Explained with ayahs 47–55
شکوک و شبہات کے مریض لوگ
بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
سورة الْقَمَر 27
یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کسی خدائے حکیم و عادل کی خدائی نہیں بلکہ کسی اندھے راجہ کی چوپٹ نگری ہے جس میں آدمی جو کچھ چاہے کرتا پھرے، کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں ہے، تو تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے انسانی تاریخ موجود ہے جس میں اسی روش پر چلنے والی قومیں پے در پے تباہ کی جاتی رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ، قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں، اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے عالم کی تمام مخلوقات کو اور اس کی ہر نوح و صنف کو ایک حکیمانہ اندازہ سے بڑا چھوٹا اور مختلف ہیئت و صورت میں بنایا ہے، پھر ہر نوع و صنف کے ہر فرد کی تخلیق میں بھی حکیمانہ انداز بڑی حکمت کے ساتھ رکھا ہے، انگلیاں سب یکساں نہیں بنائیں، طول میں فرق رکھا، ہاتھوں پاؤں کے طول و عرض اور ان کے کھلنے بند ہونے سمٹنے اور پھیلنے کے لئے اسپرنگ لگائے، ایک ایک عضو کے ایک ایک جز کو دیکھو تو قدرت و حکمت خداوندی کے…
Read the full tafseer →(ولقد اھلکنا اشیا عکم فھل من مد کر) (51)
(عاقل دوسروں کے انجام سے سبق سیکھتے ہیں)۔ یعنی آخر اس عذاب کی تاخیر سے تم اس مغالطے میں کیوں پڑگئے کہ یہ محض دھونس ہے ؟ اگر تم پر ابھی نہیں آیا تو تمہارے ان پچھلے ہم مشربوں پر تو آچکا ہے جن کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تو آخر ان کے حالات سے کیوں سبق حاصل نہیں کرتے ؟ اشیا عکم سے اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سر گزشتیں اوپر سنائی جا چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے عاقل ہونے کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے نہ کہ جب سب کچھ اپنے اوپر گزر جائے تب مانے، اس ماننے سے کیا نفع پہنچے گا۔
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
15: یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ناپ تول اور ہر کام کا ایک وقت مقرر رکھا ہے، اس لیے وہ قیامت اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب…
Read the full tafseer →1 یعنی تمہاری قماش کے بہت سے کافروں کو پہلے تباہ کرچکے ہیں۔ پھر تم میں کوئی اتنا سوچنے والا نہیں کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کرسکے۔
Read the full tafseer →آیت 51 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَآ اَشْیَاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”تو اے قریش ِمکہ ہم نے تم جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ‘ تو کوئی ہے اس سے سبق حاصل کرنے والا ؟“
تمہاری تذکیر اور یاد دہانی کے لیے قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے انجام کی عبرت انگیز تفاصیل بار بار بیان کی گئی ہیں۔ تاریخی حوالوں سے بھی ان اقوام کے حالات سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ اب تم لوگ چاہو تو ان کے انجام سے سبق حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ بیشمار آیات آفاقی و انفسی بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم لوگ کبھی ان آیات کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے کرو تو وہ بھی تمہاری ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
36 اشیاع کا لغوی مفہوم :۔ اشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی، دھڑا، سیاسی فرقہ ہے یعنی وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں۔ یعنی کسی شخص کے پیروکار اور مددگار۔ ایسی پارٹی یا دھڑے کی بنیاد عموماً عقیدہ کا اختلاف ہوتا ہے۔ اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے اور وہ انہی معنوں میں آتی ہے اور اشیاع بھی آتی ہے اور اس سے مراد ایک ہی جیسی عادات واطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ ہم جنس لوگ۔ اس آیت میں یہ لفظ انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →33۔ (اے کافرو ! تم میں سے) مطلب یہ ہوا کہ جب طریق زندگی آج کے کافروں اور پچھلے منکروں میں مشترک ٹھہرا۔ تو عذاب بھی پچھلوں پر یقیناً اگلوں ہی کا سا آکر رہے گا۔ (آیت) ” اشیاعکم “۔ یعنی پرانی قوموں میں سے جو تمہاری ہی مشابہ قومیں گزری ہیں۔ اے اشباھکم من الامم (مدارک)
Read the full tafseer →ولقد اھلکنا اشیا عکم فھل من مد کر یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کسی خدائے حکیم و عادل کی خدائی نہیں بلکہ کسی اندھے راجا کی چوپٹ نگری ہے جس میں آدمی جو کچھ چاہے کرتا پھرے، کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں تو تمہاری آنکھ کھولنے کے لئے انسانی تاریخ موجود ہے جس میں اس روش پر چنلے والی قومیں پے در پے تباہ کی جاتی رہی ہیں۔
Read the full tafseer →ولقد اھلکنا اشیا عکم فھل من مد کر .
اور ہم تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں ‘ سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ “
اَشْیَاعَکُمْ : اہل مکہ کو خطاب۔ اشیاع ‘ شیع کی جمع ہے اور شیع کے معنی ہے مثل۔ (کذا فی القاموس) یعنی تم سے پہلے لوگ جو کفر میں تمہاری طرح تھے ہم نے ان کو غارت کردیا۔
فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ : سو کیا (تم میں سے) کوئی نصیحت پذیر ہے جو اقوام ماضیہ کے حالات سے عبرت اندوز ہو۔ استفہام (طلب جواب کے لیے نہیں ہے بلکہ اس) سے مقصود نصیحت اندوزی اور وعظ پذیری پر برانگیختہ اور آمادہ کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جیسے گزشتہ کافروں کے حالات سے عبرت حاصل کرو اور نصیحت اندوز ہو۔
Read the full tafseer →اور مکہ والو ہم تمہارے ہم مسلک لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں سو ان لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ ہوا تو کیا اس سے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَہْلَکْنَـآ اَشْیَاعَکُمْ۔۔۔۔۔: قیامت پر قادر ہونے کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قسم ہے کہ ہم نے تمہارے جیسی کئی جماعتوں مثلاً عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کر ڈالا۔ وہ بھی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان پر عذاب آسکتا ہے ، مگر جب عذاب آیا تو اچانک آیا۔ ایسے ہی قیامت بھی اچانک آئے گی ، تو کیا ہے کوئی جو اپنے جیسے ان گروہوں سے عبرت حاصل کرے اور قیامت کی ت تیاری کرے ؟ یہاں پھر التفاف ہے ، یعنی مشرکین کو مخاطب فرما لیا ہے ، کیونکہ مقصود ڈانٹنا ہے۔ ”اشیاع“ ”شیعۃ“ کی جمع ہے ، ایک جیسا عقیدہ رکھنے والی جماعت کے لوگ جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوں۔ یہاں ”اشیاعکم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ولقد اھلکنا اشیاعکم یعنی ہم نے سابقہ امتوں میں سے ایسے لوگوں کو قتل کیا جو کفر میں تمہارے مشابہ تھے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہارے پیرو کاروں اور تمہارے مددگاروں۔ فھل من مد کر۔ ہے کوئی ایسا جو نصیحت حاصل کرے۔ وکل شی فعلوہ فی الزبر۔ یعنی ان سے قبل امتوں نے بھلائی یا برائی میں سے جو بھی اعمال کئے وہ لھ کے ہوتے ہیں یہ انا کلی شیء خلقنہ بقدر۔ کا بیان ہے۔
فی الزبر۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کراما کاتبین کی کتابیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے وکل صغیر و کبیر مستطر۔ یعنی ہر گناہ جو چھوٹا ہو یا بڑا ہو وہ عامل کے حق میں لکھا ہوتا ہے قبل اس کے کہ وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
8:۔ ابن جریر وابن لمنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (کہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو اندازے کے ساتھ پیدا کیا اور ان کے لئے خیر اور شر کو بھی اندازے سے پیدا فرمایا۔
ہر چیز قضاء وقدر سے ہے :
9:۔ مسلم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز قضا اور قدر سے ہے یہاں تک کہ عاجز ہونا اور عقل مند ہونا بھی۔
10:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز قضا اور قدر کے ساتھ ہے یہاں تک تیرا ہاتھ رکھنا اپنے رخسار پر (یہ بھی تقدیر میں سے ہے)
11:۔ احمد نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَهْلَكْنَآ [ اور بیشک ہم ہلاک کرچکے ہیں ] اَشْيَاعَكُمْ [ تمہارے گردنوں کو ] فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ [ تو کیا کوئی بھی یاد دہانی حاصل کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →﴿وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْيَاعَكُمْ ﴾ اور تم سے پہلے جو تمہاری طرح کے لوگ کفر اختیار کیے ہوئے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا (جن کے واقعات تم جانتے بھی ہو) ﴿ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0051﴾ (سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
24:۔ ” ولقد اھلکنا۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اشیاعکم “ ای اشباھکم فی الکفر من الامم الخالیۃ (قرطبی ج 17 ص 149) ۔ اے مشرکین عرب ! تم سے پہلے ہم ایسی سرکش اور متمرد قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا ان کے عبرتناک انجام سے بھی تم کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ ” وکل شیء فعلوہ۔ الایۃ “ یہ کفار جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان کی ہر بات اور ان کا ہر کام ان کے اعمالناموں میں لکھا جا رہا ہے۔ اس لیے انہیں ان کے ہر عم کی سزا ملے گی۔ ” وکل صغیر۔ الایۃ “ ہر چھوٹی اور بڑی بات لوح محفوظ میں تحریر ہے۔ اس لیے قضاء وقدر کا کوئی فیصلہ ٹل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَہْلَكْنَآ اَشْـيَاعَكُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 51
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار :
وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے
ایک یہ کہ
کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَھْلَـکْنَـآ اَشْیَاعَکُمْ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 51)
(ہم تم جیسے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے والا۔ )
آنحضرت ﷺ جب عذاب یا قیامت کا ذکر فرماتے تو مخالفین یہ کہتے کہ اگر عذاب کو آنا ہوتا تو اب تک آچکا ہوتا۔ اس کی تاخیر کا تو کوئی سبب ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو یہ بےسبب تاخیر ہمارے نزدیک اس وجہ سے ہے کہ سرے سے عذاب یا قیامت کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس واہمے کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتیں پڑھی ہیں جو سابقہ آیات میں ذکر کی گئی ہیں۔ آخر ان کے انجام سے تمہارے ذہنوں میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر وہ ہلاک کیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا دنیا اور آخرت میں انجام ذکر کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کوئی چیز اپنے اندازے اور وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ اگر ان لوگوں کی ابھی تک گرفت نہیں ہوئی تو اس کا بھی وقت مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں کی طرف بھیجا اور ہر نبی نے اپنی امت کو نیکی کرنے کا حکم دیا اور قیامت کے دن اس کے صلہ کی خوشخبری سنائی۔ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے لوگوں کو برے اعمال سے منع کیا اور اس کے انجام سے ڈرایا۔ ہر نبی کے مخاطبین کی اکثریت نے قیامت اور اس کی…
Read the full tafseer →آیت 51: وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا اَشْیَاعَکُمْ (اور ہم نے تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہلاک کردیا ) ۔ جو تمہارے مشابہ پہلی امتوں میں کفر اختیار کرنے والے تھے۔ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )
Read the full tafseer →50 ۔” وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر “ اللہ تعالیٰ کا قول ” واحدۃ “ معنی کی طرف لوٹتا ہے نہ کہ لفظ کی طرف یعنی نہیں ہے ہمارا امر مگر ایک ہی مرتبہ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ نہیں ہمارا معاملہ کسی چیز کا جب ہم اس کے وجود کا ارادہ کریں مگر ایک ہی کلمہ ” کن فیکون “ اس میں آنکھ جھپکنے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ میری قضاء میری مخلوق کے بارے میں آنکھ جھپکنے سے بھی تیز ہے اور کلبی (رح) نے ان سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے آنے میں ہمارا معاملہ نہیں ہے مگر آنکھ جھپکنے کی طرح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
49۔ 55۔ مسند 3 ؎ امام احمد اور صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ سے قضاء و قدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضاء و قدر کے بھی وہ لوگ جو منکر تھے یہ انکار اور ہے اور صحابہ ؓ کے آخر زمانہ میں بصرہ کے ایک شخص معبد الجہنی کے سبب سے اہل قبلہ میں ایک اختلاف قضاء و قدر کے مسائل…
Read the full tafseer →(وَلَقَدْ اَهْلَكْنَآ اَشْيَاعَكُمْ ) اور یقینا ہم تم سے پہلے تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنہوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ( فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین وآخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے اللہ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شرپسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شرپسند لوگ بھی انہی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
[ 54] اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر معاملہ پل جھپکنے کی طرح، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ہمارا معاملہ تو بس ایک فرمان کا ہوتا ہے پل جھپکنے کی طرح۔ یعنی کلمہء کن کا معاملہ ہوتا ہے۔ یعنی ہوجا اور بس۔ سو وہاں اسباب و وسائل جمع کرنے کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ حکم کرنا اور امر فرمانا ہوتا ہے، جس پر وہ کام ہوچکا ہوتا ہے، پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ عذاب لانے اور قیامت کے برپا کرنے کیلئے ہمیں کوئی تیاری کرنی ہے، اس وجہ سے اس کے آنے میں دیر ہو رہی ہے، سو اس طرح کی کوئی رکاوٹ ہمارے سامنے نہیں ہے، ہم اس کو جب بپا کرنا چاہیں کرسکتے ہیں جب اس کو اپنے وقت مقرر پر بپا کرنا مقصود ہوگا تو اس کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 11 یعنی ان کے اعمالناموں میں لکھی جا چکی ہے۔ قیامت کے روز یہ اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(54:51) ولقد : واؤ عاطفہ، لام تاکید کا اور قد تحقیق کے لئے۔
اشیاعکم : مضاف مضاف الیہ۔ اشیاع جمع ہے۔ شیعۃ کی۔ تمہارے طریقہ والے تمہارے ساتھ والے۔ یعنی تم سے پہلے لوگ جو کفر میں تمہاری طرح تھے ہم نے ان کو غارت کردیا ۔
فہل من مدکر : سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرۃ الصدر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
مسئلہ تقدیر اور قدرت کی نشانیاں۔
(ف 2) شان نزول : مسند امام احمد اور صحیح مسلم، ترمزی، وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش لوگ نبی ﷺ سے قضا وقدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور نبی ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضا وقدر کے بھی وہ لوگ منکر تھے صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ نیک وبد دنیا میں ہونے والا تھا اس سب کو اپنے علم ازلی کے موافق لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟
کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →(51) اور ہم تمہارے بہت سے ہم مسلک ، ہم مذہب، ہم طریقہ اور تم جیسے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا اور سوچنے غور کرنے والا ہے۔ یعنی کسی طبقے کو ہلاک کردینا ہمیں کچھ مشکل نہیں ہے آخر تمہارے ہم مشربوں کو بہت سوں کو ہلاک کرچکے ہیں تمہاری ہلاکت ہمیں کیا مشکل ہے کوئی تم میں نصیحت حاصل کرنے والا اور عبرت پکڑنے والا ہے آگے ایک اور شبہ کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 1۔ جو دلیل ہے اس طریقہ کے مبغوض ہونے کی اور وہی تمہارا طریقہ ہے اور یہ دلیل نہایت واضح ہے۔
2۔ یعنی اس دلیل سے استدلال کرو مبغوضیت طریقہ کفریہ پر۔
Read the full tafseer →ہم تمہارے ہم مشربوں کو قبل ازیں ہلاک کرچکے ہیں ‘ ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟
51 ؎ (اشیاعکم) تمہارے ساتھ والے۔ تمہارے طریقے والے اشیاع شعۃ کی جمع ہے جس کے معنی متبعین اور انصار کے ہیں۔ اشیاع مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر ‘ مضاف الیہ۔ کتنی جماعتیں اور کتنے گروہ ایسے تھے جیسے کہ تم ہو اور ہم نے ان کو جب ان کے متنے کا وقت آیا تو مٹا کر رکھ دیا کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہوا جو اپنے سے پہلے گزرنے والوں سے عبرت حاصل کرتا اور نصیحت قبول کرتا کہ جب دوسری قوموں کے ساتھ ایسا ہو گزرا تو ہم آخر کون ہیں کہ اگر وہی کچھ کریں جو پہلے کرتے رہے لیکن اس کے باوجود ہم ان حالات سے دوچار نہ ہوں جن سے وہ دوچار ہوچکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (Verily, We have created everything according to [ Our ] predestination...54:49). In the prepositional phrase bi-qadar, the word qadar literally denotes to 'measure' and to create something with a proper measure and proportion. It is possible for this literal sense of the word to apply in the current verse: Allah is the Supreme Sage Who created every species of the existent entity wisely with proper measurement - whether big or small, and in different shapes and sizes. Having created, He maintains the structure of every individual in a very wise…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
27 That is, 'If you think that the world is not the Kingdom of a Wise and .lust God but the lawless empire of a blind ruler, in which man may behave and conduct himself as he likes, without any fear of accountability, history is proof and an eye-opener for you, which shows that the nations that adopted such a way of life, have been sent to their doom, one after the other."
Read the full tafseer →