Explained with ayahs 34–48
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 37
اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جاسکتی الا یہ کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خاص ہدایات وتعلیمات
انبیائے سابقین میں سے جب کسی کا قول یا کوئی تعلیم قرآن میں ذکر کی جاتی ہے تو اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس امت کے لئے بھی وہ واجب العمل ہے، جب تک اس کے خلاف کوئی نص شرعی نہ ہو، آگے اٹھارہ آیتوں میں ان خاص تعلیمات کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے صحیفوں میں تھیں، ان میں عملی احکام جن کا تعلق سابقہ آیات کے ساتھ ہے وہ صرف دو ہیں، باقی تعلیمات عبرت و نصیحت اور حق تعالیٰ کی آیات قدرت سے متعلق ہیں، وہ دو یہ ہیں۔
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى اور وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى، وزر کے معنی دراصل…
Read the full tafseer →(الا تزروازرۃ اخری) یہ اس تعلیم کا حوالہ ہے جو موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کے صحیفوں میں موجود ہے کہ خدا کے ہاں کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ یہ اسی شفاعت باطل کے تصور کی تردید ہے جو اس سورة کا موضوع ہے۔ یہ تعلیم تورات اور انجیل دونوں میں اتنی کثرت سے بیان ہوئی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ اتنی واضح ہدایات کے باوجود ان کتابوں کے حاملین کو شیطان نے کس طرح شرک کے کھڈ میں گرا دیا۔ ہم ان کے حوالے اس کتاب میں جگہ جگہ نقل کرتے آ رہے ہیں، یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا ؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
Read the full tafseer →20: چنانچہ آج بھی بائبل کی کتاب حزقیل میں یہ اصول وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ (دیکھئے حزقی ایل :20)۔
Read the full tafseer →الاتزرو ............ اخری (35 : 83) ” یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا نہ اپنے نفس کا بوجھ ہو ہاں ہلکا کیا جاسکے گا اور نہ دوسرے کا بوجھ لے کر اسے بری الذمہ کیا جاسکے گا۔ لہٰذا کوئی نہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسرے پر ڈال سکتا ہے۔
Read the full tafseer →9 یعنی موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں یہ مضمون تھا کہ خدا کے ہاں کوئی مجرم دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی جوابدہی بذات خود کرنا ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 38{ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ } ”کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔“
قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خود جواب دہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : { وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ } کہ اس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا۔ ماں باپ ‘ اولاد ‘ عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
27 سیدنا ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحائف کی تعلیم :۔ یعنی اگر آخرت اور اس کی جزا و سزا کے متعلق یقین نہیں یا صحیح علم نہیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر بھی ایمان لانے کو تیار نہیں۔ تو اہل کتاب سے تو ملتے ہی رہتے ہیں اور انہیں پڑھے لکھے اور عالم بھی سمجھتے ہیں۔ ان سے کیا انہیں اتنا بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا موسیٰ کے صحیفوں میں آخرت کی جزا و سزا کے مطابق کیا ضابطہ نازل فرمایا تھا۔ واضح رہے کہ تورات کے نزول سے پیشتر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی صحائف ہی نازل ہوتے رہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی کوئی جامع کتاب نہیں بلکہ صحیفے ہی نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
32۔ (ایمانیات میں) یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آے گا (آیت) ” الذی وفی “۔ سورة البقرۃ پ 1 آیۃ کریمہ (آیت) ” واذابتلی ابرھم ربہ بکلمت فاتمھن “۔ کے ماتحت حاشیے ملاحظہ کرلئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ و ابراہیم الذین وفی اس آیت میں ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد تورات ہے، رہے حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا، صرف قرآن ہی ایک وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صحف ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کئے گئے ہیں ایک یہ مقام اور دوسرے سورة اعلیٰ کی آخری آیات میں۔
تین اہم اصول :
اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں : (1) ایک یہ کہ ہر شخص اپنے فعل کا ذمہ دار ہے…
Read the full tafseer →الا تزرو وازرۃ وزر اخری .
کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا۔
اَلاَّ تَزِرُ : یعنی کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا۔ بغوی نے بوساطت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے جو لوگ مجرم کے جرم کی پاداش میں غیر مجرم کو پکڑلیتے تھے اور اگر کسی کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بیوی یا غلام نے قتل کیا ہو تو اس کے عوض اس شخص کو قتل کردیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کو اس حرکت سے روکا اور اللہ کا حکم پہنچایا کہ کسی کے جرم کا بار دوسرے پر نہ ڈالا جائے۔
میں کہتا ہوں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کا رواج کوئی شرعی قانون نہیں تھا…
Read the full tafseer →اور وہ مضمون یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں لے سکتا یا یہ کہ کسی کو دوسرے کے بدلے عذاب نہیں دیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →الا تزر وازرۃ وزر اخری :”الاتزر“ اصل میں ”ان لا تزر“ ہے : ”ان“ تفسیر یہ ہے یا ”انہ“ کی تخفیف ہے۔ یہاں سے ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں سے چند احکام نقل فرمائے ہیں ، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ انعام (164) بنی اسرائیل (15) اور فاطر (18)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ام لم ینتبا بما فی صحف موسیٰ ۔ وابراھیم الذی وفی۔ لفظ ابراہیم سے پہلے صحف کا لفظ محذوف ہے جس طرح سورة اعلیٰ میں ہے صحف ابراہیم و موسیٰ ۔ یعنی کسی نفس کو دوسرے نفس کے بدلہ میں نہیں پکڑا جائے گا جس طرح فرمایا : الا تزر وازرۃ وزراخری۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان آدمی کو انے بھائی، اپنے بیٹے اور اپنے باپ کے بدلے میں پکڑ لیا جاتا تھا، یہ ہذیل بن شرحبیل نے کہا ہے۔ ان یہ مثقلہ سے مخففہ ہے اس کا محل جر ہے کیونکہ یہ ماکا بدل ہے یا یہ محل رفع میں ہے کیونکہ ھو ضمیر مضمر ہے۔
سعید بن جبیر اور…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة النجم نازل ہوئی آپ اسے پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' پھر (آگے) فرمایا (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری '' سے لے کر (آیت ) '' من النذر الاولی '' تک۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف سے یہ حکم پہنچا دیا کہ (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری '' (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا )
3:۔ الشافعی و سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن…
Read the full tafseer →اَلَّا تَزِرُ [ (یہ ) کہ نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [ کوئی اٹھانے والی ] وِّزْرَ اُخْرٰى [ کسی دوسری (جان ) کا بوجھ ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 38 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کا عذاب دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا ۔ نہ کسی کو اس کا اختیار ہوگا کہ وہ دوسرے کا عذاب اپنے سر لے لے ۔ آیت 39 ۔ میں ہے کہ اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرے، مثلا ایک شخص دوسرے کی طرف سے فرض نماز ادا کردے یا فرضی روزے رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے ۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شخص کے نفلی عمل کا کوئی فائدہ اور ثواب دوسرے شخص کو نہ پہنچ سکے ۔ ایک شخص کی دعا اور صدقہ کا ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
﴿وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤىۙ0037 ﴾ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی توصیف میں الذی وفی فرمایا انہوں نے مامورات الٰہیہ کو پورا کردیا اللہ تعالیٰ نے جو انہیں رسالت کا کام سپرد کیا اور دعوت و ارشاد کے لیے انہیں مامور فرمایا اور جن اعمال کے کرنے کا حکم فرمایا ان سب کو پورا کیا سورة بقرہ میں جو ﴿ وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ﴾ فرمایا ہے اس کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ، نے انہیں حکم دیا ﴿ اَسْلِمْ ﴾ کہ (فرمانبردار ہوجاؤ) انہوں نے عرض کیا ﴿اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 00131﴾ کہ (میں رب العٰلمین کا فرمانبردار ہوگیا) اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
24:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…
Read the full tafseer →اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰى 38 ۙ
وزر
الوَزَرُ : الملجأ الذي يلتجأ إليه من الجبل .
قال تعالی: كَلَّا لا وَزَرَ إِلى رَبِّكَ [ القیامة/ 11] والوِزْرُ : الثّقلُ تشبيها بِوَزْرِ الجبلِ ، ويعبّر بذلک عن الإثم کما يعبّر عنه بالثقل . قال تعالی:
لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً (يَوْمَ الْقِيامَةِ ) وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا ساءَ ما يَزِرُونَ
[ النحل/ 25] ، کقوله : وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقالَهُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِهِمْ [ العنکبوت/ 13] وحمل وِزْر الغیرِ في الحقیقة هو علی نحو ما أشار إليه صلّى اللہ عليه وسلم بقوله : «من سنّ سنّة حسنة کان له أجرها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔
تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی۔ وَاِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیٓ۔ اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (النجم : 36 تا 38)
(کیا اسے خبر نہیں دی گئی ان باتوں کی جو حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں۔ اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ )
تاریخ سے استدلال
قریش میں جو فکری اور عملی گمراہیاں پیدا ہوگئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے بڑے بڑے سردار اور ان کا طبقہ امراء یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں جزیرہ ٔ عرب میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے، قبائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔
نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →آیت 38: پھر موسیٰ و ابراہیم کے صحف کا مضمون بتلایا۔ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا) تزر یہ وزر یزر سے لیا گیا۔ جبکہ کوئی گناہ کرلے، وزر گناہ کو کہتے ہیں۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے، معنی یہ ہے شان یہ ہے کہ گناہ نہ اٹھائے گا، ہٗ ضمیر شان ہے، اور ان اور ما بعد کا محل مجرور ہے کیونکہ یہ مافی صحف موسیٰ سے بدل ہے۔ نمبر 2 محلا مرفوع ہے، ھو الا تزر ویا کسی کہنے والے نے کہا ابراہیم و موسیٰ کے صحائف میں کیا ہے ؟ تو جواب آیا الا تزر وازرۃ وزر اخری یعنی کوئی نفس دوسرے نفس کا گناہ نہ اٹھائے گا۔
Read the full tafseer →37 ۔” وابراھیم “ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔ ” الذی وفیٰ “ مکمل کیا جو اس کو حکم دیا گیا۔
وابرھیم الذی وفی کی تفسیر
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جو حکم دیا گیا وہ عمل کیا اور اپنے رب کے پیغامات اس کی مخلوق تک پہنچا دیئے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو ان پر فرض کیا گیا اس کو پورا ادا کیا۔
ربیع (رح) فرماتے ہیں اپنا خواب پورا کردکھایا اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کھڑے ہوگئے۔ عطاء خرسانی (رح) فرماتے ہیں طاعت کو مکمل کیا۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں اسلام کے حصوں کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن “ ہے اور توفیہ مکمل کرنا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →ان صحیفوں میں بہت سے احکام درج تھے جن میں سے سب سے اہم وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا (اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔ وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) یعن ہر عمل کرنے والے کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے کسی دوسرے کے عمل اور کوشش میں سے اس کے لیے کچھ بھی نہیں اور نہ کوئی کسی اور کے گناہ کا بوجھ اٹھا سکے گا۔
Read the full tafseer →ہر ایک اپنے ہی افعال کا جواب دہ ہے
قول باری ہے (الا تزروازرۃ وزراخری، کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا) یہ اس قول باری کی طرح ہے (ومن یکسب اثما فانما یکسبہ علی نفسہ اور جو شخص گناہ کماتا ہے وہ اسے اپنی ذات پر کماتا ہے)
نیز ارشاد ہے (ولا تکسب کل نفس الا علیھا، اور ہر شخص جو کمائی کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہوتا ہے)
Read the full tafseer →[ 52] روز جزاء میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا :
سو اس سے قانون عدل و انصاف کی اس اہم اور بنیادی دفعہ کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی تعلیمات کے بعض اہم اور اصولی ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی اس طور پر کہ اس کا ذمہ فارغ کردیا جائے اور اس کی پکڑ نہ ہو، سو ایسا نہیں ہوسکے گا، ورنہ گمراہ کرنے والوں کا ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال [ گمراہ کرنے ] کا بوجھ تو بہرحال اٹھانا ہوگا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214)
اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 1 یعنی کسی دوسرے کا عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی شریعت میں یہ حکم عام ہو لیکن ہماری شریعت میں اس میں کچھ مستثنیات ہیں مثلاً گنہگاروں کے لئے انبیاء اور فرشتوں کی شفاعت مردوں کے لئے زندوں کی دعا اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہوناتو قرآن سے ثابت ہے اور میت کی طرف سے صدقہ خیرات اور حج کرنا وغیرہ کا نافع ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اب رہی نماز اور قرآن خوانی تو اس کے متعلق چونکہ قرآن یا کسی صحیح حدیث میں صراحت نہیں ہے اس لئے یہ اس آیت کے عام حکم کے تحت رہینگے اور انسان کی اولاد بھی چونکہ اس کی سعی کا نتیجہ ہے اس لئے اس کے نیک عمل کا ثواب پہنچنا…
Read the full tafseer →(53:38) آیت سے قبل عبارت مقدرہ ہے، وقیل ماذا فی صحف موسیٰ و ابراہیم ؟ فقیل ھو ! ۔۔ اور سوال ہے کہ (حضرت) موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام کے صحیفوں میں کیا ہے ؟ جواب ہے : یہ کہ ۔۔
الا تزر وازرۃ وزراخری کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : الا ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان کی دوسری صورتوں کے علاوہ ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ان مخففہ ہے جو شروع میں ثقیلہ تھا پھر خفیفہ کرلیا گیا یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ ہ ضمیر شان جو ان کا اسم ہے محذوف ہے کلام ہوگا :۔ انہ لاتزروا وازر اخری۔ تحقیق شان یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…
Read the full tafseer →[16] یعنی اصل مجرم کو اس بناء پر چھوڑا نہیں جاسکتا کہ اس کا گناہ کوئی دوسرا شخص اپنے اوپر لے رہا ہے اور اپنے آپ کو اس کی سزا بھگتنے کے لئے پیش کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
ف 1: الذی لولی سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ مقصد یہ ہے ۔ کہ ان مکہ والوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ہے ۔ اور تسلیم ورضا سے روگردانی کی ہے ۔ پہلے جب حضور ﷺ تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت تو رفاہ عام کے کاموں میں میں یہ کچھ حصہ لیتے تھے ۔ اور جو دو سخا سے کام لیتے تھے ۔ مگر اب ضد اور تعصب میں آکر انہوں نے وہ بھی بند کردیا ہے ۔ کب ان لوگوں کے پاس اس طرز عمل کے جواز کے لئے کوئی سند غیب سے نازل ہوئی ہے ۔ یا یہ محض بغض وعناد کا مظاہرہ ہے ۔
Read the full tafseer →(38) وہ یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی ان دونوں اولوالعزم پیغمبروں کے صحائف میں یہ مضمون موجود ہے کہ کوئی گنہگار دوسرے گنہگار کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک بالکل اٹھالے اور دوسرا سبکدوش ہوجائے اور دوسرے پر کوئی بار نہ رہے جیسا کہ تفصیل سورة عنکبوت میں گزر چکی ہے بعض حضرات نے وفی کو وفا سے لیا ہے اور یہ معنی کئے ہیں کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو بڑا پابند وفا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ف 1۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ ایک شخص اسلام لے آیا تھا، کسی نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا کہ میں عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ بولا تو مجھ کو کچھ دے میں تیری طرف سے عذاب اپنے سر رکھوں گا۔ چناچہ کچھ دیا، اس نے اور مانگا، نہایت کشاکشی سے اس نے اور بھی دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی۔ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا، ظاہر ہے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو، آیت سب کو شامل ہے
Read the full tafseer →بنیادی تعلیم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا
38 ؎ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں کا ذکر کر کے اس بنیادی تعلیم کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے جو بنیادی تعلیم سرے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام اور خصوصاً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول اللہ ﷺ میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں ہے اور ہر ایک کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ اس طرح گویا سارے گروہوں کے مشترکہ عقیدہ کی مکمل تردید کردی جو سب کے سب لوگوں میں کسی نہ کسی رنگ میں چلا آ رہا ہے۔ وہ عقیدہ کیا ہے ؟ وہ عقیدہ یہ ہے کہ پہلے و…
Read the full tafseer →Scriptures of Musa and Ibrahim علیہما السلام Special Guidance and Teachings
Whenever any command, statement, action or teaching of Allah is quoted in the Qur'an from the scriptures of the former Prophets (علیہم السلام) it means that it is obligatory for this 'Ummah to act upon it, unless there is an explicit text abrogating the previous teachings. Forthcoming eighteen verses elaborate on the special teachings of the scriptures of Holy Prophets Musa and Ibrahim (علیہما السلام) . Of them only two of the previous teachings are concerned with practical life. The rest are meant to advise, warn and…
Read the full tafseer →37 From this verse three cardinal principles are derived: (1) That every person is himself responsible for what he does; (2) that the responsibility of one man's act cannot be transferred to another unless he has a share in the commission of the act; and (3) that even if a person wishes he cannot take on himself the responsibility of another man's act, nor can the actual culprit be Iet off on the ground that another person is willing to suffer the punishment on his behalf.
Read the full tafseer →