An-Najm 53:49

An-Najm · from ayah 49

53:49

وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی ۟ۙوَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰىۙ

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that it is He who is the Lord of Sirius

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:49

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ وہی ہے جو شعری ستارے کا پروردگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

او ریہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ وہی شِعرٰی (ستارے) کا رب ہے (جس کی دورِ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی شعری کا بھی رب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ وہی ہے رب شعریٰ ستارے کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ وہی پروردگار ہے شعری کا بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا بھی ربّ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that He is the Lord of Sirius,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that He is the One who is the Lord of Sirius (the star worshipped by pagans),

— Muhammad Taqi Usmani

and that He is the One who is the Lord of Sirius (the star worshipped by pagans),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that He it is Who is the Lord of Sirius;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that it is He who is the Lord of Sirius

— Saheeh International

It is He who is the Lord of Sirius.

— Muhammad Sarwar

And that He is the Lord of the Sirius;

— Muhammad Habib Shakir

And that it is He Who is the Lord of Sirius.

— Abdul Majid Daryabadi

That He is the Lord of Sirius (the Mighty Star);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–55

سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 44 شِعْرٰی آسمان کا روشن ترین تارا ہے جسے مِرْزم الجوزاء، الکلب الاکبر، الکلب الجبار، الشعری العبور وغیرہ ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اس کو Sirius اور Dog Star اور Canis Majoris کہتے ہیں۔ یہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے، مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے اس لیے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے، کیونکہ اس کے طلوع کے زمانے میں نیل کا فیضان شروع ہوتا تھا، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسی کے طلوع کا فیضان ہے۔ جاہلیت میں اہل عرب کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ یہ ستارہ لوگوں کی قسمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی بنا پر یہ عرب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى، شعریٰ بکسر شین، ایک ستارے کا نام ہے جو جوزا کے پیچھے ہے، عرب کی بعض اقوام اس ستارے کی پرستش کرتی تھیں، اس لئے خصوصیت سے اس کا نام لے کر بتلایا کہ اس ستارے کا مالک اور پروردگار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگرچہ وہ سارے ہی ستاروں، آسمانوں، زمینوں کا خالق ومالک اور پروردگار ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

(وانہ ھو اغنی واتنی وانہ ھو رب الشعری) (48، 49) (بخیل مالداروں کو تنبیہ)۔ یعنی وہی ہے جو آدمی کے فقر کو غنا سے بدل دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی ضرورت سے اتنا زیادہ دے دیتا ہے کہ وہ اس کو جمع کر کے مال دار آدمی بن جاتا ہے۔ اتنی، تنیۃ سے ہے جو جمع کیے ہوئے مال کے لیے آتا ہے۔ گویا اغنی بہا ان لوگوں کے لیے استعمالہوا جو فقر کے دائرہ سے نکل چکے ہیں اور اقنی ان کے لیے استعمال ہوا ہے جو صرف فقر کے دائرہ سے نکل ہی نہیں چکے ہیں بلکہ مالداروں کے زمرے میں ہیں۔ اوپر آیات 33، 34 میں ان مالداروں کا کردار بیان ہوچکا ہے جو خدا کی راہ میں دیتے دلاتے تو کچھ بھی نہیں لیکن جنت کے مراتب عالیہ کے خواب دیکھ رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 رب تو وہ ہر چیز کا ہے، یہاں ستارے کا نام اس لئے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کی پوجا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–52

23: شعریٰ ایک ستارے کا نام ہے، جاہلیت میں عرب لوگ اس کی عبادت کرتے تھے، کیونکہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمیں کچھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ وہ ستارہ تو ایک مخلوق ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے پروردگار ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ ........ الشعری (35 : 94) ” اور وہی شعری کا بھی رب ہے “ شعری وہ ستارہ ہے جو سورج سے بیس گناہ بڑا ہے اور ورہ سورج سے بھی دور کئی ملین دور ہے۔ عربوں میں بعض لوگ اس ستارے کو پوجتے تھے۔ بعض لوگ اسے ایک ذی شان ستارے کے طور پر دیکھتے تھے۔ لہٰذا یہاں یہ تاکید کرنا کہ اللہ شعری کا بھی رب ہے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے خصوصاً ایسی سورت میں جس میں ستارے کی قسم اٹھائی گئی ہے اور جس میں عالم بالا کے سفر کا ذکر ہو اور جس میں عقیدہ توحید اور شرک موضوع ہو۔ یہاں آکر انفس اور آفاق کا یہ طویل مطالعاتی سفر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد اب انسانی تاریخ کی وادی میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ اور اس کے عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " شعریٰ " ایک بہت بڑا ستارہ ہے جس کو بعض عرب پوجتے تھے اور سمجھتے تھے کہ عالم کے احوال میں اس کی بہت بڑی تاثیر ہے۔ یہاں بتلا دیا کہ " شعریٰ " کا رب بھی اللہ ہے۔ دنیا کی تمام الٹ پھیر اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ " شعریٰ " غریب بھی ایک ادنیٰ مزدور کی طرح اس کا حکم بجا لاتا ہے۔ اس میں مستقل تاثیر کچھ بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49{ وَاَنَّہٗ ہُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی شعریٰ کا بھی ربّ ہے۔“ الشِّعریٰ وہ ستارہ تھا جس کی مختلف اقوام میں پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ستارہ اس حیثیت سے اہل عرب کے ہاں بھی معروف تھا۔ اس لیے انہیں بتایا گیا کہ جسے تم لوگ الٰہ مانتے ہو اس کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ تمہاری قسمت کے فیصلے یہ ستارہ نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–51

34 شعری ستارہ اور اس کے پجاری :۔ مشرکین عرب تین مشہور دیویوں لات، منات اور عزیٰ کے علاوہ آسمان کے دیوتاؤں میں سے شعریٰ سیارہ کی بھی پرستش کرتے تھے۔ یہ سیارہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے اور اس کا زمین سے فاصلہ 8 نوری سال سے بھی زیادہ ہے۔ (واضح رہے کہ سورج ہم سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے 8 منٹ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ گویا ہماری زمین اور سورج کا فاصلہ 8 نوری منٹ ہے۔ اسی سے 8 نوری سال کا حساب لگا لیجئے) لہذا یہ سورج سے بہت چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے کہ اسی سیارہ کے طلوع کے زمانہ میں نیل کا فیضان شروع ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ (جسے تم معبود سمجھ کر پرستش کررہے ہو) (آیت) ” الشعری “۔ شعری سے مراد مطلق ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن (آیت) ” الشعری “ یا شعری سے مراد مطلق ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن (آیت) ” الشعری “۔ یا شعرائے یمانی نام ستارہ جوزاء کا ہے۔ علماء ہئیت کی تحقیق میں یہ آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے۔ اس کی پرستش نہ صرف عربوں میں بلکہ متعدد قدیم مشرک، جاہلی قوموں، مصریوں، یونانیوں، رومیوں وغیرہ میں کثرت وشدت سے ہوتی رہی ہے، قرآن مجید نے اس کا نام اس سیاق میں لاکر سارے نظام ستارہ پرستی پر ضرب لگادی۔ ذو الشعری۔ کی مورتی ایک چوکور سیاہ پتھر کی تھی اور زمین سے چار فٹ بلند اور دو فٹ چوڑی زمین پر نصب رہتی تھی مغربی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وانہ ھو رب الشعری شعریٰ شین کے کسرہ کے ساتھ ایک ستارے کا نام ہے جو جوزاء ستارے کے پیچھے رہتا ہے عرب کی بعض قومیں مثلاً بنو خزاعہ اس کی پرستش کرتی تھیں اس لئے خصوصیت سے اس کا نام لے کر بتلایا گیا ہے کہ اس ستارے کا بھی جس کی تم پرستش کرتے ہو مالک اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ ھو رب الشعری . اور یہ کہ وہی رب ہے شعریٰ (ستارہ) کا۔ شعریٰ ایک ستارے کا نام ہے جو جوزاؔ کے پیچھے واقع ہوا ہے۔ شعریٰ دو ستارے ہیں ‘ ایک کو عبور کہتے ہیں اور دوسرے کو قمیص۔ اس جگہ عبور مراد ہے۔ بنی خزاعہ عبور کی پوجا کرتے تھے۔ کوئی شخص تھا کبشہ ‘ یہ بنی خزاعہ کا ایک سردار تھا۔ اسی نے اس رسم بد کی ایجاد کی اور قریش کے بت پرستی کے رواج کی مخالفت کی۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی عرب اسی مناسبت سے ابن ابی کبشہ کہتے تھے کیونکہ آپ ﷺ نے بھی عرب کی بت پرستی کی مخالفت کی تھی۔ شعریٰ کے رب ہونے کا خصوصی ذکر اس وجہ سے کیا کہ وہ لوگ شعریٰ کو پوجتے تھے۔ اللہ نے رب الشعریٰ فرما کر یہ بات ظاہر کردی کہ شعریٰ تو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–49

(45۔ 49) اور وہی دونوں قسم یعنی نر و مادہ کو نطفہ سے بناتا یا یہ کہ پیدا کرتا ہے جبکہ نطفہ رحم عورت میں ڈالا جاتا ہے اور یہ کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا اسی کے ذمہ ہے اور وہی نفس کو خلقت سے غنی کرتا ہے اور وہی اس کی خلقت کو اس کے نفس کا محتاج بناتا ہے یا یہ کہ وہی خلقت کو پسندیدہ اور قناعت کرنے والا یا صابر بناتا ہے یا یہ کہ وہی مال دے کر غنی کرتا ہے اور جو دیتا ہے اس پر اسے راضی کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہی سونے اور چاندی کے ذریعے سے غنی کرتا ہے اور اونٹ گائے اور بکریاں دے کر سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی مالک ہے سیارہ شعری کا بھی یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ رہتا ہے اس ستارہ کی قبیلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–49

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وانہ ھو رب الشعری۔ شعری ایسا روشن ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اس کا طلوع سخت گرمی میں ہوتا ہے۔ دونوں شعری ہیں عبور جو جوزاء میں ہوتا ہے شعری غمیصاء جو ذراع میں ہوتا ہے۔ عرب گمان کرتے ہیں کہ یہ دونوں سہیل کی بہنیں ہیں۔ یہ ذکر کیا کہ وہ شعری کا رب ہے اگرچہ وہ دوسروں کا بھی رب ہے کیونکہ عرب شعری کی تعظیم بجا لاتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ شعری رب نہیں مربوب ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ کون اس کی عبادت کرتا تھا ؟ سدی نے کہا : حمیر اور خزاعہ قبیلہ اس کی عبادت کرتا تھا۔ دوسرے علماء نے کہا : سب سے پہلے جس نے اس کی عبادت کی وہ ابو کبثہ تھا جو نبی کریم ﷺ کی امہات کی جانب سے اجداد میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھورب الشعری '' (بلاشبہ وہ رب ہے شعری ستارے کا) فرمایا وہ ایک ستارہ ہے جن کو شعری کہا جاتا ہے۔ 9:۔ الفاکہی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ لوگ شعری کی عبادت کرتے تھے اور یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے پیچھے ہوتا ہے۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ شعری وہ ستارہ ہے جو جو زاء کے پیچھے ہوتا ہے وہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے۔ 11:۔ عبدرالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس ستارے کی عبادت کرتے تھے جس کو شعری کہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى [ وہ ہی شعری کا مالک ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–49

اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے : ﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ0045 ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى0046﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ0047 ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26:۔ ” وانہ ھو رب الشعری “ الشعری ایک روشن ستارہ ہے جس کی بعض قبائل عرب پرستش کرتے تھے۔ یعنی شعری ستارے کا خالق ومالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے اس عاجز مخلوق کے بجائے اس کے خالق کی عبادت کرنی چاہیے اور لات و منات کی طرح شعری بھی عبادت اور پکار کا مستحق نہیں۔ ھو کو کب یطلع بعد الجوزاء فی شدۃ الحر وکانت خزاعۃ تعبدھا (مدارک ج 4 ص 151) ۔ وتخصیصھا فی الذکر ھھنا للاشعار بانھا مخلوقۃ للہ تعالیٰ لا یستحق العبادۃ مثل اللات والعزی ولعل قوما عبدوھا فی زمن ابراہیم (علیہ السلام) ایضا ولذلک ورد التخصیص بذکرھا فی صحف ابراہیم وموسی (مظہری ج 9 ص 132) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّہٗ ہُوَرَبُّ الشِّعْرٰى۝ 49 ۙ شِّعْرَى: نجم، وتخصیصه في قوله : وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرى [ النجم/ 49] ، لکونها معبودة لقوم منهم . الشعری ٰ ایک ستارے کا نام ہے ( جو سخت گرمی کے زمانہ میں طلو ع ہوتا ہے ) اور آیت کریمہ : وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرى [ النجم/ 49] وہی شعری ٰ کا مالک ہے میں شعریٰ کی تخصیص اس لئے کی گئی ہے کہ وہ ایک قوم کا معبود تھا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَغْنٰی وَاَقْنٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی۔ (النجم : 48، 49) (یہ کہ اسی نے غنی کیا اور اسی نے سرمایہ دار کیا۔ اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے۔ ) اللہ تعالیٰ ہی سب کا مرجع اور مولیٰ ہے۔ اس لیے وہی ہر شخص کو غنی کرتا ہے یعنی فقر کو غنا سے بدلتا ہے اور تنگ حالی اور بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرتا ہے۔ آج کے غریب اور نادار کل کو رئیس بن جاتے ہیں۔ کیونکہ فقر کو غنا میں تبدیل کرنا اس کی قدرت میں بھی ہے اور وہ اپنے علم سے بھی جانتا ہے کہ کب کسی کے لیے غنا بہتر ہے اور کب کسی کے لیے فقر بہتر ہے۔ وہی ذات ہے جس کے بس میں ہے کہ جس آدمی کو اس نے غنی کیا ہے اسے وہ مالدار بھی کردے۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : جو ” رب “ انسان کو نر اور مادہ کی صورت میں پیدا کرتا ہے وہی انسان کو تونگربناتا اور تنگ دست کرتا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات میں یہ بات بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا رزق فراخ کرتا ہے اور وہی رزق تنگ کرنے والا ہے۔ بیشک انسان کو رزق کمانے کا حکم دیا گیا ہے مگر رزق کی کشادگی کا دارومدار انسان کی محنت پر نہیں رکھا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت اور مشیّت ہے کہ جس کا چاہے رزق فراخ کرے اور جس کا چاہے کم کردے۔ رزق کی فرادانی اور اسباب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق کی کشادگی سے نوازتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ انسان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 49: وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى (اور یہ کہ وہی رب ہے شعری کا) شعری ستارہ ہے جو جوزاء کے بعد طلوع ہوتا ہے۔ جبکہ موسم شدید گرمی کا ہوتا ہے، بنو خزاعہ اس کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے بنائے ہوئے معبود کا رب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48 ۔” وانہ ھو اغنی واقنی “ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں لوگوں نے مال دے کر غنی کردیا اور قنیہ اور اموال کے اصول دیئے اور وہ چیز جو وہ ضرورت کے بعد ذخیرہ کرتے ہیں۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں سونے، چاندی اور جانوروں کی قسموں اونٹ، گائے، بکریوں کے ذریعے مال دار کردیا۔ قتادہ (رح) اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” اقنیٰ “ یعنی ان کی خدمت کی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” اغنیٰ واقنیٰ “ ان کو دیا۔ پس ان کو راضی کردیا۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” اقنیٰ “ جو دیا اس پر راضی کیا اور قناعت دی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” اغنیٰ “ زیادہ دیا اور ” اقنیٰ “ کم دیا اور پڑھا ” یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر “ اور اخفش (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى) ۔ اور یقینا وہی شعری (ستارے) کا رب ہے۔ اور وہ مشہور ستارہ شعری عبود ہے جو مرزم کے نام سے موسوم ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے تاہم شعری کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں اس کی عبادت کی جاتی تھی پس اللہ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اشیا جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں مربوب، مدبر اور مخلوق ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو کیسے معبود قرار دیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–62

مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–50

[ 63] قوم عاد کی ہلاکت و تباہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاف فرمایا گیا " اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو "۔ جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اور علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ان کو عاد اولیٰ اس لئے کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے تباہ ہونے والی قوسم یہی تھی، اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو عاد اخری یعنی قوم ثمود کے مقابلے میں عاد اعلیٰ کہا جاتا ہے [ المراغی وغیرہ ] اور یوں ان دونوں وجہوں میں کوئی تضاد اور منافات بھی نہیں، اس لئے دونوں ہی مراد ہوسکتی ہیں، سو اس میں قریش کے لئے تنبیہہ ہے کہ جس طرح آج تم لوگوں کو انذار کیا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے عاد وثمود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ” شعریٰ “ برج جوزا کے پیچھے ایک چمکدار ستارہ کا نام ہے۔ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ خزاء کے لوگ اس کی پرستش کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری قسمتیں یہ ستارہ نہیں بلکہ وہ خدا بناتا ہے جو اس کا رب ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–50

(53:49) (10) وانہ اہلک عاد ن الاولی۔ اور یہ کہ بیشک اس نے عاد اول کو ہلاک کیا۔ عاد اولی سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ھود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ھود کی تکذیب اور نافرمانی کی پاداش میں عذاب میں مبتلا کی گئی تھی تو صرف وہ لوگ بچے تھے جو ان پر ایمان لائے تھے ان کی نسل کو تاریخ میں عاد ثانیہ یا عاد اخری کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 4) شعری ایک بہت بڑاستارہ ہے جس کی عرب کے بعض قبیلے اسلام سے پہلے پوجا کرتے تھے اس ستارے کی چال اور ستاروں سے الگ ہے اور ستاروں کی چال آسمان کی چوڑائی میں ہے اور یہ ستارا آسمان کی لمبائی کو طے کرتا ہے اور اس نادر بات کو اس ستارے میں دیکھ کر ایک شخص ابوکبشہ نے عرب میں اس ستارے کی پرستش کارواج پھیلایا، جو قبیلے شعری کی پوجا کرتے تھے ، ان کو اس آیت میں یہ تنبیہ فرمائی کہ سب کا رب اللہ ہے اس ستارے کا رب بھی اللہ ہی ہے لہذا اسی کی عبادت کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[20] شعریٰ ایک بہت بڑا ستارہ ہے جس کو اہل عرب پوجتے تھے اور سمجھتے تھے کہ عالم کے احوال میں اس کی بہت بڑی تاثیر ہے۔ یہاں بتلا دیا کہ شعریٰ کا رب بھی اللہ ہے اور دنیا کے تمام الٹ پھیر اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ شعریٰ بھی ایک ادنیٰ مزدور کی طرح اسی کا حکم بجا لاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اور یہ کہ وہی پروردگار ہے شعری نامی ستارے کا مالک اور پروردگار ہے۔ عرب میں شعریٰ ستارے کی پوجا ہوتی تھی زمانہ جاہلیت میں اس کی پرستش خوب ہوا کرتی تھی اس کو فرمایا کہ اس کا مالک اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شعریٰ ایک تارا ہے بہت بڑا اس کو بعضے عرب پوجتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلاشبہ وہی شعریٰ ستارے کا رب ہے 49 ؎ (الشعری) کیا ہے ؟ شعریٰ ایک مشہور ستارہ کا نام ہے اور اس کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ عرب میں ایک قوم اس کو معبود مانتی تھی۔ چناچہ شیخ سلیمان جمل لکھتے ہیں کہ ” عربی زبان میں شعریٰ نام کے دو ستارے ہیں۔ ان میں سے ایک الشعریٰ العبور کہلاتا ہے اور وہی اس جگہ مراد ہے کیونکہ قبیلہ خزاہ اس کی پرستش کیا کرتا تھا۔ قبیلہ کے سرداروں میں ایک شخص ابو کبثہ نامی تھا۔ اس نے اس کی پوجا کا طریقہ قائم کیا۔ وہ کہتا تھا کہ سارے ستارے تو آسمان کو عرض میں قطع کرتے ہیں اور (شعریٰ ) طول میں آسمان کو قطع کرتا ہے اس لئے یہ ان سے جدا ہے۔ چناچہ اس نے اس کی پوجا کرنا شروع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَأَنَّهُ هُوَ رَ‌بُّ الشِّعْرَ‌ىٰ (and that He is the One who is the Lord of Sirius ...53:49) The word shi` ra with the diacritical symbol kasrah under the letter shin is the name of a star, called Sirius which is behind Jauza'. Some of the Arab tribes worshipped the mighty star, Sirius, because they regarded it as a source of good or bad luck for them. Allah mentions this star in particular in order to refute their false notion and to affirm that He is the Lord and Master of this star as well, although He is the Creator, Master and Lord of all the stars, heavens and the earth.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 Shi ra is the brightest star in the heavens, which is also known by the names of Mirzam al- Jawza `, al-Kalb al-Akbar, al-Kalb al-Jabbar, Ash-Shi 'ra al-'Abur, etc. In English it is called Sirius, Dog Star and Canis Majoris. It is 23 tunes as luminous as the Sun, but as it shines over eight light-years away from the earth, it appears to be smaller and less luminous than the Sun. The Egyptians worshipped it, for it made its appearance at about the time of the season when the annual floods were beginning in the Nile; the Egyptians believed that Sirius caused the Nile floods. The pagan Arabs…

Read the full tafseer →