An-Najm 53:47

An-Najm · from ayah 47

53:47

وَاَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰی ۟ۙوَاَنَّ عَلَيۡهِ النَّشۡاَةَ الۡاُخۡرٰىۙ‏

اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that [incumbent] upon Him is the next creation

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:47

اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوباره پیدا کرنا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ دوسری زندگی دینے کا بھی اسی نے ذمہ لیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کرنا (بھی) اسی پر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک اسی کے ذمہ دوسری دفعہ پیدا کرنا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ دوسری بار زندہ کرنا اس کے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک دوبارہ اٹھانا اس کی ذمہ داری ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوسری بار زندہ کر کے اٹھانا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ دوبارہ پیدائش اسی کے ذمہ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ قیامت کے دن اسکے ذمے دوسری دفعہ اٹھانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that it is for Him to grant the second life,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that the second creation is undertaken by Him,

— Muhammad Taqi Usmani

and that the second creation is undertaken by Him,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that upon Him is another bringing forth (Resurrection).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that He hath ordained the second bringing forth;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that [incumbent] upon Him is the next creation

— Saheeh International

and on Him depends the life hereafter.

— Muhammad Sarwar

And that on Him is the bringing forth a second time;

— Muhammad Habib Shakir

And that upon Him is another bringing forth.

— Abdul Majid Daryabadi

That He hath promised a Second Creation (Raising of the Dead);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 42 اوپر کی دونوں آیتوں کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کلام سے خود بخود حیات بعد الموت کی دلیل بھی برآمد ہو رہی ہے۔ جو خدا موت دینے اور زندگی بخشنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اور جو خدا نطفے کی حقیر سی بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے، بلکہ ایک ہی مادہ تخلیق و طریق پیدائش عورت اور مرد کی دو الگ صنفیں پیدا کر دکھاتا ہے، اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى، یعنی نوع انسان میں خوشی اور غم اور اس کے نتیجہ میں ہنسنے اور رونے کا سلسلہ ہر شخص دیکھتا ہے اور ان دونوں چیزوں کو ان کے ظاہری طور پر پیش آنے والے اسباب کی طرف منسوب کر کے معاملہ ختم کردیتا ہے، یہاں غور و فکر کی جگہ ہے، گہری نظر سے جو دیکھے گا کہ کسی کی خوشی یا غم اور ہنسنا یا رونا خود اس کے یا کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے وہی اسباب میں تاثیر دیتا ہے وہ جب چاہتا ہے تو رونے والوں کو ایک لمحہ میں ہنسا دیتا ہے، اور ہنسنے والوں کو ایک منٹ میں رلا دیتا ہے، ولنعم ما قیل بگوش گل چہ سخن گفتہ کہ خندان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–47

(وانہ ھوا اضحک وابکی وانہ ھو امات واحیا وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفہ اذا تمنی وان علیہ النشاۃ الاخری) (43، 47) یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں سب کا مولیٰ و مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے اور رلانا بھی، یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور اسی کے اختیار میں دکھ بھی۔ رنج و غم اور نفع و فہ سب اسی کے اختیار میں ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اسی طرح وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ تو جب کسی دوسرے کو نہ موت کے معاملے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–48

22: نطفہ تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن اسی سے کبھی نر پیدا ہوتا ہے اور کبھی مادہ، جو اللہ تعالیٰ نطفے کی چھوٹی سی بوند میں نر اور مادہ پیدا کرنے کے لئے الگ الگ خصوصیات پیدا فرماتا ہے کیا وہ اسی نر اور مادہ کے بعد دوبارہ زندگی دینے پر قادر نہیں ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان ........ الاخری (35 : 74) ” اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ “ دوسری زندی تو ایک غیب ہے لیکن پہلی زندگی دوسری پر دلیل ہے۔ دلیل یوں ہے کہ جب پہلی بار ایک قوت نے انسان کو پیدا کیا تو دوسری بار بھی وہ پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات جس نے زوجین کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور یہ تمہارا مشاہدہ ہے۔ اس بات پر قادر ہے کہ ان ہڈیوں اور مٹی کو دوبارہ جمع کرکے تمہیں اٹھا دے کیونکہ ہڈیوں اور مٹی کو جمع کرنا نطفے کے پانی کے اندر موجود ایک خلیے سے بڑھا کر پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہے۔ یہ کام دوبارہ بھی واقع ہوسکتا ہے مثلاً وہ تدبیر جس کے نتیجے میں ایک نطفہ نہایت ہی چھوٹے جرثومے سے ایک طویل راہ سے گزر کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 46–47

1 یعنی جس نے ایک قطرہ آب سے نر و مادہ پیدا کردیے، دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ (یہ درمیان میں ایک پیدائش سے دوسری پیدائش پر متنبہ کردیا)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47{ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔“ یہاں یہ نکتہ بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ انسانوں کو دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ گویا انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا احتساب کرنا اللہ کے انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ انسانوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتا اور ان کو ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ نہیں دیتا تو نیکوکار لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی بھی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گزاری۔ ساری زندگی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے رہے ‘ حرام خوریوں سے بچنے کے لیے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ اگر انہیں ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 45–47

32 یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لاسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلامقصد اور بےنتیجہ نہیں ہوا کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 47–48

36۔ یعنی دھن دولت، سرمایہ دیتا بھی ہے اور وہی اسے محفوظ بھی رکھتا ہے۔ لکشمی دیوی وغیرہ کسی اور کا اس میں دخل نہیں۔ (آیت) ” النشاۃ الاخری “۔ یعنی وہ بعث ثانی جو قیامت کے دن ہوگا۔ (آیت) ” علیہ “۔ یعنی اس کا وقوع ایسا ضروری ہے، کہ حق تعالیٰ پر وہ گویا واجب ہے یا حق تعالیٰ کے ذمہ ہے، حالانکہ حقیقۃ کوئی شے بھی حق تعالیٰ پر واجب نہیں ہوسکتی۔ واجب ہونے کے معنی کسی برتر قانون کے ماتحت پابندی کے ہیں۔ اور ارادء الہی سے بڑھ کر کون قانون ہوسکتا ہے جس کا وہ ماتحت یا پابند ہو۔ اسی لئے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ حق تعالیٰ پر واجب کوئی سی بھی چیز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–47

وانہ ھو اضحک وابکی یعنی خوشی اور غمی دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت اور مسرت نصیب ہوتی ہے تو اسی کے دینے سے ہوتی ہے اور اگر کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پڑتا ہے تو اسی کی مشیت سے پڑتا ہے کوئی دوسری ہستی اس کا ئئنات میں ایسی نہیں کہ جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان علیہ النشاۃ الاخری . اور یہ کہ (حسب وعدہ) دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے۔ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی : دوسری تخلیق یعنی قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے اٹھانا۔ عَلٰی کا لفظ وجوب و لزوم کے معنی پر دلالت کر رہا ہے اور اللہ پر کوئی بات لازم نہیں ہے۔ اس لیے علٰی کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ وعدے کو پختہ کرنا مراد ہے۔ اللہ ضرور ‘ ضرور دوبارہ تخلیق کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–49

(45۔ 49) اور وہی دونوں قسم یعنی نر و مادہ کو نطفہ سے بناتا یا یہ کہ پیدا کرتا ہے جبکہ نطفہ رحم عورت میں ڈالا جاتا ہے اور یہ کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا اسی کے ذمہ ہے اور وہی نفس کو خلقت سے غنی کرتا ہے اور وہی اس کی خلقت کو اس کے نفس کا محتاج بناتا ہے یا یہ کہ وہی خلقت کو پسندیدہ اور قناعت کرنے والا یا صابر بناتا ہے یا یہ کہ وہی مال دے کر غنی کرتا ہے اور جو دیتا ہے اس پر اسے راضی کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہی سونے اور چاندی کے ذریعے سے غنی کرتا ہے اور اونٹ گائے اور بکریاں دے کر سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی مالک ہے سیارہ شعری کا بھی یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ رہتا ہے اس ستارہ کی قبیلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–49

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–48

وان علیہ النشاہ الاخری۔ جب روحوں کو جسموں میں لوٹایا جائے گا تاکہ انہیں اٹھایا جائے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاۃ شین کے فتحہ اور الف ممودہ کے ساتھ پڑھا ہے اس نے یہ وعدہ کیا اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ وانہ ھو اغنی و اقنی۔ ابن زید نے کہا، جس کو چاہا غنی کردیا اور جس کو چاہا فقیر بنا دیا (2) پھر اس آیت کو پڑھا یبسط الرزق لمن یشآء من عبادہ ویقدرلہ (سبا : 39) اور اس آیت کی تلاوت کی یقض ویبضط (البقرہ : 245) طبری نے اسے پسند کیا ہے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے اور مجاہد، قتادہ اور حسن بصری نے یہ کہا ہے : اغنی یعنی اسے مالدار بنا دیا (3) اقنی اسے خادم بنا دیا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اقنی تمہارے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت روتے اور تھوڑا ہنستے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی '' (بلاشبہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) پھر آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا میں چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی ''۔ 8:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّ عَلَيْهِ [ اور یہ کہ اس کے ذمہ ہے ] النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى [ دوسری اٹھان ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–49

اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے : ﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ0045 ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى0046﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ0047 ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–48

25:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّ عَلَيْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰى۝ 47 ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ وَاَنَّـہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 43 تا 47) (بےشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے۔ ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وسعت کی مثالیں اب چند ایسی باتیں بیان کی جارہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت، بےپناہ علم اور بیش بہا نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–47

فہم القرآن ربط کلام : جو ” رب “ موت وحیات پر قادر ہے اسی نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم، حضرت حوا ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا ہر انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے جسے عورت کے رحم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نَر یا مادہ کی شکل میں پیدا کرتا ہے۔ ” تُمْنٰی “ کا معنٰی ہے مقدر میں کیا جانا، آزمایا جانا، توفیق دیاجانا اور امتحان لیا جانا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کو بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے۔ ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 47: وَاَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى (اور یہ کہ دوبارہ پیدا کرنا اسی کے ذمہ ہے) موت کے بعد زندہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46 ۔” من نطفۃ اذا تمنی “ یعنی رحموں میں ٹپکایا جائے۔ کہا جاتا ہے ” منی الرجل وامنیٰ “ ضحاک اور عطاء بن ابی رباح رحمہما اللہ نے کہا ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے تقدر کہا جاتا ہے ” منیت الشیء اذا قدرتہ “ جب تو اس کا اندازہ لگالے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–47

(مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى) نطفے سے جبکہ وہ رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کے عظیم غلبہ میں متفرد ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس نے تمام چھوٹے بڑے حیوانات کو حقیر پانی کے نہایت کمزور قطرے سے وجود بخشا، پھر ان کو نشونما دے کر مکمل کیا حتی کہ وہ اس مقام پر پہنچے جہان پہنچے ہوئے ہیں ان حیوانات میں سے آدمی یا تو بلند ترین مقام پر اعلی علیین میں پہنچ جاتا ہے یا وہ ادنی ترین احوال، پس ترین مقامات کی طرف لوٹ جاتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے وجود کے ذریعے اعادہ وجود پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وان علیہ النشاۃ الاخری) اور بلاشبہ اسی کے ذمے دوبارہ پیدا کرنا ہے پس اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–62

مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–47

[ 60] بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ زندہ کرنا۔ یعنی جب تم سب کو پیدا اسی نے کیا اور اس قدر پُر حکمت طریقے سے پیدا کیا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ تم کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے، تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا حساب دے اور اس کے مطابق اس کا بدلہ پاس کے، نیکوکار اپنی نیکی کا، اور بدکار اپنی بدی کا، چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اس لئے اس کو اس طرح مؤکد طریقے سے بیان فرمایا کہ ان تاکید یہ بھی لایا گیا، اور علی کا کلمہء استعلاء بھی جو کہ وجوب والزام کیلئے ہے، یعنی اس نے اپنے وعدہء کرم سے اس دوباہ زندہ کرنے کو خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 44–48

ف 3 ” اقنی “ کے دوسرے معنی ” صاحب جائیداد بناتا ہے “ اور تیسرے معنی ” خوش کرتا ہے “ بھی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:47) (8) وان علیہ النشاۃ الاخری۔ اور تحقیق یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری بار پیدا کرنا ہے۔ علیہ جار مفرور۔ اس کے ذمہ۔ علی کا لفظ وجوب ولزوم کے معنی پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور اللہ پر کوئی بات لازم نہیں ہے اس لئے علی کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ وعدے کو پختہ کرنا مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ضرور دوباہ تخلیق کریگا۔ النشاۃ الاخری۔ موصوف و صفت۔ دوسری بار مردہ سے زندہ کرنا۔ دوسری تخلیق، قیامت کے روز مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جانا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) مطلب یہ ہے کہ جیسے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے سب کو بسایا ویسا ہی ان سب کو دوسری زندگانی میں بھی ضرور لے جائے گا، یعنی مرے بعد اٹھائیگا یا یہ کہ جب اس نے اپنے کلام میں انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے تو اس پر اس وعدہ کا پورا کرنا لازم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–48

[19] یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ پھر جب اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور دکھ بھی تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) اور یہ کہ دوسری بار پیدا کرنا اس پر لازم ہے۔ عالم آخرت کا قیام ضروری ہے اور یہ وعدے کی بنا پر اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ جس نے پہلی بار پیدا کیا اس کے ذمہ دوسری بار پیدا کرنا بھی ہے 47 ؎ جس خالق ہقیقی نے اس جنس حیوانی کو پہلی بار بغیر کسی اصل کے پیدا کردیا اور پھر جس خالق نے اس کے لئے ایک صابطہ پیدائش مقرر کیا اور اسی قانون کے مطابق پیدائش کا سلسلہ چلایا اور جس نے زندگی اور موت کا یہ سلسلہ چلا دیا جس سلسلہ کے مطابق وہ پیدا بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے اس کے لئے آخر یہ کیونکر مشکل ہوگیا کہ وہ اس جنس کو چاہے ایک بار مارنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے اور قیامت کے روز ان بکھرے ہوئے زوروں کو دوبارہ جوڑ دے اور پھر زندگی کا وہ جوڑ لگا دے۔ اس می آخر مشکل کیا ہے ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوا ہی کہ اس خالق کل نے تخلیق کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–47

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ (and that He is the One who makes [ one ] laugh and makes [ him ] weep,...53:43) Mankind experiences happiness and grief, and consequently laughing and weeping. Man assigns this to the secondary causes [ which refer to every existent thing in this universe, and that is where he ends the matter. If we analyze carefully and profoundly, the whole system of cause and effect ends with Allah, the Primary and Supreme Cause. No secondary cause makes anyone happy or sad, nor does it make him to laugh or weep. Both of these things are created by Allah. He created the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 When this verse is read with the two preceding verses, the sequence by itself seems to provide the argument for the life-after-death also. The God Who has the power to give death and grant lift and the God Who brings about a creature like man from an insignificant sperm-drop, rather brings about two separate sexes - malt and female - from the same substance and by the same method of creation, cannot be helpless to resurrect man once again.

Read the full tafseer →