An-Najm 53:43

An-Najm · from ayah 43

53:43

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰی ۟ۙوَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَاَبۡكٰىۙ

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that it is He who makes [one] laugh and weep

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:43

اور یہ کہ اُسی نے ہنسایا اور اُسی نے رلایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رﻻتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ وہی (خوشی دے کر) ہنساتا ہے اور (غم دے کر) رُلاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اسی نے ہنسایا اور رلایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک وہی ہے جو ہنساتا اور لاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that He it is Who causes people to laugh and to cry,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that He is the One who makes (one) laugh and makes (him) weep,

— Muhammad Taqi Usmani

and that He is the One who makes (one) laugh and makes (him) weep,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that it is He Who makes laugh, and makes weep.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that He it is who maketh laugh, and maketh weep,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that it is He who makes [one] laugh and weep

— Saheeh International

It is He who causes laughter and weeping.

— Muhammad Sarwar

And that He it is Who makes (men) laugh and makes (them) weep;

— Muhammad Habib Shakir

And that it is He Who causeth to laugh and causeth to weep.

— Abdul Majid Daryabadi

That it is He Who granteth Laughter and Tears;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–45

سورة النَّجْم 40 یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى، یعنی نوع انسان میں خوشی اور غم اور اس کے نتیجہ میں ہنسنے اور رونے کا سلسلہ ہر شخص دیکھتا ہے اور ان دونوں چیزوں کو ان کے ظاہری طور پر پیش آنے والے اسباب کی طرف منسوب کر کے معاملہ ختم کردیتا ہے، یہاں غور و فکر کی جگہ ہے، گہری نظر سے جو دیکھے گا کہ کسی کی خوشی یا غم اور ہنسنا یا رونا خود اس کے یا کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے وہی اسباب میں تاثیر دیتا ہے وہ جب چاہتا ہے تو رونے والوں کو ایک لمحہ میں ہنسا دیتا ہے، اور ہنسنے والوں کو ایک منٹ میں رلا دیتا ہے، ولنعم ما قیل بگوش گل چہ سخن گفتہ کہ خندان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–47

(وانہ ھوا اضحک وابکی وانہ ھو امات واحیا وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفہ اذا تمنی وان علیہ النشاۃ الاخری) (43، 47) یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں سب کا مولیٰ و مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے اور رلانا بھی، یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور اسی کے اختیار میں دکھ بھی۔ رنج و غم اور نفع و فہ سب اسی کے اختیار میں ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اسی طرح وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ تو جب کسی دوسرے کو نہ موت کے معاملے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ ............ وابکی (35 : 34) ” اور یہ کہ اس نے ہنسایا اور اسی نے رلایا “ اس آیت کے ضمن میں بہت ہی بڑے حقائق آتے ہیں اور اس آیت میں حکمت و دانش کے کئی رنگ ہیں کئی تصاویر ہیں۔ پہلا معنی تو یہ ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر ہنسنے اور رونے کی صلاحیت رکھی۔ یہ دونوں صفات اسی انسان کی تخلیق کے رازوں میں سے راز ہیں۔ انسان کو معلوم نہیں کہ وہ کس طرح روتا ہے اور ہنستا ہے۔ انسان کی پیچیدہ تخلیق میں کس طرح ان دونوں متضاد صفات اور تاثرات کو ایک جگہ رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کی نفسیاتی پیچیدگیاں اس کی عضویاتی پیچیدگیوں سے کم نہیں ہیں اور اس کے اندر کی عضویاتی اور نفسیاتی جذبات اور موثرات ایک دوسرے کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–45

13 یعنی اس عالم میں تمام متضاد و متقابل احوال اسی نے پید اکیے ہیں۔ خیر و شر کا خالق وہ ہی ہے جو خوشی یا غم کی کیفیات بھیجتا ہنساتا رلاتا، مارتا، جلاتا اور کسی کو نر کسی کو مادہ بنانا اسی کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43{ وَاَنَّـہٗ ہُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔“ یعنی اچھے برے حالات ‘ خوشی ‘ غم ‘ تکلیف ‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 43–44

31 یعنی ہر شخص کا رنج و راحت، مسرت اور غم وغیرہ دونوں طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ ہر شخص کی قسمت کو اتفاقاً بھی اور تدریجاً بھی بدل دینے کی قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–46

35۔ (رحم مادر میں) آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ تمام واقعات غم ومسرت، سارے اسباب موت وحیات، ہر قسم کی تخلیق کی اصلی اور آخری علت صرف ذات حق تعالیٰ ہے، کوئی ان صفات میں اس کا شریک وسہیم نہیں اور نہ اس کے یہ صفات وافعال مختلف دیویوں ودیوتاؤں کے درمیان تقسیم ہیں کہ جلانا اور پیدا کرنا کسی اور کے ہاتھ میں اور مارنا اور فنا کرنا کسی اور کے اختیار میں، خوش نصیبی کا تعلق فلاں سے ہو اور بدنصیبی کا فلاں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–47

وانہ ھو اضحک وابکی یعنی خوشی اور غمی دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت اور مسرت نصیب ہوتی ہے تو اسی کے دینے سے ہوتی ہے اور اگر کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پڑتا ہے تو اسی کی مشیت سے پڑتا ہے کوئی دوسری ہستی اس کا ئئنات میں ایسی نہیں کہ جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ ھو اضحک وابکی . اور یہ کہ وہی ہنستا اور رلاتا ہے۔ یعنی بندے جو اعمال کرتے ہیں ‘ ان کا خالق اللہ ہی ہے ‘ یہاں تک کہ ہنسی اور گریہ بھی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ عطاء بن ابی مسلم نے کہا : یعنی وہی خوش کرتا ہے اور وہی غمگین کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : یعنی وہی جنت کے اندر اہل جنت کو ہنسائے گا اور وہی دوزخ کے اندر دوزخیوں کو رلائے گا۔ ضحاک نے کہا : وہی زمین کو سبزہ پیدا کر کے ہنساتا ہے اور وہی بصورت بارش آسمان کو رلاتا ہے۔ بغوی نے حضرت جابر ؓ بن سمرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام ؓ (رسول اللہ ﷺ کے پاس) بیٹھ کر باہم شعر خوانی کرتے اور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تھے۔ حضور ﷺ بھی ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) اور وہی اہل جنت کو ایسی نعمتیں دیتا ہے جس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور وہی دوزخیوں کو ایسی ذلت دیتا ہے جو ان کے رنج و غم کا باعث ہوتی ہے اور یہ کہ وہی دنیا میں مارتا ہے اور آخرت میں جلاتا ہے یا یہ کہ آباء کو مارتا ہے اور اولاد کو زندہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–49

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وانہ ھو اضحک وابکی۔ واسطے ختم ہوگئے اور حقائق اللہ تعالیٰ کے لئے باقی رہ گئے اس کے سوا کوئی فاعل نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے : نہیں اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی یہ نہیں کا کہ میت کو کسی کے رونے سے عذاب ہوتا ہے (2) بلکہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کافر کے حق میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب میں اضافہ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی رلاتا ہے اور ہنساتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ آپ سیی ہ بھی مروی ہے : نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو ہنس رہے تھے۔ فرمایا :” اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت روتے اور تھوڑا ہنستے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی '' (بلاشبہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) پھر آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا میں چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی ''۔ 8:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ [وہ ] اَضْحَكَ [ ہنساتا ہے ] وَاَبْكٰى [ اور رلاتا ہے ] ( آیت ۔ 43 ۔ 44) اضحک ، ابکی ، امات ، اور احیا ، یہ سب ماضی کے صیغے ہیں لیکن ان کا ترجمہ حال میں ہوگا کیونکہ یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ (دیکھیں آیت 2:49، نوٹ ۔ 2)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 43–44

اللہ تعالیٰ نے ہی ہنسایا اور رلایا : ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ0043﴾ (اور بلاشبہ اسی نے ہنسایا اور رلایا) ہنسنا اور رونا اور اس کے اسباب سب اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے۔ ﴿ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْيَاۙ0044﴾ (اور بلاشبہ اسی نے موت دی اور زندہ کیا) زندگی بخشنے اور موت دینے کی صفات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ کوئی شحص کسی کو زندہ نہیں کرسکتا اور کسی کو موت نہیں دے سکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–48

25:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–62

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّہٗ ہُوَاَضْحَكَ وَاَبْكٰى۝ 43 ۙ ضحك الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ. قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] ، ويدلّ علی ذلك أيضا قوله : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ إلى قوله : عَجِيبٌ [هود/ 72] ، وقول من قال : حاضت، فلیس ذلک تفسیرا لقوله : فَضَحِكَتْ كما تصوّره بعض المفسّرين «1» ، فقال : ضَحِكَتْ بمعنی حاضت، وإنّما ذکر ذلک تنصیصا لحالها، وأنّ اللہ تعالیٰ جعل ذلک أمارة لما بشّرت به، فحاضت في الوقت ليعلم أنّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–47

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ وَاَنَّـہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 43 تا 47) (بےشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے۔ ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وسعت کی مثالیں اب چند ایسی باتیں بیان کی جارہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت، بےپناہ علم اور بیش بہا نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–44

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔ صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 43: وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى ( اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے) یعنی ہنسنے اور رونے کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ ایک قول : نمبر 1 اس نے حزن و مزاح کو پیدا کیا، نمبر 2، وہ مومن کو عطیات دیکر آخرت میں ہنسائے گا اور دنیا میں نوائب و مصائب سے رلائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42 ۔” وان الی ربک المنتھیٰ “ یعنی مخلوق کی انتہا اور ان کا لوٹنا اس کی طرف ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا اور کہا گیا ہے اسی سے احسان کی ابتداء ہے اور اس کی طرف امیدوں کی انتہاء ہے۔ ابی بن کعب ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وان الی ربک المنتھیٰ “ کے بارے میں روایت کیا ہے ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ رب تعالیٰ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو، یہ اس کی مثل ہے جو ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت کی گئی ہے کہ تم مخلوق میں غور و فکر کرو، خالق میں غور و فکر ن کرو کیونکہ غور و فکر اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى) یعنی وہی ہے جو ہنسنے اور رونے کے اسباب وجود میں لاتا ہے یہ اسباب خیر شر، فرحت مسرت اور حزن وغم پر مشتمل ہیں اور ہنسانے اور رلانے کے اندر اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پوشیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–44

قول باری ہے (وان لیس للانسان الا ماسعی، اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) یہ بھی مذکورہ بالا آیتوں کے ہم معنی ہے۔ اس آیت سے ایک آزاد اور عاقل بالغ شخص کے تصرفات پر پابندی لگانے کے ابطال کے سلسلے میں انسان کا اپنے غیر پر تصرف کے جواز کے امتناع پر استدلال کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–43

[ 57] خوشی و غمی کے اسباب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہنساتا بھی ہے اور وہی رلاتا بھی ہے۔ یعنی خوشی بھی اسی کی طرف سے ہوتی ہے، اور غمی بھی اسی کی طرف سے، پس تم لوگ ہمیشہ اسی کو راضی کرنے کی فکر اور کوشش کرو تاکہ تمہیں فرحت و سرور نصیب ہوسکے، اور اس کی ناراضگی و عتاب سے بچتے رہا کرو، تاکہ تم غموں اور صدموں سے بچ سکو، اللہ توفیق عطا فرمائے، آمین، پس اس ارشاد سے اس بات کی دلیل بیان فرما دی گئی کہ سب کا مولیٰ اور مرجع اللہ تعالیٰ ہی کیوں ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے، اور رلانا بھی، وہی خوشی کے اسباب پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–62

یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔ آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–43

ف 2 یعنی راحت ہو یا مصیبت، خوشی ہو یا غم لذت ہو یا تکلیف دونوں کا خالق اور مسبب الاسباب وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:43) (5) اور یہ کہ بیشک وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے خوشیوں اور مسرتوں کو دے کر ہنسانا اور غم و اندوہ میں مبتلا کرکے رلانا اسی کے بس میں ہے۔ اضحک ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب۔ اس نے ہنسایا، یا وہ ہنساتا ہے۔ اضحاک (افعال) مصدر سے۔ اور ابکی ماضی بمعنی مستقبل صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ابکار (افعال) مصدر سے اس نے رلایا۔ وہ رلاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

خوشی غمی ، زندگی موت کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ (ف 2) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوشی اور غمی کے سبب ایسے پیدا کیے ہیں جس سے اس کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوتی ہے ، اور انسان کو ان سے اللہ تعالیٰ کے پہچاننے کا بڑا موقع ملتا ہے، مثلا بڑے سے بڑے امیر شخص کو عزیزوں کے مرنے یا کسی سخت مرض وغیرہ کے سبب سے کبھی ایسا رنج وغم پیش آجاتا ہے کہ ہر گھری اسے رونے سے کام رہتا ہے اس کا مال اس کے یار مددگار اس کے ہنسی خوشی رہنے کی کوئی صورت نہیں نکال سکتے اور کبھی آدمی کو ایسی ہنسی خوشی سے رہنے کا ایسا سامان گیب سے پیدا ہوجاتا ہے کہ جو بیان سے باہر ہے پس وہی شادی وغم کا مالک ہے بہت لوگوں کو ہنسایا، عیش دیا، بہت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–48

[19] یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ پھر جب اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور دکھ بھی تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور یہ کہ وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے۔ یعنی ہر قسم کی خوشی اور غم کا سامان اسی کے اختیار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے 43 ؎ زندگی میں ہر انسان ہنستا بھی ہے اور روتا بھی یعنی اس کو ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جن حالات میں انسان کو خوشی ہوتی ہے اور ہنسی آتی ہے اور ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ وہ مغموم ہوتا ہے اور اس کو رونا آتا ہے اور پھر زندگی میں کتنے ہی مواقع ایسے آتے ہیں کہ ہنستے کھیلتے لوگ رونا شروع کردیتے ہیں اور ابھی رونے سے آنکھیں نم ہوتی ہیں کہ آدمی ہنسنے لگتا ہے۔ نظام الٰہی میں یہ حالات اللہ رب کریم ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہی ہے جو ان دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے۔ کوئی دوسرا ایسا نہیں جو کسی کی قسمت بنانے یا بگاڑنے والا ہو۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–47

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ (and that He is the One who makes [ one ] laugh and makes [ him ] weep,...53:43) Mankind experiences happiness and grief, and consequently laughing and weeping. Man assigns this to the secondary causes [ which refer to every existent thing in this universe, and that is where he ends the matter. If we analyze carefully and profoundly, the whole system of cause and effect ends with Allah, the Primary and Supreme Cause. No secondary cause makes anyone happy or sad, nor does it make him to laugh or weep. Both of these things are created by Allah. He created the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–45

40 That is, 'AIIah provides the means both for joy and for grief. He controls good and iII Iuck. There is no one else in the Universe, who may have anything to do with making or marring of destinies. "

Read the full tafseer →