فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰی ۟ۚفَغَشّٰٮهَا مَا غَشّٰىۚ
پھر ان پر چھایا جو چھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And covered them by that which He covered.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰی ۟ۚفَغَشّٰٮهَا مَا غَشّٰىۚ
پھر ان پر چھایا جو چھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And covered them by that which He covered.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
پھر چھا دیا اُن پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ) کیا چھا دیا
پھر ان پر چھایا جو چھایا
پھر اس پر چھا دیا جو چھایا
پھر جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔
تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا
پس اُن کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا (یعنی پھر اُن پر پتھروں کی بارش کر دی گئی)،
پس ڈھانپ دیا اسے جس سے ڈھانپا۔
پھر اس پر (تباہی) چھا گئی جس نے اس بستی کو پوری طرح ڈھانپ لیا۔
پس ان کو ڈھانک لیا جس چیز نے ڈھانک لیا
(ان کے کرتوتوں کی پاداش میں) پھر ان پر چھا دیا جو کچھ کہ اسے چھانا تھا
پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے کہ گھیر لیا۔
اور پھر اس کو ڈھانپ لیاجس چیز نے ڈھانپ لیا۔
پھر ان پر چھایا جو چھایا۔
and caused them to be covered with that which He covered them with.
so enveloped they were by that which enveloped.
so enveloped they were by that which enveloped.
So, there covered them that which did cover.
So that there covered them that which did cover.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And covered them by that which He covered.
and covered them with torment.
So there covered them that which covered.
Then covered them with that which covered them.
So that (ruins unknown) have covered them up.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 49–55
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 46 اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور " چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا " سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى، یعنی ڈھانپ لیا ان بستیوں کو جس چیز نے ڈھانپ لیا، مراد وہ پتھراؤ ہے جو بستیاں الٹنے کے بعد ان پر کیا گیا، یہاں تک صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے حوالہ سے جو تعلیمات بیان کرنی تھیں وہ ختم ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(فبای الا ربک تتماوی) (55) (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 291) (قریش کو میں حیث الجماعت ملامت)۔ یہ خطاب قریش سے ہے۔ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن مخاطب پوری جماعت ہے۔ جب جماعت کو واحد کے صیغہ یا ضمیر سے خطاب کرتے ہوئے تو مقصود جماعت کے ایک ایک فرد کو متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہی صورت ہے منکرین کو فرداً فرداً خطاب کر کے ملامت فرمائی ہے کہ جزاء و سزا کے یہ سارے دلائل جو عقل سے، نقل سے، موسیٰ ؑ و ابراہیم ؑ کے صحیفوں اور قوموں کی تاریخ سے بیان ہوئے ہیں، تمہارے سامنے ہیں تو بتائو اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے اور ان کے باب میں جھگڑتے رہو گے۔ (الاء، الی) کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہمارے مفسرین و مترجمین نے…
Read the full tafseer →54۔ 1 یعنی اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
24: اس سے مراد اس قوم کی بستیاں ہیں جن کی طرف حضرت لوط ؑ کو بھیجا گیا تھا، اور ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا، تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ٔہود (77 تا 82)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “ یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔ عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
6 یعنی پتھروں کا مینہ (یہ قوم لوط کی بستیوں کا ذکر ہے)
Read the full tafseer →آیت 54{ فَغَشّٰٹہَا مَا غَشّٰی۔ } ”اور پھر اس کو ڈھانپ لیاجس چیز نے ڈھانپ لیا۔“ پہلے شدید زلزلے نے ان آبادیوں کو تلپٹ کیا اور اس کے بعد ان پر کنکروں کی بارش ہوئی۔ یہاں اس آیت میں اس بارش کی طرف اشارہ ہے یعنی کنکروں کی بارش نے اس علاقے کو ڈھانپ لیا۔
Read the full tafseer →36 سیدنا لوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ سدوم اور اس کے ارد گرد کی بستیاں جنہیں زمین میں دھنسا دیا گیا اور ان کے اوپر سیاہ رنگ کا متعفن پانی چھا گیا جسے بحیرہ مردار Sea) (Dead یا بحر میت یا بحر لوطی کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
39۔ یعنی عذاب الہی نے۔ (آیت) ” والمؤتفکۃ “۔ الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کے شہر ہیں۔ مغربی شام میں بحرمردہ کے نواح میں۔ (آیت) ” ماغشی “۔ یہ ابہام، اسلوب عرب کے مطابق، عذاب الہی کی عظمت وہولنا کی کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” وقوم ... اطغی “۔ نوح وقوم نوح دونوں پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
Read the full tafseer →فغشھا ما غشی یعنی ڈھانپ لیا ان کو جس چیز نے ڈھانپ لیا مراد وہ پتھرائو ہے جو بستیاں الٹنے کے بعد ان پر کیا گیا، یہاں تک صحف موسیٰ اور صحف ابراہیم کے حوالہ سے جو تعلیمات بیان کرنی تھیں وہ ختم ہوگئیں۔
Read the full tafseer →فغشھا ما غشی . ‘ پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے گھیر لیا۔ “ مَا غَشّٰی : یعنی اوپر سے نامزد کنکر برسائے۔ لفظ ما کا ابہام عظمت عذاب اور تباہی کی ہولناکی پر دلالت کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(53۔ 54) اور اسی نے لوط کی قوم کی بستیوں سدوم، عموراء، ضوائم کو ہلاک کردیا تھا یعنی آسمان سے نیچے پھینک مارا تھا پھر ان بستیوں کو پتھروں نے گھیر لیا۔
Read the full tafseer →فَغَشّٰہَا مَا غَشّٰی ”غشی یغشی“ (ع) کسی چیز کا دوسری کو ڈھانپ لینا۔ ”غنشی یغنشی“ (تفعیل) کسی چیز پر ڈھانپنے والی چیز ڈال دینا ، کسی چیز کو دوسری سے ڈھانپ دینا۔ یہ اندازِ بیاں اس عذاب کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ طہٰ :(78)
Read the full tafseer →فغشھا ما غشی۔ انہیں پتھروں سے چھپا دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جعلنا عالیھا سافلھا و امطرنا علیھا حجارۃ من سجیل (ہود : 82) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر تمام امتوں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی انہیں عذاب سے ڈھانپ لیا۔ یہاں عذاب کو مبہم ذکر کیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو ایسے عذاب سے ہلاک کیا گیا جو اس عذاب سے مختلف تھا جس عذاب سے دوسری قوم کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ایکق ول یہ کیا گیا : یہ انداز امر کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
14:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ نے وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' (اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس اوندھی بستی کو آسمان کی طرف اٹھاکر نیچے پھینک دیا۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم کہ ان کے ساتھ زمین کو الٹ دیا گیا بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا پس ان کے ساتھ قیامت کے دن تک دھنستی رہے گی۔ 16:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے…
Read the full tafseer →فَغَشّٰـىهَا [ پھر چھایا اس پر ] مَا غَشّٰى [ وہ جو چھایا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
اللہ تعالیٰ ہی نے عاد اولیٰ اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو الٹ دیا ﴿وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ0050 ﴾ (اور بیشک اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک فرمایا) ﴿ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ0051 ﴾ (اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو ان کو باقی نہ چھوڑا) ۔ ان دونوں آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر فرمایا ہے قوم عاد کے لوگ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے اور قوم ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے ان دونوں قوموں کی قوت اور طاقت کچھ بھی کام نہ آئی کفر کی سزا میں ہلاک اور برباد کردیئے گئے۔ ﴿ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ﴾ اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
28:۔ ” والمؤتفکۃ “ اس سے قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں اور یہ صحف موسیٰ کا مضمون ہے۔ ” المؤتفکۃ “ جسے الٹا کر گرادیا گیا ہو۔ قوم لوط کی بستیوں کو نیچے سے اوپر اٹھا کر اور الٹا کر زمین پر پھینکدیا۔ یعنی مدائن قوم لوط (علیہ السلام) ائتفکت بھم ای انقلبت وصار عالیہا سافلہا (قرطبی ج 17 ص 120) ۔ ” فغشہا۔ الایۃ “ ان بستیوں کو الٹا کر ان پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ اس قدر پتھر برسائے گئے بس کیا پوچھنا ان کی تمام بستیاں ان کے نچیے دب گئیں۔ کیسا عبرتناک انجام تھا ان قوموں کا !۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →فَغَشّٰـىہَا مَا غَشّٰى 54 ۚ غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
وَالْمُؤْتَفِکَۃَ اَھْوٰی۔ فَغَشّٰھَا مَا غَشّٰی۔ (النجم : 53، 54) (اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو بھی اٹھا پھینکا۔ پس ان کو ڈھانک دیا جس چیز نے ڈھانک دیا۔ ) قومِ لوط کے انجام کی طرف اشارہ ان آیتوں میں قوم لوط پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر ہے۔ اوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد، قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت حق نے اس دھرتی کو الٹ ڈالا، اور تمام بستیاں اوندھے منہ گرگئیں۔ لیکن بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ موتفکات سے مراد وہ ہَوائیں ہیں جو زمین کو بالکل تل پٹ کردیتی ہیں۔ قوم لوط پر بھی اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو تند ہو کر بالآخر حاصب یعنی کنکر پتھر برسانی والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فہم القرآن ربط کلام : ” اَلشِّعْریٰ “ اور علم نجوم پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ستاروں کی گردش کی وجہ سے کائنات میں تبدیلیاں ناگزیر ہوجاتی ہے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو ایک محدود حد تک موسم اور فضا میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ سورج، چاند اور ستارے ازخود اپنے وجود میں یہ طاقت رکھتے ہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہر چیز میں جو قوت اور تاثیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اگر ” اللہ “ اس قوت کو ضبط کرلے تو اس چیز میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکے۔ جس کی…
Read the full tafseer →آیت 54: فَغَشّٰـىهَا (پھر ان بستیوں کو گھیر لیا) مَا غَشّٰى (جس چیز نے گھیر لیا) ما کا ابہام اس عذاب کی خوفناکی اور بڑائی کو ظاہر کر رہا ہے۔ جو ان پر برسایا گیا۔ ان پر تہہ بہ تہہ پتھر برسائے۔
Read the full tafseer →53 ۔” والمئوتفکۃ “ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو۔ ” اھویٰ “ گرادیا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد گرادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–55
42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…
Read the full tafseer →بنا بریں فرمایا (فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى) ۔ ان پر انتہائی دردناک اور بدترین عذاب چھا گیا۔ یعنی عذاب ایک بڑی چیز تھی جس کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →[ 66] قوم لوط (علیہ السلام) کے عذاب کی انتہائی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان پر چھا دیا جو کچھ کہ اسے چھانا تھا۔ یعنی پتھروں کی بارش وغیرہ کا وہ عذاب جو ان بستیوں پر ان کے اوندھا کر دئیے جانے کے بعد برسایا گیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { وامطرنا علیہم مطراج فسآء مطر المنذرین } [ سورة النمل : 58 پ 19] یعنی ہم نے ان پر ایک بڑی ہولناک بارش برسائی۔ سو بڑی ہی بری بارش تھی ان لوگوں کی جن کو خبردار کردیا گیا تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس ابہام میں اس کی تہویل اور ہولناکی کا اظہار ہے کہ وہ عذاب اس قدر ہولناک اور اتنا سخت تھا کہ الفاظ و کلمات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 6 یعنی پتھروں کی بارش جیسا کہ دوسری آیات میں مذکور ہے۔ ممکن ہے بحر مردار کا پانی بھی مراد ہو جس میں یہ بستیاں ڈوب گئیں اور وہ ان پر چھا گیا۔ واضح رہے کہ ” غشی “ کے لفظی معنی ” چھا جانا “ ہیں۔
Read the full tafseer →(53:54) فغشھا ما غشی : ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ۔۔ المؤتفکۃ ہے۔ پس چھا گیا ان پر جو چھا گیا۔ لفظ ما کا ابہام عظمت عذاب اور تباہی کی ہولناکی پر دلدلت کر رہا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 53:16 متذکرہ الصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
(ف 5) چند پچھلی قوموں کے عذاب میں پکڑے جانے اور ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی اور اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز نہ آئیں تو ان ہی قوموں کا سا انجام ان کا ہوگا، ان قوموں کے قصے تفصیل سے اوپر گزچ کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–62
[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
ف 1: اللہ تعالیٰ کا قانون میکافات یہ ہے ۔ کہ وہ پہلے تو اتمام حجت کے لئے انبیاء بھیجتا ہے ۔ خوارق اور معجزات دکھاتا ہے ۔ کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور پھر جب سرکش اور نادان انسان ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اور گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتا ہے ۔ تو اس کا غصہ بھڑکتا ہے ۔ اور غیرت میں تحریک ہوتی ہے ۔ اس وقت وہ ان لوگوں کو زندگی کے تنمام حقوق سے محروم کردیتا ہے ۔ چناچہ تعلیم قوم عاد نے جب اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ۔ تو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ قوم ثمود میں سے کوئی نفس باقی نہ رہا ۔ نوح کی قوم پرچادر آب اڑھا دی گئی ۔ سدومیوں کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح بتادیا گیا ۔ کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →(54) پھر ان بستیوں کو ڈھانک لیا جس چیز نے کہ ڈھانک لیا - یہ سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا کہ عرب کے کفار کو عبرت ہو۔ کہتے ہیں عاد اول کی طرف سورة اعراف میں ہم اشارہ کرچکے ہیں یہ وہی ہود کی قوم ہے اور جن کو عاد ثانیہ کہتے ہیں وہ مکہ میں آباد تھے اور وہ بعد میں مکہ سے نکل کر کہیں اور جاب سے تھے اور وہ بھی ہلاک کئے گئے یا یہ کہ عاد اولیٰ کو عاد اولیٰ فرمانا ایک حقیقت واقعیہ ہے جو ان کی قدامت کی وجہ سے ہے اس لئے عاد اخریٰ کی حاجت نہیں موتکفات میں الٹی ہوئی بستیاں ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) کی۔ ڈھانک لیا یعنی پتھر اس طرح برسے جس طرح مینہ برستا ہے اور جس طرح بارش کسی بستی کو ڈھانک لیتی ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
ف 4۔ یعنی ایسا ضرور ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →پس ان پر چھا گیا جو کچھ چھا گیا یعنی عذاب الٰہی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا 54 ؎ جن قوموں اور بستیوں کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان پر چھا گیا جو کچھ چھا گیا یعنی جس طرح کا عذاب جس قوم کے لئے مقرر تھا اس قوم کو اسی طرح کے عذاب نے آ کر گھیر لیا اور ان کے نام و نشان تک اس عذاب نے مٹا کر رکھ دیا۔ اب سوائے اس کے کہ ان کے نام باقی رہ گئے ہیں وہ بھی اس لئے کہ ان کی داستانیں پڑھ ‘ سن کر اگر کوئی اپنی اصلاح چاہتا ہے تو کرلے کیونکہ جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ تو اپنے حساب کو گویا پہنچ گئے اور ان کے ساتھ تو ہوگا جو کچھ ہوگا بعد میں آنے والوں کے پاس وقت ہے اگر وہ اپنی…
Read the full tafseer →فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ (so covered they were by that which covered.... 53:54). This refers to the fact that the cities were first overturned, and after that stones of hard clay were sent down on them, which covered them. Here ends the teachings of the scriptures of Musa and Ibrahim (علیہما السلام) .
Read the full tafseer →46 'The subdued settlements": the settlements of the people of Lot, and "covered them that which covered them" probably imply the waters of the Dead Sea, which spread over their settlements after they had sunk underground, and cover the region even till this day.
Read the full tafseer →