اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ۟ۚاَزِفَتِ الۡاٰزِفَةُۚ
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Approaching Day has approached.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ۟ۚاَزِفَتِ الۡاٰزِفَةُۚ
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Approaching Day has approached.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
آنے والی گھڑی قریب آ لگی ہے
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
آنے والی گھڑی قریب آ گئی ہے
جو گھڑی جلد آنے والی ہے، وہ قریب آپہنچی ہے۔
پاس آئی پاس آنے والی
آنے والی (قیامت کی گھڑی) قریب آپہنچی،
قریب آگئی وہ قریب آنے والی۔
آنے والی (گھڑی) قریب آپہنچی ہے
قریب آنے والی قریب آگئی ہے۔
قریب آلگی ہے وہ قریب آنے والی (اے لوگوں !)
وہ قریب آجانے والی چیز قریب آگئی
قریب آچکی ہے وہ آنے والی۔
آنے والی یعنی قیامت قریب آپہنچی۔
The imminent Hour has drawn near,
The Imminent (Hour of Judgment) has approached.
The Imminent (Hour of Judgment) has approached.
The Azifah draws near.
The threatened Hour is nigh.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
The Approaching Day has approached.
The Day of Judgment is drawing nearer.
The near event draws nigh.
There hath approached the approaching Hour.
The (Judgment) ever approaching draws nigh:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 56–62
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 50 یعنی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا تاخیر فیصلہ کر ڈالیں۔ نہیں، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے، اور قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ، لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ، ازف بمعنے قرب آتا ہے، معنی یہ ہیں کہ قریب آنے والی چیز قریب آپہنچی، جس کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد اس سے قیامت ہے اس کا قریب آ پہنچنا پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے ہے کہ امت محمدیہ اس کے بالکل آخر میں قیامت کے قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(از فت الازفۃ لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (57، 58) (ایک حقیقت نفس الاری کا بیان)۔ ازفۃ۔ کے معنی ہیں قریب آنے والی، مراد اس سے عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قرآن لوگوں کو ڈرا رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کو بہت دور نہ سمجھو۔ اب وہ تمہارے سروں پر منڈلا ہی رہا ہے۔ ہم اس سنت الٰہی کی طرف بار بار اشارہ کرچکے ہیں کہ جب کسی قوم کے انداز کے لیے اللہ تعالیٰ کا رسول آجاتا ہے تو پھر اس کو اتنی مہلت ملتی ہے جتنی اتمام حجت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس مہلت کے گزرتے ہی وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے اگر رسول کی تکذیب پر وہ اڑی جاتی ہے۔ یہ عذاب اس قوم کے لیے قیامت کے عذاب کا دیباچہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 1 یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ھذا نذیر ............ کاشفة (85) (35 : 65 تا 85) ” یہ تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبہیات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں۔ “ یہ رسول جس کی رسالت اور جس کے ڈراوے میں تم شک کرتے ہو۔ یہ انہیں رسولوں میں سے ہے جنہوں نے اسی طرح اپنی اقوام کو ڈرایا اور یہ سخت مصیبت اور کھڑ کھڑا دینے والی گھڑی ہے یا وہ اس دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے اور جس کو ٹالنا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ ٹال دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
9 یعنی قیامت قریب ہی آلگی ہے جس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا۔ اور جب وقت معین آجائے تو کوئی طاقت اس کو دفع نہیں کرسکتی۔ اللہ ہی چاہے تو ہٹے، مگر وہ چاہے گا نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 57{ اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ۔ } ”قریب آچکی ہے وہ آنے والی۔“
Read the full tafseer →40 ازفۃ قیامت کا ہی صفاتی نام ہے اور ازف میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی یہ نہ سمجھو کہ قیامت یا موت کی گھڑی ابھی بہت دور ہے اور سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ انسان کو تو ایک پل کی بھی خبر نہیں اور جس کو موت آگئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
41۔ (تو کسی اور کے بھروسہ پر ادھر سے بےرہنا انتہائی محرومی اور بدبختی کی بات ہے، چاہئے کہ ان پیغمبر کا کہنا مانو) (آیت) ” ھذا “۔ اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے اور جائز ہے کہ قرآن کی جانب سمجھا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ازقت الازقۃ ازف بمعنی قرب یعنی قریب آنے والی قریب آپہنچی، اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد قیامت ہے، اس آیت میں قرب قیامت کی خبر دی گئی ہے تاکہ لوگ عمل کر کے قیامت کے لئے تیاری کریں، مطلب یہ ہے کہ یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لئے ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیا جلدی ہے ؟ کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی سے غور کریں اور انہیں ماننے یا نہ ماننے کا بلاتاخیر فیصلہ کر ڈالیں نہیں تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لئے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے، ہر وقت تم میں سے ہر کسی کی موت آسکتی ہے اور قیامت بھی اچانک آسکتی ہے، اس لئے فصلہ کی گھڑی کو دور نہ سمجھو، کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن…
Read the full tafseer →ازفت الازفۃ ” وہ جلدی آنے والی قریب آپہنچی ہے ‘ یعنی قیامت کی گھڑی قریب آگئی ‘ دوسری آیت میں : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55۔ 58) اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرتا رہے گا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں رسول اکرم بھی پہلے رسولوں کی طرح جن کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجا ایک ڈرانے والے رسول ہیں یا یہ کہ یہ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جن کے بارے میں لوح محفوظ میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ ان کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ہے قیامت قریب آپہنچی ہے کوئی غیر اللہ اس کے قیام اور اس کے وقت کو ہٹانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ”الازفۃ“ کے معنی کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومن (18) کی تفسیر۔ یعنی یہ رسول تمہیں جس آنے والی قیامت سے ڈراتا ہے وہ بالکل قریب آچکی ہے ، اس لیے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جاؤ ، یہ مت سوچو کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اگلا سانس آئے گا یا نہیں اور جس کی موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی، کیونکہ اس کے ساتھ ہی عمل کی مہلت ختم ہے۔
Read the full tafseer →از فت الازفۃ۔ قیامت قریب ہوگئی۔ اسے آزفۃ کا نام دیا کیونکہ اس کے نزدیک یہ قریب ہی واقع ہوگی جس طرح فرمایا : یرونہ بعیداً ۔ ونرئہ قریباً ۔ (المعارج) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے آزفہ کا نام دیا گیا کیونکہ یہ لوگوں کے قریب ہے اسے لوگوں کے قریب کیا تاکہ وہ اس کی تیاری کریں کیونکہ وہ امر جو واقع ہو کر رہنے والا وہتا ہے وہ قریب ہوتا ہے جس طرح کہا، ازف الترحل کوچ قریب آگیا۔ صحاح میں ہے : ازف الترحل یازف، آزف یہ فاعل کا وزن ہے۔ متآزف القصیر وہی جو قریب ہو۔ ابو زید نے کہا، میں نے ایک بدو سے پوچھا، ما المبنطی ؟ اس نے جواب دیا : المتکا کی۔ میں نے پوچھا : ما المتکا کی ؟ اس نے جواب دیا : المتآزف میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومالک الغفاری (رح) سے (آیت ) '' الا تزروازرۃ وزر اخری '' (سے لے کر) ھذا نذیر من النذرالاولی '' تک کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اسی سے ڈرایا جس سے پہلے انبیاء نے ڈرایا۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ھذا نذیر من النذر الاولی '' (یہ محمد ﷺ ڈرانے والے ہیں پہلے ڈانے والوں میں سے) یعنی محمد ﷺ انہیں (احکام) کے سابھ بھیجے گئے جیسے ان سے پہلے رسول بھیجے گئے (آیت ) '' ازفت الازمۃ '' (آنے والی قریب آپہنچی ہے) یعنی قیامت (آیت ) '' لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ '' (اللہ کے سوا اس کو کوئی ذات ہٹانے والی نہیں) یعنی کوئی لوٹانے والا…
Read the full tafseer →اَزِفَتِ [ قریب ہوئی ] الْاٰزِفَةُ [ قریب ہونے والی (قیامت ) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
﴿اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ0057﴾ (جلد آنے والی چیز یعنی قیامت قریب آپہنچی) ﴿ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ0058﴾ (جب وہ جائے گی تو اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں ہوگا) ۔ قال القرطبی وقد سمیت القیامة غاشیة، فاذا کانت غاشیة کان ردھا کشفًا، فالکاشفة علی ھذا نعت مونث محذوف، ای نفس کاشفة او فرقة کاشفة او حال کاشفة وقیل ان کاشفة بمعنی کاشف والھاء للمبالغة مثل راویة وداھیة ـ قیامت پر ایمان نہیں لاتے لیکن اس کا آنا ضروری ہے اور اس کا وقت قریب ہے (قرب اور بعد اضافی چیز ہے) ۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضاء قدر کے مطابق جو چیز وجود میں آنے والی ہے وہ ضرور آئے گی کسی کے نہ ماننے سے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ٖف 30:۔ ” ازفت الازفۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الازفۃ “ بہت جلد آنے والی، یہ قیامت کا نام ہے۔ کاشفۃ یا نفس مقدر کی صفت ہے یا مصدر ہے۔ (روح) یعنی قیامت سر پر پہنچ چکی ہے اور اللہ کے سوا اس کے معین وقت پر سے کوئی پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ باوجودیکہ قیامت بہت ہی قریب ہے، لیکن اس کے ظہور کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ 57 أزف قال تعالی: أَزِفَتِ الْآزِفَةُ [ النجم/ 57] أي : دنت القیامة . وأزف وأفد يتقاربان، لکن أزف يقال اعتباراً بضیق وقتها، ويقال : أزف الشخوص، والأَزَفُ : ضيق الوقت، وسمّيت به لقرب کو نها، وعلی ذلک عبّر عنها بالسّاعة، وقیل : أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، فعبّر عنها بالماضي لقربها وضیق وقتها، قال تعالی: وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ [ غافر/ 18] . ا زف ) قرآن میں ہے :۔ { أَزِفَتِ الْآزِفَةُ } ( سورة النجم 57) یعنی قیامت قریب آپہنچی ازف وافد دونوں قریب المعنی ہیں قیامت کو ازف کہنا بلحاظ ضیق وقت کے ہے جیسے کہا جاتا ہے ازف الشخوص ( کوچ کا وقت قریب آپہنچا ) اور ازف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ۔ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ۔ (النجم : 57، 58) (قریب آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اللہ کے سوا اسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔ ) ایک حقیقتِ نفس الامری کا بیان اٰزِفَۃُ کا معنی ہے قریب آنے والی۔ اس سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے لوگوں کو بار بار ڈرایا جارہا تھا کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول نہ کیا تو کسی وقت بھی وہ عذاب آسکتا ہے جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے آجانے کے بعد مہلت دراز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کے لیے آتا ہے۔ جب اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور قوم رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →آیت 57: اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ (وہ جلدی آنے والی قریب آپہنچی) جس کی قرب سے صفت کی گئی ہے جیسا اس ارشاد میں ہے اقتربت الساعۃ (القمر : 1)
Read the full tafseer →56 ۔” ھذا نذیر “ یعنی محمد ﷺ ۔ ” من النذر الاولیٰ “ یعنی ان کا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہو جیسا کہ وہ ان کی قوموں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمد ! ﷺ آپ ڈرائیں جیسے آپ ﷺ سے پہلے رسولوں نے ڈرایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…
Read the full tafseer →(اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ) یعنی قیامت قریب آگئی ہے اس کا وقت آن پہنچا ہے اور اس کی علامات واضح ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →[ 69] قیامت کے بارے میں تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب آلگی ہے وہ قریب آنے والی " یعنی قیامت۔ پس تم لوگ اس کے لئے تیاری کرو اور زندگی کی اس فرصت کو غنیمت سمجھو ورنہ پچھتانا پڑے گا والعیاذ باللّٰہ العظیم، یہاں پر " آزفتہ " سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قرآن لوگوں کو خبردار کر رہا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس عذاب کو دور نہ سمجھو وہ تمہارے سروں پر منڈلارہا ہے، وہ کبھی بھی اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دستور اور اس کا قانون یہی ہے کہ جب رسول کی بعثت کے ذریعے کسی قوم پر اتمام حجت کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد اگر وہ قوم اپنے کفر و انکار ہی پر اڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی اسے دور نہ سمجھو۔ کیونکہ وہ یکایک اور فوراً آسکتی ہے اس لئے توبہ کرنے میں تاخیر نہ کرو۔
Read the full tafseer →(53:57) ازفت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ ازف (باب سمع) مصدر وہ آپہنچی۔ ازف کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں ۔ چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آلگنا ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ الازفۃ : ازف سے اسم فاعل واحد مؤنث۔ نزدیک آلگنے والی۔ قریب آلگنے والی جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ مراد قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وانذرھم یوم الازفۃ (40:18) اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ف 1: فرمایا : قیامت بہت قریب ہے ۔ کوئی غیر اللہ قوت اسکو اپنے وقت سے نہیں ہٹاسکتی ۔ تمہیں چاہیے ۔ کہ اس کیلئے تیاری کرو ۔ اور بجائے اظہار تعجب اور مذاق کے اللہ کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت پیدا کرو ۔ دل کے غبار کو آنسوؤں سے دھوڈالو ۔ غفلت وکبر سے باز آؤ۔ اور اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکو ۔ عبادت کرو ۔ اور مالک کے ساتھ تعلقات نیاز مندی کو استوار کرو ۔
Read the full tafseer →(57) قریب آگئی قریب آنے والی۔ یعنی قیامت کو آیا ہی سمجھو۔
Read the full tafseer →ف 5۔ مراد قیامت ہے۔
Read the full tafseer →قریب آنے والی قریب آگئی اس سے مراد اس جگہ موت ہے 57 ؎ (ازفت) کا مادہ ا زہے اور اس کے معنی ہیں آپہنچی۔ ا زسے ماضی کا صیغہ وواحد مونث غائب ازف کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آ لگنا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ (الازفتہ) نزدیک آنے والی۔ قریب آ لگنے والی جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو اور مراد اس سے قیامت بھی ہو سکتی ہے اور موت بھی اور اس جگہ مراد موت ہی ہے۔ لاریب یہ حقیقت ہے کہ قیامت بھی لمحہ بہ لمحہ قریب سے قریب تر ہی ہوتی چلی آرہی ہے لیکن ہر وہ شخص جو پیدا ہوگیا وہ بھی تو لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب ہی آتا چلا جار ہا ہے اور پھر کیا ہوگا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّـهِ كَاشِفَةٌ (The Imminent (Hour) has approached. [ 53:57] There is no one, beside Allah, to remove it...53:57-58). The verb ` azifa is used in the sense of qaruba which means to draw near. Azifah is the feminine active participle from the verb azifa and it refers to the Imminent Event. In other words, the Imminent Event has drawn near, referring to the Day of Resurrection. No one besides Allah can prevent it from happening, nor does anyone know when it will happen, except Him. The imminence of Resurrection is in relation to the age of the…
Read the full tafseer →50 That is, "Do not be under the delusion that there is yet enough time for thinking and consideration; therefore, you may not give immediate and serious attention to these things and may not decide that you should accept them without further delay. Nay: no one among you knows how much of the respite of life is left to him. Any one of you can die at any time and the Last Hour can also take place suddenly. Therefore, do not think that the Hour of Judgement is yet far off. Whoever has any concern for the Hereafter, should mend his ways forthwith, for one may not have a chance to take a second…
Read the full tafseer →