Explained with ayahs 49–55
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 47
بعض مفسرین کے نزدیک یہ فقرہ بھی صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ کی عبادت کا ایک حصہ ہے۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ فَغَشّٰھَا مَا غَشّٰی پر وہ عبارت ختم ہوگئی، یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے پہلا قول ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ بعد کی یہ عبارت کہ " یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے "، اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس سے پہلے کی تمام عبارت پچھلی تنبیہات میں سے ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ارشاد ہوئی تھیں۔
سورة النَّجْم 48
اصل میں لفظ تَتَمَاریٰ استعمال ہوا ہے جس کے معنی شک کرنے کے بھی ہیں اور جھگڑنے کے بھی خطاب ہر…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى، تماری کے معنی جھگڑا اور مخالفت کرنا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ خطاب ہر انسان کو ہے، کہ سابقہ آیات اور صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) میں آئی ہوئی آیات ربانی میں کوئی ذرا بھی غور و فکر کرے تو اس کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی وحی اور تعلیمات کے حق ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور اقوام سابقہ کی ہلاکت و عذاب کے واقعات سن کر مخالفت سے باز آجانے کا اچھا موقع ملتا ہے جو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت میں جھگڑا اور خلاف کرتے رہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(فبای الا ربک تتماوی) (55) (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 291)
(قریش کو میں حیث الجماعت ملامت)۔ یہ خطاب قریش سے ہے۔ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن مخاطب پوری جماعت ہے۔ جب جماعت کو واحد کے صیغہ یا ضمیر سے خطاب کرتے ہوئے تو مقصود جماعت کے ایک ایک فرد کو متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہی صورت ہے منکرین کو فرداً فرداً خطاب کر کے ملامت فرمائی ہے کہ جزاء و سزا کے یہ سارے دلائل جو عقل سے، نقل سے، موسیٰ ؑ و ابراہیم ؑ کے صحیفوں اور قوموں کی تاریخ سے بیان ہوئے ہیں، تمہارے سامنے ہیں تو بتائو اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے اور ان کے باب میں جھگڑتے رہو گے۔
(الاء، الی) کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہمارے مفسرین و مترجمین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 1 یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔
Read the full tafseer →فبای ............ تتماری (35 : 55) ” اپنے رب کی کن نعمتوں میں تو شک کرے گا “ کیا یہ تباہیاں اللہ کے انعامات تھے ؟ تو یہ اللہ کا فضل وکرم تھا کہ اس نے شر اور برائی کو برباد کردیا۔ حق کو باطل پر گرایا اور اس کا بھیجا نکالا اور وہ ختم ہوگیا۔ کیا بعد میں آنے والوں کے لئے اس میں عبرت نہیں ؟ وہی فضل وکرم ہے اور اس میں شک نہیں ہے اور نہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ خطاب ہر شخص کو ہے ۔ ہر دل کو ہے۔ یہ اس شخص کے لئے جو اللہ کے کاموں پر غور کرتا ہے تو اسے مصیبتوں میں بھی اللہ کا فضل وکرم نظر آتا ہے۔
انفس وآفاق کے دلائل و شواہد گنوانے کے بعد اور انسانی تاریخ کے اہم عبرت آموز واقعات کی طرف سرسری اشارہ کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →7 یعنی ایسے مفسد ظالموں اور باغیوں کا تباہ کر ڈالنا بھی اللہ کا بڑا بھاری انعام ہے۔ کیا ایسی نعمتوں کو دیکھ کر بھی انسان اپنے رب کو جھٹلاتا ہی رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 55{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی۔ } ”تو تم اپنے رب کی کون کون سی قدرتوں کے بارے میں شک کرو گے ؟“
Read the full tafseer →37 ظالم قوموں کی تباہی بھی بنی نوع انسان کے لئے نعمت ہے :۔ اللہ کی بنی نوع انسان پر سب بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ ظالم اور سرکش قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے۔ تاکہ باقی لوگوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات ملے اور وہ بھی دنیا میں چین سے زندگی بسر کرسکیں۔ گویا سب ظالم قوموں کی تباہی بھی اللہ کی نعمتیں تھیں اور انسانیت پر احسانات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر ایک دوسرے مقام پر بڑے واشگاف الفاظ میں یوں بیان فرمایا : (وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 251۔ ) 2 ۔ البقرة :251)
38 تَتَمَارٰی کے…
Read the full tafseer →40۔ (اے مخاطب ! ) مقصود کافر مخاطب کی حماقت پر اظہار تاسف ہے کہ اے احمق بجائے اس کے کہ ان مضامین کی تصدیق سے تو فائدہ اٹھاتا تو الٹا ان سے انکار وشک کررہا ہے۔ (آیت) ” الآء ربک “۔ انس سارے مضامین سے آگاہی۔ ان کے متعلق احکام وہدایات یہ سب بھی تو اللہ کی نعمتیں ہی ہیں۔
Read the full tafseer →فبای آلا ربک تتماری تمہاری کے معنی جھگڑنے اور مخالفت کرنے کے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ خطاب ہر انسان کو ہے کہ سابقہ آیات اور صحف موسیٰ اور صحف ابراہیم میں آئی ہوئی آیات ربانی میں کوئی ذرا بھی غور و فکر کرے تو اس کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی وحی اور تعلیمات کے حق ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور اقوام سابقہ کی ہلاکت و عذاب کے واقعات سن کر مخالفت سے باز آ نے کا اچھا موقع ملتا ہے جو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت میں جھگڑا اور خلاف کرتے رہو گے۔
Read the full tafseer →فبای الا ربک تتماوی . سو تو اپنے رب کی کو نسی نعمت میں شک کرتا رہے گا۔
تَتَمَاوٰی کا معنی ہے تو شک کرے گا ‘ جھگڑا کرے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا تو کسی کس نعمت کو جھٹلائے گا۔ یہ ہر شخص کو خطاب ہے ‘ یعنی کسی کے لیے زیبا نہیں کہ اپنے رب کی کھلی ہوئی نعمتوں میں شک اور اس کی قدرت عامہ میں شبہ کرے۔
بعض علماء نے کہا : آیت میں مخاطب ولید بن مغیرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55۔ 58) اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرتا رہے گا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں رسول اکرم بھی پہلے رسولوں کی طرح جن کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجا ایک ڈرانے والے رسول ہیں یا یہ کہ یہ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جن کے بارے میں لوح محفوظ میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ ان کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ہے قیامت قریب آپہنچی ہے کوئی غیر اللہ اس کے قیام اور اس کے وقت کو ہٹانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی ”تمری یتماری تماریا“ (تفاعل) شک کرنا۔ ”الائ“”الی“ (جو اصل میں ”الی“ تھا) کی جمع ہے ، نعمتیں ، جیسا کہ ”معی“ کی جمع ”امعائ“ ہے ، انتڑیاں۔ یہاں سوال ہے کہ ان اقوام کی ہلاکت کے ذکر میں کون سی نعمت بیان ہوئی ہے جس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔ استاد محمد عبدہٗ لکھتے ہیں : ”سیاق کلام کی بناء پر یہاں نعمت سے مراد ظالم و سرکش قوم کی تباہی ہے ، معلوم ہوا کہ کسی ظالم و سرکش قوم کو تباہ کرنا بھی انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے“ (اشرف الحوشی) ایک جواب اس کا یہ ہے کہ ظلم اور سرکشی کے انجام سے آگاہ کردینا بھی بہت بڑا انعام ہے، جیسا کہ سورة ٔ رحمن میں مجرموں کے…
Read the full tafseer →فبای الآء ربک تتماری۔ تم اپنے رب کی کون سی نعمتوں میں شک کرتے ہو۔ خطاب جھٹلانے والے انسان کو ہے۔ الآء سے مراد نعمتیں ہیں اس کا واحد الی الی اور الی ہے یعقوب نے تمہاری پڑھا ہے دو تائوں میں سے ایک کو دوسری میں ادغام کیا اور اسے مشدد پڑھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
14:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ نے وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' (اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس اوندھی بستی کو آسمان کی طرف اٹھاکر نیچے پھینک دیا۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم کہ ان کے ساتھ زمین کو الٹ دیا گیا بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا پس ان کے ساتھ قیامت کے دن تک دھنستی رہے گی۔
16:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ [ تو اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس پر ] تَتَـمَارٰى [ تو شک کرے گا ]
نوٹ۔ 3: آیت ۔ 55 ۔ میں لفظ تتماوی استعمال ہوا ہے جس کے معنی شک کرنے کے بھی ہیں اور جھگڑنے کے بھی ۔ ضمیر واحد آئی ہے یعنی جو شخص بھی اس کلام کو سن رہا ہو اس کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں پیغمبروں سے جھگڑا کرنے کا جو انجام انسانی تاریخ میں ہوچکا ہے کیا اس کے بعد بھی تو اسی حماقت کا ارتکاب کرے گا ۔ پچھلی قوموں نے یہی تو شک کیا تھا کہ جن نعمتوں سے وہ اس دنیا میں مستفید ہورہے تھے وہ خدائے واحد کی نعمتیں ہیں ، یا کوئی اور بھی ان کے مہیا کرنے میں شریک ہے یا یہ…
Read the full tafseer →﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى 0055﴾ (سو اے انسان تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا) اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا مرد اور عورت کے جوڑے بنائے ہنسایا اور رلایا، موت دی پھر زندہ فرمائے گا اس نے مال دیا ذخیرہ رکھنے کی چیزیں دیں اور سابقہ امتوں کی بربادی سے باخبر فرمایا اب بھی تو اس کی نعمتوں میں شک کرتا ہے اور عبرت حاصل نہیں کرتا۔ قال القرطبی : ای فبای نعم ربک تشک والمخاطبة للانسان المکذب۔
فائدہ : قوم عاد کی صفت بیان کرتے ہوئے ﴿الاولی﴾ فرمایا۔ صاحب روح المعانی نے ﴿الاولی﴾ کا ترجمہ القدماء کیا ہے اور یوں فرمایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد چونکہ قوم عاد ہلاک ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ٖ 29:۔ ” فبای آلاء۔ الایۃ “ تخویف دنیوی۔ یہ خطاب ہر سرکش اور مکذب سے ہے تو اللہ کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتا اور غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ ” ھذا نذیر۔ الایۃ “ اشارہ قرآن یا محمد ﷺ کی طرف ہے۔ حضرت محمد ﷺ گذشتہ ڈرانے والے پیغمبروں کے قافلے کے آخری رکن ہیں۔ جس طرح گذشتہ سرکش قوموں نے اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور تباہ و برباد ہوئیں اے مشرکین مکہ ! سن لو ! ہمارے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلانے والو ! اگر تم ضد وعناد سے باز نہ آئے تو تمہارا حشر بھی انہی قوموں کا سا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى 55
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة
تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکَ تَتَمَارٰی۔ (النجم : 55)
(پس اے مخاطب اپنے رب کی کن کن نشانیوں کے بارے میں تو شک کرے گا۔ )
قریش کو ملامت
جن قوموں نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا، انھیں اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہلاک اور تباہ کیا اس کا ذکر کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ہر مخاطب کو فرداً فرداً متوجہ کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں پر شک کرو گے۔ اور پیغمبر جن عقائد، جن نظریات اور جن تصورات کا دعوت دیتا ہے ان میں سے تم کس کس کے بارے میں جھگڑا کرو گے۔ کیونکہ محولہ بالا قوموں کی تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جن باتوں کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلشِّعْریٰ “ اور علم نجوم پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ستاروں کی گردش کی وجہ سے کائنات میں تبدیلیاں ناگزیر ہوجاتی ہے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو ایک محدود حد تک موسم اور فضا میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ سورج، چاند اور ستارے ازخود اپنے وجود میں یہ طاقت رکھتے ہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہر چیز میں جو قوت اور تاثیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اگر ” اللہ “ اس قوت کو ضبط کرلے تو اس چیز میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکے۔ جس کی…
Read the full tafseer →کسی نعمت میں شک ہے ؟
آیت 55: فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى (پس تو اپنے رب کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے) اے مخاطب تتماری (شک کرنا) کیا ان نعمتوں کے ساتھ جن سے تمہیں انعامات کا والی بنایا۔ نمبر 2 یا وہ نعمتیں جو ناراضگی کی طرف سے تیرے لیے کفایت کرتی ہیں۔ نمبر 3 کونسی نعمتوں کے سبب سے جو تیرے رب کی ربوبیت و وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں ان میں سے کس میں تو شک کرتا ہے۔
Read the full tafseer →54 ۔” فغشاھا “ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہنا دیا۔ ” ماغشی “ یعنی پتھر تہہ بہ تہہ نشان زدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–55
42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…
Read the full tafseer →(فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى) پھر اے انسان تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بالکل ظاہر ہیں جو کسی بھی لحاظ سے شک کے قابل نہیں پس بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی وہ صرف اللہ ہی کی طرف سے عطا کردہ ہے اس کے سوا کوئی مصائب کو دور نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →[ 67] منکر اور غافل انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تو [ اے منکر انسان ] اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور کرشموں کے بارے میں شک کرے گا ؟ یعنی جن جن نعمتوں کا ابھی ذکر ہوا اور ان کے علاوہ دوسری بیشمار نعمتوں میں سے تو کس کس کے بارے میں شک کرے گا کہ یہ سب جلیل القدر اور عظیم الشان نعمتیں اس وحدہٗ لاشریک ہی کی طرف سے ہیں، اور جن قوموں کی ہلاکت کا ذکر ہوا ان کی ہلاکت میں بھی درحقیقت اس کی بہت سی نعمتیں مضمر ہیں کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملی، اور دھرتی ان کے ظلم وعدوان اور ان کے وجود سے پاک ہوگئی، نیز ان کی اس داستان کو تمہارے لئے سامان عبر و بصیرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →ف 7 سیاق کلام کی بنا پر یہاں نعمت سے مراد ظالم و سرکش قوم کی تباہی ہے۔ معلوم ہوا کہ کہ کسی ظالم و سرکش قوم کو تباہ کرنا بھی انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔
Read the full tafseer →(53:55) فبای میںعاطفہ سببیہ ہے۔ ای استفہامیہ انکاریہ ہے۔ کونسی، کس کس۔
الاء جمع ہے الی کی۔ جس کے معنی نعمت کے ہیں۔ الا نعمتیں۔ احسانات۔
تتماری۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تتماری (تفعل) مصدر سے۔ تو شک کرتا ہے یا کریگا۔ تو جھٹلاتا ہے یا جھٹلائے گا۔ تو جگڑا کرتا ہے یا کرے گا۔ تتماری صیغہ واحد مذکر حاضر میں خطاب کس کو ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام عوام الناس ہیں۔
(2) یہ خطاب ہر شخص سے ہے۔ اے سننے والے تو اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائے گا۔
(3) بعض نے کہا ہے کہ آیت میں مخاطب ولید بن مغیرہ ہے (ملاحظہ ہو آیات 33 تا 37 متذکرہ الصدر)
مطلب یہ کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →(ف 1) اے انسان تو خدا کی کس کس نعمت میں جھگڑا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے
جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
ف 1: اللہ تعالیٰ کا قانون میکافات یہ ہے ۔ کہ وہ پہلے تو اتمام حجت کے لئے انبیاء بھیجتا ہے ۔ خوارق اور معجزات دکھاتا ہے ۔ کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور پھر جب سرکش اور نادان انسان ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اور گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتا ہے ۔ تو اس کا غصہ بھڑکتا ہے ۔ اور غیرت میں تحریک ہوتی ہے ۔ اس وقت وہ ان لوگوں کو زندگی کے تنمام حقوق سے محروم کردیتا ہے ۔ چناچہ تعلیم قوم عاد نے جب اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ۔ تو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ قوم ثمود میں سے کوئی نفس باقی نہ رہا ۔ نوح کی قوم پرچادر آب اڑھا دی گئی ۔ سدومیوں کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح بتادیا گیا ۔ کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →(55) پس اے مخاطب تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرتا رہے گا۔ یعنی اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک اور انکار کرتا رہے گا اور ایمان نہیں لائے گا اور ایمان لاکر منتفع نہیں ہوگا یہ شاید آخر میں ولید اور اس کے رفقاء کو فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
ف 4۔ یعنی ایسا ضرور ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →اے انسنا تو ہی بتا کہ تو اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائے گا
55 ؎ (تعماری ) مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو جھگڑا کرے گا۔ تو جھٹلائے گا ۔ تو شک کرے گا۔ تمہاری سے جس کے معنی شک کرنے اور جھگڑنے کے ہیں۔ اس آیت میں ہر اس شخص کو جس نے ان گزشتہ اقوام کے تذکار پڑھے یا سنے ہیں ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ اقوام جن کا ذکر تو نے پڑھایا یا سنا ہے یعنی عاد ‘ ثمود ‘ قوم نوح اور قوم لوط وغیرہ جن کو عذاب الٰہی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ محض اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں شک کیا اور انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) سے وہ جھگڑتے رہے ان کو جو کچھ…
Read the full tafseer →فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ (Then, which of your Lord's bounties would you dispute?....53:55). Tamara means to dispute and oppose. According to Ibn ` Abbas ؓ ، the verse is addressed to every human being. After seeing so many and so clear and invincible arguments in the preceding verses and the Signs in the scriptures of Musa and Ibrahim (علیہما السلام) that support and substantiate the claims of the Holy Prophet Muhammad ﷺ about the truth of his revelation, the verse says to the obstinate disbelievers: How long will you continue to deny the truth and wander in the wilderness of…
Read the full tafseer →47 According to some commentators this sentence also is a part of the resume of the Books of the Prophets Abraham and Moses, and according to others it ended with Fa ghashsha-ha ma ghashsha, and with this begins a new theme. According to the context, however, the first view seems to be preferable, for the following words "This is a warning of the warnings already given," point out that the whole preceding passage is "of the warnings already given", which had been sent down in the Books of the Prophets Abraham and Moses.
48 The word tatamara, as used in the Text, means both to doubt and to…
Read the full tafseer →