Explained with ayahs 56–62
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں
یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 51
یعنی فیصلے کی گھڑی جب آجائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ، لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ، ازف بمعنے قرب آتا ہے، معنی یہ ہیں کہ قریب آنے والی چیز قریب آپہنچی، جس کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد اس سے قیامت ہے اس کا قریب آ پہنچنا پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے ہے کہ امت محمدیہ اس کے بالکل آخر میں قیامت کے قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(از فت الازفۃ لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (57، 58)
(ایک حقیقت نفس الاری کا بیان)۔ ازفۃ۔ کے معنی ہیں قریب آنے والی، مراد اس سے عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قرآن لوگوں کو ڈرا رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کو بہت دور نہ سمجھو۔ اب وہ تمہارے سروں پر منڈلا ہی رہا ہے۔ ہم اس سنت الٰہی کی طرف بار بار اشارہ کرچکے ہیں کہ جب کسی قوم کے انداز کے لیے اللہ تعالیٰ کا رسول آجاتا ہے تو پھر اس کو اتنی مہلت ملتی ہے جتنی اتمام حجت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس مہلت کے گزرتے ہی وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے اگر رسول کی تکذیب پر وہ اڑی جاتی ہے۔ یہ عذاب اس قوم کے لیے قیامت کے عذاب کا دیباچہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 1 یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔
Read the full tafseer →لیس لھا ............ کاشفة (35 : 85) ” اللہ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔ “
تم پر تو خوفناک عذاب آنے والا ہے بہت قریب ہے۔ ڈرانے والے ناصح اور صادق وامین تمہیں ڈرا رہے ہیں۔ چیخ چیخ کر لیکن تم غفلت ہی میں آگے ہی جارہے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ مشکل وقت ہے تم باز نہیں آتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
9 یعنی قیامت قریب ہی آلگی ہے جس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا۔ اور جب وقت معین آجائے تو کوئی طاقت اس کو دفع نہیں کرسکتی۔ اللہ ہی چاہے تو ہٹے، مگر وہ چاہے گا نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 58{ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ۔ } ”نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا۔“
قیامت برپا کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ گویا اس وقت قیامت کسی کشتی کی طرح ”لنگر انداز“ ہے ‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کا لنگر اٹھا کر اسے برپا کر دے گا۔ پھر یہ کہ اس کے وقوع کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا کہ قیامت کب آئے گی۔ اور جب وہ وقت معین آجائے گا تو اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے اور دور کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →41 یعنی جب قیامت یا موت آگئی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود۔ اللہ اسے روک تو سکتا ہے مگر وہی تو لانے والا ہے ہٹائے گا کیوں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
41۔ (تو کسی اور کے بھروسہ پر ادھر سے بےرہنا انتہائی محرومی اور بدبختی کی بات ہے، چاہئے کہ ان پیغمبر کا کہنا مانو) (آیت) ” ھذا “۔ اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے اور جائز ہے کہ قرآن کی جانب سمجھا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ازقت الازقۃ ازف بمعنی قرب یعنی قریب آنے والی قریب آپہنچی، اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد قیامت ہے، اس آیت میں قرب قیامت کی خبر دی گئی ہے تاکہ لوگ عمل کر کے قیامت کے لئے تیاری کریں، مطلب یہ ہے کہ یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لئے ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیا جلدی ہے ؟ کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی سے غور کریں اور انہیں ماننے یا نہ ماننے کا بلاتاخیر فیصلہ کر ڈالیں نہیں تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لئے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے، ہر وقت تم میں سے ہر کسی کی موت آسکتی ہے اور قیامت بھی اچانک آسکتی ہے، اس لئے فصلہ کی گھڑی کو دور نہ سمجھو، کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن…
Read the full tafseer →لیس لھا من دو اللہ کاشفہ .
اللہ کے سوا اس کو کوئی ذات ہٹانے والی نہیں ہے۔ “
کَاشِفَۃٌ : ظاہر کردینے والی (کھول دینے والی) دوسری آیت میں فرمایا ہے : لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا الاَّ ھُوَ : قیامت کو اس کے مقررہ وقت پر بس اللہ ہی ظاہر کر دے گا۔ کاشفۃٌ میں تَ تانیث کی ہے اور موصوف محذوف ہے یعنی نفسٌکاشفۃٌ بات مبالغہ کی ہے یا کاشفۃٌ مصدر ہے (بمعنی کشفٌ کھول دینا ‘ ظاہر کردینا) یعنی اللہ کے سوا کوئی اور اس کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ عطاء ‘ قتادہ اور ضحاک نے کہا یعنی قیامت کی ہولناکیاں اور شدت مصائب سواء اللہ کے مؤمنوں میں سے اور کوئی دور نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55۔ 58) اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرتا رہے گا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں رسول اکرم بھی پہلے رسولوں کی طرح جن کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجا ایک ڈرانے والے رسول ہیں یا یہ کہ یہ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جن کے بارے میں لوح محفوظ میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ ان کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ہے قیامت قریب آپہنچی ہے کوئی غیر اللہ اس کے قیام اور اس کے وقت کو ہٹانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللہ ِ کَاشِفَۃٌ ”کاشفۃ“ میں ”تائ“ مبالغہ کی بھی ہوسکتی ہے اور تانیث کی بھی ، تانیث کی ہو تو یہ ”نفس“ کی صفت ہے۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اسے ہٹانے والا نہیں ، جیسے فرمایا :”وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللہ ُ بِضُرٍّ فَـلَا کَاشِفَ لَـہٗٓ اِلَّا ھُو“ (الانعام : 17) ’ ’ اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔“ دوسرا یہ کہ کر اللہ کے سوا اسے کوئی کھولنے والا نہیں اس کا وقت جاننے اور بتانے والا نہیں جیسا کہ فرمایا :”قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْج لاَ یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآ اِلاَّ ھُوَط (الاعراف :…
Read the full tafseer →لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اسے پیچھے یا آگے کرنے والا نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا : کاشفۃ کا معنی انشکاف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اسے ظاہر کرنے والا نہیں۔ کاشفۃ اسم ہے جو مصدر کے معنی میں ہے اس میں ھاء اسی طرح ہے جس طرح عاقبہ، عافیہ، داھیہ اور باقیہ میں ہے جس طرح عربوں کا قول ہے، مالفلان من باقیۃ یہاں باقیۃ بقاء کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کوئی بھی اسے نہیں لوٹائے گا، یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو ان کے معبودوں میں سے کوئی اسے دور نہیں رکے گا اور اس کے سوا کوئی انہیں نجات نہیں دے گا۔ قیامت کو غاشیہ کا نام دیا۔ ہے جب یہ غاشیہ ہے تو اس کا رد کرنا کشف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومالک الغفاری (رح) سے (آیت ) '' الا تزروازرۃ وزر اخری '' (سے لے کر) ھذا نذیر من النذرالاولی '' تک کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اسی سے ڈرایا جس سے پہلے انبیاء نے ڈرایا۔
18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ھذا نذیر من النذر الاولی '' (یہ محمد ﷺ ڈرانے والے ہیں پہلے ڈانے والوں میں سے) یعنی محمد ﷺ انہیں (احکام) کے سابھ بھیجے گئے جیسے ان سے پہلے رسول بھیجے گئے (آیت ) '' ازفت الازمۃ '' (آنے والی قریب آپہنچی ہے) یعنی قیامت (آیت ) '' لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ '' (اللہ کے سوا اس کو کوئی ذات ہٹانے والی نہیں) یعنی کوئی لوٹانے والا…
Read the full tafseer →لَيْسَ لَهَا [ نہیں ہے اس کو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] كَاشِفَةٌ [ کوئی دور کرنے والی (ہستی ) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
﴿اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ0057﴾ (جلد آنے والی چیز یعنی قیامت قریب آپہنچی) ﴿ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ0058﴾ (جب وہ جائے گی تو اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں ہوگا) ۔
قال القرطبی وقد سمیت القیامة غاشیة، فاذا کانت غاشیة کان ردھا کشفًا، فالکاشفة علی ھذا نعت مونث محذوف، ای نفس کاشفة او فرقة کاشفة او حال کاشفة وقیل ان کاشفة بمعنی کاشف والھاء للمبالغة مثل راویة وداھیة ـ
قیامت پر ایمان نہیں لاتے لیکن اس کا آنا ضروری ہے اور اس کا وقت قریب ہے (قرب اور بعد اضافی چیز ہے) ۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضاء قدر کے مطابق جو چیز وجود میں آنے والی ہے وہ ضرور آئے گی کسی کے نہ ماننے سے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ٖف 30:۔ ” ازفت الازفۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الازفۃ “ بہت جلد آنے والی، یہ قیامت کا نام ہے۔ کاشفۃ یا نفس مقدر کی صفت ہے یا مصدر ہے۔ (روح) یعنی قیامت سر پر پہنچ چکی ہے اور اللہ کے سوا اس کے معین وقت پر سے کوئی پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ باوجودیکہ قیامت بہت ہی قریب ہے، لیکن اس کے ظہور کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →لَيْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللہِ كَاشِفَۃٌ 58 ۭ
دون
يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم :
هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ،
( د و ن ) الدون
جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔
كشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة
تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ۔ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ۔ (النجم : 57، 58)
(قریب آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اللہ کے سوا اسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔ )
ایک حقیقتِ نفس الامری کا بیان
اٰزِفَۃُ کا معنی ہے قریب آنے والی۔ اس سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے لوگوں کو بار بار ڈرایا جارہا تھا کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول نہ کیا تو کسی وقت بھی وہ عذاب آسکتا ہے جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے آجانے کے بعد مہلت دراز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کے لیے آتا ہے۔ جب اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور قوم رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →آیت 58: لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ (اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں) اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا وہ واضح ہے کہ کب قائم ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا لا یجلیھا لوقتھا الا ھو (الاعراف : 187)
یا اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا یعنی جو دور کرنے پر قادر ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو برپا کردیں گے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →57 ۔” ازفت الآزفۃ “ قیامت قریب ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…
Read the full tafseer →(لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ) یعنی جب قیامت آجائے گی اور ان پر عذاب موعود ٹوٹ پڑے گا تو اسے اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →[ 70] اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو کوئی ہٹا نہیں سکے گا اللہ کے سوا۔ یعنی جب وہ آفت اپنے اہوال و شدائد کے ساتھ اہل دنیا پر چھا جائے گی تو اس وقت اللہ پاک کے سوا کوئی اس کو ہٹا اور ٹال نہیں سکے گا، پس کسی کو اس گھمنڈ میں نہیں رہنا چاہئے کہ جب وہ گھڑی آگئی تو اس کی کوئی دیوی یا سرکار اس کو ٹال دے گی، اور اس کو اس کی گرفت و پکڑ سے بچالے گی۔ سو اس کا یارا کس میں نہیں ہوگا۔ اور اللہ کے اس عذاب کو اپنے وقت سے ٹالنا اور ہٹانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اور ان کے مصنوعی دیویوں اور دیوتاؤں اور خود ساختہ " سرکاروں " اور ہستیوں میں سے کوئی ان کو چھڑا نہیں سکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
ف 10 سمد سے مراد ایسی غفلت ہے جس کے ساتھ رنگ رلیاں بھی ہوں۔ صالح ابی اقلیل کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت اتری رسول اللہ ﷺ کو کسی نے ہنستے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے یہ رخصت ہوگئے۔ (شو کانی)
Read the full tafseer →(53:58) لہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الاذفۃ کی طرف راجع ہے۔
کاشفۃ : کشف سے (باب ضرب) سے مصدر اسم فاعل واحد مؤنث : کھولنے والی۔ ظاہر کرنے والی۔ کاشفۃ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۃ مبالغہ کے لئے لائی گئی ہے ۔ کیونکہ اس کے سوا اور کوئی قیامت کے وقت کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایجلیہا لوقتھا الاھو (7:187) اس کے وقت پر اسے کوئی نہ ظاہر کریگا بجز اس (اللہ ) کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے
جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ف 1: فرمایا : قیامت بہت قریب ہے ۔ کوئی غیر اللہ قوت اسکو اپنے وقت سے نہیں ہٹاسکتی ۔ تمہیں چاہیے ۔ کہ اس کیلئے تیاری کرو ۔ اور بجائے اظہار تعجب اور مذاق کے اللہ کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت پیدا کرو ۔ دل کے غبار کو آنسوؤں سے دھوڈالو ۔ غفلت وکبر سے باز آؤ۔ اور اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکو ۔ عبادت کرو ۔ اور مالک کے ساتھ تعلقات نیاز مندی کو استوار کرو ۔
Read the full tafseer →(58) اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا اور رد کرنے والا نہیں۔ یعنی اس کے آئے پیچھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 6۔ پس کسی کے بھروسے پر بےفکری کی گنجائش ہی نہیں۔
Read the full tafseer →جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ظاہر کرنے والا نہیں ہے
58 ؎ (کاشفتہ ) اسم فاعل مفد مونث۔ کھولنے والی حالت یا شخصیت۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حالت یا کوئی شخصیت قیامت کے چہرے سے پردہ ہٹانے والی نہیں ہے اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور وہ کب آئے گی۔ (جلالین و صاوی) اور یہ بھی کہ اس کے شواہد کو کوئی دور نہیں کرسکتا۔ (صادی و جمل) اور (کاشفتہ) بمعنی مصدری (کشف) بھی مستعمل ہے۔ (قاموس) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف سے قیامت کا کشف نہیں ہو سکتا۔ (جمل) قیامت کا ظاہر کرنا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا کام ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس کو واضح کرسکے اور کھول سکے یا ظاہر کرسکے اور موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّـهِ كَاشِفَةٌ (The Imminent (Hour) has approached. [ 53:57] There is no one, beside Allah, to remove it...53:57-58). The verb ` azifa is used in the sense of qaruba which means to draw near. Azifah is the feminine active participle from the verb azifa and it refers to the Imminent Event. In other words, the Imminent Event has drawn near, referring to the Day of Resurrection. No one besides Allah can prevent it from happening, nor does anyone know when it will happen, except Him. The imminence of Resurrection is in relation to the age of the…
Read the full tafseer →51 That is, when the Hour of Judgement dces arrive, you will not be able to stop it, nor your deities other than Allah have the power to avert it. Allah alone can stop it but He will not.
Read the full tafseer →