Explained with ayahs 41–46
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
سورة الْقَمَر 23
خطاب ہے قریش کے لوگوں سے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں آخر کیا خوبی ہے، کون سے لعل تمہارے لٹکے ہوئے ہیں کہ جس کفر اور تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر دوسری قوموں کو سزا دی جا چکی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
خلاصہ تفسیر
یہ کفار کے قصے اور کفر کی وجہ سے ان پر عذاب ہونے کے واقعات تو تم نے سن لئے اب جبکہ تم بھی اسی جرم کفر کے مرتکب ہو تو تمہارے عذاب سے بچنے کی کوئی وجہ نہیں کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان (مذکورہ پچھلے لوگوں سے کچھ فضیلت ہے (جس کی وجہ سے تم باوجود ارتکاب جرم کے سزا یاب نہ ہو) تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں کوئی معافی (نامہ لکھ دیا) ہے (گو کوئی خاص فضیلت نہ ہو) یا (ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو ان کو عذاب سے بچالے جیسا) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہیں گے (اور جب کہ ان کے مغلوب ہونے کے دلائل واضح موجود ہیں اور خود بھی اپنی مغلوبیت کا ان کو یقین ہے تو پھر ایسی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
۔ (امر یقولون نحن جمیع منتصر سیھوم الجمع ویولون الدبر) (44۔ 45)۔ یعنی اگر ان کو یہ زعم ہے کہ وہ ایک مضبوط جمعیت ہیں، کوئی ان کو ان کی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تو یہ زعم بالکل باطل ہے۔ اللہ کے عذاب کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا۔ جن کو اپنی جمعیت و قوت پر ناز ہوتا ہے وہ جس طرح اپنے خریفوں کی کسی تہدید و وعید کی خاطر میں نہیں لاتے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ رسولوں کے انداز کو وہ ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔ اپنے مادی وسائل و ذرائع پر ان کو اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی کہ ان کے اوپر عذاب کدھر سے اور کس طرح آجائے گا ! فرمایا کہ اگر ان کو یہ گھمنڈ ہے کہ انہوں نے تمام مورچے…
Read the full tafseer →44۔ 1 تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →12: جب مکہ مکرمہ کے کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا جتھہ بڑا مضبوط ہے، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
Read the full tafseer →ام یقولون ............ منتصر (45:44) ” یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں اور اپنا بچاؤ کرلیں گے “ جب وہ دیکھتے تھے کہ کفار مکہ ایک بڑی جمعیت ہیں تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے تھے اور اپنی قوت پر غرور میں مبتلا ہوکر کہتے تھے کہ ہم ہی غالب رہیں گے اور نہ ہم پر کوئی غالب ہوسکتا ہے اور نہ ہمیں کوئی قوت شکست دے سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
7 گذشتہ اقوام کے واقعات سنا کر موجودہ لوگوں کو خطاب ہے یعنی تم میں سے کافر کیا ان پہلے کافروں سے کچھ اچھے ہیں جو کفر و طغیان کی سزا میں تباہ نہیں کیے جائیں گے ؟ یا اللہ کے ہاں سے کوئی پروانہ لکھ دیا گیا ہے کہ تم جو چاہو شرارت کرتے رہو، سزا نہیں ملے گی ؟ یا یہ سمجھتے ہوئے ہیں کہ ہمارا مجمع اور جتھا بہت بڑا ہے۔ اور سب مل کر جب ایک دوسرے کی مدد پر آجائیں گے تو سب بدلہ لے کر چھوڑیں گے اور کسی کو اپنے مقابلہ میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 44 { اَمْ یَـقُوْلُـوْنَ نَحْنُ جَمِیْـعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ } ”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک طاقتور جمعیت ہیں اور بدلہ لینے پر قادر ہیں ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
30 اے مکہ کے کافرو ! اب تم بتاؤ کیا تم ان لوگوں سے زیادہ طاقتور ہو یا شان و شوکت رکھتے ہو ؟ پھر اگر وہ لوگ ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکے تو تم کیسے بچ جاؤ گے ؟ یا ہم نے کسی آسمانی کتاب میں یا صحیفہ میں تمہارے حق میں یہ لکھ دیا ہے کہ تم دنیا میں جو چاہو کرتے پھرو ہم تم سے تعرض نہیں کریں گے۔ نہ ہی تمہیں کوئی سزا دیں گے اگر کوئی ایسی بات ہے تو دکھا دو ۔
Read the full tafseer →29۔ (ہمیشہ اور ہر حال میں) مطلب یہ ہوا کہ ان تین شقوں میں سے یہ کون سی شق اپنے لئے فرض کئے ہوئے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ترجمہ :۔ اور فرعونیوں یعنی فرعون کی قوم کے پاس مع فرعون کے ڈراوے (ڈرنے کی باتیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی زبانی آئے مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ تمام نو نشانیوں کو جھٹلا دیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں چناچہ ہم نے ان کو عذبا میں پکڑ لیا قوی اور قادر کے پکڑنے کے مانند کہ اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی، اے قریشیو ! کیا تمہارے کافر ان کافروں سے جو قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک مذکوروہ ہوئے کچھ بہتر ہیں کہ ان کو عذاب نہ دیا جائے یا تمہارے لئے اے قریش کے کافرو ! کتابوں میں عذاب سے برأت لکھی ہوئی ہے اور استفہار دونوں جگہ بمعنی نفی ہے یعنی ایسی بات نہیں ہے کیا…
Read the full tafseer →نَحْنُ جَمِیْعٌ : ہمارا جتھا ہے یا ہمارا امر اجتماعی ہے۔
مُنْتَصِرٌ : یعنی مضبوط ‘ محفوظ ہیں کوئی ہم تک پہنچنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتا یا دشمنوں سے ہم انتقام لیتے اور غالب آتے ہیں ‘ کوئی ہم پر غالب نہیں آسکتا یا یہ مطلب ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں چونکہ لفظ جمیع واحد تھا اس لیے اس کی صفت منتصر بصیغۂ واحد ذکر کی ‘ اس کے علاوہ آیات کو جن الفاظ پر ختم کیا گیا ہے اس کا تقاضا بھی یہی تھا۔
ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کافروں نے بدر کے دن نحن جمیع منتصر کہا تھا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
بخاری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ بدر (کی لڑائی) کے دن رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(43۔ 45) اے مکہ والو کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان مذکورہ لوگوں سے کچھ فوقیت ہے یا تمہارے لیے آسمانی کتابوں میں عذاب سے کچھ معافی لکھی ہوئی ہے (یا ایسی حالت ہے) جیسا کہ یہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو عذاب کو دور کرنے والی ہے تو سن لو کہ بدر کے دن کفار کی یہ جماعت شکست کھا جائے گی اور یہ ابوجہل وغیرہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان میں سے بعض تو بدر کے دن مارے گئے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔
شان نزول : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ (الخ)
اور بن جریر نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن کفار نے کہا کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہے…
Read the full tafseer →اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ : یہاں ”جمیع“ ’ ’ کل“ (تمام) کے معنی میں نہیں بلکہ ”یائ“ کے اضافے کے ساتھ ”جمع“ کے معنی ہے ، مضبوط جماعت ہے۔ ”انتصر ینتصر انتصار“ ظالم سے بچاؤ کرنا ، دشمن سے انتقام لینا ، مد مقابل پر غالب آنا۔ یا پھر ان کا کہنا یہ ہے کہ نہ ہم پہلوں سے بہتر ہیں اور نہ کسی کتاب میں ہمارے عذاب سے محفوظ رہنے کی کوئی بات موجود ہے ، مگر ہم ایک مضبوط جماعت ہے جو اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ، بدلا بھی لے سکتے ہیں اور مد مقابل پر غالب بھی آسکتے ہیں ، اس لیے ہمیں کوئی خوف نہیں۔ آیت میں التفاتت ہے ، یعنی پچھلی آیت ”اکفار کم خیر“ میں خطاب کا صیغہ ہے اور یہاں غائب کے صیغے کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ام یقولون نحن جمیع منتصر۔ یعنی ہم ایسی جماعت ہیں جن کی تعداد کی کثرت اور قوت کی وجہ سے اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔ آیات کے سروں کی اتباع کرتے ہوئے منتصرین نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور فرمایا : سیھزم الجمع یعنی کفار مکہ کو شکست دی جائے گی۔ یہ غزوہ بدر اور دوسرے مواقع پر ہوا۔ عام قرأت سیھزم ہے یاء کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے اور الجمع نئاب فاعل ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ رویس نے یعقوب سے ستنھزم نون کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے اور الجمع کو منصوب پڑھا ہے۔
ویولون الدبر۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے ان کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ عیسیٰ ، ان اسحاق اور رویس نے یعقوب سے وتولنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
12:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے کفار بہتر نہیں ہیں قوم نوح اور قوم لوط کی قوموں کے کافروں سے۔
13:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے کفار کیا قرون اعلی کے ان کافروں سے بہتر ہیں جن کے بارے میں یہ ذکر کیا گیا کہ میں نے انکو ہلاک کردیا۔
14:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ کیا تمہارے کفار بہتر ہیں ان کافروں سے جو پہلے گزر چکے ہیں (آیت ) '' ام لکم برآء ۃ فی…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا وہ لوگ کہتے ہیں ] نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ [ ہم بدلہ لینے والی جماعت ہیں ]
نوٹ۔ 3: آیات ۔ 44 ۔ 45 میں وہ صریح پیشنگوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت ، جس کی طاقت کا انھیں بڑا زعم تھا ، مسلمانوں سے شکست کھاجائے گی ، اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ یہ انقلاب کیسے ہوگا ۔ مسلمانوں کی بےبسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبشہ میں پناہ گزیں تھا اور باقی بچے ہوئے اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے ۔ اس وقت کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے کہ جب سورة قمر کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
غزوہ بدر میں اہل مکہ کی شکست اور بڑا بول بولنے کی سزا :
﴿اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ0044﴾ (کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ہے غلبہ پانے والی) یعنی ہمارے اندر اتفاق اور اتحاد ہے۔ ہمارے سامنے جو بھی دشمن آئے گا شکست کھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ كون ہے جو ہمیں شکست دے سکے، یہ ان لوگوں نے بہت بڑی بات کہی، اول تو سارے عرب کے سامنے اہل مکہ کی تعداد ہی کیا تھی بس اتنی بات تھی کہ حرم میں ہونے کی وجہ سے لوگ ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ لیکن اہل عرب کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہ تھی پھر بھی اتنی بڑی بات کہہ دی، تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے یہ بات غزوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
20:۔ ” ام یقولون۔ الایۃ “ یہ شکوی ہے کیا کفار عرب اپنی قوت و شوکت پر مغرور ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں اس لیے ہم مغلوب و مقہور نہیں ہوسکتے اور اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکتے ہیں۔ ” سیہزم الجمع۔ الایۃ “ یہ جواب شکوی ہے اور مشرکین کے قول کا رد ہے نیز تسلی ہے برائے رسول اللہ ﷺ ۔ عنقریب وقت آنے والا ہے کہ ان کا کبر و غرور خاک میں مل جائیگا اور وہ ذلت آمیز شکست اٹھائیں گے اور میدان میں ان کے پاؤں جم نہ سکیں گے اور وہ بزدلوں کی طرح پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے۔ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جب ابھی جہاد فرض بھی نہیں ہوا تھا اور ہجرت کے بعد میدان بدر میں یہ سچی پیشگوئی ظاہر ہوئی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ 44
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ (القمر : 44، 45)
(کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط جتھہ ہیں، اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ عنقریب ان کی جمعیت شکست کھاجائے گی، اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ )
قریش کی غلط فہمیاں اور ایک عظیم پیشگوئی
اب قریش سے منہ پھیر کر اور دوسروں کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کی خوش فہمیوں کا سلسلہ جو رکتا دکھائی نہیں دیتا تو کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ایک مضبوط جتھہ اور مضبوط جمعیت ہے۔ اور ہم دفاع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم پر کسی طرف سے حملہ ہوا یا ہمیں کسی عذاب کا نشانہ بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو زبردست انتباہ اور ایک سوال۔
آل فرعون کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب انہوں نے ہماری تمام نشانیوں اور ارشادات کو جھٹلادیا تو ہم نے انہیں اس طرح پکڑا جس طرح ایک طاقت ور اور غالب قوت والا پکڑا کرتا ہے۔ اے مسلمانو ! کیا تمہارا مقابلہ کرنے والے کفار قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون سے بہتر اور زیادہ طاقت ور ہیں ؟ یا پھر پہلی کتابوں میں ان کے لیے کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بڑی مضبوط جماعت ہیں۔ انہیں کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب انہیں شکست فاش ہوگی…
Read the full tafseer →آیت 44: اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعُ (یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ایسی ہے جو غالب ہی رہیں گے۔ ) جمیعٌ جماعت کو کہتے ہیں کہ ہم جماعت ہیں ہم اکٹھے رہیں گے ہمارا معاملہ اجتماعی ہے۔ مُنْتَصِرٌ : محفوظ و مضبوط۔ نہ کوئی دشمن ہمارا قصد کرسکتا ہے اور نہ ہمارا نقصان کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →43 ۔” اکفار کم خیر من اولئکم “ زیادہ طاقتور ہیں ان سے جن پر میں نے اپنا عذاب اتارا یعنی قوم نوح وعادو ثمود اور قوم لوط اور آل فرعون سے ؟ یہ استفہام انکار کے معنی میں ہے یعنی یہ ان سے زیادہ طاقتور نہیں ہیں۔ ” ام لکم براء ۃ “ عذاب سے۔ ” فی الزبر “ کتابوں میں کہ ان پر وہ عذاب نہ آئے گا جو گزشتہ امتوں پر آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
( اَمْ لَكُمْ بَرَاۗءَةٌ فِي الزُّبُرِ ) یا تمہارے لیے سابقہ صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے ؟ یعنی کیا اللہ نے ان کتابوں میں تمہارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کررکھا ہے جو گزشتہ انبیا پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ کے وعدے اور اس کی خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے ؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے بلکہ یہ عقلا اور شرعا غیر ممکین امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی برات لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔ یہ حخمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنہوں نے افضل الانبیا سید المرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ کے ہاں تمام انبیا سے بڑھ کر ہیں صاحب تکریم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 49] منکرین کے ایک زعم باطل کی تردید :
سو منکرین کو جو اپنی جمیعت وقوت اور کثرت پر زعم اور گھمنڈ تھا جس کی بنا پر وہ کسی تہدید و وعید کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اس پر ضرب کاری لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم ایک بھاری جھتہ ہیں جو غالب ہی رہے گا ؟ یعنی ان کو اپنی قوت و کثرت کا گھمنڈ ہے، کہ اس کی بناء پر محمد ﷺ کے مقابلے میں غالب ہم ہی رہیں گے ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا، تو واضح فرما دیا گیا کہ ان کا یہ زعم باطل اور بےبنیاد ہے، اللہ کے عذاب کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا، لیکن جو لوگ اس طرح کے زعم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان پر عذاب کدھر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 6 یعنی عنقریب نہیں اپنی جتھے بندی کی حقیقت معلوم ہوجائے گی اور ان کے جتھے مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست کھا کر بھاگیں گے۔ چناچہ یہ پیش گوئی چند ہی سال کے بعد ” بدر “ اور دوسری جنگوں میں پوری ہوئی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بدر کے روز آنحضرت نے اپنے خیمے میں دعا فرمائی ” اے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور وعد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے (تو مسلمانوں کی اس تھوڑی سی جمعیت کو مٹ جانے کے لئے بےیارو مددگار چھوڑ دے اور نہ اس کی ضرور مدد فرما۔ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بس کیجیے۔ آپ نے اپنے رب سے نہایت مبالغہ کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ اس پر نبی ﷺ زرہ پہنے…
Read the full tafseer →(54:44) ام یقولون : یا کیا یہ لوگ کہتے ہیں۔ اس میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے۔ ای ام یقولون کفار قریش (الیسر التفاسیر) کیا کفار قریش کہتے ہیں ۔
جمیع منتصر : موصوف و صفت۔ جمیع۔ سب۔ سارے۔ جمع سے بروزن فعیل بمعنی مفعول ۔ بمعنی مجموع ہے ایک جماعت، جتھا، ہم ایک ایسا جتھا ہیں۔ منتصر۔ اسم فاعل واحد مذکر، بدلہ لینے والا۔ یعنی ایسا جتھا جو (اپنے خلاف کسی زیادتی کا) بدلہ لے سکتا ہے، مراد مضبوط، طاقتور، انتصار (افتعال) مصدر۔
علامہ پانی پتی اس کی تشریح لکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔ یعنی مضبوط، محفوظ ہیں کوئی ہم تک پہنچنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتا۔ یا دشمنوں سے ہم انتقام لیتے اور غالب آتے ہیں کوئی ہم پر غالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
(ف 1) اے قریش ! کیا تم کافروں کی جماعت ان اگلے کافروں سے کچھ بہتر ہے قوت وجماعت میں زائد ہے کیا ہے کچھ بھی نہیں۔ کیا تمہارے لیے کوئی پروانہ نجات ، برات نامہ خدا کا اس کی کتابوں میں لکھ کر آگیا ہے شرک کی اجازت مل گئی ہے۔ اے محبوب ﷺ کیا ان کافروں کو یہ گھمنڈ اور دعوی ہے کہ ہم سب اکٹھے ایک جماعت، ایک دل آپس میں مدد کرنے والے ہیں ہم پر کون قابوپائے گا تو اے محبوب ﷺ عنقریب وہ وقت آگیا کہ ان کی جماعتیں پراگندہ ہوں اور سب شکست کھائیں اور پیٹھ پھیربھاگیں ۔ بلکہ اصل عذاب کا تو وعدہ آخرت کے عذاب کا ہے جس کے ظہور کا وقت قیامت ہے جو بڑی آفت کا دن ہے اور نہایت کڑوی گھڑی ہے جس میں اس طرح کے نافرمان لوگ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟
کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →(44) یا یہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایک انتقام لینے والی جماعت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 2۔ یعنی ان کے مدلول و متقضی کو کہ نبوت موسویہ و توحید الہی ہے جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ایک بہت بڑی بھاری جماعت ہے ، بچاؤ کرلیں گے
44 ؎ یہ زعم ان کا سراسر باطل ہے آپ نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک ایک نبی و رسول کا ذکر اور ان کی قوم کی داستانیں پڑھیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا میں جن قوموں کو بھی عذاب دیا گیا وہ اپنے وقت کی بہت بڑی قومیں تھیں اور جس جس علاقہ میں بھی وہ تھیں اس اس علاقہ میں ان ہی کا سکہ چلتا تھا اور ان کے نام کی بہت شہرت تھی اور دنیوی طور پر بھی ان کے پاس بہت سروسامان تھے اور قریش مکہ کا مقابلہ ان گزشتہ اقوام سے کیا جائے تو یہ ان کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں اس لئے ان کو جو اپنی جمعیت پر ناز ہے اس کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
Lexicological analysis
The word زُبُر zubur (in verse 43) is the plural of zabur, which stands for any written book. It specifically refers to the Scripture that was revealed to Prophet Dawud (علیہ السلام) .
أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ (...more calamitous and more bitter...54:46). The word adha means more or most calamitous. The word amarr is derived from murr which originally means 'bitter'. By extension anything 'difficult' or 'painful' is also referred to as amarr and murr. In the phrase فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ fi dalalin wa su'ur, dalal, as is known, means 'error' or 'deviation' and the word su'ur…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
23 The address here is directed to the Quraish, as if to say; "When the other nation have been punished for adopting disbelief and showing stubbornness and denying the Truth, why would you not be punished if you adopted the same attitude and conduct ? For you arc not a special people in any way."
Read the full tafseer →