Explained with ayahs 34–48
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 43
اصل میں لفظ اَقْنیٰ استعمال ہوا ہے جس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کے معنی اَرْضیٰ (راضی کردیا) بتائے ہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس سے اس کے معنی قَنَّعَ (مطمئن کردیا) نقل کیے ہیں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ آدمی کی حاجت سے زیادہ جو کچھ بھی اس کو دیا جائے وہ اقناء ہے۔ ابو عبیدہ اور دوسرے متعدد اہل لغت کا قول ہے کہ اَقْنیٰ قُنْیَۃٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں باقی اور محفوظ رہنے والا مال، جیسے مکان، اراضی، باغات، مواشی وغیرہ۔ ان سب سے الگ مفہوم ابن زید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اَقْنیٰ یہاں اَفْقَرَ (فقیر کردیا) کے معنی میں ہے اور…
Read the full tafseer →وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى، غنا کے معنی مالداری کے معروف ہیں، اغناء کے معنی دوسرے کو مالدار بنادینا، اور اقنیٰ ، قنیہ سے مشتق ہے، جس کے معنی محفوظ اور ریزرو سرمایہ کے ہیں، مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو مالدار اور غنی بناتا ہے وہی جس کو چاہے اتنا سرمایہ دیتا ہے کہ اس کو محفوظ رکھ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(وانہ ھو اغنی واتنی وانہ ھو رب الشعری) (48، 49)
(بخیل مالداروں کو تنبیہ)۔ یعنی وہی ہے جو آدمی کے فقر کو غنا سے بدل دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی ضرورت سے اتنا زیادہ دے دیتا ہے کہ وہ اس کو جمع کر کے مال دار آدمی بن جاتا ہے۔ اتنی، تنیۃ سے ہے جو جمع کیے ہوئے مال کے لیے آتا ہے۔ گویا اغنی بہا ان لوگوں کے لیے استعمالہوا جو فقر کے دائرہ سے نکل چکے ہیں اور اقنی ان کے لیے استعمال ہوا ہے جو صرف فقر کے دائرہ سے نکل ہی نہیں چکے ہیں بلکہ مالداروں کے زمرے میں ہیں۔ اوپر آیات 33، 34 میں ان مالداروں کا کردار بیان ہوچکا ہے جو خدا کی راہ میں دیتے دلاتے تو کچھ بھی نہیں لیکن جنت کے مراتب عالیہ کے خواب دیکھ رہے…
Read the full tafseer →48۔ 1 یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اسکی تمام حاجتیں پوری ہوجاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایا دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کرکے رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
22: نطفہ تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن اسی سے کبھی نر پیدا ہوتا ہے اور کبھی مادہ، جو اللہ تعالیٰ نطفے کی چھوٹی سی بوند میں نر اور مادہ پیدا کرنے کے لئے الگ الگ خصوصیات پیدا فرماتا ہے کیا وہ اسی نر اور مادہ کے بعد دوبارہ زندگی دینے پر قادر نہیں ہے ؟
Read the full tafseer →وانہ ........ واقنی (35 : 84) ” اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور جائیداد بخشی “ دنیا میں جس کو چاہا مختلف پہلوؤں سے غنی بنا دیا۔ مال کے لحاظ سے غنی ، صحت کے لحاظ سے غنی ، اولاد کے لحاظ سے غنی ، فکر کے لحاظ سے غنی اور اللہ کے تعلق کے لحاظ سے غنی اور یہ سب سے بڑا غنی ہوتا ہے اور جسے وہ چاہے گا آخرت میں غنی کردے گا۔
اسی طرح جو جائیداد وہ چاہے دیدے ، یہاں دیدے یا آخرت میں دیدے۔ لوگ تو فقر اور محتاج ہیں۔ یہ غنی اور مالدار اللہ ہی کے خزانوں سے ہوسکتے ہیں۔ وہ دولت دیتا ہے اور وہی جائیداد دیتا ہے۔ یہ تو وہ بات ہے جسے وہ عملاً پاتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اللہ نے دیا اس لئے انہیں جگایا…
Read the full tafseer →2 یعنی مال، خزانہ، جائیدادیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں اور بعض نے " اَقْنٰی " کے معنی " اَفْقَرَ " کیے ہیں۔ یعنی اسی نے کسی کو غنی اور کسی کو فقیر بنادیا۔ یہ معنی پہلے سیاق کے مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ متقابل چیزوں کا ذکر چلا آرہا ہے۔ اور اگر پہلا مطلب لیا جائے تو اس کے مقابل اہلاک کو رکھا جائے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ یعنی خزانے اور مال و دولت دے کر وہ ہی بڑھاتا ہے اور وہ ہی بڑی بڑی دولتمند اور طاقتور قوموں کو تباہ و برباد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 48{ وَاَنَّہٗ ہُوَ اَغْنٰی وَاَقْنٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی نے دولت دی اور اسی نے خزانہ دیا۔“
اَقْنٰی چونکہ باب افعال سے ہے ‘ جس کی خصوصیات میں ”سلب ماخذ“ بھی ہے ‘ چناچہ اس کا ترجمہ اَفْقَرَ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے کسی کو غنی اور کسی کو فقیر بنا دیا۔
Read the full tafseer →33 اقنٰی کا لغوی مفہوم :۔ اقنی بمعنی غنی کرنا اور راضی کرنا (مفردات) یعنی اتنا مال و دولت دینا کہ اس کی احتیاج پوری کرنے کے علاوہ وہ خوش بھی ہوجائے اور بعض اہل لغت کے نزدیک اقنٰی اغنیٰ کی ضد ہے بمعنی مفلس بنادینا۔ گویا اقنی لغت اضداد سے ہے۔ ان آیات میں چونکہ متقابل چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ لہذا یہاں دوسرا معنی ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فلہٰذا ترجمہ میں یہی دوسرا معنی اختیار کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
36۔ یعنی دھن دولت، سرمایہ دیتا بھی ہے اور وہی اسے محفوظ بھی رکھتا ہے۔ لکشمی دیوی وغیرہ کسی اور کا اس میں دخل نہیں۔ (آیت) ” النشاۃ الاخری “۔ یعنی وہ بعث ثانی جو قیامت کے دن ہوگا۔ (آیت) ” علیہ “۔ یعنی اس کا وقوع ایسا ضروری ہے، کہ حق تعالیٰ پر وہ گویا واجب ہے یا حق تعالیٰ کے ذمہ ہے، حالانکہ حقیقۃ کوئی شے بھی حق تعالیٰ پر واجب نہیں ہوسکتی۔ واجب ہونے کے معنی کسی برتر قانون کے ماتحت پابندی کے ہیں۔ اور ارادء الہی سے بڑھ کر کون قانون ہوسکتا ہے جس کا وہ ماتحت یا پابند ہو۔ اسی لئے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ حق تعالیٰ پر واجب کوئی سی بھی چیز نہیں۔
Read the full tafseer →وانہ ھو اغنی و اقنی اغناء کے معنی دوسرے کو غنی کرنا اور اقنی قنیۃ سے مشتق ہے جس کے معنی محفوظ اور ریزرو سرمایہ کے ہیں مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو مال دار اور غنی بناتا ہے اور وہی جس کو چاہے اتنا سرمایہ دیتا یہ کہ اس کو ذخیرہ کرسکے۔
Read the full tafseer →وانہ ھو اغنی واقنی . اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور (سرمایہ دے کر محفوظ اور) باقی رکھتا ہے۔
اَغْنٰی : یعنی ضروری حاجت اور کفائی مصارف سے زیادہ مال دیتا ہے کہ لوگ اس کو جمع کرلیتے ہیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے تَغَنّٰی وہ غنی ہوگیا۔ یعنی اپنے مصارف پورے کرلیے اور پھر بھی کچھ مال رہ گیا ‘ جس کو اس نے جمع کرلیا۔
اَقْنٰی : اَغْنٰی کا ہم معنی ہے۔ اس کے بعد لفظ اَفْقَر محذوف ہے (وہی غنی اور دولت مند کرتا ہے اور وہی محتاج کرتا ہے) بیان کی ضرورت نہیں ہے افقر کو حذف کردیا ‘ قرینہ حال موجود ہے۔ فہم مطلب میں دشواری نہیں اس لیے افقر کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں۔ ضحاک نے کہا : اغنٰی یعنی چاندی ‘ سونا اور قسم قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
(45۔ 49) اور وہی دونوں قسم یعنی نر و مادہ کو نطفہ سے بناتا یا یہ کہ پیدا کرتا ہے جبکہ نطفہ رحم عورت میں ڈالا جاتا ہے اور یہ کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا اسی کے ذمہ ہے اور وہی نفس کو خلقت سے غنی کرتا ہے اور وہی اس کی خلقت کو اس کے نفس کا محتاج بناتا ہے یا یہ کہ وہی خلقت کو پسندیدہ اور قناعت کرنے والا یا صابر بناتا ہے یا یہ کہ وہی مال دے کر غنی کرتا ہے اور جو دیتا ہے اس پر اسے راضی کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہی سونے اور چاندی کے ذریعے سے غنی کرتا ہے اور اونٹ گائے اور بکریاں دے کر سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی مالک ہے سیارہ شعری کا بھی یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ رہتا ہے اس ستارہ کی قبیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وان علیہ النشاہ الاخری۔ جب روحوں کو جسموں میں لوٹایا جائے گا تاکہ انہیں اٹھایا جائے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاۃ شین کے فتحہ اور الف ممودہ کے ساتھ پڑھا ہے اس نے یہ وعدہ کیا اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ وانہ ھو اغنی و اقنی۔ ابن زید نے کہا، جس کو چاہا غنی کردیا اور جس کو چاہا فقیر بنا دیا (2) پھر اس آیت کو پڑھا یبسط الرزق لمن یشآء من عبادہ ویقدرلہ (سبا : 39) اور اس آیت کی تلاوت کی یقض ویبضط (البقرہ : 245) طبری نے اسے پسند کیا ہے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے اور مجاہد، قتادہ اور حسن بصری نے یہ کہا ہے : اغنی یعنی اسے مالدار بنا دیا (3) اقنی اسے خادم بنا دیا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اقنی تمہارے لئے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھو اغنی واقنی '' (بلاشبہ وہ غنی کرتا ہے اور باقی رکھتا ہے) یعنی وہی عطا کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔
2:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اغنی '' یعنی وہ زیادہ عطا کرتا ہے (آیت ) '' واقنی '' یعنی وہ قناعت پر مجبور کرتا ہے۔
صبر و قناعت کا ذکر :
3:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' وانہ ھو اغنی واقنی '' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے فقر سے نکال کر غنی کردیا اور…
Read the full tafseer →وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ اَغْنٰى [ وہ ہی ضرورت پوری کرتا ہے ] وَاَقْنٰى [اور مالدار کرتا ہے ]
ق ن ی : (ض، س) قنوا ۔ اللہ کا کسی کو مال دینا ۔ مالدار کرنا ۔ (اتنا مال دینا جو ضرورت پوری ہونے کے بعد بچ رہے ) (افعال ) اقناء ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ زیرمطالعہ آیت نمبر ۔ 48
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 48، کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان کی محتاجی کو غنا سے بدل دیتا ہے یعنی اس کو اتنا مال دیتا ہے کہ اس کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں اور کسی کو اتنا مال دیتا ہے کہ ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ مال بچ رہتا ہے جسے وہ جمع کرتا رہتا ہے اور مالدار بن جاتا ہے ۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2: شعری آسمان کا روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے :
﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ0045 ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى0046﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ0047 ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
25:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →وَاَنَّہٗ ہُوَاَغْنٰى وَاَقْنٰى 48 ۙ
غنی
الغِنَى يقال علی ضروب :
أحدها : عدم الحاجات،
ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ،
الثاني : قلّة الحاجات،
وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس»
والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس
کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
( تو نگری ) بےنیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بےنیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔
تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَغْنٰی وَاَقْنٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی۔ (النجم : 48، 49)
(یہ کہ اسی نے غنی کیا اور اسی نے سرمایہ دار کیا۔ اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے۔ )
اللہ تعالیٰ ہی سب کا مرجع اور مولیٰ ہے۔ اس لیے وہی ہر شخص کو غنی کرتا ہے یعنی فقر کو غنا سے بدلتا ہے اور تنگ حالی اور بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرتا ہے۔ آج کے غریب اور نادار کل کو رئیس بن جاتے ہیں۔ کیونکہ فقر کو غنا میں تبدیل کرنا اس کی قدرت میں بھی ہے اور وہ اپنے علم سے بھی جانتا ہے کہ کب کسی کے لیے غنا بہتر ہے اور کب کسی کے لیے فقر بہتر ہے۔ وہی ذات ہے جس کے بس میں ہے کہ جس آدمی کو اس نے غنی کیا ہے اسے وہ مالدار بھی کردے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فہم القرآن
ربط کلام : جو ” رب “ انسان کو نر اور مادہ کی صورت میں پیدا کرتا ہے وہی انسان کو تونگربناتا اور تنگ دست کرتا ہے۔
قرآن مجید کی تعلیمات میں یہ بات بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا رزق فراخ کرتا ہے اور وہی رزق تنگ کرنے والا ہے۔ بیشک انسان کو رزق کمانے کا حکم دیا گیا ہے مگر رزق کی کشادگی کا دارومدار انسان کی محنت پر نہیں رکھا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت اور مشیّت ہے کہ جس کا چاہے رزق فراخ کرے اور جس کا چاہے کم کردے۔
رزق کی فرادانی اور اسباب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق کی کشادگی سے نوازتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ انسان…
Read the full tafseer →آیت 48: وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى (اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور سرمایہ دے کر باقی رکھتا ہے) اقنی کا معنی القنیہ یعنی مال دیتا ہے۔ قنیہ وہ مال جس کو محفوظ کر کے پکا ارادہ ہو کہ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ نکالے گا۔
Read the full tafseer →47 ۔” وان علیہ النشاۃ الاخریٰ “ یعنی بعث کے لئے دوبارہ پیدا کرنا قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–55
42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…
Read the full tafseer →(وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى) اور بیشک وہی غنی کرتا ہے اور وہی دولت دیتا ہے۔ وہ بندوں خو ان کے معاشی معاملات، یعنی تجارت اور صنعت وحرفت کے مختلف پیشوں میں آسانی پیدا کرکے مال دار بناتا ہے۔ (واقنی) یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو مال کی تمام انواع عطا کرتا ہے جس سے وہ مال دار بن کر بہت سے اموال کے مالک بن جاتے ہیں یہ اللہ کی نعمت ہے کہ اس نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور یہ چیز بندوں پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسکا شکر ادا کریں اور اسی اکیلے کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
[ 63] قوم عاد کی ہلاکت و تباہی کی تذکیر و یاددہانی :
سو ارشاف فرمایا گیا " اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو "۔ جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اور علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ان کو عاد اولیٰ اس لئے کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے تباہ ہونے والی قوسم یہی تھی، اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو عاد اخری یعنی قوم ثمود کے مقابلے میں عاد اعلیٰ کہا جاتا ہے [ المراغی وغیرہ ] اور یوں ان دونوں وجہوں میں کوئی تضاد اور منافات بھی نہیں، اس لئے دونوں ہی مراد ہوسکتی ہیں، سو اس میں قریش کے لئے تنبیہہ ہے کہ جس طرح آج تم لوگوں کو انذار کیا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے عاد وثمود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
ف 3 ” اقنی “ کے دوسرے معنی ” صاحب جائیداد بناتا ہے “ اور تیسرے معنی ” خوش کرتا ہے “ بھی ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →(53:48) (9) وانہ ھو اغنی واقنی۔ اور یہ کہ بیشک وہی غنی کرتا ہے اور مفلس بناتا ہے۔ اغنی ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر۔ وہ غنی کرتا ہے وہ دولت مند بناتا ہے۔
اقنی : ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب اقناء (افعال) مصدر سے۔ اقناء کے معنی ذخیرہ کیا ہوا مال جو باقی رہ سکے دینے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اقناء کے معنی ذخیرہ کیا ہوا مال دینا۔ لیکن باب افعال کے خواص میں سے ایک خاصیت سلب ماخذ بھی ہے۔ اس اعتبار سے اقنی کا مطلب قنیہ ہے یعنی فقیر بنادینا ہوگا۔ سیاق آیات کے لحاظ سے یہی معنی مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ اقنی ای افقر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →(ف 3) دنیا میں امیروغریب بھی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہیں کہ کسی کے پاس حد سے زیادہ دولت ہے اور کوئی غریبانہ مال گزر کے قابل رکھتا ہے پس جس کو چاہا امیر کیا جسے چاہا غریب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
[19] یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ پھر جب اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور دکھ بھی تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن سکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…
Read the full tafseer →(48) اور یہ کہ وہی مال دار بناتا ہے اور وہی سرمایہ کو محفوظ بناتا ہے۔ اقنی کے معنی کئی طرح کئے گئے ہیں چونکہ دولت مندی بھی کئی طرح ہوتی ہے یا تو نقدروپیہ کو اغنا فرمایا اور اقنازمین اور مویشی کو فرمایا یا بڑے سرمایہ دار، اور کم سرمایہ دار ، یا ضرورت کے لئے جو کافی ہو وہ اغنا اور جو ضرورت سے زائد ہو وہ اتنا بہرحال سرمایہ داری میں جو تفاوت نظر آتا ہے اس کی جانب اقنی کہہ کر اشارہ فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
ف 4۔ یعنی ایسا ضرور ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ وہی دل کا غنی کرتا ہے اور وہی مال سے مالا مال کردیتا ہے
48 ؎ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو دل کا غنی بنا دیتا ہے۔ مال اس کے پاس کم ہو یا زیادہ لیکن وہی ہے جس نے بعض لوگوں کو مال سے مالا مال کردیا ہے لیکن دل کے وہ کنگال ہیں۔ (اغنی) کا اصل مادہ غ ن ی ہے۔ (اغنی) وہ کام آیا ۔ اس نے غنی بنا دیا۔ اس نے دولت دی۔ اگناء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (غنی) بےنیاز ‘ غیر محتاج ‘ کم مہتاج ‘ قانع ‘ مالدار ‘ غنا کے تین معنی ہیں۔ (1) بالکل محتاج اور ضرورت مند نہ ہونا۔ بےنیاز ہونا اور ظاہر ہے کہ ایسا غنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ (2) کم ضرورت مند ہونا ‘ قانع ہونا اور یہ صفت ہر قانع کی…
Read the full tafseer →وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ (and that He is the One who gives wealth and preserves [ it ]...53:48) The word ghina means affluence, and ighna' means to give wealth to somebody else, and enrich him. The word aqna is derived from qinyatun which means preserving and reserve wealth. The meaning of the verse is that it is Allah Who enriches His servants and grants wealth to them to their satisfaction, so that they are able to use some and keep some in their reserve fund for future use.
Read the full tafseer →43 Different meanings have been given by the lexicographers and commentators of the word aqna as used in the original. According to Qatadah, Ibn 'Abbas took it in the meaning of arda (pleased), and according to `Ikrimah in the meaning of qanna'a (satisfied). According to Imam Razi, whatever is given to a person over and above his need and requirement is iqna `. Abu `Ubaidah and several other lexicographers have expressed the view that aqua is derived from qunya-tun, which means lasting and secured property, e.g, the house, lands, gardens, cattle, etc. Ibn Zaid, however, has given quite a…
Read the full tafseer →