An-Najm 53:44

An-Najm · from ayah 44

53:44

وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا ۟ۙوَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡيَا

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that it is He who causes death and gives life

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:44

اور یہ کہ اُسی نے موت دی اور اُسی نے زندگی بخشی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ وہی ہے جو موت بھی دیتا ہے اور زندگی بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جِلاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اسی نے موت دی اور زندگی بخشی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ وہی موت دیتا ہے اور اسی کا کام ہے زندگی بخشنا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that He it is Who causes death and grants life,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that He is the One who gives death and gives life,

— Muhammad Taqi Usmani

and that He is the One who gives death and gives life,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that it is He Who causes death and gives life.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that He it is Who giveth death and giveth life;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that it is He who causes death and gives life

— Saheeh International

It is He who causes death and gives life.

— Muhammad Sarwar

And that He it is Who causes death and gives life-

— Muhammad Habib Shakir

And that it is He Who causeth to die and causeth to live.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–45

سورة النَّجْم 40 یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى، یعنی نوع انسان میں خوشی اور غم اور اس کے نتیجہ میں ہنسنے اور رونے کا سلسلہ ہر شخص دیکھتا ہے اور ان دونوں چیزوں کو ان کے ظاہری طور پر پیش آنے والے اسباب کی طرف منسوب کر کے معاملہ ختم کردیتا ہے، یہاں غور و فکر کی جگہ ہے، گہری نظر سے جو دیکھے گا کہ کسی کی خوشی یا غم اور ہنسنا یا رونا خود اس کے یا کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے وہی اسباب میں تاثیر دیتا ہے وہ جب چاہتا ہے تو رونے والوں کو ایک لمحہ میں ہنسا دیتا ہے، اور ہنسنے والوں کو ایک منٹ میں رلا دیتا ہے، ولنعم ما قیل بگوش گل چہ سخن گفتہ کہ خندان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–47

(وانہ ھوا اضحک وابکی وانہ ھو امات واحیا وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفہ اذا تمنی وان علیہ النشاۃ الاخری) (43، 47) یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں سب کا مولیٰ و مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے اور رلانا بھی، یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور اسی کے اختیار میں دکھ بھی۔ رنج و غم اور نفع و فہ سب اسی کے اختیار میں ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اسی طرح وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ تو جب کسی دوسرے کو نہ موت کے معاملے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ ............ واحیا (35 : 44) ” اور یہ کہ اس نے موت دی اور زندگی بخشی “ اسی طرح اس آیت سے بھی موت وحیات کی لاتعداد صورتیں نکلتی ہیں اور انسان اپنے احساس کو تیز کرکے گنوا سکتا ہے۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ نے موت وحیات کو پیدا کیا جیسا کہ دوسری سورت میں کہا ہے۔ خلق الموت والحیاة ” جس نے موت وحیات کو پیدا کیا “ موت وحیات دونوں کا تکرار انسانی سوسائٹی میں ہوتا رہتا ہے لہٰذا ہر کوئی موت وحیات کو جانتا ہے لیکن اگر انسان موت وحیات کا راز معلوم کرنا چاہے تو یہ بہت ہی سر بستہ راز ہوجاتے ہیں۔ موت کی حقیقت کیا ہے اور حیات کا راز کیا ہے ؟ تو انسان ان کی حقیقت کی تعبیر اپنے الفاظ میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–45

13 یعنی اس عالم میں تمام متضاد و متقابل احوال اسی نے پید اکیے ہیں۔ خیر و شر کا خالق وہ ہی ہے جو خوشی یا غم کی کیفیات بھیجتا ہنساتا رلاتا، مارتا، جلاتا اور کسی کو نر کسی کو مادہ بنانا اسی کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44{ وَاَنَّہٗٗ ہُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 43–44

31 یعنی ہر شخص کا رنج و راحت، مسرت اور غم وغیرہ دونوں طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ ہر شخص کی قسمت کو اتفاقاً بھی اور تدریجاً بھی بدل دینے کی قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–46

35۔ (رحم مادر میں) آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ تمام واقعات غم ومسرت، سارے اسباب موت وحیات، ہر قسم کی تخلیق کی اصلی اور آخری علت صرف ذات حق تعالیٰ ہے، کوئی ان صفات میں اس کا شریک وسہیم نہیں اور نہ اس کے یہ صفات وافعال مختلف دیویوں ودیوتاؤں کے درمیان تقسیم ہیں کہ جلانا اور پیدا کرنا کسی اور کے ہاتھ میں اور مارنا اور فنا کرنا کسی اور کے اختیار میں، خوش نصیبی کا تعلق فلاں سے ہو اور بدنصیبی کا فلاں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–47

وانہ ھو اضحک وابکی یعنی خوشی اور غمی دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت اور مسرت نصیب ہوتی ہے تو اسی کے دینے سے ہوتی ہے اور اگر کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پڑتا ہے تو اسی کی مشیت سے پڑتا ہے کوئی دوسری ہستی اس کا ئئنات میں ایسی نہیں کہ جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ ھو امات واحیا . اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے۔ یعنی وہی جاندار کو بےجان اور بےجان کو جاندار بناتا ہے۔ مثلاً نطفہ کے ایک نقطہ کو حیوان اور تخم کو درخت بنا دیتا ہے۔ بعض علماء نے اَمَاتَ وَاَحْیَا کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہی آباء و اسلاف کی زندگیاں سلب کرلیتا ہے اور اولاد کو زندگیاں عطا کرتا ہے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہی کافر کو ناشناسی کی موت دیتا اور مؤمن کو معرفت کی زندگی بخشتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) اور وہی اہل جنت کو ایسی نعمتیں دیتا ہے جس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور وہی دوزخیوں کو ایسی ذلت دیتا ہے جو ان کے رنج و غم کا باعث ہوتی ہے اور یہ کہ وہی دنیا میں مارتا ہے اور آخرت میں جلاتا ہے یا یہ کہ آباء کو مارتا ہے اور اولاد کو زندہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–49

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وانہ ھوامات واحیا۔ اس نے موت اور حیات کے اسباب کا فیصلہ کردیا۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : موت وحیات کو پیدا کیا جس طرح فرمایا الذی خلق الموت والحیوۃ (ملک : 2) یہ ابن بحر کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کافر کو کفر کے ساتھ موت دی اور مومن کو ایمان کے ساتھ زندہ کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : او من کان میتاً فاحیینہ (الانعام : 122) فرمایا : انما یستجیب الذین یسمعون والمتوی یبعثکم اللہ (الانعام : 36) جس طرح پہلے گزر چکا ہے : عطا کا قول بھی اسی طرح لوٹتا ہے، اپنے عدل کے ساتھ مارا اور اپنے فضل کے ساتھ زندہ کیا اور اس کا قول بھی اسی طرف لوٹتا ہے مال روکنے اور بخل کرنے کے ساتھ موت دی اور سخاوت اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت روتے اور تھوڑا ہنستے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی '' (بلاشبہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) پھر آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا میں چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی ''۔ 8:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ اَمَاتَ [ وہ موت دیتا ہے ] وَاَحْيَا [ اور زندگی دیتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 43–44

اللہ تعالیٰ نے ہی ہنسایا اور رلایا : ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ0043﴾ (اور بلاشبہ اسی نے ہنسایا اور رلایا) ہنسنا اور رونا اور اس کے اسباب سب اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے۔ ﴿ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْيَاۙ0044﴾ (اور بلاشبہ اسی نے موت دی اور زندہ کیا) زندگی بخشنے اور موت دینے کی صفات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ کوئی شحص کسی کو زندہ نہیں کرسکتا اور کسی کو موت نہیں دے سکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–48

25:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّہٗ ہُوَاَمَاتَ وَاَحْيَا۝ 44 ۙ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ وَاَنَّـہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 43 تا 47) (بےشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے۔ ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وسعت کی مثالیں اب چند ایسی باتیں بیان کی جارہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت، بےپناہ علم اور بیش بہا نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–44

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔ صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 44: وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْيَا (اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے) ایک قول یہ ہے : اس نے باء کو موت دی اور بیٹوں کو زندہ کیا۔ نمبر 2 کفر سے موت اور ایمان سے زندگی۔ نمبر 3 یہاں موت دی اور وہاں زندہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اضحک وابکی کی تفسیر 43 ۔” وانہ ھو اضحک وابکی “ پس یہ دلالت کرتا ہے کہ جو کچھ انسان عمل کرتا ہے پس اس کی قضاء اور خلق ہے حتیٰ کہ ہنسنا اور رونا بھی۔ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اہل جنت کو جنت میں ہنسایا جائے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں رلایا جائے گا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں زمین کو نباتات کے ذریعے ہنساتا ہے اور آسمان کو بارش کے ذریعے رلاتا ہے۔ عطاء بن ابی مسلم (رح) فرماتے ہیں یعنی خوشی اور غم دیتا ہے۔ اس لئے خوشی ہنسنے کو لاتی ہے اور غم رونے کو۔ سماک بن حرب کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ ؓ کو کہا کیا آپ ؓ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں اور آپ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْيَا) یعنی وجود میں لانے اور معدوم کرنے میں متفرد اور یکتا ہے جس نے مخلوق کو وجود بخشا ان کو اوامر ونواہی عطا کیے وہی ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور دنیا کے اندر انہوں نے جو عمل کیے ہوں گے وہ انہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–44

قول باری ہے (وان لیس للانسان الا ماسعی، اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) یہ بھی مذکورہ بالا آیتوں کے ہم معنی ہے۔ اس آیت سے ایک آزاد اور عاقل بالغ شخص کے تصرفات پر پابندی لگانے کے ابطال کے سلسلے میں انسان کا اپنے غیر پر تصرف کے جواز کے امتناع پر استدلال کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 58] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ پس زندگی و موت کو اس کے سوا کسی اور کے قبضہء قدرت و اختیار میں سمجھنا شرک ہے، جیسا کہ بعض جاہل لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں بزرگ یا فلاں قبر کی توہین کی تو اس نے اسے مار دیا، یا اس کے فلاں جانور کو مار دیا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ بےاصل اور بےحقیقت ہے سو اللہ پاک کے سوا نہ کوئی کسی کو مار سکتا ہے، اور کسی مرجانے والے کو جلا سکتا ہے، کہ مارنا اور جلانا اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب زندگی اور موت بھی اسی وحدہٗ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 44–48

ف 3 ” اقنی “ کے دوسرے معنی ” صاحب جائیداد بناتا ہے “ اور تیسرے معنی ” خوش کرتا ہے “ بھی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:44) (6) وانہ امات داحیا۔ اور بیشک وہی مارتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے۔ امات ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب اماتۃ (افعال) مصدر اس نے مار ڈالا۔ اس نے مارا ۔ وہ مارتا ہے یا مرے گا۔ احیا : ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب۔ احیاء (افعال) مصدر۔ اس نے زندہ کیا۔ اس نے جلایا۔ وہ زندہ کرتا ہے ۔ وہ چلاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) ہر شخص کی عمر پوری ہوجانے کے بعد اس کامرن اور اس میں انسان کالاچار ہونا، یہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر جس کی قدرت میں یہ ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مرنے کے بعد نیک وبد کے حساب وکتاب کے لیے انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرے جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ خدا کو جھٹلاتے ہیں قیامت کے دن جس کا خمیازہ بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–48

[19] یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ پھر جب اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور دکھ بھی تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) اور یہ کہ وہی موت دیتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے۔ یعنی موت و زندگی کا مالک وہی ہے

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہے اور وہی جلاتا ہے اس کے سوا کسی کے قبضہ میں موت وحیات نہیں 44 ؎ زندگی اور موت کا کھیل بھی اسی کے دست قدرت میں ہے کوئی نہیں جو کسی کو موت دے اور کوئی نہیں جو کسی کو زندگی عطا کرے۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اگ روہ اپنی پیدائش پر غور و فکر کرے کہ وہ کس قطرہ منی سے پیدا ہوا ہے اور وہ بھی کہاں ٹپکائی گئی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس قطرہ منی میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں اور یکے بعد دیگرے تخلیقی عمل کس طرح جاری کیا گیا ہے اور پھر صرف پانچ مہینے دس دن کے اندر اس نے کیا سے کیا بنا دیا ہے اور کس طرح اس کو جوڑ کر اس کا سارا نظام چلا دیا ہے اور پھر زندگی کی روح پھونک کر نر و مادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–47

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ (and that He is the One who makes [ one ] laugh and makes [ him ] weep,...53:43) Mankind experiences happiness and grief, and consequently laughing and weeping. Man assigns this to the secondary causes [ which refer to every existent thing in this universe, and that is where he ends the matter. If we analyze carefully and profoundly, the whole system of cause and effect ends with Allah, the Primary and Supreme Cause. No secondary cause makes anyone happy or sad, nor does it make him to laugh or weep. Both of these things are created by Allah. He created the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–45

40 That is, 'AIIah provides the means both for joy and for grief. He controls good and iII Iuck. There is no one else in the Universe, who may have anything to do with making or marring of destinies. "

Read the full tafseer →