Explained with ayahs 18–22
کفار کی بدترین روایات
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
سورة الْقَمَر 16
یعنی ایک ایسے دن جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی۔ سورة حٰم لسجدہ، آیت 16 میں فِیْ اَیَّامٍ نَّحِسٰتٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور سورة الحاقہ آیت 7 میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے۔ بعض نہایت ضعیف احادیث بھی اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں جن سے اس دن کی نحوست کا عقیدہ عوام کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے۔ مثلاً اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر (مہینے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →اناارسلنا علیھم ریحا صرصرا ً فی یوم نحس مستمر (19) یہ اس عذاب کی وضاحت ہے جو قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے مسلط کیا۔ فرمایا کہ ہم نے ان پر شمال کی باتند مسلط کردی۔ صرصر، شمال کی اس بادتند کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے۔ جس سے ہر چیز پر ایک عام نحوست وہوست چھاجاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نجریا ایام نحات، کہتے ،۔ آیت میں یوم نحس ٗ سے کوئی معتین دن مراد نہیں ہے بلکہ وقت اور زمانہ داد ہے۔ عربی میں یہ اس معنی میں معروف ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر یہی مضمون ایام نحات ٗ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اور بعض مقامات میں یہ تصریح بھی ہے کہ یہ باد تند ان پر سات راتیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
6: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “
ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔
منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی نحوست نہ اٹھی جب تک تمام نہ ہوچکے۔ اور یہ نحوست کا دن ان ہی کے حق میں تھا، یہ نہیں کہ ہمیشہ کو وہ دن منحوس سمجھ لیے جائیں جیسا کہ جاہلوں میں مشہور ہے۔ اور اگر وہ دن عذاب آنے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے منحوس بن گیا ہے۔ تو مبارک دن کون سا رہے گا۔ قرآن کریم میں تصریح ہے کہ وہ عذاب سات رات اور آٹھ دن برابر رہا۔ بتلائیے اب ہفتہ کے دنوں میں کون سا دن نحوست سے خالی رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 19 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا } ”ہم نے ان پر مسلط کردی ایک ُ تند و تیز ہوا“
{ فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ۔ } ”ایک مسلسل نحوست کے دن میں۔“
Read the full tafseer →18 کیا کوئی دن بذات خود نحس یا سعد ہوتا ہے ؟:۔ کہتے ہیں کہ یہ دن ماہ شوال کا آخری بدھ تھا جس سے بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر مہینہ کا آخری بدھ منحوس دن ہوتا ہے پھر بعض ضعیف اور موضوع روایات کی بنا پر اس عقیدہ پر کئی حاشیے چڑھائے گئے کہ اس دن سفر نہ کرنا چاہئے۔ کاروبار نہ کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی سب باتیں خرافات ہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔
1۔ اس مقام پر (فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورة حٰم السجدہ کی آیت نمبر 16 میں (فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ 16) 41 ۔ فصلت :16) کے الفاظ مذکور ہیں۔ اور سورة الحاقہ میں یہ صراحت ہے کہ یہ عذاب ان پر مسلسل آٹھ دن اور سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
15۔ (ایسی مستقل وپائدار نحوست ان کے حق میں لے کر، کہ پھر وہ عذاب الہی ان سے زندگی بھر کبھی نہ ٹلا۔ بلکہ بعد موت بھی انہیں عذاب آخرت کے حوالہ کرے گا) (آیت) ” یوم “۔ مراد مطلق زمانہ سے ہے کوئی ایک متعین و محدود مدت مراد نہیں۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا علیھم ریحاً صرصراً فی یوم نحس مستمر قوم عاد کو ہوا کے طوفان کے عذاب سے ہلاک کیا گیا تھا، کہتے ہیں کہ بدھ کی شام تھی جب اس تیز و تندیخ بستہ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن برابر چلتی رہی یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند اور گڑھوں میں چھپے ہوئے لوگوں کو اٹھاتی اور اس زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑ سے الگ ہوجاتے، یہ دن ان کے لئے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدھ کے دن یا کسی اور دن میں نحوست ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں مستمر کا مطلب ہے کہ یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا علیھم ریحا صرصرا فی یوم نحسن مستمر .
” ہم نے ان پر ایک تند ہوا چھوڑ دی۔ ایک دوامی نحوست کے دن۔ “
صَرْصَرٍ : بہت تیز ‘ برفیلا ‘ گرجدار طوفان باد نحس۔ دشمنوں کے لیے منحوس۔
مُسْتَمِرٍّ : مسلسل نحوست والا یا یہ مطلب ہے کہ وہ دن اتنی مدت تک قائم رہا جب تک ان کو ہلاک نہیں کردیا گیا یا وہ چھوٹوں ‘ بڑوں ‘ بوڑھوں ‘ بچوں سب کے لیے منحوس تھا کسی کو باقی نہیں چھوڑا یا مستمر کا معنی ہے انتہائی تلخ ‘ بدمزہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مہینہ کی آخری تاریخ تھی ‘ بدھ کا دن تھا۔
تنزع الناس کانھم اعجاز نخل منقعر فکیف کان عذابی و نذر ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر . وہ ہوا لوگوں کو اس طرح اکھاڑ اکھاڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
(18۔ 21) اور قوم عاد نے بھی ہود کو جھٹلایا سو محمد سنیے کہ ان پر میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔
جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا اور پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ تو ہم نے ان پر ایک تند ٹھنڈی ہوا یعنی دبور بھیجی ایسے دن میں جو ان کے حق میں خواہ بڑا ہوا یا چھوٹا ہمیشہ کے لیے منحوس رہا وہ ہوا قوم ہود کو ان کی جگہ اس طرح اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں کہ ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ سو دیکھیے کہ ان پر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہولناک ہوا۔ جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
۔ کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ‘ حم السجدہ (15، 16) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا علیھم ریحاصر صراً ، صرصراً اسے مراد سخت ٹھنڈی (1) ، یہ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سخت آواز۔ حم سجدہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
فی یوم نحس مستمر۔ یعنی ایسے دن میں جو ان پر منحوس تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ مہینے کے آخری بدھ کو عذاب آیا جس نے ان کے چھوٹے اور بڑے کونا کردیا۔ ہ اورن اعور نے کہا : نحس حاء کے کسرہ کے ساتھ ہے اس بارے میں قول حم سجدہ آیت 16 فی ایام نحسات گزر چکا ہے۔ فی یوم نحس مستیز۔ یعنی نار جہنم تک ان پر جاری رہا۔ ضحاک نے کہا : وہ عذاب ان پر کڑوا تھا (2) اسی طرح کسائی نے حکایت بیان کی ہے کہ ایک قوم نے کہا، یہ مرارہ سے مشتق ہے یہ جملہ بولا جاتا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' اناارسلنا ریحا صرصر ا '' (ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) یعنی سخت ٹھنڈی ہوا (آیت) '' فی یوم نحس '' (نحوست والے دن میں) یعنی سخت دن۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' صرصر ا '' سے مراد ہے سخت ہوا (یعنی تندوتیز ہوا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' ریحا صرصر ا '' سے مراد ہے ٹھنڈی ہوا (آیت ) '' فی یوم نحس '' (نحوست والے دن) یعنی ایسے دن جو قوم کے لئے منحوس تھا اور اس کی نحوست اور شر برقرار رہا۔
4:۔ الطستی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ بیشک ہم نے بھیجی ان لوگوں پر ] رِيْحًا صَرْصَرًا [ ایک تیز وتند ہوا ] فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ [ ہمیشگی والے نحوست کے دن میں ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 19 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تندہوا ایسی نہیں تھی کہ چند جھونکے آئے اور گزر گئے ۔ بلکہ وہ ایسے دن شروع ہوئی جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی ۔ سوہ حم السجدہ کی آیت ۔ 16 ۔ میں ایام نحسات (نحوست والے دنوں ) کے الفاظ آئے ہیں ۔ اور سورة الحاقہ کی آیت ۔ 7 ۔ میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا ۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا ۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
قوم عاد کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب
ان آیات میں قوم عاد کی تکذیب اور تعذیب کا ذکر ہے انکی طرف اللہ تعالیٰ شانہ، نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی توحید کی دعوت دی، یہ لوگ بری طرح پیش آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے خیال میں تو تم کم عقل ہو بیوقوف ہو ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ جو تم نے عذاب عذاب کی رٹ لگا رکھی ہے یہ دھمکی ہم پر کچھ اثر انداز نہیں ہوسکتی اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو چلو عذاب کو بلالو، بالآخر ان پر اللہ تعالیٰ شانہ، نے ہوا کا عذاب بھیج دیا بہت سخت تیز ہوا آئی جو ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی یہ دن ان کے لیے نامبارک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
11:۔ ” کذبت عاد “ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ قوم عاد کا انجام بھی نہایت ہی عبرتناک ہے۔ ہم نے کس طرح پیغمبر بھیج کر ان کو ڈرایا۔ اور تکذیب و انکار پر پھر کس قدر ہولناک عذاب سے ان کو ہلاک کیا۔ صرصر، نہایت تند و تیز طوفان باد، یوم نحسن مستمر وہ دن اس قوم کے لیے دائمی بدبختی کا دن تھا کیونکہ اس دن سے لے کر قیامت تک عالم برزخ کے عذاب میں رہیں گے اور اس کے بعد عذاب جہنم میں ہمشیہ کیلئے داخل ہوں گے۔ مستمر، یوم کی صفت ہے یا نحس کی۔ نخل اسم جنس ہے اس لیے مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے باعتبار لفظ مذکر ہے جیسا کہ یہاں ہے ” نخل منقعر “ اور باعتبار معنی مونث ہے جیسا کہ سورة الحاقہ میں ہے ” کانہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–22
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ 19 ۙ
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ترکیب : اِنَّااَرْسَلْنَا جملۃ مسانفہ مبینۃ لما اجملہ قبلہ فی یوم الظرف متعلق بارسلنا تَنْزِعُ النَّاس الجملۃ صفۃ لریح اوحال منہا۔ کَآنَّہُمْ حال من الناس النخل والنخیل یذکرویونث ولذایوصف بالمذکرکمافی قولہ تعالیٰ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ وبالمونث کمافی قولہ تعالیٰ اَعْجَازُ نَخْلٍ خاویہ وقیل التذکیر رعمایۃ والتانیث رعایۃ للمعنی وَنُذُرِ اصلہ نذری۔ حذف الیاء رعایۃ للفواصل وبقیت الکسرۃ عوضاً عنھا۔
تفسیر … قوم عاد کی بربادی : یہ دوسرا تذکرہ قوم عاد کا ہے کہ انہوں نے بھی پیغمبر کا انکار کیا۔ پھر دیکھا ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟ پھر اس کی مجملاً کیفیت بیان فرماتا ہے کہ اِنَّااَرْسَلْنَا ہم نے اس قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ۔ تَنْزِعُ النَّاسَ لا کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ۔ (القمر : 19، 20)
(ہم نے ان پر ایک بادتند بھیجی مسلسل نحوست کے دن میں۔ جو لوگوں کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ )
اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بادتند کا عذاب بھیجا، ایک تیز آندھی آئی اور اس کی تفصیل ہم اس سے پہلے مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ آندھی ایک دن نہیں بلکہ آٹھ دن اور سات راتیں پوری قوت سے چلتی رہی۔ اور اس کی وجہ سے اس قوم کے درودیوار، ان کے مکانات، ان کے چوپال اور ان کے بڑے چھوٹے محلات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
فہم القرآن
ربط کلام : نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام ذکر کرنے کے بعد قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا کہ سوچو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ڈرانا کس طرح خوف ناک تھا جسے قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔
قوم عاد کی مختصر تاریخ جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت 41 تا 42 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں !
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے ہی آسان اور سادہ الفاظ میں لوگوں کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے تو قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی کتاب آسان اور پر تاثیر نہیں ہوسکتی۔ جو آدمی صراط مستقیم پر چلنا چاہے اسے اس کتاب کو سمجھنا…
Read the full tafseer →آیت 19: اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا (ہم نے ان پر ایک تند ہوا چھوڑ دی) ۔ صر صر : ٹھنڈی یا نمبر 2۔ سخت آواز والی۔
فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ (نحوست کے دنوں میں) ۔ مُسْتَمِرٍّ (دوامی شر والے) ۔ وہ عذاب ان پر مسلط رہا یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا۔ یہ مہینہ کی آخری تاریخ بدھ کا دن تھا۔
Read the full tafseer →18 ۔” کذبت عاد فکیف کان عذابی ونذر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود کو مبعوث فرمایا جو انہیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انہوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا پس اللہ نے ان پر (ریحا صرصرا) سخت طوفای ہوا بھیجئ (فی یوم نحس) منحوس دن میں۔ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ (مستمر) جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انہیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔ (تنزع الناس) وہ اپنی شدت کی وجہ سے لوگوں کو بیخ کنی کررہی تھی انہیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پے دے مارتی تھی اور یوں انہیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہوگئی تھی (ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
[ 25] قوم عاد کیلئے دائمی نحوست کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پر سخت قسم کی آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن میں۔ سو وہ دن قوم عاد کے لیے بڑی ہی نحوست کا دن تھا۔ یعنی ایک ایسے دن میں جو کہ ان کے حق میں منحوس تھا، کہ اس دن ان بدبختوں پر ایسا ہولناک اور تباہ کن عذاب آیا اور اس دنیاوی عذاب کے ساتھ برزخی اور پھر اخروی عذاب مل گیا، اور اس طرح وہ لوگ ایک دائمی اور نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو اس طرح یہ دن ان لوگوں کیلئے دائمی نحوست کا دن بن گیا، ورنہ بزات خود کوئی دن نہ منحوس ہوتا ہے نہ سعید، بلکہ سب ہی ایام برابر ہیں کہ وہ مطلقاً ظرف ہیں، ان کی سعادت و نحوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1 سورة حاقہ (آیت 7) میں ہے کہ یہ آندھی ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔ اس دن کے منحوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر منحوس بن کر آیا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بجائے خود منحوس تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ مہینے کا آخری بدھ کا دن تھا اور یہ دن منحوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ تمام روایات انتہائی ضعیف بلکہ موضوع ہیں۔ گو علامہ قرطبی نے بعض روایات میں تاویل کی کوشش کی ہے کہ ان ایام کے منحوس ہونے کے معنی کفار کے حق میں منحوس ہونے کے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے حق میں۔ واللہ اعلم (قرطبی)
Read the full tafseer →(54:19) ریحا صرصرا۔ موصوف وصفت مل کر ارسلنا کا مفعول۔ صرصرا ہوائے تند۔ سخت ٹھر۔ سناٹے کی ٹھنڈی ہوا۔
فی یوم نحس مستمر۔ فی حرف جر یوم (مجرور) مضاف۔ نحس مستمر موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔
نحس سخت منحوس ۔ مستمت اسم فاعل واحد مذکر استمرار (استفعال) مصدر مسلسل نحوست والا۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ دن اتنی مدت تک قائم رہا جب تک کہ ان کو ہلاک نہیں کردیا گیا۔ یا مستمر کا مطلب ہے انتہائی تلخ، بدمزہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے
2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(19) ہم نے ان پر ایک سخت نامبارک دن میں نہایت تیزوتند ہوا بھیجی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ہم نے ان پر تند ہوائیں بھیجیں اور وہ دن گویا ان کے لئے نحس ثابت ہوا
19 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان پر جو عذاب آیا وہ تند و تیز ہوا کا عذاب تھا اور وہ آندھی نہیں بلکہ عذاب الٰہی ہی تھا جس نے ان کو بھسم کر کے رکھ دیا اور ایک بھی انسان اس قوم کے نافرمانوں میں سے باقی نہ رہا۔ چونکہ وہ لوگ نحس تھے اس لئے ان کی ہلاکت کے دن کو ان لوگوں کی نسبت نحس کہہ دیا جیسا کہ ہر زبان میں عام طور پر بولا جاتا ہے ورنہ حقیقت میں کوئی دن اور کوئی وقت اور گھڑی نحس نہیں ہوتی ہاں ! جس دن اور جس روز ‘ جس گھڑی اور جس جگہ نحس لوگ جمع ہوجائیں وہ دن ‘ گھڑی ‘ وقت اور جگہ ان لوگوں کے باعث نحس تصور کی جاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
16 That is, on a day the ill luck of which continued to rage for several days. In Surah Ha Mim As-Sajdah: 16, the words are: fi ayyam in nahisat: "in a few iII-omened days," and in Surah AI-Haqqah: 7, it has been said: "This wind storm continued to rage for seven nights and eight days. "It is said that the day on which the storm started was Wednesday. From this the idea spread that Wednesday was a day of iII-luck, and no work should be started on this day. Some very weak traditions also have been cited to support this view, which have further strengthened the idea that this day is iII-omened.…
Read the full tafseer →