An-Najm 53:40

An-Najm · from ayah 40

53:40

وَاَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰی ۪۟وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that his effort is going to be seen -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:40

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جاے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی (یعنی ظاہر کر دی جائے گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ یقینا اس کی کوشش جلد ہی اسے دکھائی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ اس کی کوشش، جلد ہی دیکھی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ کی جائے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ اس کی کوشش کی عنقریب ہی پوری پوری جانچ پڑتال کی جائے گی

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ انسان کی سعی بہت جلد دیکھ لی جائے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

and that (the result of) his striving shall soon be seen,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that his effort will soon be seen,

— Muhammad Taqi Usmani

and that his effort will soon be seen,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that his deeds will be seen.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that his effort is going to be seen -

— Saheeh International

He will certainly see the result of his labor

— Muhammad Sarwar

And that his striving shall soon be seen-

— Muhammad Habib Shakir

And that his endeavour shall be presently observed.

— Abdul Majid Daryabadi

That (the fruit of) his striving will soon come in sight:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–48

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–42

سورة النَّجْم 39 یعنی آخرت میں لوگوں کے اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے۔ یہ فقرہ چونکہ پہلے فقرے کے معاً بعد ارشاد ہوا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ پہلے فقرے کا تعلق آخرت کی جزا و سزا ہی سے ہے اور ان لوگوں کی بات صحیح نہیں ہے جو اسے اس دنیا کے لیے ایک معاشی اصول بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہیں ہوسکتا جو سیاق وسباق کے بھی خلاف ہو، اور قرآن کی دوسری تصریحات سے بھی متصادم ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–41

وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى، یعنی صرف ہر شخص کی ظاہری سعی کافی نہیں، اللہ تعالیٰ کے دربار میں سعی کی اصل حقیقت بھی دیکھی جائے گی کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے کی ہے یا دوسری اغراض دنیویہ اس میں شامل ہیں، جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے انما الاعمال بالنیات، یعنی صرف صورت عمل کافی نہیں، عمل میں نیت خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور تعمیل حکم کی ہونا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–41

(وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری ثم یجزنہ الجزاء الاوفی (39، 41) یہ اسی اوپر والی بات کی شرح مزید ہے کہ یہ حقیقت بھی اس کے ساتھ واضح کردی گئی تھی کہ ہر انسان خدا کے ہاں صرف اپنی ہی محنت کا حاصل پائے گا، یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا پھل کوئی اور کھائے، یا بدی تو زید نے کی اور اس کی سزا بکر بھگتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے آباء و اجداد بڑے نیک تھے تو انکی نیکی کا صلہ انہی کو ملے گا، یہ نہیں ہوگا کہ ان کے اعمال کے صلہ میں تم جنت میں جا براجو۔ یہی اصول دوسرے الفاظ میں یوں بھی بیان ہوا ہے۔ (تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم) (البقرۃ : 134) (یہ ایک گروہ تھا جو گزر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–47

40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–45

21: یعنی انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ ثواب مردے کو پہنچاتے ہیں، کیونکہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصال ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–41

وان ............ الاوفی (35 : 14) ” اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی “ لہٰذا کسی انسان کی سعی ، اس کے کسی عمل اور کسب کو ضائع نہ کیا جائے گا اور کوئی چیز اللہ کے علم اور اس کے ترازو سے چھوٹ نہ جائے گی۔ ہر شخص کو اس کی جدوجہد کا پورا پورا اجر دیا جائے گا نہ کمی ہوگی اور نہ ظلم ہوگا۔ یوں انفرادی ذمہ داری کا اصول طے کردیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کردی جاتی ہے کہ مکمل انصاف ہوگا۔ یوں انسان کے لئے انسانی قیمت متعین ہوگی کہ وہ ایک عقلمند ، ذمہ دار ، قابل اعتماد مخلوق ہے اور خود مختار ہے۔ یہ ایک مکرم مخلوق ہے۔ اس کے لئے عمل کی فرصت فراہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 40–41

11 یعنی ہر ایک کی سعی و کوشش اس کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ اور اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ } ”اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔“ سورة الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–41

29 معذور لوگوں کے متعلق اشتراکی نظریہ :۔ یعنی جو کام اس نے خود دنیوی زندگی میں سرانجام دیئے اور جن کاموں کے اثرات چھوڑے سب اس کی سعی میں داخل ہیں اور ان سب کو اعمال کی ترازو میں رکھ کر دیکھا جائے گا۔ بعض کمیونسٹ ذہن کے لوگ (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ ) 53 ۔ النجم :39) اس مادی دنیا پر منطبق کرکے اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ بوڑھے اور معذور قسم کے لوگ جو کوئی محنت کر ہی نہیں سکتے ان کو مار کر ختم کردینا چاہئے تاکہ وہ معاشرہ پر معاشی بوجھ نہ بنیں۔ جب وہ کما ہی نہیں سکتے تو انہیں کچھ ملنا بھی نہیں چاہیے۔ ظاہر ہے یہ مطلب سیاق وسباق سے قطع نظر کرکے لیا گیا ہے۔ نیز یہ نظریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 39–40

33۔ (سو اس اطلاع اور اعلان کے بعد بھی انسان کا اپنی ذاتی ذمہ داری کی طرف سے غافل رہنا کیسا عجیب ہے) (آیت) ” الانسان “۔ الانسان سے یہاں مراد کافر انسان سے لی گئی ہے، نہ کہ مطلق انسان سے۔ وقالالربیع الانسان ھنا الکافر واما ال مومن فلہ ماسعی لہ غیرہ (روح) وقال الربیع بن انس یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” وان ..... سعی “۔ یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آئے گا۔ مشرک جاہلی قوموں میں تو خیر یہ وبا عام تھی ہی۔ یہود اہل کتاب کے ہاں بھی یہ عقیدہ پختہ طور پر قائم ہوگیا تھا کہ مورثوں اور بزرگوں کا مقبولین میں سے ہونا۔ اخلاف واولاد کے لئے بالکل کافی ہے اور جو لوگ پیغمبروں کی نسل میں سے ہیں انہیں کچھ ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–42

وان سعیہ سوف یری (آلایۃ) یعنی دنیا میں اس نے جو بھی اچھا یا برا کیا چھپ کر کیا یا علانیہ کیا قیامت کے دن سامنے آجائے گا، اس پر اسے پوری جزاء دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان سعیہ سوف یرٰی . اور یہ کہ انسان کی کوشش بہت جلد دیکھی جائے گی۔ یعنی انسان اگر مؤمن ہے تو قیامت کے دن وزن اعمال کے وقت اس کی سعی سامنے آجائے گی اور دیکھ لی جائے گی۔ لیکن کافر کے اعمال اکارت جائیں گے کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی اوّلین شرط خلوص نیت ہے اور اس کا عمل خیر لوجہ اللہ نہیں ہوتا یا اعمال کے اکارت جانے کی یہ وجہ ہوگی کہ دنیا میں ہی وہ اپنی بھلائیوں کا بدلہ پا چکتا ہے (کوئی نیکی باقی ہی نہیں رہتی) ۔ میں کہتا ہوں اولیٰ یہ ہے کہ اس جگہ سعی کا ترجمہ ارادہ کرنا ‘ کیا جائے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : سَعٰی سَعْیًا : بروزن رعٰی قصد کیا ‘ عمل کیا ‘ چلا ‘ دوڑا ‘ پورا ہوگیا ‘ کمایا۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 39–40

(39۔ 40) اور انسان نے دنیا میں جو نیکی اور برائی کی ہے آخرت میں صرف اس کو اسی کی کمائی ملے گی اور یہ کہ انسان کے اعمال اس کی میزان میں بہت جلدی دیکھے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وان سعیہٗ سوف یریٰ :”یرٰی“ ”رای یریٰ رویۃ“ (ف) سے بھی فعل مجہول ہوسکتا ہے (اسی کی کوشش دیکھی جائے گی) اور ”اری یری اراء ۃ“ (افعال) سے بھی (اس کی کوشش اس کی دکھائی جائے گی)۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (13، 14) اور سورة ٔ کہف (9 4)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وان سعیہ سوف یری۔ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اس کی جزا دکھائے گا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–41

قولہ تعالیٰ : (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' 6:۔ ابوداؤد والنحاس کلاھما فی الناسخ وابن جریر وابن المنذر (رح) اور مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' (اور یہ کہ انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بہم ذریتھم (الطور آیت 21) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی جنت میں ملادیں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اولاد کو بھی جنت میں داخل کردیں گے آباء کے اعمال صالح کی وجہ سے۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّ سَعْيَهٗ [ اور یہ کہ اس کی کوشش ] سَوْفَ يُرٰى [ عنقریب دکھائی جائیگی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 39–41

یہ جو فرمایا ہے ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039 ی﴾ (کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے کوشش کی) اس پر جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ پھر ایصال ثواب کا کوئی فائدہ نہ رہا کیونکہ 9 جو شخص عمل کرتا ہے آیت کریمہ کی رو سے اس کا ثواب صرف اسی کو پہنچنا چاہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ اس اشاول کو حل کرنے کے لے بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں جو ﴿ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ فرمایا ہے اس سے ایمان مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہی ایمان کا ثواب ملے گا اس بات کو سامنے رکھ کر ایصال ثواب کا اشکال ختم ہوجاتا ہے کیونکہ کسی شخص کا ایمان ایسے شخص کو فائدہ نہیں دے سکتا جو کافر ہو اور کافر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

24:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّ سَعْيَہٗ سَوْفَ يُرٰى۝ 40 ۠ سوف سَوْفَ حرف يخصّص أفعال المضارعة بالاستقبال، ويجرّدها عن معنی الحال، نحو : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] ، وقوله : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] ، تنبيه أنّ ما يطلبونه۔ وإن لم يكن في الوقت حاصلا۔ فهو ممّا يكون بعد لا محالة، ويقتضي معنی المماطلة والتأخير، واشتقّ منه التَّسْوِيفُ اعتبارا بقول الواعد : سوف أفعل کذا، والسَّوْفُ : شمّ التّراب والبول، ومنه قيل للمفازة التي يَسُوفُ الدلیل ترابها : مَسَافَةٌ ، قال الشاعر : إذا الدّليل اسْتَافَ أخلاق الطّرق والسُّوَافُ : مرض الإبل يشارف بها الهلاك، وذلک لأنها تشمّ الموت، أو يشمّها الموت،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–41

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی۔ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ ثُمَّ یُجْزٰہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی۔ (النجم : 39 تا 41) (اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی۔ اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی۔ اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اس آیت میں اوپر والی آیت کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ یعنی گزشتہ صحیفوں میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اپنی محنت کا حاصل پائے گا۔ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ نیکی کوئی کرے اور اس کا پھل کسی اور کو ملے۔ اس طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس کی سزا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–44

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔ صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 40: وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى ( اور یہ کہ انسان کی کوشش بہت جلد دیکھی جائے گی) یعنی وہ اپنی کوشش و کارکردگی قیامت کے دن اپنے میزان میں دیکھے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” وان لیس للانسان الا ماسعیٰ “ یعنی جو اس نے عمل کیا اللہ تعالیٰ کے قول ” ان سعیکم لشتیٰ “ کی طرح اور یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں لکھا ہوا تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اس شریعت میں منسوخ الحکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” الحقنابھم ذریتھم “ کی وجہ سے۔ پس اولاد کو آباء کی نیکیوں کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یہ ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کی قوم کے لئے تھا۔ بہرحال یہ امت تو ان کے لئے وہ ہے جو انہوں نے عمل کیا اور جوان کے لئے دوسروں نے عمل کیا۔ اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے کہ ایک عورت اپنے بچہ کو اٹھا کر لائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–41

33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى) یعی آخرت میں اسے اس کی کوشش دکھائی جائے گی اور وہ اپنی نیکی اور برائی میں تمیز کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–44

قول باری ہے (وان لیس للانسان الا ماسعی، اور انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) یہ بھی مذکورہ بالا آیتوں کے ہم معنی ہے۔ اس آیت سے ایک آزاد اور عاقل بالغ شخص کے تصرفات پر پابندی لگانے کے ابطال کے سلسلے میں انسان کا اپنے غیر پر تصرف کے جواز کے امتناع پر استدلال کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

[ 54] انسانی اعمال کی جانچ پڑتال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ اس کی محنت کی عنقریب ہی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ تاکہ کھرے کھرٹے کی تمیز ہوجائے اور حقیقت امر پوری طرح واضح ہوجائے کہ اس میں صدق و اخلاص کس قدر تھا، اس کے اثرات اور نتائج کیا کچھ تھے، کھرا کتنا تھا اور کھوٹا کتنا، اور وہ احوال و ظروف کیسے تھے جن میں وہ کام کیا گیا، وغیرہ وغیرہ کہ ان سب چیزوں کا عمل کی قدر و منزلت اور اس کے اجر و وزن میں بڑا عمل دخل ہے، جیسا کہ پ 30 سورة طارق آیت نمبر 9-10 میں فرمایا گیا۔ { یوم تبلی السرائر فما لہٗ من قوۃٍ ولا ناصرٍ ۔ اور یہاں پر یہ معنی اس وقت بنیں گے جن کے فعل یریٰ کو مجرد یعنی رویۃ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–42

کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214) اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–43

ف 2 یعنی راحت ہو یا مصیبت، خوشی ہو یا غم لذت ہو یا تکلیف دونوں کا خالق اور مسبب الاسباب وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:40) (3) وان سعیہ سوف یری اور یہ کہ بیشک انسان کی کوشش جلدی دیکھی جائے گی۔ سعیہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی سعی۔ اس کی کوشش۔ سعی یسعی اس نے ارادہ کیا۔ اس نے قصد کیا۔ وہ دوڑا۔ اس نے کوشش کی۔ اس نے نیت کی، سوف عنقریب، یری مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ دیکھا جائے گا۔ یعنی اس کے عمل کا مقصد معلوم ہوجائے گا (کیونکہ اعمال کے بارآور ہونے کی اولین شرط خلوص نیت ہے)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–41

قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[17] یہ پچھلی آیت کی مزید تشریح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اللہ کے ہاں صرف اپنی محنت کا پھل پائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا بدلہ کسی اور کو ملے۔ بدی کوئی کرے اور اس کی سزا کوئی اور بھگتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–49

ف 2: اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے ۔ کہ گناہوں کے بوجھ کو کوئی دوسرا اپنی پیٹھ پر لادلے ۔ اور خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کے لئے کفارہ ہوجائے ۔ خدا کے قانون کے سامنے سب یکساں جواب دہ ہیں ۔ وہاں یہ دیکھاجاتا ہے ۔ کہ آپ اپنی طرف سے کیا پونجی لائے ہیں ۔ آپ کے اعمال کیا ہیں ۔ اور آپ نے دین کی راہ میں کس حد تک مصائب کو برداشت کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ مسیح کو صولی پر ٹانگ دیاجائے ۔ اور خود مزے کئے جائیں ۔ بلکہ اگر یہ افسانہ سچ ہے ۔ تو پھر خودبھی سولیوں پر چڑھنا ہوگا ۔ اور ارورس وبوسہ دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلاشبہ اس کی کوشش جلد ہی سامنے آجائے گی 40 ؎ غور کرو کہ اگر یہ بات ہوتی جو اشتراکی ذہن رکھنے والوں نے بنائی ہے یا وہ بات ہوتی جو ثواب کے ٹھیکہ داروں نے مردوں کی بخشش کے لئے اختراع کی ہے تو اس آیت کا مفہوم کیا ہوتا جو سعی و کوشش کرنے والے کو مخاطب کر کے کی جا رہی ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے لمحات کو جن مقاصد کے لئے صرف کر رہا ہے اور اپنی ساری قوتیں اور توانایاں ان کے حصول کے لئے وقف کئے ہوئے ہے قیامت کے روز ان کی پوری جانچ پڑتال کی جائے گی اور اس کے مقاصد اور اس کی نیت کے مطابق اس کی کو شس و سعی کے نتائج برآمد ہوں گے اس لئے آج ہی اپنے اعمال کا خود احتساب کیا کرو تاکہ قیامت کے روز تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–41

وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَ‌ىٰ (and that his effort will soon be seen...53:40) In other words, outer actions of a person are not sufficient. Allah will take into account the real, inner motive and driving force behind them whether they were performed with the sincerity of purpose, or they were done with some ulterior motive. The Holy Prophet t is reported to have said: اِنَّمَا الاَعمَال بِالنِّیَّاتِ "Actions shall be judged only by the intentions." That is, the outer aspect of actions is not sufficient. The inner aspect is also necessary. Actions must be performed purely for the good…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–42

39 That is, ° In the Hereafter the people's deeds shall be examined and judged in order to see what provisions they have brought with them. " As this sentence occurs immediately after the preceding sentence, it by itself indicates that the preceding sentence relates to the rewards and punishments of the Hereafter, and the view of those who present it as an economic principle relating to this world is not correct. To interpret a verse of the Qur'an in a way as is irrelevant to the context as well as clashes with the other ordinances of the Qur'an cannot be right.

Read the full tafseer →