An-Najm 53:39

An-Najm · from ayah 39

53:39

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ۟ۙوَاَنۡ لَّيۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that there is not for man except that [good] for which he strives

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:39

اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی اور چیز کا (بدلہ لینے کا) حق نہیں پہنچتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ آدمی نہ پاے گا مگر اپنی کوشش

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی (رہا فضل اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اﷲ کی عطاء و رضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے کوشش کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہو گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ (ایمان و یقین کے بارے میں) انسان کو کچھ نہیں ملے گا مگر وہی جو اس نے خود کمایا

— مولانا اسحاق مدنی

اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that man shall have nothing but what he has striven for,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that a man shall not deserve but (the reward of) his own effort,

— Muhammad Taqi Usmani

and that a man shall not deserve but (the reward of) his own effort,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that man can have nothing but what he does.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that man hath only that for which he maketh effort,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that there is not for man except that [good] for which he strives

— Saheeh International

nor can man achieve anything without hard labor.

— Muhammad Sarwar

And that man shall have nothing but what he strives for-

— Muhammad Habib Shakir

And that for man shall be naught save that wherefor he endeavoureth.

— Abdul Majid Daryabadi

That man can have nothing but what he strives for;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 38 اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پاسکتا۔ ان تین اصولوں کو بعض لوگ دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کر کے ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی (earned Income) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ بات قرآن مجید ہی کے دیے ہوئے متعدد قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے۔ مثلاً قانون وراثت، جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسرا حکم ہے (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی دوسرے کا عذاب اپنے سر نہیں لے سکتا، اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ کسی دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرے لے اور وہ اس عمل سے سبکدوش ہوجائے، مثلاً ایک شخص دوسرے کی طرف سے نماز فرض ادا کر دے یا دوسرے کی طرف سے فرض روزہ رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض نماز و روزے سے سبکدوش ہوجائے، یا یہ کہ ایک شخص دوسرے کی طرف سے ایمان قبول کرلے اور اس سے اس کو مومن قرار دیا جائے۔ آیت مذکورہ کی اس تفسیر پر کوئی فقہی اشکال اور شبہ عائد نہیں ہوتا، کیونکہ زیادہ سے زیادہ شبہ حج اور زکوٰة کے مسئلہ میں یہ ہوسکتا ہے کہ ضرورت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–41

(وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری ثم یجزنہ الجزاء الاوفی (39، 41) یہ اسی اوپر والی بات کی شرح مزید ہے کہ یہ حقیقت بھی اس کے ساتھ واضح کردی گئی تھی کہ ہر انسان خدا کے ہاں صرف اپنی ہی محنت کا حاصل پائے گا، یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا پھل کوئی اور کھائے، یا بدی تو زید نے کی اور اس کی سزا بکر بھگتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے آباء و اجداد بڑے نیک تھے تو انکی نیکی کا صلہ انہی کو ملے گا، یہ نہیں ہوگا کہ ان کے اعمال کے صلہ میں تم جنت میں جا براجو۔ یہی اصول دوسرے الفاظ میں یوں بھی بیان ہوا ہے۔ (تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم) (البقرۃ : 134) (یہ ایک گروہ تھا جو گزر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہوگا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان ............ ما سعی (35 : 93) ” اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے سعی کی “ یعنی انسان کے حساب میں وہی لکھا جائے گا جو اس نے کیا۔ اس کے اعمال کے ساتھ دوسروں کے اعمال نہ لکھے جائیں گے نہ اس کے اعمال سے کمی کرکے کسی دوسرے کی کمی پوری کی جائے گی اور یہ دنیاوی زندگی فرصت عمل ہے تاکہ وہ عمل کرے اور جدوجہد کرے۔ جب مر گیا تو اس کی فرصت عمل ختم ہوجائے گی اور اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ہاں صرف وہ اعمال رہ جائیں گے جن کے بارے میں حدیث میں نص دارد ہے۔ اذامات ............ ینتفع بہ ” جب انسان مرجائے تو اس کا عمل ختم ہوجات ہے ۔ ماسوائے تین شعبوں کے اس کا صالح بیٹا ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی آدمی جو کچھ کوشش کر کے کماتا ہے وہ ہی اس کا ہے۔ کسی دوسرے کی نیکیاں لے اڑے یہ نہیں ہوسکتا۔ باقی کوئی خود اپنی خوشی سے اپنے بعض حقوق دوسرے کو ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کو منظور کرلے وہ الگ بات ہے جس کی تفصیل حدیث و فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ وَاَنْ لَّــیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی۔ } ”اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔“ انسان کو جو کچھ کرنا ہوگا اپنی محنت اور کوشش کے بل پر کرنا ہوگا ‘ خواہشوں اور تمنائوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ قبل ازیں آیت 24 میں سوال کیا گیا تھا کہ ”کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا ؟“ یہ آیت گویا مذکورہ سوال کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 قانون جزا وسزا کی دفعات :۔ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جزا و سزا کا قانون پوری طرح بتادیا تھا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں اس قانون کی خبر نہیں پہنچی۔ اور اس قانون کی دفعات یہ تھیں جو ان دو آیات میں مذکور ہیں (1) جزا و سزا کا قانون ناقابل انتقال ہے۔ نہ تو یہ ممکن ہے زید بکر کے گناہ اپنے ذمہ لے لے اور اس طرح بکر چھوٹ جائے جیسا کہ مشرکوں نے معاہدہ کیا تھا۔ بلکہ ہر ایک کو اپنے اپنے جرائم کی سزا بھگتنا ہوگی اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود زید کی سزا بکر کو دے ڈالے اور زید بچ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی کوئی شکل ممکن نہیں اور (2) ہر شخص کو اپنے کیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 39–40

33۔ (سو اس اطلاع اور اعلان کے بعد بھی انسان کا اپنی ذاتی ذمہ داری کی طرف سے غافل رہنا کیسا عجیب ہے) (آیت) ” الانسان “۔ الانسان سے یہاں مراد کافر انسان سے لی گئی ہے، نہ کہ مطلق انسان سے۔ وقالالربیع الانسان ھنا الکافر واما ال مومن فلہ ماسعی لہ غیرہ (روح) وقال الربیع بن انس یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” وان ..... سعی “۔ یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آئے گا۔ مشرک جاہلی قوموں میں تو خیر یہ وبا عام تھی ہی۔ یہود اہل کتاب کے ہاں بھی یہ عقیدہ پختہ طور پر قائم ہوگیا تھا کہ مورثوں اور بزرگوں کا مقبولین میں سے ہونا۔ اخلاف واولاد کے لئے بالکل کافی ہے اور جو لوگ پیغمبروں کی نسل میں سے ہیں انہیں کچھ ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وان لیس للانسان الا ماسعی جیسا کہ ماسبق کی آیت سے معلوم ہوا کہ کسی کا گاہ دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اسی طرح اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی سعری دوسرے کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اس آیت سے جو یہ حصر مستفاد ہے کہ ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ملے گی دوسرے کے عمل کی نہیں، مگر یہ مسلک متعزلہ کا ہے، اہل سنت والجماعت کا بلکہ اہل اسلام میں سے اور کسی کا نہیں۔ تین اہم اصول : اس آیت سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں : (1) ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا ہی پھل پائے گا (2) دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا الایہ کہ اس عمل میں اس کا کوئی حصہ ہو (3) تیسرے یہ کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان لیس للانسان الا ماسعٰی . اور یہ کہ (ایمان کے بارے میں) انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی۔ وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاَنْسَانِ..... یعنی ہر انسان کو اس کی کوشش کا معاوضہ ملے گا۔ نہ دوسرے کے گناہ کی سزا اس کو ملے گی ‘ نہ دوسرے کی نیکی کا ثواب اس کو حاصل ہوگا۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : ” کسی کو دوسرے کی کی ہوئی نیکی کا ثواب نہیں ملے گا ‘ اس قول کی دلیل یہی آیت ہے۔ “ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام احمد اور تمام علمائے سلف و خلف (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کا قول امام شافعی کے قول کے خلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ آیت : وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاَنْسَانِ..... دوسری آیت : اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 39–40

(39۔ 40) اور انسان نے دنیا میں جو نیکی اور برائی کی ہے آخرت میں صرف اس کو اسی کی کمائی ملے گی اور یہ کہ انسان کے اعمال اس کی میزان میں بہت جلدی دیکھے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وان لیس للانسان الا ما سعی : یعنی جس طرح کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا جائے گا اسی طرح اسے اجر و ثواب بھی انہی اعمال کا ملے گا جو اس نے خود کیے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ قرآن و حدی سے ثابت ہے کہ آدمی کو دوسروں کے نیک اعمال سے فائدہ پہنچتا ہے ، مثلاً گناہ گاروں کے لیے انبیاء ، فرشتوں اور صالحین کی شفاعت ، مردوں کے لیے زندوں کی دعا دیکھئے (مومن 8، حشر : 1) اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہونا تو قرآن سے ثابت ہے (دیکھئے طور : 21) اور میت کی طرف سے صدقہ ، صیام اور حج وغیرہ کا نافع ہونا حدیث سے ثابت ہے ، تو اس آیت کے ساتھ اس کی مطابقت کیسے ہوگی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وان لیس للانسان الا ماسعی۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے (2) کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان : و الذین امنوا و اتبعتھم ذریتھم با میان الحقابھم ذریتھم (الطور : 21) کے ساتھ منسوخ ہے قیامت کے روز چھوٹا بچہ اپنے میزان کے پاس موجود ہوگا اللہ تعالیٰ آباء کو بیٹوں کے حق میں اور بیٹیوں کو آباء کے حق میں شفیع بنا لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ابآئکم وابنآء کم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعاً (النسائ : 11) اکثر علماء تاویل نے کہا، یہ آیت محکم ہے کسی کو دوسرے کا عمل نفع نہ دے گا۔ علماء کا اس پر اجماع ہے کوئی آدمی دوسرے کی جانب سے نماز نہیں پڑھے گا۔ امام مالک نے روزہ، حج اور صدقہ میت کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–41

قولہ تعالیٰ : (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' 6:۔ ابوداؤد والنحاس کلاھما فی الناسخ وابن جریر وابن المنذر (رح) اور مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' (اور یہ کہ انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بہم ذریتھم (الطور آیت 21) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی جنت میں ملادیں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اولاد کو بھی جنت میں داخل کردیں گے آباء کے اعمال صالح کی وجہ سے۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ [ اور (یہ ) کہ نہیں ہے انسان کے لیے ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] سَعٰى [اس نے کوشش کی ] آیت ۔ 39 ۔ کو بعض لوگ معاشیات پر غلط طریقے سے منطبق کرکے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی (Eeamed lncome ) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہوسکتا ۔ لیکن یہ بات قرآن مجید کے احکام سے ٹکراتی ہے۔ مثلا قانون وراثت جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں درآنحالیکہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح احکام زکوۃ و صدقات ، جن کی رو سے ایک آدمی کے مال کے دوسرے لوگ جائز مالک ہوتے ہیں حالانکہ اس مال کو پیدا کرنے میں ان کی محنت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 39–41

یہ جو فرمایا ہے ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039 ی﴾ (کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے کوشش کی) اس پر جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ پھر ایصال ثواب کا کوئی فائدہ نہ رہا کیونکہ 9 جو شخص عمل کرتا ہے آیت کریمہ کی رو سے اس کا ثواب صرف اسی کو پہنچنا چاہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ اس اشاول کو حل کرنے کے لے بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں جو ﴿ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ فرمایا ہے اس سے ایمان مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہی ایمان کا ثواب ملے گا اس بات کو سامنے رکھ کر ایصال ثواب کا اشکال ختم ہوجاتا ہے کیونکہ کسی شخص کا ایمان ایسے شخص کو فائدہ نہیں دے سکتا جو کافر ہو اور کافر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

24:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۝ 39 ۙ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–41

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی۔ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ ثُمَّ یُجْزٰہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی۔ (النجم : 39 تا 41) (اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی۔ اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی۔ اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اس آیت میں اوپر والی آیت کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ یعنی گزشتہ صحیفوں میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اپنی محنت کا حاصل پائے گا۔ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ نیکی کوئی کرے اور اس کا پھل کسی اور کو ملے۔ اس طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس کی سزا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–44

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔ صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسرے کی کوشش کام دے گی : آیت 39: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (اور انسان کے لیے صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) ما سعی یعنی اس کی کوشش اور یہ بھی ابراہیم و موسیٰ (علیہما السلام) کے صحائف کی بات ہے، میت کی طرف سے صحیح روایات میں صدقہ اور حج کرنا مذکور ہے۔ تو اس کے متعلق اقوال ہیں۔ نمبر 1 اس کو دوسرے کی کوشش کام نہ دے گی جب تک اپنی کوشش نہ ہوگی، اور وہ اپنی کوشش ایمان کا پایا جانا ہے۔ اس صورت میں دوسرے کا عمل گویا اس کا اپنا عمل شمار ہوگا۔ کیونکہ وہ ایمان کے تباع اور ایمان کے ساتھ قائم ہے۔ اور اس وجہ سے کہ غیر کی کوشش اس کو کام نہ دے گی، جبکہ وہ اپنی ذات کی خاطر کرے، مگر جب اس نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” پھر بیان کیا جو ان دونوں کے صحیفوں میں تھا اور فرمایا ” الاتزر وازرۃ اخری “ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا نفس دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا اور اس کا معنی یہ ہے کہ کسی نفس سے دوسرے کے گناہ کا مواخذہ نہ ہوگا۔ اس میں اس شخص کے قول کو باطل کیا ہے جس نے ولید بن مغیرہ کو کہا تھا ” میں تیرا گناہ اٹھائوں گا “ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے لوگ آدمی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیتے تھے، آدمی کو اس کے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیوی اور غلام کے گناہ کے بدلہ میں قتل کردیا جاتا تھا حتیٰ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آکر ان کو اس سے روکا اور ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–41

33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اللہ تبارک وتعالی کے اس ارشاد سے استدلال کیا گیا ہے کسی شخص کا زندوں اور مردوں کے لی ہدیہ کرنا، ان کے لیے کوئی مفید نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی۔ چناچہ کسی شخص کی سعی اور اس کے عمل کا کسی اور کو پہنچنا اس آیت کے منافی ہے مگر یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ آیت کریمہ تو صرف یہ دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کے لیے اس نے خود کوشش کی اور یہ حق ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس بات پر بھی دلالت کرتی ہو کہ وہ غیر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–44

قول باری ہے (وان لیس للانسان الا ماسعی، اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) یہ بھی مذکورہ بالا آیتوں کے ہم معنی ہے۔ اس آیت سے ایک آزاد اور عاقل بالغ شخص کے تصرفات پر پابندی لگانے کے ابطال کے سلسلے میں انسان کا اپنے غیر پر تصرف کے جواز کے امتناع پر استدلال کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

[ 54] انسانی اعمال کی جانچ پڑتال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ اس کی محنت کی عنقریب ہی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ تاکہ کھرے کھرٹے کی تمیز ہوجائے اور حقیقت امر پوری طرح واضح ہوجائے کہ اس میں صدق و اخلاص کس قدر تھا، اس کے اثرات اور نتائج کیا کچھ تھے، کھرا کتنا تھا اور کھوٹا کتنا، اور وہ احوال و ظروف کیسے تھے جن میں وہ کام کیا گیا، وغیرہ وغیرہ کہ ان سب چیزوں کا عمل کی قدر و منزلت اور اس کے اجر و وزن میں بڑا عمل دخل ہے، جیسا کہ پ 30 سورة طارق آیت نمبر 9-10 میں فرمایا گیا۔ { یوم تبلی السرائر فما لہٗ من قوۃٍ ولا ناصرٍ ۔ اور یہاں پر یہ معنی اس وقت بنیں گے جن کے فعل یریٰ کو مجرد یعنی رویۃ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–42

کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214) اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–43

ف 2 یعنی راحت ہو یا مصیبت، خوشی ہو یا غم لذت ہو یا تکلیف دونوں کا خالق اور مسبب الاسباب وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:39) وان لیس للانسان الا ماسعی۔ اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیہا (41:46) جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کریگا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ للانسان میں لام بمعنی علی ہے یعنی انسان کے لئے صرف اسی کا برا عمل ضرر رساں ہوگا۔ اس مطلب پر یہ آیت سابقہ آیت کی تفسیر ہوجائیگی اور عطف تفسیری ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–41

قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[17] یہ پچھلی آیت کی مزید تشریح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اللہ کے ہاں صرف اپنی محنت کا پھل پائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا بدلہ کسی اور کو ملے۔ بدی کوئی کرے اور اس کی سزا کوئی اور بھگتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–39

ف 1: الذی لولی سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ مقصد یہ ہے ۔ کہ ان مکہ والوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ہے ۔ اور تسلیم ورضا سے روگردانی کی ہے ۔ پہلے جب حضور ﷺ تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت تو رفاہ عام کے کاموں میں میں یہ کچھ حصہ لیتے تھے ۔ اور جو دو سخا سے کام لیتے تھے ۔ مگر اب ضد اور تعصب میں آکر انہوں نے وہ بھی بند کردیا ہے ۔ کب ان لوگوں کے پاس اس طرز عمل کے جواز کے لئے کوئی سند غیب سے نازل ہوئی ہے ۔ یا یہ محض بغض وعناد کا مظاہرہ ہے ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور یہ کہ ہر انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے 39 ؎ ” انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے “ آیت زیر نظر مفسرین کے درمیان ایک معرکتہ الآرا بن کر رہ گئی ہے اور اس پر عجیب عجیب بحثیں اٹھائی گئی ہیں اور بات سے بات نکالتے ہوئے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے لئے متداول تفاسیر کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔ کہیں عذاب وثواب کی بحث ہے کہ آیا مرنے والوں کو زندوں کا بھیجا ہوا ثواب ملتا ہے یا نہیں ؟ اور کہیں دنیوی زندگی پر بحث ہے کہ انسان کے لئے اپنی اپنی کمائی کا اصول قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور کسی ایک کی کمائی میں دوسرے کا کوئی حق نہیں اس آیت میں اس طرح کی وضاحت کی گئی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second injunction is contained in verse [ 39[وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (and that a man does not deserve but [ the reward of ] his own effort,....53:39) The summary of this verse is that just as no person shall carry the burden of sin of any other, so shall he benefit only from the good that he himself has done. It is not the case that a person performs a righteous act instead of someone else, and the latter is absolved of his responsibility. For example, if a person performs the obligatory prayers and fasts on behalf of somebody else, the latter will not be absolved of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 From this verse also three important principles are derived: (1) That every person will get only the fruit of his own deeds; ,(2) that the fruit of one man's deeds cannot be given to another unless he has a share in that deed, and (3) that none can attain anything without striving for it. Some people wrongly apply these three principles to the economic problems of the world and conclude that no person can become the lawful owner of anything except of his own earned income. But this conclusion clashes with several laws and injunctions given by the Qur'an itself, e.g. the law of inheritance,…

Read the full tafseer →