An-Najm 53:42

An-Najm · from ayah 42

53:42

وَاَنَّ اِلٰی رَبِّكَ الْمُنْتَهٰی ۟ۙوَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰىۙ

اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that to your Lord is the finality

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:42

اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ آخر کار (سب کو) تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ (بالآخر سب کو) آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ سب کو آپ کے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ سب کا منتہیٰ تیرے رب کی طرف ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ آخرکار تمہارے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے (سب کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ (سب کو) آپ کے پروردگار کے پاس ہی پہنچنا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ بالآخر پہنچنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ تمہارے رب کے پاس پہنچنا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and that the final end is with your Lord,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that to your Lord is the end (of every one),

— Muhammad Taqi Usmani

and that to your Lord is the end (of every one),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that to your Lord is the End.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that to your Lord is the finality

— Saheeh International

To your Lord will all things eventually return.

— Muhammad Sarwar

And that to your Lord is the goal-

— Muhammad Habib Shakir

And that Unto thy Lord is the goal.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–42

سورة النَّجْم 39 یعنی آخرت میں لوگوں کے اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے۔ یہ فقرہ چونکہ پہلے فقرے کے معاً بعد ارشاد ہوا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ پہلے فقرے کا تعلق آخرت کی جزا و سزا ہی سے ہے اور ان لوگوں کی بات صحیح نہیں ہے جو اسے اس دنیا کے لیے ایک معاشی اصول بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہیں ہوسکتا جو سیاق وسباق کے بھی خلاف ہو، اور قرآن کی دوسری تصریحات سے بھی متصادم ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى، مراد یہ ہے کہ آخر کار سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اعمال کا حساب دینا ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے اس جملہ کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ انسانی غور و فکر کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے، اس کی ذات وصفات کی حقیقت کسی غور و فکر سے نہ حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ اس میں غور و فکر کی اجازت، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کرو اس کی ذات میں غور و فکر نہ کرو بلکہ اس کو علم الٰہی کے سپرد کرو وہ تمہارے بس کا نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وان الی ربک المنتھی) (42) (سب کا مرجمع صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا)۔ اور یہ بات بھی واضح رہے کہ سب کی بازگشت تیرے رب ہی کی طرف ہوگی۔ اس مغالطے میں کوئی نہ رہے کہ تیرے رب کے سوا کسی کا مولیٰ و مرجع کوئی اور بھی ہے جو اس کو خدا کی باز پرس سے بچا لے گا، یا خدا کے فیصلوں کے خلاف وہ کوئی مرافعہ اس کی عدالت میں کرسکے گا۔ خدا ہی کے حضور میں سب کی پیشی بھی ہوگی اور خدا کے فیصلے بالکل آخری اور حتمی بھی ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان الی ربک المنتھیٰ (35 : 24) ” اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے “ لہٰذا کوئی اور راستہ نہیں ہے جو بھی راستہ ہے اس کی انتہا اللہ کے دربار پر ہونی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور جائے پناہ نہیں۔ صرف اس کی پناہ گاہ ہے یا جنتوں میں ہے اور یا دوزخ میں ہے۔ اس حقیقت کا اثر انسانی شعور انسانی تصور اور انسانی عمل پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے حضور حاضری کے سوا تو کوئی چارہ نہیں لہٰذا وہ اپنے طرف عمل اور اپنے نفس کو اس کے لئے تیار کرتا ہے اور اس معاملے میں وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کے استطاعت میں ہو اور اس کا قلب ونظر اپنے آخری انجام کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی تمام علوم و افکار اور سلسلہ وجود کی انتہاء اسی پر ہوتی ہے اور سب کو آخرکار اسی کے پاس پہنچنا ہے۔ وہیں سے ہر ایک کو نیکی بدی کا پھل ملے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42{ وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہٰی۔ } ”اور یہ کہ بالآخر پہنچنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 یعنی ہر شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کا منتہیٰ بھی وہی ذات ہے۔ لہذا وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بھی اور اثرات کا بھی پورا پورا بدلہ دے دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

34۔ (سو ان اطلاعات کے باوجود یہی انسان کا اپنے انجام کی طرف سے نڈر اور اپنی فلاح کی طرف سے غافل اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ رہناکیسا عجیب ہے) (آیت) ” الجزآء الاوفی “۔ اس میں تنبیہ ہے کہ جزائے اعمال بالکل پوری پوری ملے گی۔ وہاں کے حساب کتاب میں کسی غلطی، دھوکے، فروگذاشت، بھول چوک کا امکان نہیں۔ (آیت) ” الی ربک المنتھی “۔ اتنے جزء سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر آغاز کا انجام ہوتا ہے کوئی چیز لاانتہاء اور بےنہایت نہیں ہوتی، دوسرے یہ کہ ہر شے کا آخری رجوع حق تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–42

وان سعیہ سوف یری (آلایۃ) یعنی دنیا میں اس نے جو بھی اچھا یا برا کیا چھپ کر کیا یا علانیہ کیا قیامت کے دن سامنے آجائے گا، اس پر اسے پوری جزاء دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان الی ربک المنتھی . اور یہ کہ (سب کو) آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے۔ اَلْمُنْتَھٰی : مصدر ہے ‘ بمعنی انتہاء۔ یہ جملے تمام سابق جملوں کے صحف ابراہیم و صحف موسیٰ میں مندرج تھے۔ بغوی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰیکی تشریح میں فرمایا : رب (کی ذات وصفات) میں کوئی غور نہیں ‘ یعنی ہر سوچ اور غور کی انتہاء رب پر ہے ‘ وہاں تک پہنچ کر ہر غور و فکر کی رفتار ختم ہوجاتی ہے۔ بغوی کی اس حدیث کا مضمون اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مخلوق میں غور کرو ‘ خالق (کی ذات وصفات) میں غور مت کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا نیکی ہوگی تو اچھا اور برائی ہوگی تو برا بدلہ ملے گا اور یہ کہ مرنے کے بعد آخرت میں سب کو آپ کے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔ شان نزول : ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى (الخ) اور دراج ابی اسمح سے روایت کی گئی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں نکلا تو ایک شخص نے رسول اکرم سے سواری کی درخواست کی آپ نے فرمایا میں تو کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس پر تجھ کو سوار کردوں وہ شخص آپ کے پاس سے غمگین ہو کر لوٹا، چناچہ اس کا گزر ایک شخص پر سے ہوا کہ اس کی سواری اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی اس نے اس سے اپنی فرمائش کی وہ شخص کہنے لگا کیا تجھے یہ منظور ہے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وان الی ربک المنتھی : یعنی ہر شخص نے آخر کام اپنے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے ، جیسا کہ فرمایا :”کل الینا راجعون“ (الانبیائ : 93) ”سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں“۔ ایک مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ تمام علوم و افکار کا سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا کر ختم ہوجاتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰہَا اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَہٰہَا) (النازعات : 42۔ 44) ”وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے ؟ اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے ؟ تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہاء ہے“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وان الی ربک المنتھی۔ منتھی سے مرجع، مرد اور مصیر مراد ہے یعنی لوٹنے کی جگہ پس وہ سزا دے گا یا بدلہ دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسی کی جانب سے احسان کا آغاز ہے اور اسی کے ہاں امان کی انتہا ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان و ان الی ربک المنتھی کے بارے میں فرمایا :” رب العالمین کی ذات میں کوئی سوچ و بچار نہیں ہو سکتی۔ “ (3) حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو رک جا۔ “ (4) میں کہتا ہوں : اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :” شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے وہ کہتا ہے فلاں کو کس نے پیدا کیا فلاں کو کس نے پیدا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ ، الدارقطنی فی الافراد اور البغوی نے اپنی تفسیر میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) '' وان الی ربک المنتھی '' کے بارے میں فرمایا کہ رب تعالیٰ کے بارے میں سوچ وبچار نہیں ہے۔ اور سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان الی ربک المنتھی '' (اور سب کو آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے) سے مراد ہے کہ نہیں ہے سوچ وبچار رب تعالیٰ کے بارے میں۔ 2:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں غورفکر کررہے تھے آپ نے فرمایا مخلوق میں غوروفکر کرو اور خالق میں غوروفکر نہ کرو کیونکہ تم اس پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ [ اور یہ کہ آپ کے رب کی طرف ہی ] الْمُنْتَهٰى [ رکنے کی جگہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى ۙ0042﴾ (اور یہ کہ تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے) اس دنیا میں جتنی بھی زندگی گزارلے آخر مرنا ہے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا ہے حسنات اور سیئات کا حساب دینا ہے یہ آیت کی ایک تفسیر ہے، دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ، کی مخلوقات میں غور کریں ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کے بارے میں غور نہ کریں کیونکہ اس کا ادراک نہیں ہوسکتا صاحب روح المعانی نے اس بارے میں بعض احادیث بھی نقل کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

24:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَہٰى۝ 42 ۙ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی۔ (النجم : 42) (اور یہ کہ سب کا منتہیٰ تیرے رب ہی کی طرف ہے۔ ) سب کا مرجع صرف اللہ تعالیٰ ہے ہر مسافر کی ایک منزل ہے، اور ہر چیز کا ایک مرجع ہے۔ تمام مخلوقات بالخصوص جن و انس اپنے رب ہی کی طرف پلٹیں گے چونکہ وہی ان کی انتہا اور وہی ان کی منزل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا مولیٰ و مرجع کوئی نہیں، جو اسے اللہ تعالیٰ کی بازپرس سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا اس کی عدالت کے بعد کوئی عدالت نہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–44

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔ صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 42: وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (اور یہ کہ سب آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے) یہ تمام باتیں صحف اولی کی ہیں، المنتھی یہ مصدر ہے جس کا معنی انتہا ہے، مخلوق اسی تک پہنچے گی اور اس کی بارگاہ میں لوٹے گی، جیسا کہ فرمایا : والی اللہ المصیر (آل عمران : 28)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41 ۔” ثم یجزاہ الجزاء الارفی “ مکمل یعنی انسان اپنی سعی کی جزاء دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” جزیت فلانا سعیہ وبسعیہ “ شاعر کہتا ہے : تو علقمہ ابن سعد کو اس کی سعی کی جزاء دے میں اس کو ایک دن کی مصیبت کی بھی جزاء نہیں دے سکتا۔ پس ساعر نے دونوں لغتوں کو جمع کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–55

42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى) یعنی تمام معاملات کو تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے تمام اشیا اور تمام مخلوقات دوبارہ زندہ ہو کر اسکی طرف لوٹیں گی ہرحال میں منتہی اللہ کی طرف ہے علم کی انتہا پر اللہ تعالیٰ کے حکم رحمت اور تمام کمالات کی انتہا اللہ تعالیٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–44

قول باری ہے (وان لیس للانسان الا ماسعی، اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) یہ بھی مذکورہ بالا آیتوں کے ہم معنی ہے۔ اس آیت سے ایک آزاد اور عاقل بالغ شخص کے تصرفات پر پابندی لگانے کے ابطال کے سلسلے میں انسان کا اپنے غیر پر تصرف کے جواز کے امتناع پر استدلال کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–43

[ 57] خوشی و غمی کے اسباب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہنساتا بھی ہے اور وہی رلاتا بھی ہے۔ یعنی خوشی بھی اسی کی طرف سے ہوتی ہے، اور غمی بھی اسی کی طرف سے، پس تم لوگ ہمیشہ اسی کو راضی کرنے کی فکر اور کوشش کرو تاکہ تمہیں فرحت و سرور نصیب ہوسکے، اور اس کی ناراضگی و عتاب سے بچتے رہا کرو، تاکہ تم غموں اور صدموں سے بچ سکو، اللہ توفیق عطا فرمائے، آمین، پس اس ارشاد سے اس بات کی دلیل بیان فرما دی گئی کہ سب کا مولیٰ اور مرجع اللہ تعالیٰ ہی کیوں ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے، اور رلانا بھی، وہی خوشی کے اسباب پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–42

کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214) اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–43

ف 2 یعنی راحت ہو یا مصیبت، خوشی ہو یا غم لذت ہو یا تکلیف دونوں کا خالق اور مسبب الاسباب وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:42) (4) وان الی ربک المنتھی : اور یہ کہ بیشک (ہرچیز کی) انتہاء تیرے رب تک (ختم) ہے منتھی انتھاء سے مصدر میمی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) مسند بزاز اور طبرانی میں معاذ بن جبل کی صحیح حدیث ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر ایک انسان کو ضرور قیامت کے دن ان باتوں کے جواب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہوناپڑے گا کہ عمر اور جوانی کس کام میں صرف کی ، عمل کیا کیا کیے ، روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور کہاں خرچ کیا یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–42

[18] یعنی آخرت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) اور یہ کہ آپ کے پروردگار ہی کی طرف سب کو پہنچنا ہے - یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سب کی انتہا ہے اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہاں ! سب کو اپنے پروردگار حقیقی کے ہاں پہنچنا ہے خواہ وہ کوئی ہے اور کون ہے 42 ؎ فکر انسانی کی انتہا کیا ہے ؟ یہی سعی و کوشش کی انتہا ہے کہ وہ اپنی دنیا کے سنوارنے کی سعی و کوشش کرے اور اس کی سعی و کوشش اس طریقہ سے ہو کہ اس کی آخرت برباد نہ ہوجائے کیونکہ اس کی انتہا اس کی آخرت ہے اور اس سے آگے کچھ نہیں یعنی اس سے آگے اس کی کوشش اور سعی بیکار ہے۔ اس سے آگے کیا ہے ؟ اس سے آگے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے جو خالق کل ہے اور خالق کے متعلق غور و فکر کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ وہ ذہن انسانی سے ماورا ہے اور عقل انسانی اس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور یہ بھی کہ ہر انسان کی انتہا رب کریم ہی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَأَنَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ الْمُنتَهَىٰ (and that to your Lord is the end [ of every one ],... 53:42) This means that ultimately everyone will return to Allah on the Day of Resurrection, and give an account of his actions. Some of the commentators interpret that this statement purports to say that the access of human thought and imagination ends with Allah. The reality of His Being and attributes cannot be discovered by human imagination, because they are beyond conceptualization. Thus we are clearly prohibited from deliberating (See Ma’ ariful Qur’ an, Vol.2/pp 277-280 [ Tr.]) in His Being and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–42

39 That is, ° In the Hereafter the people's deeds shall be examined and judged in order to see what provisions they have brought with them. " As this sentence occurs immediately after the preceding sentence, it by itself indicates that the preceding sentence relates to the rewards and punishments of the Hereafter, and the view of those who present it as an economic principle relating to this world is not correct. To interpret a verse of the Qur'an in a way as is irrelevant to the context as well as clashes with the other ordinances of the Qur'an cannot be right.

Read the full tafseer →