An-Najm 53:59

An-Najm · from ayah 59

53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۟ۙاَفَمِنۡ هٰذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ‏

اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then at this statement do you wonder?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:59

اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو کیا تم اسی بات پر حیرت کرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا تم اس کلام پر متعجب ہوتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا پھر بھی تم لوگ تعجب کرتے ہو اس کلام (حکمت نظام) پر ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو کیا تم لوگ اس کلام سے تعجب کرتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے منکرین خدا کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Will you, then, wonder at this?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you then wonder at this discourse,

— Muhammad Taqi Usmani

Do you then wonder at this discourse,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you then wonder at this reci- tation

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then at this statement do you wonder?

— Saheeh International

Does this statement seem strange to them

— Muhammad Sarwar

Do you then wonder at this announcement?

— Muhammad Habib Shakir

At this discourse then marvel ye?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–62

" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 52 اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا کرتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–60

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ ، ہذا الحدیث سے مراد قرآن کریم ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کریم جیسا کلام الٰہی جو خود ایک معجزہ ہے تمہارے سامنے آ چکا کیا اس پر بھی تم تعجب کرتے ہو اور بطور استہزاء کے ہنستے ہو اور اپنی معصیت یا عمل کوتاہی پر روتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 59–60

(افمن ھذا الحدیث تعجیون وتضحکون ولا تبکون) (59، 60) ان کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ جو کتاب تمہیں اتنے بڑے عذاب کے قرب کی خبر دے رہی ہے تم اس کے انداز پر تعجب کر رہے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کدھر سے اور کیوں آجائے گا ! آگاہ ہو جائو کہ یہ چیز ہنسنے اور مذاق اڑانے کی نہیں بلکہ رونے اور سر پیٹنے کی ہے لیکن تم رونے کی جگہ اس پر ہنس رہے ہو !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 59–61

59۔ 1 بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–61

25: یعنی اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ان عذابوں سے بچا کر جن نعمتوں میں رکھا ہوا ہے، پھر تیری ہدایت کے لئے یہ قرآن کریم جن مختلف طریقوں سے تجھے متنبہ کررہا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جس محبت سے تجھے سمجھاکر تجھے عذاب سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان عظیم نعمتوں میں سے کس کس نعمت میں شک کرے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 59–61

افمن ................ سمدون (16) (35 : 95 تا 16) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 59–61

10 یعنی قیامت اور اس کے قرب کا ذکر سن کر چاہیے تھا خوف خدا سے رونے لگتے اور گھبرا کر اپنے بچاؤ کی تیاری کرتے۔ مگر تم اس کے برخلاف تعجب کرتے اور ہنستے ہو۔ اور غافل و بےفکر ہو کر کھلاڑیاں کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59{ اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ۔ } ”تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟“ ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے ‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 59–61

42 یعنی تم تعجب تو ایسے کرتے ہو جیسے دوبارہ مر کر جی اٹھنے کی بات آج پہلی بار سنی ہے۔ حالانکہ تمام انبیاء یہی بات کہتے آئے ہیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاتے اور اللہ کے خوف سے رونے لگتے۔ مگر تم اس کے برعکس ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہو اور انجام سے غافل رہ کر کھیل کود میں وقت گزار رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 59–60

42۔ (خوف مؤاخذہ آخرت سے) (آیت) ” تعجبون “ ، یعنی بےیقینی کے ساتھ اور اسے مستبعد سمجھ کر اس پر اظہار حیرت کررہے ہو۔ (آیت) ” وتضحکون “۔ اور انکار و استہزاء کیساتھ اس کی ہنسی اڑا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–60

افمن ھذا الحدیث تعجبون و تضحکون ولاتبکون ھذا الحدیث سے مراد قرآن کریم ہے، معنی معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کریم جیسا کہ کلام الٰہی جو خود ایک معجزہ ہے تمہارے سامنے آچکا ہے، کیا اس پر بھی تم تعجب کرتے ہو اور بطور استہزاء کے ہنستے ہو اور اپنی معصیت یا عمل میں کوتاہی پر روتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن ھذا الحدیث تعجبون سو کیا تم اس کلام (خداوندی سے تعجب کرتے پو ھٰذَا الْحَدِیْثِ : سے مراد قرآن مجید ہے۔ افمن میں استفہام انکاری ہے یا سوال بطور زجر ہے۔ تضلحون یعنی ہنسی اڑاتے ہو۔ وَلاَ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 59–62

(59۔ 62) سو کیا اے مکہ والو تم اس قرآن کریم کا جو تم کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں مذاق کرتے ہو یا یہ کہ جھٹلاتے ہو اور بطور مذاق ہنستے ہو۔ اور اس میں خوف و عذاب کے جو مضامین ہیں ان سے روتے نہیں ہو اور تم اس سے تکبر کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ سو اللہ کے سامنے توحید کے قائل ہو کر اور توبہ کر کے جھک جاؤ اور اس کی بغیر کسی شریک کے عبادت کرو۔ شان نزول : وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (الخ) اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار رسول اکرم کے پاس سے مذاق اڑاتے اور تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے حالانکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ :”ھذا الحدیث“ سے مراد رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کے عبرتناک انجام کی اور قیامت قریب ہونے کی بات ہے جو ابھی بیان ہوئی ہے۔ فرمایا بھلا یہ کوئی انوکھی اور ناقابل یقین بات ہے جس پر تم تعجب کر رہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 59–60

افمن ھذا الحدیث اس سے مراد قرآن ہے۔ یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے۔ تعجیون۔ اس کو جھٹلاتے ہوئے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے، استہزاء کرتے ہوئے ہنستے ہوئے اور وعید سے ڈرتے ہوئے روتے نہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ہسنتے ہوئے نہیں دیکھا گیا بلکہ صرف آپ تبسم کرتے۔ (1) حضرت ابوہریرہ نے کہا، جب افمن ھذا الحدیث تعجبون۔ آیت نازل ہوئی تو اہل صفہ نے کہا، انا للہ وانا الیہ رجعون پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوان کے رخساروں پر بہہ پڑے جب نبی کریم ﷺ نے ان کے رونے کو سنا تو آپ کے ساتھ روتے اور ہم آپ کے رونے کی وج سیر وئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لایلج النار من…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–60

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث '' (کیا تم اس کلام خداوندی سے تعجب کرتے ہو یعنی اس قرآن سے) رسول اللہ ﷺ کی فکر آخرت : 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد فی الزھد وھناد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے صالح ابوالخیل (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث تعجبون (59) وتضحکون ولا تبکون '' (سو کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ اس کے بعد نہیں ہنسے مگر صرف تبسم فرماتے تھے اور عبد بن حمید (رح) نے الفاظ یہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ [ تو کیا اس بات سے ] تَعْجَبُوْنَ [ تم لوگ تعجب کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 59–61

﴿اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ0059﴾ (کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو) ﴿ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ0060 ﴾ (اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) ﴿ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ 0061﴾ (اور تم تکبر کرتے ہو) ۔ یہ قرآن اور اس کا ڈرانا اور وقوع قیامت کی خبر دینا کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو اور ساتھ ہی ہنستے بھی ہو اور روتے نہیں تمہیں تو کفر چھوڑ کر ایمان لانا لازم ہے سابقہ زندگی پر روؤ اور کفر سے توبہ کرو، ایمان اور قرآن کے نام سے ہنستے ہو یہ چیز تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب ہے تکبر تمہیں لے ڈوبے گا۔ تکبر کی وجہ سے تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو اور ایمان لانے میں اپنی بےآبروئی محسوس کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–61

31:۔ یہ منکرین کیلئے زجر ہے۔ اے قریش مکہ ! تم اس قرآن پر متحیر اور کج فہمی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہو، لیکن اس میں آیات و وعد و وعید سن کر اپنی سرکشی پر اور بدعنوانیوں پر تمہیں کبھی رونا نہیں آیا اور تم حق سے منہ پھیرے سراسر غفلت میں پڑے ہو (افمن ھذا الحدیث) ای القران (تعجبون) انکارا (وتضحکون) استہزاء (ولا تبکون) تحزنا علی ما فرطتم (بیضاوی) ۔ ولا تبکون لسماع وعدہ ووعیدہ (جلالین) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ۝ 59 ۙ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–62

ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 59–60

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۔ وَتَضْحَکُوْنَ وَلاَ تَبْکُوْنَ ۔ (النجم : 59، 60) (تو کیا تم اس کلام پر اظہارِتعجب کرتے ہو۔ اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ ) قریش کے روئیے پر اظہارِ تعجب پروردگار اظہارِ تعجب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کلام اور جس دعوت کے قبول نہ کرنے پر پہلی امتیں عذاب کا شکار ہوئیں جب اسی عذاب سے نبی کریم ﷺ ڈراتے ہیں تو عجیب بات ہے کہ تم اس عذاب کا منہ چڑاتے اور مذاق کرتے ہو۔ اور خوش فعلیوں کا موضوع بنا لیتے ہو۔ حالانکہ تمہاری یہ روش ہنسنے کی نہیں بلکہ رونے کا باعث ہے۔ کیونکہ جس شخص کو اندازہ ہو کہ میں عنقریب ایک بڑے خطرے سے دوچار ہونے والا ہوں تو وہ اس خطرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–62

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 59: اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ (کیا تم اس کلام خداوندی سے تعجب کرتے ہو) الحدیث سے قرآن مراد ہے، تم انکار کرتے ہو تعجب کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58 ۔” لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ “ یعنی ظاہر کرنے والا قائم کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” لا یجلیھا لوقتھا الاھو “ کی وجہ سے اوھاء اس میں مبالغہ کے لئے ہے یا اس تقدیر پر نفس کاشفۃ اور یہ بھی جائز ہے کہ کاشفۃ مصدر ہو خیالۃ اور عافیۃ کی طرح اور معنی یہ ہے کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا نہیں ہے یعنی نہ اس کو کھول سکتا ہے اور نہ ظاہر کرسکتا ہے اس کا غیر اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اس کو رد کرنے والا کوئی نہیں جب اس کی ہولناکیاں اور سختیاں مخلوق کو ڈھانپ لیں گی تو ان سے اس کو کوئی دور نہ کرسکے گا۔ یہ عطاء اور قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ کے قول کا معنی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–62

56۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تبارک وتعالی نے حضر محمد کریم کی نبوت کا انکار کرنے والوں اور قرآن کو جھٹلانے والوں کو وعید سنائی چناچہ فرمایا (اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ ) یعنی کیا تم اس کلام پر جو بہترین اور افضل و اشرف کلام ہے تعجب کرتے ہو اور اسے امور عادیہ اور حقائق معروفہ کے خلاف قرار دیتے ہو ؟ یہ ان کی جہالت، گمراہی اور عناد ہے ورنہ یہ تو ایسا کلام ہے کہ جب وہ بیان کیا جاتا ہے تو سراسر صدق ہے جب وہ بات کہتا ہے تو وہ حق کو باطل سے جدا کرنے والا قول ہے۔ بےہودہ بات نہیں ہے یہ قرآن عظیم ہے جسے اگر پہاڑ پر اتارا جاتا تو آپ دیکھتے کہ وہ خوف اور ڈر سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ جو اصلاھ کی طلب رکھنے والوں کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–62

مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 71] منکرین کے حال پر اظہار افسوس و تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی تم لوگ اس کلام حکمت نظام کے بارے میں تعجب کرتے ہو ؟۔ اے منکرو اور مشرکو، کہ عقل و فطرت کے عین مطابق اور سراسر تمہاری فائدے کی خبر دینے والے اس عظیم الشان وبے مثال کلام کے آگے جھکنے اور اس کو اپنانے کی بجائے اس کا انکار کرنے سے بڑھ کر حماقت اور محرومی اور کیا ہوسکتی ہے، والعیاذ باللّٰہ اور تم لوگ اس انداز پر تعجب کرتے ہو کہ تم پر عذاب کدھر سے اور کیونکر آجائے گا، وغیرہ وغیرہ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی بھی صورت خارج نہیں ہوسکتی، وہ جیسا چاہے اور جو چاہے کرے، وہ جو تم لوگوں کو تمہارے کفر و انکار اور عنا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–61

ف 10 سمد سے مراد ایسی غفلت ہے جس کے ساتھ رنگ رلیاں بھی ہوں۔ صالح ابی اقلیل کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت اتری رسول اللہ ﷺ کو کسی نے ہنستے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے یہ رخصت ہوگئے۔ (شو کانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:59) افمن : استفہام انکاری ہے۔ ا استفہامیہحرف عطف، اس کا عطف محذوف پر ہے۔ من حرف جار۔ یا افمن سوال بطور زجر ہے۔ ھذا الحدیث : ای القران ھذا اسم اشارہ الحدیث (بات ، کلام) مشار الیہ۔ اشارہ اور مشار الیہ مل کر مجرور۔ من حرف جر۔ من ھذا الحدیث یہ قرآن اور اس کی تعلیمات۔ تعجبون : مضارع جمع مذکر حاضر، عجب (باب سمع) مصدر۔ تم تعجب کرتے ہو ۔ تم اچنبھا کرتے ہو۔ افمن ھذا الحدیث تعجبون : کیا تم اس قرآن وحی الٰہی ، کلام الٰہی سے اور اس میں مشمولہ پندو نصائح سے انکار کرتے ہوئے تعجب کرتے ہو ۔ (تعجبون انکارا۔ دوح المعانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–62

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 54–62

[22] الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں اور چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–62

ف 1: فرمایا : قیامت بہت قریب ہے ۔ کوئی غیر اللہ قوت اسکو اپنے وقت سے نہیں ہٹاسکتی ۔ تمہیں چاہیے ۔ کہ اس کیلئے تیاری کرو ۔ اور بجائے اظہار تعجب اور مذاق کے اللہ کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت پیدا کرو ۔ دل کے غبار کو آنسوؤں سے دھوڈالو ۔ غفلت وکبر سے باز آؤ۔ اور اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکو ۔ عبادت کرو ۔ اور مالک کے ساتھ تعلقات نیاز مندی کو استوار کرو ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہے ؟ 59 ؎ کسی چیز پر متعجب ہونے کی ایک سے زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں لیکن وہ تعجب جو بطور انکار کیا جاتا ہے اس جگہ وہی مراد ہے کہ قیامت اور آخرت کا نام سنتے ہی لوگ تعجب کرنا شروع کردیتے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہڈیاں جو کھائی گئی ہوں اور وہ ذرات جو اڑا دیئے گئے ہیں اور جسم جس کو زمین کھا چکی ہو اور وہ دوبارہ زندہ ہوجائے۔ نہیں کوئی نہیں جو دوبارہ زندہ کرسکے اور کسی کو دوبارہ زندگی نہیں ملے گی اور کوئی قیامت و یا مت نہیں ہے۔ (بعث) کے معنی کسی چیز کو اٹھا کھڑا کرنے اور سامنے کرنے کے ہیں۔ (بعث) کی دو قسمیں ہیں ایک بشریٰ اور دوسری الٰہی۔ اگر اس کی نسبت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

أَفَمِنْ هَـٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ (Do you then wonder at this discourse, and laugh [ at it ], and not weep....53:59-60). The phrase this discourse' refers to the Qur'an. That is, the Qur'an, the Divine Discourse, which is itself a miracle, has already come to them. They are surprised at it and laugh in jest and mock at it, and do not weep at their sins and shortcomings.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 The word hadh-al-Hadith as used in the original, signifies the whole teaching that was . being presented in the Qur'an through the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and "marvel" implies the marvel that man expresses on hearing a novel and incredible thing. The verse means this: "That to which Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is inviting you is the same that you have already heard. Now, is it this very thing at which you marvel and feel alarmed, and express wonder as if something very strange and novel was being presented before you?"

Read the full tafseer →