Explained with ayahs 56–62
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں
یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 49
اصل الفاظ ہیں ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلیٰ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ نذیر سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ تیسرے یہ کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کا انجام ہے جس کا مال اوپر کی آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔ سیاق کلام کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ تیسری تفسیر قابل ترجیح ہے۔
Read the full tafseer →ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى، ہذا کا اشارہ رسول اللہ ﷺ یا قرآن کی طرف ہے کہ یہ بھی پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں جو صراط مستقیم اور دین و دنیا کی فلاح پر مشتمل ہدایات لے کر آئے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔
Read the full tafseer →6۔ آگے آیات 56۔ 62 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خاتمہ میں قرآن کے معروف طریقہ کے مطابق اس مضمون کی پھر یاددہانی فرما دی گئی ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ یاد ہوگا کہ سورة کا آغاز اس مضمون سے ہوا ہے کہ اس قرآن کو کاہنوں اور نجومیوں کے کلام کی قسم کی کوئی چیز خیال کر کے اسکے انداز کو ٹالنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ یہ وحی الٰہی اور کلام ربانی ہے۔ اگلے زمانوں میں جس طرح نذیر آ چکے ہیں انہی کے زمرے کا نذیر یہ بھی ہے۔ یہ جس چیز سے تمہیں ڈرا رہا ہے اس کو دور نہ سمجھو، وہ آئی کھڑی ہے اور جب آجائے گی تو اللہ کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں بنے گا۔ اس کلام کا مذاق نہ اڑائو۔ یہ ہنسی مسخری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 1 یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ھذا نذیر ............ کاشفة (85) (35 : 65 تا 85) ” یہ تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبہیات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں۔ “ یہ رسول جس کی رسالت اور جس کے ڈراوے میں تم شک کرتے ہو۔ یہ انہیں رسولوں میں سے ہے جنہوں نے اسی طرح اپنی اقوام کو ڈرایا اور یہ سخت مصیبت اور کھڑ کھڑا دینے والی گھڑی ہے یا وہ اس دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے اور جس کو ٹالنا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ ٹال دے۔
Read the full tafseer →8 یعنی حضرت محمد ﷺ مجرموں کو اسی طرح برے انجام سے ڈرانے والے ہیں جیسے ان سے پیشتر دوسرے نبی ڈرا چکے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 56{ ہٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی۔ } ”یہ محمد ﷺ ایک خبردار کرنے والے ہیں ‘ پہلے خبردار کرنے والوں کے زمرے میں سے۔“
نذیر کے معنی ہیں : ڈرانے والا ‘ آگاہ کرنے والا ‘ خبردار warn کرنے والا ‘ اور النُّذُر اسی کی جمع ہے۔
Read the full tafseer →39 یعنی کوئی نئی بات نہیں کہتا۔ تمہیں اپنے برے انجام سے بچ جانے کی طرف بلاتا ہے۔ سابقہ تمام انبیاء بھی اپنی قوموں کو یہی کچھ کہتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
41۔ (تو کسی اور کے بھروسہ پر ادھر سے بےرہنا انتہائی محرومی اور بدبختی کی بات ہے، چاہئے کہ ان پیغمبر کا کہنا مانو) (آیت) ” ھذا “۔ اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے اور جائز ہے کہ قرآن کی جانب سمجھا جائے۔
Read the full tafseer →ھذا نذیر من النذر الاولی ھذا کا اشارہ محمد رسول اللہ ﷺ یا قرآن کی طرف ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ بھی پہلے رسولوں اور کتابوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں جو دین اور دنیا کے فلاح پر مشتمل ہدایات لے کر آئے ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔
Read the full tafseer →ھذا نذیر من النذر اولٰی . یہ (یعنی محمد ﷺ یا قرآن) منجملہ پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ایک تنبیہ ہے۔
مِّنَ النُّذُرِ : یعنی انبیائے سابقین کی جنس میں سے ہیں اَ لْاُوْلٰی کو بصیغہ مؤنث ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ النذر سے مراد جماعت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55۔ 58) اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرتا رہے گا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں رسول اکرم بھی پہلے رسولوں کی طرح جن کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجا ایک ڈرانے والے رسول ہیں یا یہ کہ یہ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جن کے بارے میں لوح محفوظ میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ ان کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ہے قیامت قریب آپہنچی ہے کوئی غیر اللہ اس کے قیام اور اس کے وقت کو ہٹانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →ہٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی : یعنی یہ رسول بھی ان ہلاک کی جانے والی قوموں کو ڈرانے والے پہلے رسولوں کی جماعت کا ایک فرد ہے ، جو تمہیں ڈرانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں جو تمہاری سمجھ میں نہ آرہی ہو، جیسا کہ فرمایا :”قل ما کنت بدعا من الرسل“ (الاحقاف : 9) ”کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں“۔
Read the full tafseer →ھذا نذیر من النذر الاولی۔ ابن جریج اور محمد بن کعب نے کہا : اس سے یہ ارادہ کیا ہے (1) کہ حضرت محمد حق کے ساتھ خبردار کرنے والے ہیں جس کے ساتھ آپ سے پہلے انبیاء نے ڈرایا۔ اگر تم نے آپ کی اطاعت کی تو تم کامیاب ہو جائو گے بصورت دیگر تم پر وہی عذاب نازل ہوگا جو تم سے قبل رسولوں کو جھٹلانے والوں پر نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا، مراد قرآن ہے یہ اس چیز کے ساتھ خبردار کرنے والا ہے جس کے ساتھ سابقہ کتابوں نے خبردار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے سابقہ امتوں کی جو خبریں دی ہیں کہ وہ ہلاک ہوئے یہ اس امت کو ڈرانا ہے کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو سکتا ہے جو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا۔ نذر قوم عرب میں انذار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
14:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ نے وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' (اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس اوندھی بستی کو آسمان کی طرف اٹھاکر نیچے پھینک دیا۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم کہ ان کے ساتھ زمین کو الٹ دیا گیا بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا پس ان کے ساتھ قیامت کے دن تک دھنستی رہے گی۔
16:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے…
Read the full tafseer →ھٰذَا نَذِيْرٌ [ یہ ایک خبردار کرنے والی ہیں ] مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى [ پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →قیامت قریب آگئی اس بات سے تعجب کرتے ہو اور تکبر میں مبتلا ہو، اللہ کو سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو
هٰذَا کا اشارہ رسول کریم ﷺ یا قرآن عظیم کی طرف ہے مطلب یہ ہے کہ اوپر جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا جسے لے کر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں یہ پرانے ڈرانے والوں میں سے ہی ایک ڈرانے والا ہے یعنی قرآن میں جو ڈرانے والے مضامین ہی یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے پہلے بھی حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) آتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان پر کتابیں نازل فرمائی ہیں پرانی اقوام نے بھی تکذیب کی ہے اور انہیں ڈرایا گیا ہے جب انہیں ڈرایا گیا تو ایمان نہ لائے پھر اس کی سزا میں ہلاک ہوئے اب جو قرآن کریم کے مخاطب ہیں انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ٖ 29:۔ ” فبای آلاء۔ الایۃ “ تخویف دنیوی۔ یہ خطاب ہر سرکش اور مکذب سے ہے تو اللہ کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتا اور غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ ” ھذا نذیر۔ الایۃ “ اشارہ قرآن یا محمد ﷺ کی طرف ہے۔ حضرت محمد ﷺ گذشتہ ڈرانے والے پیغمبروں کے قافلے کے آخری رکن ہیں۔ جس طرح گذشتہ سرکش قوموں نے اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور تباہ و برباد ہوئیں اے مشرکین مکہ ! سن لو ! ہمارے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلانے والو ! اگر تم ضد وعناد سے باز نہ آئے تو تمہارا حشر بھی انہی قوموں کا سا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى 56
النذیر
والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذیر
النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة
تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِالْاُوْلٰی۔ (النجم : 56)
(یہ نذیر ہے پہلے آئے ہوئے نذیروں میں سے۔ )
آنحضرت ﷺ ہی رسالت کی حقیقتِ ثابتہ کا استمرار ہیں
یہاں نذیر سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی بھی۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا رسول بھی دنیا میں انذار کے لیے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ذریعے وہ انذار کرتا ہے۔ اس لیے دونوں مل کر اس انذار کی تکمیل کرتے ہیں جس کے لیے ان کی بعثت ہوئی ہے۔ یہاں کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی ان ہی رسولوں کی طرح رسول بن کر آئے ہیں جو سابقہ معذب قوموں کی طرف آئے تھے۔ اور انھوں نے ان ہی حقائق اور بنیادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →آیت 56: ھٰذَا نَذِيْرٌ (یہ ایک ڈرانے والا ہے) یہ من جملہ ان پہلے آئی ہوئی تنبیہات کے ایک تنبیہ ہے نذیر سے محمد ﷺ مراد ہیں، مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى (پہلے ڈرانے والوں میں سے) اولی جماعت کا لحاظ کر کے کہا، یا ہذا القرآن یہ قرآن پہلے نذیروں میں سے ایک نذیر ہے، یعنی یہ انذار کوئی نیا نہیں بلکہ پہلے انذارات کی جنس سے ہے وہ انذارات جن سے تم سے پہلے لوگوں کو ڈرایا گیا۔
Read the full tafseer →55 ۔” فبای آلاء ربک “ اپنے رب کی نعمتوں کی اے انسان۔ اور کہا گیا کہ ولید بن مغیرہ مراد ہے۔ ” تتماریٰ “ تو شک کرتا ہے اور جھگڑا کرتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تو جھٹلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…
Read the full tafseer →(ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى) یہ رسول تو پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔ یعنی یہ قریشی، ہاشمی رسول محمد بن عبداللہ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں بلک کہ آپ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں جنہوں نے اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی جس کی طرف آپ نے دعوت دی ہے تب آپ کی رسالت کا کس وجہ سے انکار کیا جاسکتا ہے اور کون سی دلیل ہے جس کی بنیاد پر آپ کی رسالت کو باطل ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ کیا آپ کے اخلاق تمام انبیائ ومرسلین کرام کے اخلاق سے اعلی وارفع نہیں ہیں ؟ کیا آپ ہر بھلائی کی طرف دعوت نہیں دیتے اور ہر برائی سے نہیں روکتے ؟ کیا آپ قرآن کریم لے کر تشریف نہیں لائے جس کے آگے سے باطل آسکتا ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →[ 68] منکرین کیلئے ایک تنبیہ وتحذیر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ بھی ایک خبرادر کرنے والا ہے پہلے خبردار کرنے والوں کی طرح "۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کوئی نئی اور اچنبھے کی چیز نہیں بلکہ آپ ﷺ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { وما محمد الا رسول ج قدخلت من قبلہ الرسل ط افائن مات او قتل علی اعقابکم ط ومن ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّٰہ شیئاً ط وسیجزی اللّٰہ الشکرین۔ } [ آل عمران : 144 پ 4] یعنی محمد تو صرف اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں، سو آپ ﷺ بھی حق و ہدایت کا وہی پیغام لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی حضرت محمد ﷺ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” یہ (تباہی جس کا ذکر کیا گیا) پہلے آنے والی تنبیہوں میں سے ایک تنبیہ ہے۔ “
Read the full tafseer →(53:56) ھذا۔ اس کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں :۔
(1) ھذا کا مشار الیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ واصحاب وسلم ہیں۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا۔ کہ پیغمبر اسلام بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ہیں۔
(2) قرآن کریم، یعنی یہ قرآن کریم بھی پہلی آسمانی کتابوں کی طرح ڈرانے والا ہے۔
(3) یہ واقعات جو تمہیں سنائے گئے ہیں ایک تنبیہ ہیں پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ۔
نذیر : صفت مشبہ مرفوع ، نکرہ ، واحد، ڈرانے والا۔ اس کی جمع نذر النذر الاولی میں اولی (بمعنی پہلی، اگلی، اول کا مؤنث) کو بصیغہ مؤنث لانے کی وجہ یہ ہے کہ النذر سے مراد جماعت ہے۔ علماء کی اکثریت نے اس کے وہ معنی لئے ہیں جو کہ (3) میں مذکور ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے
جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
ف 1: اللہ تعالیٰ کا قانون میکافات یہ ہے ۔ کہ وہ پہلے تو اتمام حجت کے لئے انبیاء بھیجتا ہے ۔ خوارق اور معجزات دکھاتا ہے ۔ کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور پھر جب سرکش اور نادان انسان ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اور گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتا ہے ۔ تو اس کا غصہ بھڑکتا ہے ۔ اور غیرت میں تحریک ہوتی ہے ۔ اس وقت وہ ان لوگوں کو زندگی کے تنمام حقوق سے محروم کردیتا ہے ۔ چناچہ تعلیم قوم عاد نے جب اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ۔ تو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ قوم ثمود میں سے کوئی نفس باقی نہ رہا ۔ نوح کی قوم پرچادر آب اڑھا دی گئی ۔ سدومیوں کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح بتادیا گیا ۔ کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →(56) یہ محمد ﷺ بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ایک ڈرانے والا ہے۔ یعنی جس طرح سابقہ پیغمبر ڈرانے والے ہوئے ہیں انہی کی جنس میں سے یہ بھی ایک ڈرانے والے ہیں ان پر ایمان لانے میں دیر نہ کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری آواز اور آخری پیغام ہے بس اب قیامت آنے والی ہے ایمان لانے کی جلدی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
ف 4۔ یعنی ایسا ضرور ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ڈرانے والے ہیں
56 ؎ (ھذا) ھا حرف تنبیہہ ذرا اسم اشارہ قریب واحد مذکر۔ اس جگہ (ھذا) کا مشار الیہ کون ہے ؟ اس کے متعلق تین اقوال اختیار کئے گئے ہیں۔ (1) اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ یعنی پیغمبر اسلام بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ایک ڈرانے والے ہیں۔ جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا گیا کہ : (قل ما کنت بدعا من الرسل) (الاحقاف : 9) ” آپ ﷺ کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں یعنی ویسا ہی ایک رسول ہوں جیسا کہ اور بہت سے رسول آئے ہیں۔ (2) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس (ھذا) سے مراد قرآن کریم ہے یعنی قران کریم بھی پہلی…
Read the full tafseer →هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ (This [ Holy Prophet ] is a warner from the (genus of the) previous warners...53:56). Hadha is a demonstrative pronoun and points either to the Holy Prophet ﷺ or to the Qur'an. With reference to the Holy Prophet ﷺ ، it means that in the past, many Prophets were sent to their respective nations, and the Holy Prophet ﷺ is sent to all mankind, and he is not a new thing among the Messengers (علیہم السلام) . He is well-established in the straight path. With reference to the Qur'an, it means that he has come with a book of guidance which, if complied…
Read the full tafseer →49 The words in the original are: Hadha nadhir-un-min-an-nudhur-il-ula. The commentators have expressed three points of view in the explanation of this sentence. First, that nadhir here implies the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace); second, that it implies the Qur'an; third, that it implies the fate of the peoples already destroyed, which has been referred to in the foregoing verses. In view of the context, we arc of the opinion that this last commentary is preferable.
Read the full tafseer →