An-Najm 53:45

An-Najm · from ayah 45

53:45

وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰی ۟ۙوَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىۙ

اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that He creates the two mates - the male and female -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:45

اور یہ کہ اُسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر ماده پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کے دو جوڑے پیدا کیے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک اسی نے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں قسمیں پیدا کیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد، نر اور ناری پیدا کیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا (کمال حکمت کے ساتھ) جوڑے کے دونوں فردوں نر اور مادہ کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ اسی نے نر و مادہ دونوں جنسوں کو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں جوڑے نر اور مادہ کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ وہی نرومادہ دو طرح کے حیوان پیدا کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and He it is Who created the two kinds, the male and the female,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that He creates the pairs, male and female,

— Muhammad Taqi Usmani

and that He creates the pairs, male and female,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that He creates the pairs, male and female,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that He createth the two spouses, the male and the female,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that He creates the two mates - the male and female -

— Saheeh International

It is He who has created spouses, male and female,

— Muhammad Sarwar

And that He created pairs, the male and the female

— Muhammad Habib Shakir

And that He createth the pair, the male and the female.

— Abdul Majid Daryabadi

That He did create in pairs,- male and female,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–45

سورة النَّجْم 40 یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى، یعنی نوع انسان میں خوشی اور غم اور اس کے نتیجہ میں ہنسنے اور رونے کا سلسلہ ہر شخص دیکھتا ہے اور ان دونوں چیزوں کو ان کے ظاہری طور پر پیش آنے والے اسباب کی طرف منسوب کر کے معاملہ ختم کردیتا ہے، یہاں غور و فکر کی جگہ ہے، گہری نظر سے جو دیکھے گا کہ کسی کی خوشی یا غم اور ہنسنا یا رونا خود اس کے یا کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے وہی اسباب میں تاثیر دیتا ہے وہ جب چاہتا ہے تو رونے والوں کو ایک لمحہ میں ہنسا دیتا ہے، اور ہنسنے والوں کو ایک منٹ میں رلا دیتا ہے، ولنعم ما قیل بگوش گل چہ سخن گفتہ کہ خندان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–47

(وانہ ھوا اضحک وابکی وانہ ھو امات واحیا وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفہ اذا تمنی وان علیہ النشاۃ الاخری) (43، 47) یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں سب کا مولیٰ و مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے اور رلانا بھی، یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور اسی کے اختیار میں دکھ بھی۔ رنج و غم اور نفع و فہ سب اسی کے اختیار میں ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اسی طرح وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ تو جب کسی دوسرے کو نہ موت کے معاملے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–46

وانہ ........ والانثیٰ (35 : 54) من ........ تمنیٰ (35 : 64) ” اور اس نے نر اور مادے کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے جو اس دنیا میں ہر لمحے میں واقع ہوتی ہے چونکہ یہ عظیم واقعہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے انسان اسے بھول جاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا معجزہ اور عجوبہ ہے جو تمام تخیلاتی عجوبوں سے زیادہ عجیب ہے۔ ایک نطفہ ، ایک بوند جو گرتی ہے جو انسانی جسم کا ایک لیسدار مادہ ہے اور یہ اسی قدر زیادہ ہے جس طرح پسینہ ، آنسو اور دوسرے مواد۔ ایک وقت گزرنے کے بعد یہ کیا سے کیا بن جاتا ہے پھر یہ مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مذکر ومونث بن جاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–45

13 یعنی اس عالم میں تمام متضاد و متقابل احوال اسی نے پید اکیے ہیں۔ خیر و شر کا خالق وہ ہی ہے جو خوشی یا غم کی کیفیات بھیجتا ہنساتا رلاتا، مارتا، جلاتا اور کسی کو نر کسی کو مادہ بنانا اسی کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 45–46

آیت 45 ‘ 46{ وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں جوڑے نر اور مادہ کے ‘ ایک ہی بوندھ سے جبکہ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 45–47

32 یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لاسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلامقصد اور بےنتیجہ نہیں ہوا کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–46

35۔ (رحم مادر میں) آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ تمام واقعات غم ومسرت، سارے اسباب موت وحیات، ہر قسم کی تخلیق کی اصلی اور آخری علت صرف ذات حق تعالیٰ ہے، کوئی ان صفات میں اس کا شریک وسہیم نہیں اور نہ اس کے یہ صفات وافعال مختلف دیویوں ودیوتاؤں کے درمیان تقسیم ہیں کہ جلانا اور پیدا کرنا کسی اور کے ہاتھ میں اور مارنا اور فنا کرنا کسی اور کے اختیار میں، خوش نصیبی کا تعلق فلاں سے ہو اور بدنصیبی کا فلاں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–47

وانہ ھو اضحک وابکی یعنی خوشی اور غمی دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت اور مسرت نصیب ہوتی ہے تو اسی کے دینے سے ہوتی ہے اور اگر کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پڑتا ہے تو اسی کی مشیت سے پڑتا ہے کوئی دوسری ہستی اس کا ئئنات میں ایسی نہیں کہ جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ خلق الزوجین الذکر الانثی اور یہ کہ وہی دونوں قسم یعنی نر اور مادہ کو بناتا ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–49

(45۔ 49) اور وہی دونوں قسم یعنی نر و مادہ کو نطفہ سے بناتا یا یہ کہ پیدا کرتا ہے جبکہ نطفہ رحم عورت میں ڈالا جاتا ہے اور یہ کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا اسی کے ذمہ ہے اور وہی نفس کو خلقت سے غنی کرتا ہے اور وہی اس کی خلقت کو اس کے نفس کا محتاج بناتا ہے یا یہ کہ وہی خلقت کو پسندیدہ اور قناعت کرنے والا یا صابر بناتا ہے یا یہ کہ وہی مال دے کر غنی کرتا ہے اور جو دیتا ہے اس پر اسے راضی کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہی سونے اور چاندی کے ذریعے سے غنی کرتا ہے اور اونٹ گائے اور بکریاں دے کر سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی مالک ہے سیارہ شعری کا بھی یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ رہتا ہے اس ستارہ کی قبیلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–49

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

وانہ خلق الزوجین الذکر و الانثی۔ مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضتر حواء مراد نہیں کیونکہ مذکر و مونث نطفہ سے پیدا کئے گئے ہیں (جبکہ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی تخلیق نطفہ سے نہیں ہوئی) نطفہ سے مراد قلیل پانی ہے یہ نطف الماء سے مشتق ہے جب وہ قطرہ بن کر گرے۔ تمنی۔ جسے رحم میں ٹپ کایا جاتا ہے اور بہایا جاتا ہے۔ کلبی، ضحاک اور عطا بن ابی رباح نے کہا یہ جملہ کہا اجتا ہے : منی الرجل وامنی (3) منی سے مشتق ہے منیٰ کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں خونوں کو بہایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمنی کا معنی ہے (1) اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت روتے اور تھوڑا ہنستے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی '' (بلاشبہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) پھر آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا میں چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی ''۔ 8:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ [ اس نے پیدا کیے دو جوڑے ] الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى [ مذکر اور مؤنث ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–49

اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے : ﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ0045 ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى0046﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ0047 ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–48

25:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى۝ 45 ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ وَاَنَّـہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 43 تا 47) (بےشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے۔ ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وسعت کی مثالیں اب چند ایسی باتیں بیان کی جارہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت، بےپناہ علم اور بیش بہا نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–47

فہم القرآن ربط کلام : جو ” رب “ موت وحیات پر قادر ہے اسی نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم، حضرت حوا ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا ہر انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے جسے عورت کے رحم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نَر یا مادہ کی شکل میں پیدا کرتا ہے۔ ” تُمْنٰی “ کا معنٰی ہے مقدر میں کیا جانا، آزمایا جانا، توفیق دیاجانا اور امتحان لیا جانا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کو بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے۔ ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 45: وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى (اور یہ کہ وہی دونوں قسم نر اور مادہ کو نطفہ سے بناتا ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

44 ۔” وانہ ھو امات واحیا “ یعنی دنیا میں موت دی اور بعث کے لئے زندہ کیا اور کہا گیا ہے کہ آباء کو موت دی اور اولاد کو حیات دی اور کہا گیا ہے کہ کافر کو عدم معرفت کے ذریعے موت دی اور مومن کو معرفت کے ذریعے زندگی دی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ ) اور بلاشبہ اسی نے جوڑے بنائے پھر ان جوڑوں کی تفسیر بیان فرمائی۔ ( الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى) نر اور مادہ۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام حیوانات، ناطق اور غیر ناطق جانروں سب کو شامل ہے وہ ان کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–62

مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–47

[ 60] بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ زندہ کرنا۔ یعنی جب تم سب کو پیدا اسی نے کیا اور اس قدر پُر حکمت طریقے سے پیدا کیا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ تم کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے، تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا حساب دے اور اس کے مطابق اس کا بدلہ پاس کے، نیکوکار اپنی نیکی کا، اور بدکار اپنی بدی کا، چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اس لئے اس کو اس طرح مؤکد طریقے سے بیان فرمایا کہ ان تاکید یہ بھی لایا گیا، اور علی کا کلمہء استعلاء بھی جو کہ وجوب والزام کیلئے ہے، یعنی اس نے اپنے وعدہء کرم سے اس دوباہ زندہ کرنے کو خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 44–48

ف 3 ” اقنی “ کے دوسرے معنی ” صاحب جائیداد بناتا ہے “ اور تیسرے معنی ” خوش کرتا ہے “ بھی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:45) (7) وانہ خلق الزوجین الذکرو الانثی۔ اور یہ کہ بیشک اسی نے پیدا کیا یا وہی پیدا کرتا ہے جوڑے کو۔ ایک نر اور ایک مادہ۔ لغات القرآن میں الزوجین کے معنی یوں درج ہیں :۔ وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نظیر ہو یا نقیض ہو ۔ جوڑا۔ زوج کا تثنیہ بحالت نصب و جز۔ آیت شریفہ ومن کل شیء خلقنا زوجین اور ہر چیز کے بنائے جوڑے “۔ میں بعض نے زوجین کے معنی نر اور مادہ کے لئے ہیں اور بعض نے مرکب کے۔ اور صحیح وراجح معنی صنفوں اور قسموں کے ہیں ہر شے کی ہم نے دو قسمیں کی ہیں اور قسم سے مراد مقابل ہے یعنی ہر شے میں خوئی نہ کوئی صفت ذاتی یا عرضی ایسی ہے جس سے دوسری شے جس میں اس صفت کی ضد اور نقیض ملحوظ ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–46

(ف 1) ایک قطرہ منی عورت کے رحم میں جا کر کبھی اس سے لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی یہ بھی اللہ کی قدرت ہے جس میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ورنہ جو لوگ لڑکی کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں وہ لڑکی کے نہ پیدا ہونے کا ضرور کوئی علاج کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–48

[19] یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ پھر جب اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور دکھ بھی تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) اور یہ کہ وہی دونوں قسمیں نر اور مادہ کی پیدا کرتا ہے۔ ہر انسان اور حیوان کے جوڑے نر اور مادہ کے وہی پیدا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا 45 ؎ جنس انسان کی دونوں اصناف یعنی نر و مادہ کو پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کہ نر کو قرار مکین میں داخلکر دے یا مادہ کو یا ان دونوں میں سے کسی کو طاقت و قوت میں زیادہ کر دے کہ اس بیج یا خلیہ میں کس کی طاقت و قوت حاوی ہے کہ شکل و صورت اختیار کرتے وقت وہ نر کی صورت اختیار کرے گا یا مادہ کی۔ انسان اپنی دسترس سے جو تجربات کر رہا ہے ان تجربات میں اگر اس کو یہ بات حاصل بھی ہوجائے کہ اس بیج سے نر پیدا ہو سکتا ہے اور اس سے مادہ تو عین ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ سوائے خسارہ اور گھاٹا کے کچھ حاصل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–47

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ (and that He is the One who makes [ one ] laugh and makes [ him ] weep,...53:43) Mankind experiences happiness and grief, and consequently laughing and weeping. Man assigns this to the secondary causes [ which refer to every existent thing in this universe, and that is where he ends the matter. If we analyze carefully and profoundly, the whole system of cause and effect ends with Allah, the Primary and Supreme Cause. No secondary cause makes anyone happy or sad, nor does it make him to laugh or weep. Both of these things are created by Allah. He created the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–45

40 That is, 'AIIah provides the means both for joy and for grief. He controls good and iII Iuck. There is no one else in the Universe, who may have anything to do with making or marring of destinies. "

Read the full tafseer →