نے یہ سارا نظام قائم کیا ہے اور نہ صرف یہ کہ قائم کیا ہے بلکہ اس کو چلا بھی رہا ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اپنے کامل اور مکمل علم ہی کی بناء پر اس نے اس بات کا اعلان کیا ہے اور آج تک سائنس نے جو مشاہدات پیش کئے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (Verily, We have created everything according to [ Our ] predestination...54:49). In the prepositional phrase bi-qadar, the word qadar literally denotes to 'measure' and to create something with a proper measure and proportion. It is possible for this literal sense of the word to apply in the current verse: Allah is the Supreme Sage Who created every species of the existent entity wisely with proper measurement - whether big or small, and in different shapes and sizes. Having created, He maintains the structure of every individual in a very wise…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
28 That is, 'These people should not be under the delusion that whatever they did in the world has become extinct; nay, they should know that full record of the deeds of every person, every group and every nation, lies preserved and it will be presented before them at the appropriate time."
Read the full tafseer →